میں سونے چاندی کا کام کرتا ہوں اور میرے پاس سنار کام کرانے آتے ہیں اور میری دکان میں سونےا ور چاندی کے ذرات گرتے ہیں کام کرتے وقت؛پھر میں اپنی دکان کا گردو غبار،جھاڑ وغیرہ بیچتا ہوں اور پیسے خود رکھتا ہوں اور یہ چیز سناروں کے بھی علم میں ہے کیا میرے لیے وہ رقم جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جائز ہے۔

لما فی مشکوۃ المصابیح:(1/261،رحمانیة)
وعن ابی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ألا لا تظلمو،ألا لا یحل مال إمرإ إلا بطیب نفس منہ
وفی الفتاوی الہندیة:(3/227،رشیدیة)
ولیس ینبغی للصائغ أن یأکل من ثمن ما باع من تراب الصیاغۃ من قِبل أن ما فیہ متاع الناس إلا أن یکون قد زاد فی متاعھم حین أوفاھم بقدر ما سقط من مالہم فی التراب فإذا کان کذالک طاب لہ الأکل من ثمنہ
وکذا فی الدر المختار:(8/602،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/169،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(7/483،رشیدیة)
وکذا فی شرح العینی:(2/261،ادارۃ القران)
وکذا فی مجمع الانھرعلی ھامش ملتقی الابحر:(3/490،المنار)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة:(3/126،حرمین شریفین)
وکذا فی البنایة:(9/215،رشیدیة)
وکذا فی الھدایة:(3/288،رشیدیة)
وکذا فی فتح القدیر:(9/33،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/05/1443/2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر :22

ایک شخص نے فجر کی نماز ایک ہفتہ تک بیٹھ کر پڑھائی کسی عذر کی وجہ سے اور رکوع اور سجدے کا اشارہ کیا تو ان کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

امام اور جو مقتدی عذر کی بنا پر رکوع و سجدے پر قادر نہیں تھے ان کی نمازیں صحیح ہو گئیں مگر وہ مقتدی جو رکوع و سجدے پر قادر تھے انہیں وہ تمام نمازیں لوٹانا ہوں گی جو انہوں نے اس معذور امام کے پیچھے ادا کیں۔

لما فی الفتاوی الہندیة:(1/85،رشیدیة)
ویصح اقتداء القائم بالقاعد الذی یرکع ویسجد لا اقتداء الراکع والساجد بالمؤمی ھکذا فی فتاوی قاضیخان۔۔۔۔۔۔۔۔(وعلی الصفحۃ 86) والأصل فی ھذہ المسائل ان حال الامام ان کان مثل حال المقتدی أو فوقہ جازت صلوۃ الکل وإن کان دون حال المقتدی صحت صلوۃ الامام ولا تصح صلوۃ المقتدی
وفی المحیط البرہانی:(2/180،دار إحیاء التراث)
قال محمد فی (الجامع الصغیر):لا یؤم القاعد الذی یؤمی قوما یرکعون ویسجدون والأصل فی ھذا أن یقال:بأن صلوۃ المقتدی مبنیّ علی صلوۃ الامام[فکان کالتبع لہ والشئ یستتبع ما دونہ وما ھو مثلہ ولا یستتبع ما ھو فوقہ فإن کان حال الامام] مثل حال المقتدی أو فوقہ جاز صلوۃ الکل وإن کان حال الامام دون حال المقتدی صحت صلوۃ الامام فلا تصح صلوۃ المقتدی۔۔۔۔۔۔۔
وکذا فی الدر المختار مع الرد:(2/391،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(2/254،فاروقیة)
وکذا فی الھدایة:(1/129،المیزان)
وکذا فی فتح القدیر:(1/381،رشیدیة)
وکذا فی العنایة علی ھامش فتح القدیر:(1/381،رشیدیة)
وکذا فی کنز الدقائق:(29،حقانیة)
وکذا فی البحر الرائق:(1/631،رشیدیة)
وکذا فی النھر الفائق:(1/252،قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/05/1443/2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:21

کیا عورت دکان سے سودا سلف خرید کر لا سکتی ہے حالانکہ گھر میں مرد موجود ہیں۔اگر عورت اس طرح پردے میں جائے کہ صرف ہاتھ ،چہرہ اور پاؤں کھلے ہوں تو یہ جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

عورت مکمل پردے کے ساتھ(جس میں چہرے کا پردہ بھی داخل ہے)بوقت ضرورت خریداری کے لیے جا سکتی ہے،اگر بازار،شرعی مسافت پر یا اس سے زیادہ دور ہو تو محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/300،رشیدیة)
ثم المحرم أو الزوج:إنما یشترط اذا کان بین المرأۃ وبین مکۃ ثلثۃ أیام فصاعداً فإن کان أقل من ذالک حجت بغیر محرم لأن المحرم یشترط للسفر وما دون ثلثۃ أیام لیس بسفر فلا یشترط فیہ المحرم کما لا یشترط للخروج من محلۃ الی محلۃ
وفی وفی فتح القدیر:(2/427،رشیدیة)
لأنہ یباح لہا الخروج الی ما دون مدۃ السفر بغیر محرم) یعنی اذا کان لحاجۃ
وکذا فی الدر المختار:(3/531،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/219،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة:(1/254،حرمین شریفین)
وکذا فی البحر الرائق:(8/351،رشیدیة)
وکذا فی مجمع الأنہر شرح ملتقی الابحر علی ھامشہ:(1/122،المنار)
وکذا فی النھر الفائق:(1/183،قدیمی)
وکذا فی الدر المنتقی علی ھامش ملتقی الابحر:(1/121،المنار)
وکذا فی البحر الرائق:(1/470،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/05/1443/2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:19

دوران ِنماز ِتراویح امام نے غلط پڑھا اور اگراس جماعت میں خواتین بھی پردے میں نماز تراویح پڑھ رہی ہوں تو کیا اب عورت لقمہ دے سکتی ہے؟(خواہ محرم ہو یا نا محرم ہو) اور اگر لقمہ دے تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

عورت کو کسی اجنبی کی موجودگی میں بلند آواز سے بات کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے بالخصوص جہاں فتنے کا اندیشہ ہو،اس لیے امام کو لقمہ نہیں دے سکتی،اگر دے دیا تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔

لما فی الدر المختار مع الرد:(2/96،رشیدیة)
صوتھا علی الراجح(وفی الرد تحت ھذا القول)قولہ(وصوتہا) :معطوف علی المستثنی یعنی أنہ لیس بعورۃ حینئذٍ قولہ( علی الراجح) :عبارۃ(البحر) عن( الحلیۃ) أنہ الأشبہ وفی(النھر) وھوالذی ینبغی اعتمادہ ومقابلہ ما فی (النوازل) :نغمۃ المرأۃ عورۃ وتعلمھا القرآنَ من المرأۃ احب قال علیہ الصلوۃ والسلام :(التسبیح للرجال والتصفیق للنساء) فلا یحسن أن یسمعھا الرجل وفی(الکافی) :ولا تلبّی جھراً لأن صوتھا عورۃ ومشی علیہ فی(المحیط)۔۔۔۔۔۔۔۔۔قال فی الفتح: وعلی ھذا لو قیل اذا جھرت بالقراءۃ فی الصلوۃ فسدت کان متّجھاً
وفی البحر الرائق:(1/470،رشیدیة)
وصرح فی(النوازل) بأن نغمۃ المرأۃ عورۃ وبنی علیہ أن تعلمھا القرآن من المرأۃ أحب الیّ من تعلمھا من الأعمی ولذا قال صلی اللہ علیہ وسلم(التسبیح للرجال والتصفیق للنساء) فلا یجوز أن یسمعھا الرجل ومشی علیہ المصنف فی الکافی فقال ولا تلبی جھراً لأن صوتھا عورۃ ومشی علیہ صاحب المحیط فی باب الاذان وفی(فتح القدیر): وعلی ھذا لو قیل اذا جھرت بالقرآن فی الصلوۃ فسدت کان متجھاً وفی شرح المنیۃ:الاشبہ: أن صوتھا لیس بعورۃ وانما یؤدی الی الفتنۃ کما علل بہ صاحب الھدایۃ وغیرہ فی مسئلۃ التلبیۃ ولعلہن انما منعن من رفع الصوت بالتسبیح فی الصلوۃ لہذا المعنی ولا یلزم من حرمۃ رفع صوتھا بحضرۃ الأجانب أن یکون عورۃ کما قدمناہ
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(1/755،رشیدیة)
وکذا فی احکام القرآن للجصاص:(3/528،قدیمی)
وکذا فی صحیح المسلم:(1/219،رحمانیة)
وکذا فی فتح الملہم:(3/246،دار العلوم کراچی)
وکذا علی حاشیةکنز الدقائق:(20،حقانیة)
وکذا فی فتح القدیر:(1/267،رشیدیة)
وکذا فی غنیة المتملی:(217،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(2/115،فاروقیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/05/1443/2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:23

ایک آدمی نے دو دانتوں کے درمیان دھاگہ گزارا جب دھاگہ نکالا تو اس پر کچھ خون لگا ہوا تھا جو مسوڑوں سے نکلا تھا، یہ خون ناقض وضو ہے یا نہیں؟ کیونکہ منہ کے اندر ہونے کی وجہ سے اس کا بہنا معلوم نہیں ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں،یہ خون ناقض ِوضو نہیں کیونکہ بظاہر خلال کے دوران نکلنے والا خون بہنے والا نہیں ہوتا لیکن اگر تھوک میں سرخی غالب یا برابر نظر آئے تو یہ ناقض ہو گا۔

لما فی بدائع الصنائع:(1/125،رشیدیة)
ولو خلل اسنانہ فظہر الدم علی رأس الخلال لا یکون حدثا لأنہ ما خرج بنفسہ وکذا لو عض علی شیئ فظہر الدم علی اسنانہ لما قلنا.
وفی الفتاوی الہندیة:(1/11،رشیدیة)
وان خرج من نفس الفم تعتبر الغلبۃبینہ وبین الریق فان تساویا انتقض الوضوء ویعتبر ذالک من حیث اللون فان کان احمر انتقض وان کان اصفر لا ینتقض کذا فی التبیین والمتوضئ اذا عض شیئا فوجد فیہ اثر الدم و استاک بسواک فوجد فیہ اثر الدم لا ینتقض ما لم یعرف السیلان کذا فی الظہیریة
وفی الخانیة علی ہامش الہندیة:(1/38،رشیدیة)
ولو بزق الرجل وفیہ دم فان کان الدم غالبا نقض الوضوء وان کانا علی السواءفکذالک استحسانا وان عض شیئا فرأی علیہ دما من اسنانہ لا وضوء علیہ وکذا الخلال لأنہ لیس بسائل
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/87،الطارق) وکذا فی الدر المختار مع الرد:(1/291،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(1/77،دار المعرفة) وکذا فی النہر الفائق:(1/54،قدیمی)
وکذا فی ملتقی الابحر مع مجمع الانھر :(1/32،المنار) وکذا فی البحر الرائق:(1/69،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27/05/1443/2021/12/06
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:20

ایک آدمی نوکری کی کوشش کر رہا ہے،جہاں بھی جائے رشوت مانگتے ہیں،رشوت دے کر نوکری لینا کیسا ہے؟اگر رشوت نہ دے تو نوکری ملتی نہیں۔اگر رشوت دے کر نوکری لے لی تو اس کی تنخواہ جائز ہوگی یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

عام حالات میں رشوت دے کر نوکری لینا نا جائز اور حرام ہے،البتہ نوکری ایسی ہو کہ جس کا یہ شخص سب سے زیادہ اہل ہو،وہ نوکری اس شخص کے علاوہ کو ملنے کی صورت میں عامّۃ الناس کے حقوق ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو اس کے حصول میں کچھ دینے کی گنجائش ہے۔
بہر صورت،اگر وہ شخص نوکری کا اہل ہو اور اپنے فرائض بخوبی سر انجام دے رہا ہو تو تنخواہ لینا جائز ہو گا۔

لما فی السنن الکبری:(1/235،دار الکتب العلمیة)
واخبرنا ابن الفضل انبأ عبد اللہ ابن جعفر ثنا یعقوب ابن سفیان ثنا زید ثنا عبد الملک ابن عبد الرحمن عن محمد ابن سعید عن ابیہ وہب ابن منبہ قال :لیست الرشوۃ التی یأثم فیہا صاحبہا بأن یرشو فیدفع عن مالہ ودمہ إنما الرشوۃ التی تأثم فیہا أن ترشو لتعطی ما لیس لک
وفی البحر الرائق:(6/441،رشیدیة)
وذکر الأقطع أن الفرق بین الہدیة والرشوۃ :أن الرشوۃ ما یعطیہ بشرط أن یعینہ۔۔۔۔۔۔(وبعد أسطر) ومنہا :ای من الرشوۃ إذا دفع الرشوۃ خوفاً علی نفسہ او مالہ فہو حرام علی الآخذ غیر حرام علی الدافع وکذا اذا طمع فی مالہ فرشاہ ببعض المال
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(3/311،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(11/79،فاروقیة)
وکذا فی البحر الرائق:(6/439،رشیدیة)
وکذا فی النہر الفائق:(3/ 598،قدیمی)
وکذا فی المحیط البرہانی:(12/192،دار احیاء التراث)
وکذا فی البحر الرائق:(7/506،رشیدیة)
وکذا فی رمز الحقائق:(2/116،ادارة القرآن)
وکذا فی تبیین الحقائق:(4/175،امدادیة)
وکذا فی البنایة:(8/7،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الشامیة:(8/42،رشیدیة)
وکذا فی کنز الدقائق:(275،حقانیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27/05/1443/2021/12/06
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:24

ایک معذور آدمی کرسی کے اوپر بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہے،آیا اس کرسی کےنیچے والی جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے یا نہیں؟اور اسی طرح کرسی کے اوپر بیٹھ کر اس کے پاؤں زمین پر لگ رہے ہیں یا اگر نہ بھی لگیں تو اس کے پاؤں کے نیچے والی جگہ کا بھی پاک ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ معذور کے پاؤں زمین پر لگنے یا نہ لگنے کی صورت میں اگر حکم میں کوئی فرق ہو تو وہ بھی واضح فرما دیں اور اسی طرح کرسی کا بھی پاک ہونا ضروری ہے کہ نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

کرسی کے نیچے کی جگہ اور کرسی کا وہ حصہ جو زمین کو چھورہا ہے،کا پاک ہونا ضروری نہیں ہے۔البتہ بقیہ کرسی کا پاک ہونا ضروری ہے اور اگر کرسی پر بیٹھ کر پاؤں زمین پر رکھے ہوں تو پاؤں کے نیچے کی جگہ کا بھی پاک ہونا ضروری ہے۔

لما فی المحیط البرہانی:(2/20،دار إحیاء التراث)
وإذا صلی علی موضع نجس وفرش نعلیہ وقام علیہما جاز ولو کان لابسا لہما لا یجوز لأنہما یکونان تبعا لہ حینئذٍ۔۔۔۔۔۔إذا کان علی مکعبہ وعلی نعلیہ نجاسۃ جاز عند محمد رحمہ اللہ تعالیٰ خلافاً لأبی یوسف رحمہ اللہ تعالی ولو کان لم یخرج رجلیہ وصلی فیہما إن کان واسعا فہو علی الخلاف وإن کان ضیّقا لم یجز بلا خلاف
وفی الفتاوی الخانیة علی ہامش الہندیة:(1/62،رشیدیة)
ولو کانت الارض نجسۃ فخلع نعلیہ وقام علی نعلیہ جاز أما إذا کان النعل ظاہرہ وباطنہ طاہراً فطاہر وإن کان ما یلی الأرض منہ نجسا فکذالک وہو بمنزلۃ ثوب ذی طاقین أسفلہ نجس وقام علی الطاہر وقد مر وإن کان الرجل فی نعلیہ أو فی مکعبہ لا یجوز
وکذا فی کتاب التجنیس والمزید:(1/396،إدارة القرآن) وکذا فی النہر الفائق:(1/181،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/175،الطارق) وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/62،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(2/31،فاروقیة) وکذا فی البحر الرائق:(1/465،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(1/204،دار المعرفة)
وکذا فی الفتاوی البزازیة علی ہامش الہندیة:(4/34،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
01/05/1443/2021/12/07
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:18

ایک مسلمان کسی غیر مسلم کی قبر کھود سکتا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر اس کا ہم مذہب میں سے کوئی نہ ہو تو ایک مسلمان بھی غیر مسلم کو قبر میں دفن کر سکتا ہے مگر اس میں اسلامی وشرعی آداب وہدایات کی رعایت ضروری نہ ہو گی۔

لما فی الفتاوی الہندیة:(1/160،رشیدیة)
وإن مات الکافرولہ ولی مسلم یغسلہ ویکفنہ ویدفنہ ولکن یغسل غسل الثوب النجس ویلف فی خرقۃ ویحفر حفیرۃ من غیر مراعاۃ سنۃ التکفین واللحد ولا یوضع فیہ بل یلقی
وفی المحیط البرہانی:(3/95،دار إحیاء التراث)
قال محمد رحمہ اللہ تعالی فی الجامع الصغیر:کافر مات ولہ ولی مسلم قال یغسلہ ویکفنہ ویدفنہ۔۔۔۔۔ولکن الغسل فی حق المسلم یکون تطہیرا وفی حق الکافر لا یکون تطہیرا۔۔۔۔۔ولما مات ابو طالب قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعلی رضی اللہ عنہ إذہب وغسلہ وکفنہ ووارہ ولا تحدث بہ حدثا حتی تلقانی ای لا تصل علیہ وفی (السیر الکبیر) سئل رجل ابن عباس رضی اللہ عنہماأنّ أمی ماتت نصرانیۃ فقال(اتبع جنازتہا واغسلہا وکفنہا ولا تصل علیہا وادفنہا۔۔۔۔۔)
وکذا فی الفتاوی الشامیة:(3/158،رشیدیة) وکذا فی بدائع الصنائع:(2/29،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/160،رشیدیة) وکذا فی النہر الفائق:(1/399،قدیمی)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(3/77،فاروقیة ) وکذا فی البحر الرائق:(2/334،رشیدیة)
وکذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل وحقائق التاویل:(4/87،دار الکتب)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27/05/1443/2021/12/06
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:17

کہا جاتا ہے کہ علماء کرام کی زیارت ثواب ہے،علماءکی برکت تو تسلیم ہے،البتہ زیارت پر دلیل مطلوب ہے؟بعض لوگ کہتے ہیں یہ بات حدیث سے ثابت ہے،اگر حدیث موجود ہےتو اس پر بھی مطلع فرمائیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

احادیث کی رو سےکسی عام مسلمان کی زیارت موجب ثواب ہےتو عالم دین کی زیارت توبطریق اولی باعث اجر ہو گی۔

لما فی جامع الترمذی:(2/464 ،رشیدیہ)
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہﷺ:من عاد مریضاً او زار اخاً لہ فی اللہ ناداہ منادٍ ان طبت وطاب ممشاک وتبوّئت من الجنۃ منزلا

ترجمہ:”رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے کسی مریض کی تیمار داری کی یا ،اللہ کی رضا کیلئے اپنے کسی بھائی کی زیارت کی تو اس کے لیے ایک فرشتہ یہ اعلان کرتا ہے،تو اورتیرا چلنا مبارک ہواور تو نے اپنے لیے جنت میں ایک گھر بنا لیا ہے۔

وفی صحیح المسلم:(2/321 ،رحمانیہ)

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبیﷺ ان رجلاً زار اخاً لہ فی قریۃٍ اخریٰ فارصد اللہ تعالیٰ لہ علی مدرجتہٖ ملکاً فلما اتی علیہ قال این ترید؟ قال ارید اخا لی فی ھذہ القریۃ قال ھل لک علیہ من نعمۃ تربھا قال لا غیر انّی احببتہ فی اللہ قال فانّی رسول اللہ الیک بانّ اللہ قد احبّک کما احببتہ فیہ

ترجمہ:”نبی کریمﷺنے فرمایا کہ ایک شخص کسی دوسری بستی میں اپنے کسی بھائی کی زیارت کے لیے گیاتو اللہ تعالی نےاس کے راستے پر ایک فرشتہ مقرر فرما دیا۔ فرشتے نے اس سےپوچھا:کہاں کا ارادہ ہے؟تو وہ بولا:فلاں بستی میں اپنے بھائی کی زیارت کے لیے جا رہا ہوں۔فرشتے نے کہا؛کیا آپ کا اس کے ساتھ کوئی احسان کا معاملہ(پہلے سے)ہے جس کو آگے بڑھانا چاہ رہے ہو؟اس نے جواب دیا:نہیں! بلکہ مجھے اس سے اللہ کے لیےمحبت ہے ، اس لیے ملنے جارہاہوں۔فرشتے نے کہاکہ مجھے اللہ نے تمہارے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ اللہ بھی تم سے ایسے ہی محبت کرتے ہیں جیسے تم اپنے بھائی سے محبت کرتے ہو۔

البتہ خاص طور پر علماء کی زیارت پر کوئی صحیح روایت نہیں ملی، بلکہ محض موضوع روایات اس بارے میں کتب میں پائی جاتی ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں

فی کشف الخفاء:(2/251 ،مکتبہ الغزالی)
من زار العلماء فکانما زارنی ومن صافح العلماء فکانما صافحنی ومن جالس العلماء فکانما جالسنی ومن جالسنی فی الدنیا اجلس الیّ یوم القیٰمۃ.”قال فی(الذیل)فی اسنادہ حفص کذاب

وفیہ ایضاً:(2/243 ،مکتبہ الغزالی)

من جالس عالماً فکانما جالس نبیاً.”قال فی المقاصد لا اعرفہ فی المرفوع

وفی الموضوعات الکبری:(253،قدیمی)

نظرۃ الی وجہ العالم احب الی اللہ من عبادۃ ستین سنۃ صیاما وقیاما.”لا یصح قالہ السخاوی.

 

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد نوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/08/1443/2022/03/19
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:28

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ(1)کوئی عورت کسی مرد کو شہوت سے چھوئے اور اس مرد کوشہوت نہ ہو تو حرمت مصاہرت ثابت ہو گی یا نہیں؟(2)اور شہوت سے چھونے کی صورت میں کپڑے کے حائل ہونے یا نہ ہونے میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

(1)

مرد یا عورت میں سے کسی ایک کے دوسرے کو شہوت کے ساتھ چھونے سے حرمت مصاہرت ثابت ہو جائے گی۔(2)کپڑے کے ساتھ عورت یا مرد میں سے کوئی ایک ،دوسرے کو چھوئےاور اس کے جسم کی حرارت چھونے والے کے ہاتھ تک نہ پہنچےتو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہو گی۔

لما فی التاتارخانیة:(4/52،فاروقیة)
لا یشترط شھوتھماجمیعاً بل یکفی اشتھاء احدھما اذا کان الآخر محل الشھوة واشتھاء احدھما عند المس ایھما کان الذکر او انثیٰ الماسّ او الممسوس۔۔۔۔۔(بعد اسطر)ثم انّما یوجب حرمۃ المصاھرۃ اذا لم یکن بینھما ثوب اما اذا کان بینھما ثوب فان کان ثخیناً صفیقاً لا یجد حرارۃ الممسوس وفی الخانیۃ:لینہ لا تثبت حرمۃ المصاہرہ وان انتشرت الآلۃ لذالک وان کان رقیقاً بحیث تصل حرارۃ الممسوس الی یدہ تثبت حرمۃ المصاہرۃ
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/361،رشیدیة)
وان مسّھا وعلیھا ثوب صفیق لا تصل حرارۃ الممسوسۃ ولینھا الی یدہٖ لا تثبت الحرمۃ وان کان الثوب رقیقاً تصل الیہ حرارۃ الممسوسہ ولینھا تثبت الحرمۃ۔۔۔۔۔۔
ومس المرءۃ الرجل فی الحرمۃ کمس الرجل المرءۃ
وکذا فی تبیین الحقائق:(2/107،امدادیة) وکذا فی بدائع الصنائع:(2/535،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(3/175،رشیدیة) وکذافی منحة الخالق علی البحر:(3/177،رشیدیة)
وکذا فی الھندیة:(1/275،رشیدیة) وکذافی الولوالجیة:(1/357،حرمین شریفین)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/52،حقانیة)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید عفی اللہ تعالی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/03/1443/2021/09/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:79