ایک آدمی نے تقریبا تین سو کلو میٹر کاسفر طے کرنا ہے ،سفر میں روزہ نہ رکھنے کا جو حکم ہے ،یہ کس وقت گھر سے نکلے تو حکم ہے ؟یعنی دن یا رات میں جس وقت بھی نکلے یہی حکم ہے ؟یعنی رمضان میں ۔

الجواب حامداومصلیا

اگر سحری کے وقت میں سفر شروع کرلیا تب تو اس کے لیے روزہ نہ رکھنا جائز ہے ورنہ نہیں ۔

لما فی الشامیة:(2/431،ایم ،سعید)
ان السفر لایبیح الفطر وانما یبیح عدمالشروع فی الصوم فلو سافر بعد الفجر لایحل الفطر
وفی الہند یة:(1/206،رشیدیة)
السفر الذی یبیح الفطر وھو لیس بعذر فی الیو م الذی انشأالسفر فیہ ۔۔۔۔۔۔۔فلو سافر نہارا لایباح لہ الفطر فی ذلک الیوم وان افطر لا کفارۃ علیہ
وکذافی البحرالرائق :(2/506،رشیدیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(28/48،علوم اسلامیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(3/1695،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی :(3/358،ادارة القرآن )
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/437،الطارق)

سواللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/9/1443/2022/4/16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:144

روزے کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ کرنا کیساہے ؟

الجواب حامداومصلیا

مکروہ ہے ۔

لما فی الفتاوی السراجیة:(164،زمزم)
“یکرہ مضغ العلک للصائم “
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(3/1690،رشیدیة)
ذوق الطعام والعلک خوفامن وصول شیء الی جوف بالذوق ولان العلک یجمع الریق فان ابتلعہ افطر فی رایی وان القاہ عطشہ
وکذافی الشامیة:(2/416،ایم ،سعید)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/268،رشید یة)
وکذافی البحرالرائق :(2/489،رشیدیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(1/422،الطارق )
وکذافی المو سو عة الفقھیة:(28/69،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/9/1443/2022/4/16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:145

ایک شخص دوسرے سے رہن لے کر قرض دیتا ہے ،مستقرض شئی مرھونہ کے استعمال کی اجازت دےدیتا ہے ،تو اس صورت میں رہن رکھی ہوئی چیز کو استعمال کرنا کیساہے؟اور شئی مرھونہ کی شرعی حیثیت رہن کی رہے گی یا تبدیل ہو جائے گی ؟براہ کرم رہنمائی فرمائیں ۔

الجواب حامداومصلیا

اگر مرتہن کی جانب سے رہن کے استعمال کی شرط یا مطالبہ ہو یا رہن کا استعمال معروف ہو تو ناجائز اور حرام ہے ،لیکن اگر مرتہن کو کسی ضرورت کی وجہ سے مرھونہ شئ استعمال کرناپڑے توراہن کی دلی اجازت سے ایک آدھ بار استعمال کی گنجائش ہے ۔وہ چیز رہن ہی رہے گی ۔اگر ہلاک ہو گئی تو جتنی ہلاک ہوگی اس قدر قرض سے کمی ہو جائے گی اور استعمال کے دوران امانت ہوگی ،اگر بغیر تعدی کے ہلاک ہوگئی تو مرتہن کے ذمہ کچھ بھی نہ ہو گا۔

ولمافی الموسوعةالفقہیة:(23/184،علوم اسلامیة)
“وفی قول عندہم :لایجوز الانتفاع للمرتہن ولو باذن الراہن لانہ ربا وفی قول ان شرطہ فی العقد کان ربا والاجاز انتفاعہ باذن الراہن “
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(6/429،رشیدیة)
واذااذن الراھن للمرتہن فی الانتفاع بالمرھون جاز مطلقا عند بعض الحنفیۃ و منھم من منعہ مطلقا لانہ ربا او فیہ شبہۃ الربا و الاذن او الرضا لایحل الربا ولا شبھتہ ومنھم من فصل فقال ان شرط الانتفاع علی الراھن فی العقد فھو حرام لانہ ربا وان لم یشرط فی العقد فجائز لانہ تبرع من الراھن للمرتہن
وفی الشامیة:(5/310،ایم سعید )
قولہ یضمن بالتعدی )فلو رھن ثوبا یساوی عشرین درھما لعشرۃفلبسہ المرتھن باذن الراھن فانقص ستۃثم لبس بلا اذن فانتقص اربعۃ ثم ھلک وقیمتہ عشرۃ یر جع المرتھن علی الراھن بدرھم واحد من دینہ ویسقط تسعۃ لان الثو ب یو م الرھن کان نصفہ مضمونا بالدین و نصفہ اما نۃ وما انتقص بلبسہ بالاذن وھو ستۃ لایضمن وماانتقص بلا اذن وھو اربعۃیضمن ویصیر قصاصا بقدرہ من الدین ۔۔۔۔۔۔الخ
وکذافی مجمع الانہر :(4/273،المکتبةالمنار )
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(5/42،الحرمین الشریفین )
وکذا فی التنویر مع الدر :(6/482،ایم سعید )
وکذافی الدرالمنتقی فی شرح الملتقی :(4/273،المنار)
وکذافی البحر الرائق :(8/439،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثو بہ الجدید :(4/453،الطارق)
وکذا فی الہدایہ مع فتح القدیر :(10/169،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
10/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:178

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو دوطلاقیں دیں اور عرصہ تقریباڈیڑھ مہینہ گزرگیا ہے اور شوہر طلاق کے بعددس دن گھرپہ رہا لیکن رجوع نہیں کیا ،اس کے بعددوبئی چلا گیا۔پوچھنا یہ ہےکہ لڑکی کے سسرال والے کہتے ہیں کہ لڑکی ہمارے پاس چھوڑوں لڑکا جب سال ،دوسال کے بعد آئے گا ہم دوبارہ نکاح کروادیں گے۔1-عدت کے بعد دوبارہ نکاح ہوجائےگا؟2-عدت کے بعد سسرال میں رہنا کیساہے جبکہ شوہر دبئی ہے؟3-لڑکی کے دو چھوٹے بچے ہیں،ایک بیٹا اور ایک بیٹی ،کیا ان کا خرچ باپ کے ذمہ ہےیا کسی اور پر؟ ہماری شرعی رہنمائی فرمائیں

الجواب حامداو مصلیا

1-

صورت مسئولہ میں عدت کے بعد بھی دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ۔2-باہمی رضا مندی سے سسرال بھی رہ سکتی ہے اور والدین کے ہا ں بھی۔3-چھو ٹے دونوں بچوں کا خرچ باپ کے ذمہ ہو گا۔

لما فی البحر الرائق:(4/94،رشیدیة)
“قولہ:(وینکح مبانۃفی العدۃ وبعدھا) ای المبانۃ بمادون الثلاث لان المحلیۃباقیۃ لان زوالھا معلق بالطلقۃالثالثۃ فینعدم قبلھا ومنع الغیر فی العدۃ لاشباہ النسب ولا اشباہ فی الطلاق لہ “
وفیہ ایضا:(4/340)
قولہ:(ولطفلہ الفقیر)ای تجب النفقۃ والسکنی والکسوۃ لولدہ الصغیر لقولہ تعالی(وعلی المولود لہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف) فھی عبارۃ فی ایجاب نفقۃالمنکوحات اشارۃ الی ان نفقۃ الاولاد علی الاب
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/6955،رشیدیة)
اما الطلاق الرجعی :فھو الذی یملک الزوج بعدہ اعادۃالمطلقۃ الی الزوجیۃ من غیر حاجۃ الی عقد جدید مادامت فی العدۃ،ولو لم ترض،و ذلک بعد الطلاق الاول والثانی غیر البائن اذا تمت المراجعۃ قبل انقضاء العدۃ انقلب الطلاق الرجعی بائنا ، فلا یملک الزوج ارجاع زوجتہ المطلقۃ الا بعقد جدید
وکذافی البدائع الصنائع:(3/444،رشیدیة)
وکذاالشامیة:(3/612،سعید)
وکذا فی الشامیة:(3/400،سعید)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبة الجدید:(2/203،الطارق)
وکذا فی فتح الباری فی شرح البخاری:(9/604)
وکذا فی فتح الباری فی شرح البخاری:(9/603)

 

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ :مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن سا ہیوال
14/4/1443/2021/11/21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:118

ہمارے ہاں لندن مرکز میں شب جمعہ پر بزرگوں نے ایک درود شریف اور اس کی فضیلت یہ بتلائی کہ جو بندہ “اللھم صل علی محمد فی اول کلامنا اللھم صل علی محمد فی اوسط کلامنا اللھم صل علی محمد فی آخر کلامنا”کو تین بار دن اور تین بار رات کو پڑھ لے تو گویا وہ دن رات درو د شریف پڑھتا رہا ۔پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ درودشریف اور اس کی فضیلت احادیث مبارکہ سے ثا بت ہے یا بزرگوں کا مجرب اور انہی سے منقول ہے؟

الجواب حامداو مصلیا

مذکورہ درود شریف اور اس کی فضیلت احادیث مبارکہ سےتو ثابت نہیں بلکہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ نے ”ذریعۃ الوصول الی جناب الرسول ﷺ “علامہ مخدوم محمد ہاشم سندھی رحمہ اللہ کی کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا ہے ، اس کے صفحہ 237پرہے
”شیخ الاسلام ابو العباس بو نی روح اللہ روحہ نے فرمایا کہ جو شخص کہ دن اور رات میں تین تین مر تبہ یہ درود بھیجے گویا وہ دن رات کے تمام اوقات میں درود بھیجتا رہا “ (مکتبہ لدھیانوی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/2/2022/6/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:130

مشہور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ اگر کل قیامت والے دن اعلان ہو کہ صرف ایک ہی شخص جنت میں جائے گا تو مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ شخص میں ہی ہوں گا اور اسی طرح اگراعلان ہو کہ صرف ایک شخص جہنم میں جائے گا تو مجھے ڈرہے کہ کہیں وہ شخص میں ہی نہ ہوں۔ کہنا یہ ہے کہ یہ قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے یا نہیں؟اگر ثابت نہ ہو بلکہ اسی سے ملتا جلتا کوئی اور قول ثابت ہو تو رہنمائی فر مائیں۔

الجواب حامداومصلیا

جی ہاں !تھوڑے سے فرق کے ساتھ ایسے ہی الفاظ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثا بت ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر یہ اعلان ہو کہ سب لوگ جنت میں جائے گے سوائے ایک کے تو مجھے ڈرہے کہ وہ ایک میں ہوں گا اور اگر یہ اعلان ہو کہ ایک شخص کے علاوہ سب لو گ جہنم میں جائیں گے تو مجھے امید ہے کہ وہ ایک میں ہوں گا ۔

لما فی کنزالعمال :(12/277،رحمانیة)
عن عمر قال لو نادی منادی من السماء یاایھاالناس انکم داخلون الجنۃ کلکم اجمعون الارجلاواحدالخفت ان اکون اناہو ولو نادی مناد ایھاالناس انکم داخلون النارالارجلاواحدالرجوت ان اکون اناہو
وفی حلیة الاولیاء وطبقات الاصفیاء:(1/53،دارالکتاب العلمیة)
حدثنامحمد بن معمر ثناابو شعیب الحرانی ثنایحی بن عبداللہ الباہلی ثناالاوزاعی ثنا یحی بن کثیر عن عمر بن الخطاب قال لو نادی منادی من السماء یا ایھا الناس انکم داخلون الجنۃ کلکم اجمون الارجلاواحدالخفت ان اکون اناہو ولو نادی مناد ایھاالناس انکم داخلون النار الارجلاواحدا لرجوت ان اکون اناہو
وکذا فی سبل الھدی والرشاد فی سیرة الخیر العباد ﷺ:(11/271،نعمانیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1443/18/12/2021
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:29

تعزیت کے لیے مسجد میں بیٹھنا جائز ہے ،جبکہ ورثاء کے پاس آنے والوں کو بٹھانے کے لیے جگہ نہ ہو ؟

الجواب حامداومصلیا

اگر مسجد کے علاوہ کوئی اور جگہ میسر نہ ہو تو مسجد میں بیٹھا جاسکتا ہے ،لیکن آداب کاضرور خیال کیا جائے ورنہ مسجد میں بیٹھنا مکروہ ہے ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(2/1572،رشیدیة)
قال الحنفیۃ: لاباس بالجلوس للتعزیۃ فی غیر المسجد ثلاثۃ ایام واولہا افضلہا ،وقال فی الفتاوی الظھیریۃ :لاباس بہا لاہل المیت فی البیت او المسجد والناس یاتونھم ویعزونھم
وفی البحرالرائق :(2/237،رشیدیة)
قال البقالی ولاباس بالجلوس للعزاء ثلاثۃ ایام فی بیت او مسجد وقد جلس رسول اللہ لما قتل جعفروزید بن حارثۃ والناس یاتون ویعزونہ والتعزیۃ فی الیوم الاول افضل والجلوس فی المسجد ثلاثۃ ایام للتعزیۃ مکروہ وفی غیر ہ جاءت الرخصۃ ثلاثۃ ایام للرجال وترکہ احسن
وکذافی الشامیة:(2/241،ایم،سعید)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(617،قدیمی)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/346،الطارق)
وکذافی الہندیة:(1/167،رشیدیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(12/288،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/9/1443/2022/4/16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:146

تصویر کے متعلق سب کو پتہ ہے کہ حرام لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ حکم کاغذ پر پینسل سے تصویر بنانے کے بارے میں ہے ،کیمرے کے بارے میں نہیں ہے، اس بارے میں تفصیل بتادیں ؟

الجواب حامداومصلیا

کاغذوغیرہ کسی چیز پر ہاتھ سے بنی ہوئی یا پرنٹ تصویر تو بالاتفاق حرام ہے البتہ کیمرے کی ان تصاویر کے بارے میں جن کا پرنٹ نہ نکالا گیا ہو ان میں علماء کا اختلاف ہے ۔بعض علماء کے نزدیک یہ بھی تصویر ہے اور حرام ہے ۔جبکہ بعض علماء کے نزدیک یہ تصویر نہیں بلکہ عکس ہے ،جو شعاعوں اور ذرات کی صورت میں محفوظ ہوتا ہے ۔ان کے نزدیک یہ حرام نہیں ،بشرطیکہ کسی جائز منظر کی ہو ۔ہمارا رجحان بھی دوسری رائے کی طرف ہے کہ کیمرے سے عکس بندی کی گنجائش ہے ،بشرطیکہ کسی حرام چیز کا عکس نہ ہو اور اس کا پرنٹ نہ نکلوایا جائے ۔

لما فی تکملہ فتح الملھم:(4/164،درالعلوم کراچی)
اماالصورۃ التی لیس لھا ثبات و استقرار ولیست منقوشۃ علی شیئ بصفۃ دائمۃ فانھا بالظل اشبہ منھا بالصورۃ ویبدو ان صورۃالتلفزیون والفیدیو لاتستقر علی شیئ فی مرحلۃ من المراحل الا اذا کان فی صورۃ “فیلم” فان کانت صورالانسان حیۃ بحیث تبدو علی الشاشۃ فی نفس الوقت الذی یظھر فیہ الانسان امام الکیمرا فان الصورۃلا تستقر علی الکیمرا ولا علی الشاشۃ وانما ھی اجزاءکھربائیۃ تنتقل من الکیمرا الی الشاشۃ وتظھر علیھا بترتیبھا الاصلی ثم تفنی و تزول واما اذ ااحتفظ بالصورۃ فی شریط الفید یو فان الصور لا تنقش علی الشر یط وانما تحفظ فیھا الاجزاء الکھربائیۃ التی لیس لھا صورۃ فاذاظھرت ھذہ الاجزاء علی الشاشۃ ظھرت مرۃ اخری بذلک الترتیب الطبیعی و لکن لیس لھا ثبات و لااستقرار علی الشاشۃ و انما ھی تظھر و تفنی فلا یبدو ان ھناک مرحلۃ من المراحل تنتقش فیھا الصورۃ علی شیئ بصفۃ مستقرۃ او دائمۃ وعلی ھذا فتنزیل ھذہ الصورۃ منزلۃ الصورۃ المستقرۃ مشکل

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/2/2022/10/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:174

ایک آدمی کی اپنی بیوی سے اکثرو بیشتر لڑائی ہو تی رہتی ہے اور وہ اپنی بیوی کودھکے دے کر گھرسے نکال دیتا ہے اور کہتا ہےکہ” تو اپنے میکے چلی جا” کیا ان الفاظ سے طلاق ہو گی یا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

اگر شو ہر نے مذکورہ الفاظ سے طلاق کی نیت کی ہے تو واقع ہو جائے گی ورنہ نہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6799،رشیدیہ)
طلاق الکنایۃ ھو کل لفط یحتمل الطلاق وغیرہ ولم یتعارفہ الناس فی ارادۃ الطلاق مثل قول الرجل لزوجتہ الحقی باھلک ،اذھبی،اخرجی۔۔۔۔۔الخ
وفی البدائع الصنائع:(3/169،رشیدیہ)
وقولہ الحقی باھلک یحتمل الطلاق،لان المراۃ تلحق باھلہا اذاصارت مطلقۃ، ویحتمل الطرد والابعاد عن نفسہ مع بقاء النکاح واذااحتملت ھذہ الطلاق وغیر الطلاق فقد استتر المراد منھا عند السامع فافتقرت الی النیۃ لتعیین المراد ۔۔۔۔۔الخ
وکذا فی النتف فی الفتاوی :(209،سعید)
وکذافی المحیط البر ھانی:(4/428،دار الاحیاء)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/460،فاروقیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبة الجدید:(2/180،الطارق)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب :(2/171،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثر شریف غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/4/1443/2021/11/21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:107

اگر آدمی چاررکعت نماز سنت کی نیت کرے اور دورکعت پڑھ کر عمداسلام پھیردے تو ان کا کیا حکم ہے ؟اور اگر یہ خطرہ ہو کہ اگر چار رکعت پوری کروں گا تو اتنی دیر میں نکسیر پھوٹ جائے گی اور نماز پوری نہیں کر سکوں گا ،اس لیے وہ دو رکعت پر نمازتوڑ دے تو کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداو مصلیا

اگرسنت مؤکدہ تھیں تو چاروں رکعت کی قضاء کرے گا اور اگر غیر موکدہ تھیں تو دو رکعت مکمل ہو گئیں بقیہ دو کی قضاء اس پر لازم نہ ہو گی ۔

لما فی الشامیة:(2/578،رشیدیہ)
علی اختیار الحلبی وغیرہ )حیث قال فی شرح المنیۃ اما اذا شرع فی الاربع التی قبل الظہروقبل الجمعۃ او بعد ھا ثم قطع فی الشفع الاول او الثانی یلزمہ قضاءالاربع باتفاق
وفی المحیط البر ھانی :(2/221،ادارة القرآن )
قال وکل رکعتین افسدھما فعلیہ قضاء ھما دون ماقبلھما لما مر ان کل شفع صلاۃ علی حدۃ فلایفسد الشفع الاول لفساد الشفع الثانی
وکذا فی الفقة الاسلامی وادلتہ :(2/1068،رشیدیة)
وکذافی تبیین الحقائق :(1/174،امدادیة)
وکذافی بدائع الصنا ئع :(2/5،رشیدیة)
وکذا فی الہندیة:(1/114،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیة:(2/277،فاروقیة)
وکذا فی الحلبی الکبیر :(393،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/3/2022/19/8/1443
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:54