رمضان شریف میں مسافر،حالت سفر میں گھر سے کھانا پکوا کر دوران سفر لے جا کر کھاتا ہے،کیا اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

شرعی مسافر کے لیے کھانا ساتھ لے جانے میں کوئی حرج نہیں۔

لما فی الہندیة:(1/206،رشیدیة)
منہا[من الأعذار التی تبیح الإفطار]السفر)الذی یبیح الفطر وہو لیس بعذر فی الیوم الذی أنشأ السفر فیہ
وفی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(3/1695،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔۔عند الجمہور:أن ینشأ السفر قبل طلوع الفجر ویصل إلی مکان یبدأ فیہ جواز القصر۔۔۔۔۔۔إذ لا یباح لہ الفطر با الشروع فی السفر بعد ما أصبح صائماً۔۔۔۔۔۔۔فإذا شرع بالسفربأن جاوز عمران بلدة قبل طلوع الفجر جاز لہ الإفطار وعلیہ القضاء
وکذا فی رد المحتار:(3/462،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار:(3/465،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(3/358،ادارة القرآن)
وکذا فی التاتارخانیة:(3/403،فاروقیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(28/48،علوم اسلامیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(28/48،علوم اسلامیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(28/50،علوم اسلامیة)
وکذا فی البحر الرائق:(2/494،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/08/1443/2022/03/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر: 24

اگر کوئی شخص طلاق کے حالات وواقعات سناتے ،لکھتےاور پڑھتے وقت ذہن میں اپنی بیوی کا تصور کر لے تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جائے گی؟ حالانکہ یقینی طور پر اس کا اپنی بیوی پر طلاق واقع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا،محض خیال اور وسوسہ آ جاتا ہے۔اس کی وضاحت فرما دیں۔

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں محض خیال اور وسوسہ کے آ جانے سے طلاق واقع نہیں ہو گی۔

لما فی الموسوعة الفقہیة:(43/148،علوم إسلامیة)
ولو حدث نفسہ أنّہ یطلّق زوجتہ أو ینذر للہ تعالی شیأ ولم ینطق بذالک لم یقع طلاقہ ولم یصح نذرہ
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(29/24،علوم إسلامیة)
وکذا فی تنقیح الفتاوی الحامدیة:(1/81،قدیمی)
وکذا فی شرح المجلة:(1/209،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(4/485،إدارة القرآن)
وکذا فی المحیط البرہانی:(4/400،إدارة القرآن)
وکذا فی غمز عیون البصائر:(1/222،إدارة القرآن)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/08/1443/2022/03/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:22

اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے لیے ہیئر ٹرانس پلانٹ کروانا چاہے یعنی مصنوئی بال بذریعہ سرجری لگوانا چاہے تو کیا اس کیلیے اس طرح کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اپنے ہی بال یا کسی جانور(خنزیر کے علاوہ) کے بال سرجری کے ذریعے سر پر لگوانا بوقت ضرورت جائز ہے۔

لما فی الہندیة:(3/115،رشیدیة)
ولا یجوز بیع شعور الإنسان ولا یجوز الإنتفاع بہا
وفی الہندیة:(5/358،رشیدیة)
ووصل الشعر بشعر الآدمی حرام سواء کان شعرہا أو شعر غیرہا ولا بأس للمرأۃ أن تجعل فی قرونہا وذوائبہا شیئا من الوبر
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(18/198،فاروقیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(8/52،إدارة القرآن)
وکذا فی الشامیة:(9/696،رشیدیة)
وکذا فی الشامیة:(9/615،رشیدیة)
وکذا فی الہندیة:(5/358،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/365،الطارق)
وکذا فی الشامیة:(5/231،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/316،رشیدیة)
وکذا فی السنن الدار قطنی:(1/43،دار الکتب)
وکذا فی الہدایة:(3/83،البشری)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/316،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار:(1/401،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/333،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
03/09/1443/2022/03/07
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:27

میرے دوبھائیوں کی شادی ایک ہی ماموں کی دو بیٹیوں سے ہوئی تھی۔میرے بڑے بھائی شادی کے کچھ عرصے کے بعدسعودی عرب چلے گئے ۔کچھ عرصے کے بعد ان کی بیوی ان کی اجازت سےاپنے میکے چلی گئی،وہ اپنے والدین کو پٹیاں پڑھاتی رہی ۔اور کچھ عرصے بعد انہوں نے آکر ہمارے گھر سے بلا وجہ بتلائے اپنی بیٹی کے جہیز کا سامان اٹھا لیا،چنانچہ کچھ عرصے کے بعدوہ خود بلا وجہ میرے بڑے بھائی یعنی اپنے شوہر سے موبائل فون پر طلاق کامطالبہ کرنے لگی حالانکہ بھائی نان نفقہ وغیرہ سب بھیجتے رہتے تھے۔چنانچہ اس کے گھر والے یعنی میرے ماموں اندر ہی اندر اپنی بیٹی کی پاسداری کرتے رہےجبکہ بڑے بھائی نے ماموں سے خود بھی بات کی اور میری بہنوں نے نیز میری چھوٹی بھابھی نے بھی،جو کہ ان کی بیٹی ہے ،انہوں نے کہا کہ لڑکی نہیں مان رہی ،ہم کچھ نہیں کر سکتے۔چنانچہ اندر ہی اندرانہوں نے عدالت میں جا کر خلع دائر کیااور عدالت نے ہماری رضا مندی کے بغیر یعنی شوہر کی رضا مندی کے بغیرنکا ح کو فسخ کر دیا ۔جبکہ بڑے بھائی نےاب تک طلاق نہیں دی ۔ان لوگوں نے اپنی بیٹی کا نکاح آگے کر دیاہے محض عدالتی طلاق کی بنیاد پر،اس کی میرے بھائی سے بھی ایک بیٹی ہےاور جہاں دوسری جگہ نکاح ہوا ہے وہاں پر بھی ایک بیٹی ہو چکی ہے۔اب دوسرے ما موں کی بیٹی کی شادی ہے جو کہ مذکورہ عدالتی خلع میں اپنے بھائی کے ساتھ رہا ہےاور اب بھی ان کے ساتھ ہے اور ان کی حمایت کرتا ہے،اس ماموں کی بیٹی کی شادی ہےاور انہوں نے ہمیں بھی مدعو کیا ہے۔اب پوچھنا یہ ہےکہ کیا ہم ان لوگوں سے رشتہ داری کے تعلقات رکھ سکتے ہیں اور شادی میں جا سکتے ہیں یا نہیں۔شریعت مطہرہ اس بارے میں کیا فرماتی ہے ؟

الجواب حامدًاومصلّیا

سوال میں بیان کی گئی تفصیلات اگر درست ہیں توصورت مسئولہ کا جواب یہ ہے
بلا کسی شرعی سبب کے ،شوہر کی مرضی کے بغیر،عدالت کاطلاق کا فیصلہ کرنا شرعا غیر معتبر ہے ؛لہذا،صورت مسئولہ میں انہوں نے نکاح پر نکاح کر کے بہت بڑے سخت حرام کام اورگناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہے جس سے توبہ کرنا اور دونوں میں جدائی کرنا واجب ہے،نہ کرنے کی صورت میں تمام مسلمانوں کو ان سے تعلقات ختم کرنے چاہیں۔
آپ کے جو ماموں ان کی حمایت کر رہے ہیں اگر وہ مسئلے سے آگاہ ہونے اور سمجھانے کے با وجود بھی ان لوگوں کا ساتھ نہ چھوڑیں اور ان سے تعلقات ختم نہ کریں تو اس ماموں سے بھی تعلقات نہیں رکھنے چاہیں۔

لما فی البنایة:(5/295،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔ولأن النکاح عقد یحتمل الفسخ بخیار عدم الکفاءۃ وخیار العتق وخیار البلوغ فیجوز فسخہ ایضاً با التراضی بالخلع کالبیع
وفی الموسوعة الفقہیة:(36/219،علوم اسلامیة)
نکاح معتدۃ الغیر یعتبر من الأنکحۃ الفاسدۃ المتفق علی فسادہا ویجب التفریق بینہما.وہذا با تفاق
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(9/7012،رشیدیة)
وکذا فی صحیح البخاری:(2/794،،قدیمی)
وکذا فی مجمع الأنہر:(2/182،المنار)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(36/219،علوم اسلامیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(36/219،علوم اسلامیة)
وکذا فی مشکوة المصابیح:(17،دار الحدیث)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(14/125،علوم اسلامیة)
وکذا فی تکملة فتح الملہم:(5/356،دار العلوم کراچی)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(42/166،علوم اسلامیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/550،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/07/1443/2022/02/16
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:144

حاجی کریم بخش کا انتقال1992ء میں ہوا،مرحوم کی ایک بیوی (نیلوفر)،دو بیٹے(خالد اور عمر)اور دو بیٹیاں (فاطمہ اور رقیہ) زندہ تھیں ابھی میراث تقسیم نہ ہوئی تھی کہ مرحوم کے بیٹے خالد کا انتقال ہو گیا۔خالد کے ورثاء میں 5 بیٹے اور2 بیٹیاں ہیں۔مرحوم کے پاس 7 مرلے کا ایک پلاٹ تھا جس پر اس کے دونوں بیٹوں نے اپنی ذاتی کمائی سے عمارت تعمیر کی،والد کا اس تعمیر میں کوئی دخل نہیں تھا،پوچھنا یہ ہے کہ ان کے درمیان میراث کیسے تقسیم ہوگی؟ نیز بیٹیوں کو صرف پلاٹ سے حصہ ملے گا یا عمارت سے بھی؟

الجواب بعون الملکِ الوہاب

مرحوم نے بوقت انتقال جو جائیداد منقولہ جیسے؛سونا،چاندی،زیورات،نقدی،برتن اور کپڑے وغیرہ یا غیر منقولہ جیسے؛دکان،مکان،فصل،پلاٹ وغیرہ؛غرض ہر چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض یا ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہوں،یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا،اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنھیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے:1۔میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث نے خود یا کسی اور نے بطور احسان ادا کر دیے تو نکالنے کی ضرورت نہیں۔2۔اس کے بعد اگر میت کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال میں سے وہ قرض ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔3۔اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے تہائی تک اس وصیت کو پورا کیا جائے گا،ان حقوق کی ادائیگی کے بعد جو ترکہ بچے گا،خواہ زمین ہو یا زیور یا فصل وغیرہ ہو،اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا

1

۔بقیہ کل ترکہ کے1728 حصے کر کے ان میں سے300 حصے(17.3611٪) کرم بخش کی بیوی نیلوفر کو،504حصے(29.1666٪) کرم بخش کے بیٹے عمر کو،252 حصے(14.5833٪)کرم بخش کی بیٹیوں رقیہ اور فاطمہ میں سے ہر ایک کو،خالد کے پانچ بیٹوں میں سے ہر ایک کو 70 حصے(4.050٪) اور خالد کی بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو35 حصے(2.025٪) دیے جائیں گے۔
اور 7 مرلےزمین کی63 سرسائیاں بنتی ہیں،لہذا نیلوفر کو10.9375 سرسائی،کرم بخش کے بیٹے عمر کو18.375 سرسائی،کرم بخش کی بیٹیوں میں سے ہر ایک کو9.1875 سرسائی،خالد کے پانچ بیٹوں میں سے ہر ایک کو2.5520 سرسائی اور خالد کی دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کو1.2760 سرسائی دیں گے۔
ملاحظہ: چونکہ زمین میں سے ہر ایک کو بہت تھوڑا حصہ آیا ہےجو بظاہر کسی کام کا نہیں ۔اس کا حل یہ ہے کہ یہ سات مرلے بیچ کر ہر ایک کو فیصدی حصے کے اعتبار سے رقم دے دی جائے۔
2

۔بیٹوں نے چونکہ اپنی ذاتی کمائی سے وہ تعمیر کی ہے۔ان کے والد کااس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے،اس لیے اس تعمیر میں بہنوں کا حصہ نہیں ہو گا۔

 

لما فی قولہ تعالی:(النساء،11)
“فإن کان لہ إخوۃ فلأمہ السدس.”
و قولہ تعالی:(النساء،12)
“فإن کان لکم ولد فلہن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ۔۔۔۔۔۔الایۃ.”
وفی المحیط البرہانی:(23/288،ادارة القرآن)
“وإن کان للمیت ابن فانہا تصیر عصبۃ بہ.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویقسم المال بینہم للذکر مثل حظ الأنثیین۔۔۔۔۔.”
وفی البحر الرائق:(9/374،رشیدیة)
ومع الولد او ولد الابن وان سفل الثمن لقولہ تعالی:(فان کان لکم ولد فلہن الثمن مما ترکتم۔۔۔۔۔۔
وفی شریفیة:(21،قدیمی)
ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وہو یعصبہن لقولہ تعالی:(یوصیکم اللہ۔۔۔۔۔۔۔) فإنہ لمّا لم یتبین نصیب البنات عند الاجتماع مع الابن دل علی انہ یعصبہن

واللہ خیر الوارثین
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/07/1443/2022/02/14
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:10

محمد ارشد ولد محمد کرم بخش فوت ہو چکا ہے،اس کے والدین اس سے قبل فوت ہو چکے ہیں،مرحوم کے پانچ بھائی اور پانچ بہنیں زندہ ہیں،اس کی میراث میں سے کس کو کتنا حصہ ملے گا؟

الجواب بعون الملکِ الوہاب

مرحوم نے بوقت انتقال جو جائیداد منقولہ جیسے؛سونا،چاندی،زیورات،نقدی،برتن اور کپڑے وغیرہ یا غیر منقولہ جیسے؛دکان،مکان،فصل،پلاٹ وغیرہ؛غرض ہر چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض یا ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہوں،یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا،اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنھیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے:1۔میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث نے خود یا کسی اور نے بطور احسان ادا کر دیے تو نکالنے کی ضرورت نہیں۔2۔اس کے بعد اگر میت کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال میں سے وہ قرض ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔3۔اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے تہائی تک اس وصیت کو پورا کیا جائے گا،ان حقوق کی ادائیگی کے بعد جو ترکہ بچے گا،خواہ زمین ہو یا زیور یا فصل وغیرہ ہو،اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا:
بقیہ کل جائیداد کے15 حصے کر کےان میں سے 2،حصے(٪13.3333)ہر ایک بھائی کو دیں گےاور ہر بہن کو 1، حصہ (٪6.6666)دیں گے

لما فی شریفیة شرح سراجیة:(26،قدیمی)
ومع الأخ لأب وأم للذکر مثل حظ الانثیین یصرن عصبۃ بہ لاستواءہم فی القرابۃ الی المیت قال اللہ تعالی:وإن کانوا إخوۃ رجالاً ونساء۔۔۔۔۔۔۔الایۃ فلم یقدر نصیب الأخوات فی حالۃالإختلاط۔۔۔۔۔۔۔۔۔فدل ذالک علی أنہن قد صرن عصبات معہم
وکذا فی المحیط البرہانی:(23/295،ادارة القرآن)
“إذا کان معہا بدرجتہا أخ لأب وأم تصیر عصبۃ بہ.”
وفی البحر الرائق:(9/378،رشیدیة)
“إذا کان معہا فی درجتہا أخ ذکر لأب وأم یصیر عصبۃ”

واللہ خیر الوارثین
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/06/1443/2022/02/13
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:11

ایک شخص کی روزے کی حالت میں غیر محرم پر نگاہ پڑی اور خواہش کی وجہ سے اسے انزال ہو گیا،کیا اس شخص کے اس روزے کی قضا یا کفارہ ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں روزہ نہیں ٹوٹا اس لیے قضا اور کفارہ دونوں نہیں ہیں مگر غیر محرم عورت کو شہوت سے دیکھنا گناہ کبیرہ ہے اس لیےاس شخص پر توبہ واستغفار لازم ہے۔

لما فی :(8/25،ادارة القرآن)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لأن النظر عن شہوۃ نوع زنا قال علیہ الصلوۃ والسلام(العینان تزنیان وزناہما النظر) والزنا حرام من جمیع أنواعہ۔۔۔۔۔۔۔۔ إذا کان الناظر إلی المرأۃ الأجنبیۃ ہو الرجل قال فالیجتنب بجھدہ۔۔۔۔۔۔۔۔وہو دلیل الحرمۃ وہو الصحیح فی الفصلین جمیعا
وفی بدائع الصنائع:(2/239،رشیدیة)
“ولو نظر إلی إمرأۃ وتفکر فأنزل لم یفطرہ.”
وکذا فی المحیط البرہانی:(3/351،ادارة القرآن)
وکذا فی البحر الرائق:(2/475،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(1/204،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار:(3/421،رشیدیة)
وکذا فی مجمع الأنہر:(1/360،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی:(1/360،المنار)
وکذا فی فتح القدیر:(2/334،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(3/386،فاروقیة)
وکذا فی النہر الفائق:(2/16،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(8/352،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/06/1443/2021/02/13
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:9

ہمارے ہاں سپیئر پارٹس کا کام ہے،اس کام میں کمیشن چلتا ہے،وہ اس طرح کہ مستری گاہک کو لاتا ہے،سامان خرید کرواتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے اس میں سے چار پانچ سو روپے دے دیے جائیں کیونکہ میں گاہک کو لایا ہوں۔ایک صاحب ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس کے بغیر آپ کا کاروبار نہیں چلے گا۔اگر ہم ایسا نہ کریں تو سیل بہت کم ہوتی ہےکیا ہم ایسا کر سکتے ہیں کہ100 والی چیز کو150 میں بیچ کر اس منافع میں سے کچھ مستری کو دے دیں؟شریعت اس بارے میں کیا فرماتی ہے کہ اس گاہک سے زیادہ تو وصول نہ کروں،ہاں اپنے منافع میں سے کچھ اس مستری کو دے دوں،کیا ایسا کرنا میرےلیے جائز ہو گا؟میں نے یہ بھی سنا ہے کہ شریعت میں منافع کی کوئی حد مقرر نہیں ہے،کیا یہ بات درست ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر کمیشن کی وجہ سے چیز کی قیمت میں اضافہ نہیں ہو رہا بلکہ دکاندار اپنے مناسب نفع میں سے مشتری کو نفع دیتا ہے تو یہ جائز ہے،اگر کمیشن کی وجہ سے چیز کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے تو خریدار کے علم میں لائے بغیر یہ اضافہ خریدار کے ساتھ خیانت اور ظلم ہے،ہاں اگر خریدار کو یہ علم ہو جائے کہ مستری کمیشن پر کام کر رہا ہے تو چیز کی قیمت میں مناسب اضافہ جائز ہے۔
واضع رہے کہ شریعت نے نفع کی کوئی حد تو مقرر نہیں کی لیکن واضح لوٹ مار اور ظلم وزیادتی سے سختی کے ساتھ روکا ہے۔مزید یہ کہ کمیشن متعین ہونا ضروری ہے،خواہ فیصد کی شکل میں یا کسی متعین رقم کی صورت میں۔

لما فی القرآن الکریم:(النساء:29)
“یآیہا الذین اٰمنوالا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل إلاأن تکون تجارۃ عن تراض منکم.”
وفی صحیح البخاری:(1/62،رحمانیة)
“عن أنس عن النبیﷺقال لا یؤمن أحدکم حتی یحب لأخیہ ما یحب لنفسہ.”
وکذا فی مشکوة المصابیح:(1/261،رحمانیة)
وعن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال قال رسول اللہﷺ ألا لا تظلموا ألا لایحل مال إمرء إلا بطیب نفس منہ
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3326،رشیدیة)
السمسرۃ ہی الوساطۃ بین البائع والمشتری لإجراء البیع والسمسرۃ جائزۃ والاجر الذی یأخذہ السمسار حلال لأنّہ أجر علی عمل وجہد معقول
وکذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل:(2/592،دار الکتب)
وکذا فی التفسیر المنیر:(3/33،امیر حمزة)
وکذا فی التفسیر المنیر:(3/33،امیر حمزة)
وکذا فی احکام القرآن للجصاص:(2/244،قدیمی)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(،علوم اسلامیة)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(15/115،بیروت)
وکذا فی فقہ البیوع:(2/1178،معارف القرآن)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/06/1443/2021/02/13
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:146

اگر کسی کا والد فوت ہو جائے اور اس کا دادا ابھی زندہ ہو تو کیا اس کا دادا اپنے بیٹے کی میراث کا مستحق ہو گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں! میت کا والد اس کی میراث کا مستحق ہو گا چاہے میت کی اولاد ہویا نہ ہو۔

لما فی شریفیة شرح سراجیة:(18،قدیمی)
أم الأب فلہ أحوال ثلث: الفرض المطلق۔۔۔۔۔وہو السدس وذالک مع الابن وابن الابن وان سفل والفرض والتعصیب معاً وذالک مع الابنۃ او ابنۃ الابن وان سفلت۔۔۔۔۔۔۔والتعصیب المحض وذالک عند عدم الولد وولد الابن وان سفل
وفی الفتاوی الہندیة:(6/448،رشیدیة)
الأول الأب،لہ ثلثۃ أحوال:الفرض المحض وہو السدس مع الابن أو إبن الابن وإن سفل والتعصیب المحض وذالک أن لا یخلف غیرہ فلہ جمیع المال بالعصوبۃ۔۔۔۔۔۔۔ والتعصیب والفرض معاً وذالک مع البنت و بنت الابن فلہ السدس فرضاً والنصف للبنت۔۔۔۔۔۔۔۔ والباقی لہ بالتعصیب
وکذا فی المحیط البرہانی:(23/299،دار إحیاء)
وکذا فی البحر الرائق:(9/367،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(20/243،فاروقیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
08/06/1443/2021/02/10
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:167

کیا قادیانی کمپنی کی چیزیں گھر اور مسجد میں استعمال کر سکتے ہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

یہ بات سب پر عیاں ہے کہ قادیانی،سید الکونین وخاتم الرسل حضرت محمدﷺ کی ختم نبوت کے منکر ہیں اور اسلام کے سخت ترین دشمن ہیں؛ہر وہ عمل جس سے دشمنانِ اسلام کو تقویت پہنچےاس سے روکا گیا ہے اور یقیناً قادیانی کمپنیوں کی اشیاء خریدنے سے ان کی معیشت مضبوط ہو گی جسے وہ یقیناً حضور نبی کریمﷺ کی ختم نبوت کے خلاف استعمال کریں گے؛لہذا،قادیانی کمپنیوں کی اشیاء استعمال کرنا جائز نہیں۔

لما فی الفتاوی الہندیة:(2/285،رشیدیة)
“ویکرہ بیع السلاح من أہل الفتنۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔.”
وفی مجمع الأنہر:(2/418،المنار)
ولا یباع) أی یکرہ کراہۃ التحریم(منہم سلاح)۔۔۔۔۔۔۔۔(ولا خیل ولا حدید) لئلایتقوی بہ الکفار ولا یبلّغ ما فی حکمہ من الحریر والدیباج
وکذا فی الدر المختار:(6/408،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(10/91،دار المعرفة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(7/83،فاروقیة)
وکذا فی الدر المنتقی:(2/419،المنار)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(1/434،المکتبة التجاریة)
وکذا فی مشکوة المصابیح:(1/31،حقانیۛة)
وکذا فی فتح القدیر:(6/101،رشیدیة)
وکذا فی فقہ البیوع:(1/174،معارف القرآن)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/06/1443/2021/02/08
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:166