زید نے ا پنی بیوی سے کہا کہ اگر میرے والدین کے میرے گھر آنے پر آپ تین ماہ کے لیے اپنے والدین کے گھر نہ گئی تو آپ کو طلاق ہے ۔اس صورت میں کیا زید کی بیوی پر یہ بھی لاز م ہے کہ وہ تین ماہ اپنے والدین کے گھر رہ کر گزارے یا وہ والدین کے علاوہ کسی اور عزیز رشتہ دار کے ہا ں بھی جا سکتی ہے ؟ زید کا کہنا ہے کہ میں نے اس وقت جو کہا ”اپنے والدین کے گھر تین ماہ کے لیے جانے کا “اس سے میری نیت صرف یہ تھی کہ آپ تین ماہ میرے گھر میں نہ ٹھہریں ۔

الجواب حامداومصلیا

صورت مسئولہ میں زید کی بیوی پر تین ماہ والدین کے گھر رہنا لازم نہیں، رشتہ داروں کے گھر بھی جاسکتی ہے ۔

لما فی درر الحکام :(1/19،العربیة)
“الامور بمقاصد ھا یعنی :ان الحکم الذی یترتب علی امر یکون علی مقتضی ما ھو المقصود من ذلک الامر “
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(2/330،الطارق)
ولھذا شرطوا للحنث فی مثل قولہ :ان خرجت فانت طالق ،فعلہ فورا ،لانہ قصد المنع عن ذلک الفعل عرفا ومدارالایمان علی العرف کما سبق
وکذا فی الشا میة:(3/356،ایم ،سعید )
وکذا فی الولوالجیة:(2/234،الحرمین )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(9/6972،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ :مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
19/3/2022/15/8/1443
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:29

آدمی تیمم کب تک کرسکتا ہے ؟

الجواب حامداومصلیا

جب تک عذر باقی ہے ،تیمم کرتا رہے گا۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(1/604،رشیدیة)
مبطلات التیمم زوال العذر المبیح لہ کذھاب العدووالمرض والبرد ووجود آلۃ نزح الماء واطلاق سراجہ من السجن الذی لاماء فیہ لان ما جاز بعذر بطل بزوالہ
وفیہ ایضا
قال علیہ السلام جعلت لنا الارض کلھا مسجد اوتربتھاطھورا ومنھا التراب طھورالمسلم ولوالی عشرحجج مالم یجد الماء او یحدث
وکذا فی الشامیة:(1/256،ایم ،سعید)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(63،البشری)
وکذافی المحیط البرھانی :(1/319،ادارة القرآن )
وکذافی الہندیة:(1/29،رشیدیة)
وکذافی مجمع الانھر :(1/64،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/9/1443/2022/4/16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:147

اگر بیوی نماز میں سستی کرے تو کس حد تک اسےتنبیہ کی جاسکتی ہے، آیا اسے مارا بھی جاسکتا ہے ؟

الجواب حامداومصلیا

پہلے مرحلے میں پیارومحبت سے خوب سمجھا یا جائے اور بہترین انداز سے تر غیب دی جائے ۔دوسرے مرحلے میں ڈانٹ ڈپٹ کی جائے اور تیسرے مرحلے میں بستر الگ کر دیا جائے ،اگر کوئی صورت بھی مفید نہ ہو تو آخری مرحلے میں بالکل مجبور ہو کر معمولی سا مارابھی جاسکتاہے ،جس سے جسم پر نشانات نہ پڑیں۔

لما فی البحرالرائق :(5/82،رشیدیة)
وظہر ان الزوج لایجب علیہ ضرب زوجتہ اصلا و ظہر بہ ایضا ان لہ ضربہافی اربعۃ مواضع لکن وقع الاختلاف علی جواز ضربہا علی ترک الصلاۃ فذکر ھناک تبعا لکثیر انہ یجوز وفی النہایۃ تبعا لمافی کافی الحاکم انہ لایجوز لہ لان المنفعۃ لاتعود الیہ بل الیہا ولیس فی کلام المصنف مایقتضی انہ لیس لہ ضربہا فی غیر ھذہ اربعۃ اشیاء ولہذا قال الولوالجیی فی فتاواہ للزوج ان یضر ب زوجتہ علی اربعۃ اشیاء وما فی معناہ ففی قولہ وما فی معناہ افادۃ عدم الحصر مھما فی معناہ
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(7/5607 ،رشیدیة)
والزوج لہ تعزیر زوجتہ فی امر النشوز واداء حق اللہ کاقامۃ الصلاۃ وصیام رمضان بما یراہ مناسبا فی اصلاح زوجتہ من زجر لان کل ہذہ من باب انکارالمنکر والزوج من جملۃ المکلفین بالامر بالمعروف والنہی عن المنکر
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(2/298،الحرمین )
وکذا فی التنویر مع الدروالرد:(4/78،ایم ،سعید )
وکذا فی شرح ملتقی الابحر :(2/375،رشیدیة)
وکذافی فتح القدیر:(7/337،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/9/1443/2022/4/16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:143

ایک آدمی دعوت وتبلیغ یاجہاد کےلیےجاناچاہتاہےوالدین سےاجازت لیتاہےاوروہ اجازت بھی دےدیتےہیں ،مگریہ شخص جانتاہےکہ اس کےوالدین دل سےراضی نہیں،وہ چاہتےہیں کہ ان کا بیٹاان کی خدمت کرے،توایسی صورت میں نکلناافضل ہےیاوالدین کی خدمت کرناافضل ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگروالدین اسکی خدمت کےمحتاج ہیں یااس کےجانےکی وجہ سےان کوکوئی مشقت ہوتی ہوتواس شخص کاوالدین کی خدمت کرناافضل ہے۔

لمافی القرآن الکریم:(الاسراء:23)
“وقضیٰ ربک الاتعبدوا الاایاہ وبالوالدین احسانا ۔”
وفی الصحیح لمسلم:(2/317،رحمانیہ)
عن عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہ قال:اقبل رجل الی نبی اللہﷺفقال ابایعک علی الہجرۃوالجہادابتغی الاجرمن اللہ،قال:فہل من والدیک احدحی قال نعم،بل کلاھما،قال فتبتغی الاجرمن اللہ؟قال نعم!قال فارجع الی والدیک فاحسن صحبتہما
وفی ابی داوٗد:(1/365،رحمانیہ)
“عن عبداللہ بن عمروقال:جاءرجل الی رسول للہﷺفقال یارسول اللہ اجاھد،قال :الک ابوان ؟قال نعم!قال ففیھما فجاھد۔”
وکذافی التاتارخانیة:(18/240،فاروقیہ)
وکذافی الصحیح البخاری:(1/142،رحمانیہ)
وکذافیہ ایضاً:(1/529،رحمانیہ)
وکذافی المحیط البرہانی:(8/110،ادارةالقرآن)
وکذافی مجمع الزوائد:(8/177،العلمیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
23/4/1443/2021/11/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:142

میرےوالدصاحب 1988ءمیں وفات پاگئے،ہم چاربھائی اورتین بہنیں ہیں،والدصاحب کی زمین چاربھائیوں اورتین بہنوں کےنام لگ گئی، تقریباًچار،یاپانچ سال بعدبہنوں نےیہ زمین خوشی سےچاروں بھائیوں کوہدیہ کردی ،اس دوران آج تک ہم اپنی بہنوں کوعیدوشبرات اورناقی شکیں ،وغیرہ بھی دیتےرہتے،جب ہماری بہنیں ہمارےپاس آتیں توہم ان کی خدمت روپوں یاکپڑوں سےدےکرکرتےتھے،بہنوں نےزمین ہمارےنام لگائےہوئے تقریبا30 سال گزرگئےاب وہ زمین جو30سال پہلےبہنوں نےہدیہ کی تھی وہ زمین ہم نےچھ لاکھ روپےفی ایکڑکےلحاظ سےفروخت کردی،ہم نےاپناحصہ اوروہ زمین جوبہنوں نےہدیہ کی تھی فروخت کردی ۔اب بہنیں مطالبہ کررہی کہ ہدیہ کی ہوئی زمین کی رقم ہمیں دےدو ہماراحق بنتاہے،مہربانی فرماکربتائیں کہ ہدیہ کی ہوئی زمین پربہنوں کاحق ہےیانہیں؟

الجواب حامداومصلیا

بہنوں نےجب زمین ہدیہ کردی تھی توان کواب شرعامطالبہ کاکوئی حق نہیں ہے۔

لمافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(395،البشری)
لووھب احدالزوجین لآخرشیأًلیس لہ الرجوع، وکذالک اذاوھب لذی رحم محرم منہ کالاصول والفروع، والعم، والعمۃ، والاخ،والاخت
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/4010،رشیدیہ)
“الثانی صلۃ الرحم،فلایصح الرجوع فی ھبۃذوی الارحام المحارم،لان ھذہ الصلۃ عوض معنوی ۔”
وفی البحرالرائق:(7/500،رشیدیہ)
“فلووھب لذی رحم محرم منہ لایرجع فیھا۔”
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3982،رشیدیہ) وکذافی البدائع:(5/190۔رشیدیہ)
وکذافی التنویروالدر:(5/704،سعید) وکذافی المجلة:(28،قدیمی)
وکذافی الموسوعةالفقہیة:(42/151،علوم اسلامیة)
وکذافی السراجیة:(406،زمزم)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
22/8/1443/2022/3/26
جلد نمبر : 27 فتوی نمبر:51

شادی بیاہ کےموقع پرمروجہ نیوتہ کی شرعی حیثیت کیاہے؟

الجواب حامداومصلیا

شروع میں توخوشی کےموقع پرتعاون باہمی کےطورپرایسی رقم دی جاتی تھی جوکہ درست تھی اب بھی اگرکوئی ایسے مواقع پربطورہبہ،تحفہ کوئی چیزیانقدرقم دیتاہےجس میں ریاءنام ونموداورواپس لینےکی نیت نہ ہوتوجائزہےگناہ نہیں،لیکن شادی بیاہ کےموقع پرجورسم”نیوتہ”کےنام سےجاری ہےاس میں کئی خرابیاں ہیں جن کی وجہ سےجائزنہیں ہے،ان میں سےچندیہ ہیں :1< اس کاحساب وکتاب رکھاجاتاہےاورعموماًدینےوالوں کوایسی تقاریب کےمواقع پرواپس کیاجاتاہے،تویہ قرض کے حکم میں ہواتواس پرقرض کےاحکام جاری ہوں گےاوراس میں عموماًبرابریاکم دینےوالوں کوبراسمجھاجاتاہے،اس لیےاس میں رقم لےکرزیادہ واپس کی جاتی ہےجومشابہ سودہے۔2< بعض اوقات دلی رضامندی کےبغیربرادری کےرکھ رکھاؤکےلیےدی جاتی ہے،جبکہ دلی رضامندی کےبغیرکسی کامال لینا حلال نہیں ہے،ان خرابیوں کی بنیادپر”نیوتہ”لینادینادرست نہیں ہے۔

لمافی الردالمحتار:(5/696،ایچ،ایم،سعید)
وفی الفتاوی الخیریۃ˸سئل فیمایرسلہ الشخص الی غیرہ فی الاعراس ونحوھاھل یکون حکمہ حکم القرض فیلزمہ الوفاء بہ ام لا؟اجاب:ان کان المعروف بأنہم یدفعونہ علی وجہ البدل یلزم الوفاء بہ مثلیافبمثلہ ،وان کان قیمیا فبقیمتہ،وان کان المعروف خلاف ذٰلک بأن کانوایدفعونہ علی وجہ الھبۃولاینظرون فی ذالک الی اعطاءالبدل فحکمہ حکم الھبۃ فی سائراحکامہ ، فلارجوع فیہ بعدالہلاک اوالاستھلاک،والاصل فیہ ان المعروف عرفاکالمشروط شرطا،
قلت والعرف فی بلادنامشترک نعم!فی بعض القریٰ یعدونہ قرضاحتی انھم فی کل ولیمۃیحضرون الخطیب یکتب لہم مایہدی فاذاجعل المھدی ولیمۃ یراجع المھدی الدفتر فیھدی الاول الی الثانی مثل مااھدی الیہ
وکذافی کنزالعمال:(5/51،رحمانیہ)
وکذافی مشکوٰة المصابیح:(1/261،رحمانیہ)
وکذافی مسندالامام احمد:(6/591،احیاءالتراث)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1443/2021/12/15
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:183

ایک شخص شروع نماز میں شریک تھادرمیان میں اُس کاوضوٹوٹ گیاتووضوکےبعداپنی نمازپربناءکرسکتاہے؟ اسی طرح وضوءکےدوران جورکعتیں رہ گئیں وہ امام کے سلام پھیرنےسے پہلے ادا کرے یاسلام پھیرنےکےبعد؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگریہ شخص بناءکی شرائط پرعمل کرتاہےتوواپس آکراپنی نمازپربناءکرسکتاہے، جورکعتیں وضوکے دو ران رہ گئیں وہ پہلے اداکرے اورپھرامام کےساتھ شریک ہوجائے،اگروہ آکرامام کےساتھ شریک ہوگیا اوربقیہ رکعتیں امام کے سلام پھیرنےکےبعداداکرتاہےتویہ بھی جائزہے۔

لمافی الموسوعةالفقہیة:(17/125،علوم اسلامیہ)
وقال الحنفیہ:اِن سبق المصلی حدث توضأوبنیٰ،لماوردفی الحدیث:عن عائشۃرضی اللہ عنھاعن النبیﷺانہ قال:من اصابہٗ قئی ،اورعاف،اوقلس،اومذی،فلینصرف فلیتوضأثم لیبن علی صلاتہ وہوفی ذالک لایتکلم (رواہ ابن ماجہ:1/85))وفی صفحہ125)وان کامقتدیافانصرف وتوضأفان لم یفرغ من الصلاۃفعلیہ ان یعودلانہ فی حکم المقتدی بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثم اذاعادینبغی ان یشتغل اوّلابقضاءماسبق بہ فی حال تشاغلہ بالوضوء،لانہ لاحق،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولوتابع امامہ اوّلا ثم اشتغل بقضاء ماسبق بہ بعدتسلیم الامام جازت صلاتہٗ
وفی البدائع:(1/516،رشیدیہ)
واختلف فی الحدث السابق:وہوالذی سبقہ من غیرقصد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قال اصحابنا:لایفسدالصلاۃ،فیجوزالبناءاستحسانا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(وفی صفحہ523)وان کان مقتدیافانصرف وتوضأ،فان لم یفرغ امامہ من الصلاۃفعلیہ ان یعودلانہ فی حکم المقتدی بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثم اذاعادینبغی ان یشتغل اوّلابقضاءماسبق بہ فی حال تشاغلہ بالوضوء،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وولوتابع امامہ اوّلا،ثم اشتغل بقضاءماسبق بہ بعدتسلیم الامام ،جازت صلاتہ عندعلمائناالثلاثۃ
وکذافی ردالمحتار:2/423،دارالمعرفت) وکذافی مجمع الانہر:(1/177،المنار)
وکذافی الہندیہ:(1/93،رشیدیہ) وکذافی التاتارخانیہ:(2/359،فاروقیہ)
وکذافی المبسوط:(1/169،دارالمعرفت) وکذافی خلاصةالفتاویٰ:(1/140،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرہانی:(2/284،ادارةالقرآن) وکذافی اللباب:(1/94،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غُفرلہٗ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
22/4/1443/2021/11/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:140

اگرمقیم نےآبادی میں فرض نمازغیرقبلہ کی طرف رخ کرکےپڑھ لی ،بعدمیں وقت کےاندرمعلوم ہو گیا کہ غیرقبلہ کی جانب رخ کرکےنمازپڑھی ہےتوکیااب دوبارہ نمازپڑھےگا؟

الجواب حامداومصلیا

جی!نمازدوبارہ پڑھےگا۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/761،رشیدیہ)
“امامن صلی فی الحضرالی غیرالکعبۃ سواءأکان بصیراام اعمیٰ،ثم بان لہ الخطاءفعلیہ الاعادۃ ۔”
وفی الہندیة:(1/64،رشیدیہ)
“رجل دخل مسجدالامحراب لہ وقبلتہ مشکلۃ فصلی بالتحری ثم ظہرانہ أخطأکان علیہ الاعادۃلانہ قادرعلی السؤال من الاھل ۔”
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب:(1/78،قدیمی)
وکذافی البحرالرائق:(1/499،رشیدیہ)
وکذافی غنیةالمتملی:(222،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقہیة:(32/302،علوم اسلامیة
وکذافی البنایة:(2/162،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/197،الطارق)
وکذافی الجوہرةالنیرة:(1/132،1قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
12/7/1443/2022/2/14
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:170

ایک عورت کاشوہرپاکستان میں ہےاوروہ خودامریکہ میں رہتی ہے،اب وہ عورت مسلمان ہوچکی ہے(جبکہ پہلےدونوں کافرتھے)اب اس عورت کانکاح اس پاکستانی شوہرسےکیسےختم ہوگااوروہ عورت کسی مسلم مردسےنکاح کرنے کے لیے عدت گزارےگی کہ نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

اگراس عورت کوحیض آتاہےتوتین حیض ورنہ تین مہینےگزرنےکےبعدبائنہ ہوجائےگی اس کےبعددوسرانکاح کرسکتی ہے۔

لمافی البحراالرائق:(3 /365،رشیدیہ)
اذااسلم احدالزوجین عرض الاسلام علی الآخر فإن اسلم،والافرق بینھما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولواسلم احدھماثمۃلم تبن حتی تحیض ثلاثافاذاحاضت ثلاثابانت(وتحتہ)واطلق فی الاسلام احدہمافی دارالحرب ،فشمل مااذاکان الآخرفی دار الاسلام اوفی دارالحرب،اقام الآخرفیہااوخرج الی دارالاسلام ،فحاصلہ انہ مالم یجتمعافی دارالاسلام فإنہ لایعرض الاسلام علی المصر،سواءخرج المسلم اولآخر،لأنہ لایقضٰی لغائب ولاعلی غائب
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9 /7164،رشیدیہ)
واذااسلمت المرأۃفی دارالحرب،لم تقع الفرقۃعلیھاحتی تحیض ثلاث حیضات ان کانت من ذوات الحیض،اوتمضی ثلاثۃاشہر ان کانت من ذوات الاشہر،اوتضع حملہاان کانت حاملا
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(292،البشری)
وکذافی الھدایة:(2/326،قدیمی)
وکذافی التنویروالدر:(4/358،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(4/272،فاروقیہ)
وکذافی الہندیة:(1/338،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرہانی:(4/200،ادارةالقرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
4/7/1443/2022/2/6
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:123

مسافرنےبھولےسےیاجان بوجھ کرعصرمیں چاررکعت نمازپڑھ لی،تواس کی نمازکاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگرمسافرنےجان بوجھ کرچاررکعت اس طرح پڑھیں کہ دورکعت کےبعدالتحیات کےبقدربیٹھاہوتواگرچہ فرض ادا ہو جائےگا،لیکن ایساکرنامکروہ تحریمی ہے،لھذانمازدوبارہ پڑھناواجب ہے۔
اگربھول کرچاررکعت اس طرح پڑھ لیں کہ دورکعت کےبعدالتحیات کےبقدربیٹھابھی تھااورسجدہ سہوبھی کیا تھا تو نماز ہو جائےگی،ورنہ نہیں۔

لمافی البحرالرائق:(2/230 ، رشیدیہ)
فلو اتم وقعدفی الثانیۃ صح والا لا)ای:وان لم یقعدعلی رأس الرکعتین لم یصح فرضہ،لانہ اذاقعدفقدتم فرضہ وصارت الاخریان نفلاًکالفجر وصارآثمالتأخیرالسلام
وفی الدروالرد:( 2/733،رشیدیہ)
فلواتم مسافران قعدفی)القعدۃ(الاولیٰ تم فرضہ و)لکنہ اساءلوعامداً،لتأخیرالسلام وترک واجب القصر ۔۔۔۔۔۔۔ (مازادنفل)کمصلی الفجر اربعا(وان لم یقعد بطل فرضہ)قولہ :(ان قعد۔۔۔۔۔)لان القعدۃعلی رأس الرکعتین فرض علی المسافر،لانھاآخرصلاتہ
وکذافی النہرالفائق:(1/346،قدیمی)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/314،الطارق)
وکذافی التاتارخانیة:(2/487،فاروقیہ)
وکذافی الہندیة:(1/139،رشیدیہ)
وکذافی الخانیةعلی ہامش الہندیة:(1/168،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/148،قدیمی)
وکذافی التبیین:(1/211،امدادیہ)
وکذافی خلاصةالفتاویٰ:(1/200،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
13/5/1443/2021/12/18
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:32