جب اللہ تعالی نے آپﷺ کا نام “محمد” رکھا تو آپﷺ کی والدہ نے آپﷺ کا نام “احمد”کیوں رکھا؟

الجواب حامداًومصلیاً

روایات سے دلالۃً معلوم ہوتا ہےکہ آپﷺ کے دونوں نام“محمد”اور“احمد” آپﷺ کی پیدائش سے قبل ہی آپ کے لیے من جانب اللہ طے ہو چکے تھے۔
دوسری بات یہ کہ آپﷺ کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ کو آپﷺ کی پیدائش سے قبل یہ الہام ہوا کہ وہ آپﷺ کا نام “محمد”یا“احمد” رکھیں،آپ کی والدہ نے یہ معاملہ آپﷺ کے دادا حضرت عبد المطلب کے سپرد کر دیا،انہوں نے آپﷺ کا نام“محمد”رکھا۔

لما فی سبل الھدی والرشاد:(1/360،نعمانیة)
قال ابن اسحاق والواقدی وغیرھما لما وضعت امنۃ سیدنا رسول اللہﷺ أرسلت إلی جدہ عبد المطلب أنہ قد ولد لک غلام فأتہ وانظر إلیہ فأتاہ ونظر الیہ وحدثتہ بما رأت حین حملت بہ وما قیل لہا وما أمرت بہ أن تسمیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(وبعد أسطر)وروی البیہقی عن أبی الحسن التنوخی أنہ لما کان یوم السابع من ولادۃ رسول اللہﷺ ذبح عنہ جدہ ودعا قریشاً فلما أکلو قالو:یا عبد المطلب! ما سمیتہ؟قال:سمیتہ “محمدا”۔۔۔۔۔۔۔۔(وبعد أسطر) وروی السہیلی وأبوالربیع:أن عبد المطلب إنما سماہ “محمداً”لرؤیۃ رأہا وزعمو أنہ کان مناماً کأن سلسلۃ من فضۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔(وبعد أسطر) فلذالک سماہ “محمداً” مع ما حدثتہ بہ أمہﷺ
وفی البدایة والنہایة:(2/210،دار الکتب العلمیة)
قال محمد ابن اسحاق:فکانت امنۃ بنت وہب أم رسول اللہﷺ تحدث أنہا أُوتیت حین حملت برسول اللہﷺ فقیل لہا إنک قد حملت بسید ہذہ الامۃ فإذا وقع إلی الأرض فقولی: أعیذہ بالواحد۔۔۔۔۔۔ فإذا وقع فسمیہ محمداً فإن إسمہ فی التوراۃ أحمد یحمدہ أہل السموت وأہل الارض وإسمہ فی الإنجیل أحمد واسمہ فی القرآن محمد
وکذا فی دلائل النبوة:(1/159،دار الکتب)
وکذا فی سیرت ابن ہشام:(1/194،دار إحیاء)
وکذا فی الطبقات الکبری:(1/49،عمریة)
وکذا فی الطبقات الکبری:(1/48،عمریة)
وکذا فی البدایة والنہایة:(2/212،دار الکتب)
وکذا فی سبل الہدی والرشاد:(1/416،نعمانیة)
وکذا فی زاد المعاد:(1/33،علمیة)
وکذا فی الخصائص الکبری:(2/265،التوفیقیة)
وکذا فی الخصائص الکبری:(1/143،التوفیقیة)
وکذا فی صفوة التفاسیر:(3/372،دار احیاء)
وکذا فی الکشاف:(4/425،منشورات البلاغة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/06/1443/2022/02/02
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:141

کوئی شخص کسی سے کہ دے کہ تو مسلمان نہیں ہے،وہ جواب میں کہ دے کہ ٹھیک ہے میں مسلمان نہیں ہوں ،تو کیا وہ شخص اسلام سے خارج ہو گا یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

عام طور پر اس طرح کا جملہ کسی کی باتوں سے تنگ آ کر اس کے جواب میں بول دیا جاتا ہے،کہنے والا، یہ جملہ اسلام کو چھوڑنے کی نیت سے نہیں کہ رہا ہوتا۔چنانچہ اگر صورت مسئولہ میں ایسا ہی ہے تو مذکورہ جملے سے کافر نہیں ہو گا،لیکن ایسا جملہ بولنے سے بچنا چاہیے،یہ بہت سخت جملہ ہے،بولنے والے کو استغفار کرنا چاہیے۔

لما فی البحر الرائق:(5/27،رشیدیة)
“و[یکفر]بقولہ عمداً لا جواباً لمن قال لہ ألست مسلماً حین ضرب عبدہ أو ولدہ ضرباً شدیداً إلا إن غلط أو قصد الجواب.”
وفی الفتاوی الہندیة:(2/277،رشیدیة)
رجل ضرب إمرأۃ فقالت المرأۃ ألست بمسلم فقال الرجل ھبی[أفرضی]أنی لست بمسلم قال الشیخ۔۔۔۔۔۔۔محمد بن فضل: لا یصیر کافراً بذالک
وکذا فی المحیط البرہانی:(7/423،ادارة القرآن)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(7/338،فاروقیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(2/413،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار مع الرد:(4/69،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ:(5/520،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/06/1443/2022/02/02
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:118

ایک آدمی نے کسی سے20,000 روپے قرض لیے اس شرط پر کہ جب میری جنس مثلاً گندم آئے گی تو اس وقت گندم کا ریٹ مثلاً 13,00 روپے ہوا تو آپ12,00 روپے کے حساب سے گندم لے لینا اور اپنے پیسے پورے کر لینا۔لیکن جب گندم کا موسم آیا تو پھر وہ آدمی گندم نہیں دے سکا۔کچھ ماہ کے بعد جب قرض لینے والا واپس پیسوں کی ادائیگی کرنے لگا تو وہ شخص کہتا ہے کہ مجھے25,000 روپے دو جبکہ قرض20,000 روپے لیے تھے،5,000 روپے اوپر اس لیے کہ رہا ہے کہ آپ نے گندم نہیں دی تھی،اگر گندم دیتے تو مجھے زیادہ پیسے ملتے۔اب پوچھنا یہ ہے کہ اس آدمی کے لیے اضافی5,000 روپے لینا جائز ہے؟جبکہ اصل رقم20,000 روپے تھی؟اور اسی طرح اس شرط پر قرض لینا کہ آپ کو ادائیگی کسی جنس وغیرہ کی صورت میں کروں گا،تو اس طرح قرض لینا جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

1

۔صورت مسئولہ میں،20,000 روپے نقد کے بدلے میں ادھار گندم خریدی گئی ہے۔اس میں گندم کی مقدار اور ریٹ متعین نہیں کیا گیا،اس لیے نا جائز ہے۔2۔20,000 پر5,000 روپے زائد واپس لینا سود ہونے کی وجہ سے نا جائز ہے۔3۔پیسے قرض دیتے وقت واپس وصولی کے لیے اگر اس جنس کی قسم،ریٹ اور سپردگی کی مدت طے کر لیں تو یہ صورت جائز ہو جائے گی اور یہ پیسے اس جنس کی پیشگی قیمت شمار ہوں گے۔

لما فی بدائع الصنائع:(6/518،رشیدیة)
وأما الذی یرجع الی نفس القرض فھو أن لا یکون فیہ جرّ منفعۃ فإن کان لم یجز.نحو ما أذا أقرضہ دراہم غلۃ علی أن یرد علیہ صحاحاً أو أقرضہ وشرط شرطاً لہ فیہ منفعۃ لما روی عن رسول اللہﷺأنہ نھی عن قرض جرّ نفعاً.ولأن الزیادۃ المشروطۃ تشبہ الربا لأنھا فضل لا یقابلہ عوض والتحرز عن حقیقۃ الربا وعن شبھۃ الربا واجب.ھذا إذا کانت الزیادۃ مشروطۃ فی القرض۔۔۔۔۔۔۔۔
وفی الموسوعة الفقہیة:(22/58،علوم اسلامیة)
وسمی[الربا النسیئۃ]الربا الجلی،قال ابن القیم:الجلی:ربی النسیئۃ۔۔۔۔۔۔۔مثل أن یؤخر دینہ ویزیدہ فی المال، وکلما أخرہ زادہ فی المال حتی تصیر المئۃ عندہ اٰلافاً مؤلفۃ
وکذا فی الدر المختار مع الرد:(7/479،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار:(7/412،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(9/351،دار احیاء)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(3/179،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(3/203،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(6/259،رشیدیة)
وکذا فی ملتقی الابحر:(3/141،المنار)
وکذا فی المحیط البرہانی:(9/358،ادار ة القرآن)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/358،رشیدیة)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/500،قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/06/1443/2021/02/02
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:140

ٹھیکہ پر لی گئی زمین کا عشر کل پیداوار سے نکالا جائے گا؟یا اس کے اخراجات مثلاً، ٹھیکہ وغیرہ منہاکر کے پھر عشر نکالا جائے گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

زمین ٹھیکہ پر ہو یا اپنی ملکیت میں،کل پیداوار سے عشر نکالا جائے گا۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/366،الطارق)
“ویتعلق الواجب بعین المحصول کما قلنا بلا إخراج بذر وأجرۃ العمال وکلف الزرع.”
وفی المحیط البرہانی:(3/290،إدارة القران)
یوخذ العشر من جمیع ما أخرجتہ الأرض ولا یحتسب لصاحبہا ما أنفق علی الغلۃ من سقی أو عمارۃ أو أجرۃ حافظ أو أجرۃ العمال ولا نفقۃ البقر
وکذا فی الفتاوی الشامیة:(3/317،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/178،رشیدیة)
وکذا فی فتح القدیر:(2/257،رشیدیة)
وکذا فی مجمع الأنہر علی ہامش ملتقی الأبحر:(1/320،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی شرح ملتقی الأبحر علی ہامشہ:(1/320،المنار)
وکذا فی ملتقی الأبحر:(1/319،المنار)
وکذا فی البحر الرائق:(2/416،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/06/1443/2022/01/26
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:88

خواتین کا بیوٹی پارلر کا کام کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ ہو تو جائز ہے:(1):خواتین ،خواتین ہی کا میک اپ کریں۔(2):میک اپ کرنا شریعت کے احکام کی پاسداری کرتے ہوئے ہو،چنانچہ میک اپ سے متعلقہ سامان اور طریقہ کار سے متعلق تمام تفاصیل بتلا کر احکام ِشریعت معلوم کر لیے جائیں۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/112،الطارق)
جاء فی حدیث انس ابن مالک أن رسول اللہ ﷺ لما تزوّج السیّدۃ صفیّۃأرسلہا إلی أم سلیم فأصلحتہا أی:زیّنتہا وہذا یدل علی أنہ یجوز أن تذہب المرأۃ إلی امرأۃ خبیرۃ بشؤون تزیین النساء لِتزیّنہا لزوجہا لکن یشترط أن تکون المرأۃ المزیّنۃ مسلمۃ فلا یجوز فی الاسلام أن تتولی المرأۃ الکافرۃ تزیین المرأۃ المسلمۃ کما لا یجوز أن تذہب المرأۃ إلی المحلات التی یقوم فیہا الرجال بتزیین النساء سواء کان ہؤلاء الرجال مسلمین أو غیر مسلمین
وفی الموسوعة الفقہیة:(11/266،علوم إسلامیة)
وقد تعرض للتزیّن أحکام تکلیفیۃاخری،فمنہ ماہوواجب،وماہومکروہ،وماہو حرام۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ومن أمثلۃ ما ہو واجب:سترالعورۃ وتزیّن الزوجۃ لزوجہا متی طلب منہا ذالک۔۔۔۔۔۔۔۔ومن أمثلۃ ما ہو حرام:تشبّہ الرجال بالنساء والعکس فی التزیّن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وتزیّن المرأۃ لغیر زوجہا
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(5/359،رشیدیة)
وکذا فی السنن أبی داؤد:(2/221،رحمانیة)
وکذا فی البحر الرائق:(8/352،353،رشیدیة)
وکذا فی الفتح الباری:(10/462،قدیمی)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(18/213،فاروقیة)
وکذا فی الفتاوی الشامیة:(9/615،رشیدیة)
وکذا فی المشکوة المصابیح:(2/275،رحمانیة)
وکذا فی صحیح البخاری:(2/789،قدیمی)
وکذا فی سنن أبی داؤد:(1/229،رحمانیة)
وکذا فی فتح الملہم:(6/389،مکتبة دار العلوم کراچی)
وکذا فی صحیح المسلم:(1/456،قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/05/1443/2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:77

اگر چوہا کسی چیز میں منہ ڈال لے یا اسے مختلف جگہوں سے کھا لے تو اس چیز کے استعمال کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر چوہا کپڑا کتر ڈالے تو اس میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

تنگ دست کے لیے ایسی چیز کا کھانا بلا کراہت جائز اور دولت مند کے لیے مکروہ تنزیہی ہے۔(2):دوسرے کپڑوں کے ہوتے ہوئے یا انہیں کپڑوں کو دھوئے بغیر ان میں نماز پڑھ لینا مکروہ تنزیہی ہے۔

لما فی الفتاوی الہندیة:(1/24،رشیدیة)
وسؤر حشرات البیت کالحیّۃ والفآرۃ والسنور مکروہ کراہۃ تنزیہ ہو الأصح کذا فی الخلاصۃ. ویکرہ أن تلحس الہرۃ فی کف انسان ثم یصلی قبل غسلہا أو یأکل من بقیۃ الطعام الذی أکلت منہ.کذا فی التبیین. وإنما یکرہ ذالک فی حق الغنی لأنہ یقدرعلی بدلہ أما فی حق الفقیر فلا یکرہ للضرورۃ.کذا فی السراج الوہاج
وفی المحیط البرہانی:(1/286،إدارة القران)
وکذالک سؤر ما یسکن البیوت من الحشرات کالفأرۃ والحیّۃ والوزغۃ مکروہ۔۔۔۔۔۔۔۔(وعلی الصفحۃ الاٰتیۃ288) وکذالک قالوا: الہرۃ اذا أکلت بعض الطعام کرہ للرجل أن یأکل الباقی لأن ما بقی لا یخلو عن ریقہا وریقہا لیس بطیب
وفی البحر الرائق:(1/232،رشیدیة)
“تکرہ الصلوۃ مع حمل ما سؤرہ مکروہ کالہرۃ.”
وکذا فی ملتقی الأبحر:(1/55،المنار)
وکذا فی مجمع الأنھر علی ہامش ملتقی الأبحر:(1/56،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی علی ہامش ملتقی الأبحر:(1/56،المنار)
وکذا فی الدر المختار مع الرد:(1/426،رشیدیة)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/61،قدیمی)
وکذا فی المحیط البرہانی:(1/288،إدارة القران)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/33،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/05/1443/2021/12/26
جلدنمبر:26 فتوی نمبر:92

مغرب کی نماز میں پہلے قعدہ میں دونوں طرف سلام پھیر دیا،بات نہیں کی تھی کہ یاد آگیا، اب وہ تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا اور نماز مکمل کر لی،اس نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر نماز توڑنے والا کوئی کام نہیں کیا اور سجدہ سہو کر لیا تو نماز ہو گئی ورنہ نہیں

لما فی الشامیة:(2/673،رشیدیة)
ویسجد للسہو ولو مع سلامہ) ناویا(للقطع) لأن نیۃ تغییر المشروع لغو(ما لم یتحول عن القبلۃ أو یتکلم) لبطلان التحریمۃ.(وفی الرد) قولہ:(لبطلان التحریمۃ)أی: بالتحوّل أو التکلم
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/283،الطارق)
إذا عرض لہ الشک بعد انتہاء الصلوۃ لا عبرۃ لہ إلا أن یغلب علی ظنّہ أنّہ نقص شیئا فی صلوتہ فیعید صلوتہ إن فعل بعد السلام فعلا یمنع البناء وإلا أتی بالمتروک وسجد للسہو
وکذا فی الشامیة:(2/657،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(2/308،ادارة القران)
وکذا فی مجمع الأنہر شرح ملتقی الأبحرعلی ہامشہ:(1/185،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی شرح ملتقی الأبحر علی ہامشہ:(1/185،المنار)
وکذا فی النہر الفائق:(1/279،قدیمی)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/126،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/505،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(2/172،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/05/1443/2021/12/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:76

اگر شوہر دوران ِجماع بیوی کا دودھ پی لے تو ان کے نکاح کا کیا حکم ہے؟ نیز شوہر گناہ گار ہوگا یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

اس سے نکاح تو نہیں ٹوٹے گا البتہ شوہر کا یہ فعل حرام اور نا جائز ہے جس سے وہ گناہگار ہو گا۔اس لیے ایسی صورت میں شوہر کو دودھ تھوک دینا چاہیے۔

لما فی مؤطا إمام مالک:(538،قدیمی)
عن یحیی ابن سعید أن رجلا سأل أبا موسی الأشعری فقال إنی مصصت عن إمرأتی من ثدییہا لبناً فذہب فی بطنی فقال أبو موسی الأشعری لا أراہا إلا قد حرمت علیک فقال عبد اللہ ابن مسعود انظر ما تفتی بہ الرجل فقال أبو موسی فما تقول أنت؟ فقال عبد اللہ ابن مسعود لا رضاعۃ إلا ما کان فی الحولین فقال أبو موسی لا تسئلونّی عن شیئ ما کان ہذا الحبر بین أظہرکم
وفی الدر المختار:(4/389،رشیدیة)
ویثبت التحریم) فی المدۃ فقط۔۔۔۔۔۔۔۔(ولم یبح الإرضاع بعد مدتہ) لأنہ جزء آدمیّ والإنتفاع بہ لغیر ضرورۃ حرام علی الصحیح.(وفی رد المحتار)قولہ:(فی المدۃ فقط) أما بعدہا لا یوجب التحریم.بحر.۔۔۔۔۔۔۔۔قولہ:(ولم یبح الإرضاع بعد مدتہ) إقتصر علیہ الزیلعی وہو الصحیح کما فی شرح المنظومۃ.بحر
وکذا فی أوجز المسالک:(10/381،دار الکتب العلمیة)
وکذا فی صحیح البخاری:(2/764،قدیمی)
وکذا فی عمدة القاری:(20/97،دار إحیاء التراث)
وکذا فی تکملة فتح الملہم:(1/51،مکتبة دار العلوم کراچی)
وکذا فی البحر الرائق:(3/386،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/342،رشیدیة
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/153،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/05/1443/2021/12/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:75

ایک آدمی نے نکاح کے بعد خلوت صحیحہ سے پہلے اپنی بیوی سے دو مرتبہ کہا:تجھے طلاق ہے اب عدت گزرنے کے بعد کیا یہ دونوں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں؟اگر کر سکتے ہیں تو اب نکاح کر لینے کے بعد شوہر کو کتنی طلاقوں کا حق حاصل ہو گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں ایک طلاقِ بائنہ واقع ہوئی ہےاور اس خاتون پر عدت بھی لازم نہیں ہے،لہذا باہمی رضا مندی سے جب چاہیں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔
اب آئندہ شوہر کے لیے دو طلاقوں کا اختیار باقی ہو گا۔

لما فی البحر الرائق:(3/507،446،رشیدیة)
طلق غیر المدخول بہا ثلاثا وقعن وإن فرق بانت بواحدۃ)قولہ:(وإن فرق بانت بواحدۃ)أی وإن فرق الطلاق بغیر حرف العطف ویمکن جمعہ بعبارۃ واحدۃ فإنہا تبین بالأولی لا الی عدۃ فلا یقع ما بعدہ اذ لیس فی آخر کلامہ ما یغیر أولہ لیتوقف علیہ نحو أنت طالق طالق طالق أو أنت طالق أنت طالق أنت طالق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وقید بغیر المدخولۃ لأن المدخولۃ یقع علیہا الکل ولا یصدق قضاء أنہ عنی الاول
وفی الہدایة:(2/99،86،البشری)
فإن فرق الطلاق بانت بالاولی ولم تقع الثانیۃ والثالثۃ وذالک مثل أن یقول:أنت طالق طالق طالق لأن کل واحد إیقاع علی حدۃ إذ لم یذکر فی آخر کلامہ ما یغیر صدرہ حتی یتوقف علیہ فتقع الأولی فی الحال فتصادفہا الثانیۃ وہی مبانۃ(وعلی ہامشہ):لأن غیر المدخول بہا تبین بالاولی ووجہہ أن الطلاق الرجعی إنما یتصور فیمن تلزمہا العدۃ لبقاء النکاح من وجہ فی العدۃ ولا عدۃ فی غیر المدخول بہابقول اللہ تعالیٰ”ثم طلقتموہن من قبل أن تمسوہن فما لکم علیہن من عدۃ تعتدونہا”[الاحزاب:49]
وفی الفتاوی الشامیة:(4/447،498،رشیدیة)
فی البدائع أن الصریح نوعان:صریح رجعی وصریح بائن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وأما الثانی فبخلافہ وہو أن یکون بحروف الإبانۃ وبحروف الطلاق لکن قبل الدخول حقیقۃ أو بعدہ لکن مقروناً بعدد الثلاث نصاً أو إشارۃ أو موصوفاً بصفۃ تنبیئ عن البینونۃ أو تدل علیہا من غیر حرف العطف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکذا فی النہر الفائق:(2/420،قدیمی)
وکذا فی مجمع الأنہر:(2/89،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی علی ہامش ملتقی الأبحر:(2/88،المنار)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/206،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/05/1443/2021/12/20
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:37

اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک کمپنی جو کہ مون ٹوورز اینڈ ٹریولز کے نام سے مشہور ہے۔تو پوچھنا یہ ہے کہ کمپنی کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنا جس میں صرف نفع ہی ہو،نقصان نہ ہو(جیسا کہ آج کل کمپنیاں اکثر نفع ہی کماتی ہیں)تو ایسی صورت میں تجارت کرنا کمپنی کے ساتھ شرعا کیسا ہے؟اور اس کا کیا حکم ہے؟کمپنی کے ساتھ معاہدہ کی تفصیل درج ذیل ہے:مثلاً کمپنی یوں کہتی ہے کہ اگر آپ ایک لاکھ مثلاً انویسٹ کریں گے تو کمپنی آپ کو لگائے ہوئے سرمائے کا آٹھ سے تیرہ فیصد تک دے گی(باقی ،کمپنی نفع و نقصان کی بات نہیں کرتی،اس بارے میں خاموشی ہے اور کبھی نقصان ہوا بھی نہیں ہے جیسا کہ اوپر سوال میں درج ہے)

الجواب حامداًومصلیاً

پہلی بات یہ ہے کہ اگر اس کاروبار میں کمپنی نے بھی انویسٹمنٹ کی ہوئی ہے تو یہ پارٹنرشپ  یعنی“ شرکت ”ہے،اگر اس میں خدانخواستہ نقصان ہوا ،تو اصول یہ ہے کہ ہر پارٹنر کو اپنی انویسٹمنٹ کے اعتبار سے نقصان برداشت کرنا ہو گا۔ اگر کمپنی نے انویسٹمنٹ نہیں کی بلکہ وہ صرف کاروبار کرے گی تو یہ“ مضاربت ”ہے اس میں اگر نقصان ہوا تو اصول یہ ہے کہ سارا نقصان انویسٹر کا ہو گا۔لیکن دونوں صورتوں میں اگر کمپنی کسی شرط اور معاہدے کے بغیر خود نقصان برداشت کرتی ہے تو یہ کمپنی کا احسان ہے اور شرکت و مضاربت کے کسی اصول کے خلاف بھی نہیں ہے،اس لیے یہ جائز ہے۔
دوسری بات یہ کہ انویسمنٹ پر طے شدہ رقم دینا جائز نہیں،بلکہ کمپنی کو ہونے والے حقیقی اور کل نفع کا فیصدی حصہ طے کرنا ضروری ہے؛مثلاً کل نفع کا آٹھ فیصد یا کم و بیش دیا جائے گا۔
تیسری بات یہ کہ کل حقیقی نفع کا فیصدی حصہ متعین ہونا بھی ضروری ہے۔پس،جواز کی یہی ایک صورت ہے کہ کمپنی انویسٹمنٹ پر مقررہ رقم دینے کی بجائے ہونے والے کل حقیقی نفع کا فیصدی حصہ متعین کرے؛مثلاً،کمپنی کل حقیقی نفع کاآٹھ فیصد یا کم و بیش دے گی۔

لما فی بدائع الصنائع:(5/77،رشیدیة)
أما الشرائط العامۃ فأنواع۔۔۔۔۔۔۔۔۔ومنہا أن یکون الربح معلوم القدر فإن کان مجہولاً تفسد الشرط لأن الربح ہو المعقود علیہ وجہالتہ توجب فساد العقد۔۔۔۔۔۔۔۔ومنہا أن یکون الربح جزأ شائعاً فی الجملۃ لا معیناً
وفی کتاب الفقہ علی المذاہب الأربع:(3/35،حقانیة)
ویشترط لصحۃ المضاربۃ شروط: منہا أن یبین نصیب العامل من نصف أو ثلث أو نحوہما۔۔۔۔۔۔۔۔بأن یقال خذ المال مضاربۃ ولم یذکرنصیب العامل أو بینہ علی وجہ مبہم کأن قال لہ:خذہ ولک فی ربحہ جزء أو نصیب فإن المضاربۃ تکون فاسدۃً
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(2/319،رشیدیة)
وکذا فی شرح المجلة:(4/260،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/27،الطارق)
وکذا فی الدر المختار مع الرد:(8/502،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة:(3/44،حرمین شریفین)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/05/1443/2021/12/20
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:167