ایک عورت نے چند وجوہ کی بنیاد پر عدالت سے خلع کی:(1)خرچہ نہ ملنے پر(2)سسر کے مارنے پر(3)شرعی پردہ کو نا پسند سمجھنے کی وجہ سے۔ساتھ ساتھ لڑکی کے اولیاء کی طرف سےصلح کی کوشش چار ماہ تک جاری رہی مگر صلح کی کوئی صورت پیدا نا ہو سکی تو مجبوراً عدالت کی طرف رجوع کر لیا،مقدمہ چلتا رہا،بالاخر فیصلہ کے وقت شوہر کو بھی بلا لیا گیا اور اس سے پوچھا گیاکہ تم اسے بسانا چاہتے ہو؟اس نے کہا میں بسانا چاہتا ہوں،لڑکی نے کہا میں اس کے ساتھ نہیں بسنا چاہتی،اس پر عدالت نے نکاح فسخ کر دیا۔ اس لڑکی کے اولیاء نے اس کے شوہر سے مطالبہ کیاکہ اب وہ از خود بھی اسے طلاق دے دے!شوہر نے کہا میں اسے اس وقت تک طلاق نہیں دوں گا جب تک اس کے سر کے بال اس کے دانتوں کی طرح سفید نہ ہو جائیں اور نہ اسے بساؤں گا۔ کیا عدالت کے اس فیصلے سے نکاح ختم ہوا یا نہیں؟نیز اس معاملہ کو چار سال ہو چکے ہیں شوہر کا اب تک اس سے کوئی تعلق نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں،شوہر بیوی کو بسانے پرعدالت میں اپنی رضامندی ظاہر کر چکا ہے تو عدالت کے حکم سے نکاح ختم نہیں ہوا،شوہر کی موجودہ ضد تو اس بیان کی وجہ سے ہے جو بیوی نے جج کے سامنے دیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ نہیں بسنا چاہتی۔
بہر حال! یہ خاتون فی الحال آگے نکاح نہیں کر سکتی بلکہ میاں بیوی کے درمیان صلح کی کوشش کی جائے ورنہ شوہر کو مجبور کر کےیاکچھ دے دلا کر طلاق دینے پر آمادہ کیا جائے،اگر ایسا نہ ہو سکے تو دوبارہ عدالت کی طرف رجوع کیا جائے،اب عدالت جو فیصلہ کرے گی وہ نافذ ہو گا۔

لما فی البنایة:(5/295،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔۔ولانْ النکاح عقد یحتمل الفسخ بخیار عدم الکفاءة وخیار العتق وخیار البلوغ فیجوز فسخہ ایضاً بالتراضی بالخلع کالبیع
وکذا فی الدر المنتقی علی ھامش ملتقی الابحر:(2/182،المنار )
وکذا فی صحیح البخاری:(2/794،قدیمی)
وکذا فی رد المحتار:( 5/90،رشیدیة)
وکذا فی النھرالفائق:(2/510،قدیمی)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/182،المنار)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/7012،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/239،الطارق)
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(1/550،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/04/1443/2021/11/22
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:135

ہمارے علاقے میں کپاس کی فیکٹریاں ہیں،وہ لوگ کہتے ہیں کہ کپاس فیکٹری میں پہنچا دو اور ایک ماہ کے بعد آنا جو ریٹ اس دن کپاس کا ہوا وہ آپ کو دے دیں گے۔کیا اس طرح کپاس کی بیع درست ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں بیع کا یہ طریقہ نا جائز ہے،کپاس کی سپردگی کے دن ہی قیمت متعین کرنا ضروری ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(9/358،دار إۛحیاء)
وفی (الأصل):إذا قال لغیرہ:أخذت ہذا منک بمثل ما یبیع الناس فہو فاسد.ولو قال بمثل من أخذ بہ فلان من الثمن فإن علما مقدار ذالک وقت البیع فالبیع جائز وإن لم یعلما فالعقد فاسد
وفی بدائع الصنائع:(4/358،رشیدیة)
ولو قال بعت ھذا العبد بقیمتہ فالبیع فاسد لأنہ جعل ثمنہ قیمتہ وإنھا تختلف باختلاف تقویم المقومین فکان الثمن مجہولاً
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(13/7،دار المعرفة) وکذا فی فتح القدیر:(6/241،رشیدیة)
وکذا فی النھر الفائق:(3/342،قدیمی) وکذا فی رد المحتار:(7/64،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(5/3444،رشیدیة) وکذا فی البحر الرائق:(5/459،رشیدیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(15/34،علوم إسلامیة) وکذا فی مجمع الأنھر:(3/12،المنار)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/04/1443/2021/11/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:136

امام نے عشاء کی نماز میں ایک آیت پڑھنے کے بعد”اللھم اغفرلی ذنبی ووسع لی فی داری”پڑھا اور پھر تین آیات پڑھیں،اس پر سجدہ سہو لازم ہے کہ نہیں؟

الجوب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں سجدہ سہو لازم نہیں ہو گا مگر ایسے عمل سے گریز کرنا چاہیے۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(1/81،رشیدیة)
ومنھا[من المفسدات] القراءۃ بغیر ما فی المصحف الذی جمعہ امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ ذکر بعض المشایخ انہ اذا قرء بغیر ما فی المصحف المعروف ما لا یؤدی معناہ تفسد صلوتہ بالاتفاق اذا لم یکن دعاء ولا ثناء فی نفسہٖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
والصحیح من الجواب فی ھذا انّہ اذا قرء بما فی مصحف ابن مسعود او غیرہ لا یعتدّ بہ من قراءۃ الصلوۃ اما صلوتہ فلا تفسد حتی لو قرءمع ذالک شیئا مما فی مصحف العامّۃ مقدار ما تجوز بہ الصلوۃ تجوز صلوتہ
وفی حاشیة الطحطاوی:(1/311،رشیدیة)
ولو تشھّد فی قیامہ قبل الفاتحۃ لا سہو علیہ لانہ محل للثناء وبعدہا علیہ السھو لتاخیر السورۃ وھو الاصح
وکذا فی الفتاوی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(1/138،رشیدیة)
وکذا فی البنایة:(2/732،رشیدیة) وکذا فی المبسوط للامام محمد:(1/218،عالم الکتب)
وکذا فی رمز الحقائق:(1/87،ادارۃ القرآن) وکذا فی کتاب الفقہ :(1/386،حقانیة)
وکذا فی امحیط البرہانی:(2/308،دار احیاء التراث) وکذا فی بدائع الصنائع:(1/401،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(2/172،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید عفی اللہ تعالی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
19/03/1443/2021/09/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:138

ایک حدیث ہے جو عام طور پربیان کی جاتی ہے کہ ایک صحابی گھر میں تشریف لے گئے تو کھانے کو کچھ نہیں تھا،صحابی مسجد میں تشریف لائے اور دو رکعت نماز پڑھی۔۔۔۔۔اس طرح مسجد میں آ کر تین مرتبہ نماز پڑھی،تیسری مرتبہ نماز پڑھی تو بند چکی سے آٹا آنا شروع ہو گیا،انھوں نے گھر کے سارے برتن بھر لیے،آٹا پھر بھی نکل رہا تھا۔ان صحابی نے چکی کا پاٹ اٹھا کر دیکھا تو اس میں صرف ایک دانہ گندم کا تھا۔ ان صحابی نے یہ واقعہ حضور اقدسﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر بیان کیا۔آپﷺ نےفرمایا کہ اگر تم اس کا پاٹ نہ اٹھاتے تو قیامت تک اس سے آٹا نکلتا رہتا۔ کیا یہ حدیث ہے؟وضاحت فرما دیں اور اگر یہ حدیث نہ ہو بلکہ اس سے ملتی جلتی کوئی اور حدیث ہو تو وہ بھی بیان فرما دیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

یہ واقعہ احادیث میں موجود ہے مگر کسی صحابی سے متعلق نہیں بلکہ گزشتہ امتوں میں سے کسی شخص اور اس کی بیوی کا واقعہ ہے،نیز اس میں نماز پڑھنے کا ذکر بھی نہیں ہے اور یہ بھی نہیں ہے کہ جب اس نے چکی کا پاٹ اٹھا کر دیکھا تو صرف ایک دانا گندم کا پایا جس سے آٹا نکل رہا تھا۔اب ذیل میں مسند احمد کے حوالے سے یہ روایت ذکر کی جاتی ہے

بہ قال الامام احمد ابن حنبل حدثنا عبد اللہ قال حدثنی ابی قال حدثناھاشم ابن القاسم قال حدثنا عبد الحمید(یعنی ابن بھرام) قال حدثنا شھرابن حوشب قال :قال ابو ھریرہ:بینما رجل وامرءۃ لہ فی السلف الخالی لا یقدران علی شئ فجاء الرجل من سفرہ فدخل علی امرءتہ جائعا قد اصابتہ مسغبۃ شدیدۃ فقال لامرءتہ:اعندک شئ؟ قالت نعم! ابشر اتاک رزق اللہ، فاستحثہا فقال ویحکِ!ابتغی ان کان عندکِ شئ؟ قالت نعم!ہنیئۃ نرجو رحمۃ اللہ حتی اذا طال علیہ الطِوی قال ویحک! قومی فابتغی ان کان عندکِ خبز فاتنی بہ فانّی قد بلغت وجھدت فقالت نعم، الآن ینضج التنّور فلا تعجل فلماان سکت عنہا ساعۃً وتحیّنت ایضاً ان یقول لہا قالت ہی :من عند نفسہا لو قمت ونظرت الی تنّوری، فقامت فوجدت تنورہا ملآن جنوب الغنم ورحییہا تطحنان فقامت الی الرحیٰ فنفضتہا واخرجت ما فی تنورہا من جنوب الغنم قال ابو ہریرۃ فو الذی نفس ابی القاسم بیدہ عن قول محمد ﷺ”لو اخذت ما فی رحییہا ولم تنفضہا لطحنتہا الی یوم القیمۃ
(مسند احمد:3/315،دار احیاء التراث)
(وفیہ:علی الصفحہ3/315،دار احیاء ایضا)

ترجمہ:“حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گزشتہ زمانے میں ایک جگہ شوہر بیوی رہتے تھے کہ جن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا، ایک مرتبہ شوہر سفر سے گھر واپس آیا،اسے شدید بھوک لگی تھی،اس نے بیوی سے کہا کھانے کو کچھ ہے تو لاؤ! بیوی نے کہا جی ہاں!آپ اطمینان رکھئے! اللہ تعالی رزق کا بندوبست کر دیں گے،شوہر نے ذرا زور دے کر کہا:تیرا بھلا ہو مجھے کھانے کو کچھ چاہیے،اگر تیرے پاس کچھ ہے تو لے آ! بیوی نے کہا ہاں!بس تھوڑی دیر صبر کیجئے ہم اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔
جب بھوک برداشت سے زیادہ ہونے لگی تو بیوی سے کہا:تیرا ناس ہو کھڑی ہو!تیرے پاس روٹی وغیرہ ہے تو ،لے آ کیونکہ مجھے شدید بھوک لگی ہے۔کہنے لگی جی ہاں بس!ابھی تندور روٹیاں لگانے کے قابل ہو جاتا ہے،آپ تھوڑا سا صبر کر لیں(جلدی نہ کریں)
پھر جب اسی طرح کہتے کہتے کافی دیر بیت گئی تو بیوی کے دل میں خیال آیا کہ جاؤں اپنے تندور کو تو ذرا دیکھوں،تندور کے پاس گئی تو اس کو بکری کی دستیوں سے بھرا ہوا پایا اور چکی سے آٹا نکل رہا تھا اور اس کا پاٹ اٹھا لیا اور بکری کی دستیاں جو تندور میں تھیں ان کو بھی نکال لیا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد مبارک نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:“اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں ابو القاسم ﷺ کی جان ہے،اگر وہ عورت اپنی چکی کے پاٹوں سے آٹا نکال لیتی اور اس (کے پاٹ) کو وہاں سے نہ ہٹاتی تو وہ چکی قیامت تک آٹا پیستی رہتی۔

وکذا فی المسند الجامع:(18/371،372،دار الجیل،بیروت)
وکذا فی مجمع الزوائد:(10/325،دار الکتب العلمیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید عفی اللہ تعالی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/03/1443/2021/09/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:105

متوفی کے 6بھائی،4بہنیں،ایک بیوہ،2بیٹیاں اور والد محترم حیات ہیں۔متوفی کی جائیداد کیسے تقسیم ہو گی؟

الجواب بعون الملکِ الوہاب

مرحوم نے بوقت انتقال جو جائیداد منقولہ جیسے؛سونا،چاندی،زیورات،نقدی،برتن اور کپڑے وغیرہ یا غیر منقولہ جیسے؛دکان،مکان،فصل،پلاٹ وغیرہ؛غرض ہر چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض یا ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہوں،یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا،اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنھیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے:1۔میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث نے خود یا کسی اور نے بطور احسان ادا کر دیے تو نکالنے کی ضرورت نہیں۔2۔اس کے بعد اگر میت کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال میں سے وہ قرض ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔3۔اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے تہائی تک اس وصیت کو پورا کیا جائے گا،ان حقوق کی ادائیگی کے بعد جو ترکہ بچے گا،خواہ زمین ہو یا زیور یا فصل وغیرہ ہو،اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق شرعی ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا:
بقیہ کل ترکہ کے 24 حصے کر کے بیوی کو3حصے(٪12.5)،والد کو5 حصے(٪20.83) اور ہر بیٹی کو 8 حصے(٪33.33) دیے جائیں گے۔

لما فی قولہ تعالی:(النساء:12)

فإن کان لکم ولد فلہن الثمن مما ترکتم من بعد وصیۃ توصون بہا أو دین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الاٰیۃ

وقولہ تعالی:(النساء:11)

فإن کن نساء فوق اثنتین فلہن ثلثا ما ترک۔۔۔۔۔۔۔۔۔الایة

وفی السراجی:(6،شرکة علمیة)

أما الأب فلہ أحوال ثلث:الفرض المطلق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔والفرض والتعصیب معا وذالک مع الابنۃ أو ابنۃ الابن۔۔۔۔۔۔۔۔

واللہ خیر الوارثین
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/06/1443/2022/01/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:87

ایک گاؤں میں عید گاہ موجود ہے،اسی گاؤں کی ایک مسجد کے امام صاحب اس عید گاہ میں عید کی نماز پڑھاتے ہیں ،اسی گاؤں کی ایک دوسری مسجد جوکہ عید گاہ کے قریب ہے،میں عید کی نماز پڑھنا کیسا ہے؟جبکہ عیدگاہ میں کافی جگہ کشادہ ہے۔

الجواب حامداًومصلیاً

بہتر تو یہ ہے کہ ایک ہی جگہ عید پڑھی جائے تاکہ مسلمانوں کی شان وشوکت کا اظہار ہو سکے لیکن اگر کوئی واقعی عذر ہو تو دوسری مسجد میں بھی نماز ِعید جائز ہے۔

لما فی غنیة المتملی:(572،رشیدیة)
وفی (جامع الفقہ ومنیۃ المفتی والذخیرۃ) یجوز إقامتھا فی المصر فی موضعین فأکثر وبہ قال الشافعی
لما فی الدر المختار:(3/51،رشیدیة)
تجب صلاتھما)فی الأصح(علی من تجب علیہ الجمعۃ بشرائطھا)المتقدمۃ(سوی الخطبۃ)فإنھا سنۃ بعدھا۔۔۔۔۔۔(وعلی الصفحۃ 18 فی بیان صلوۃ الجمعۃ)(وتؤدی فی مصر واحد بمواضع کثیرۃ)مطلقاً علی المذھب وعلیہ الفتوی
وکذا فی البحر الرائق:(2/250،رشیدیة) وکذا فی بدائع الصنائع:(1/586،رشیدیة)
وکذا فی فتاوی النوازل:(116،حقانیة) وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/211،رشیدیة)
وکذا فی تنقیح الفتاوی الحامدیة:(1/19،قدیمی) وکذا فی تبیین الحقائق:(1/218،امدادیة)
وکذا فی المبسوط للسر خسی:(2/120،دار المعرفة) وکذا فی زاد المعاد:(1/149،علمیة،پشاور)
وکذا فی مجمع الأنھر علی ھامش ملتقی الأبحر:1/247،المنار) وکذا فی حجة اللہ البالغة:(2/56،قدیمی)
وکذا فی در المنتقی علی ھامش ملتقی الأبحر:(1/248،المنار)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/04/1443/2021/11/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:137

ایک آدمی کے پاس ایک تولہ سونا اور کچھ سامان تجارت ہے جس کی قیمت ایک تولہ سونے سے کم ہے،اس شخص پر زکوۃ واجب ہو گی یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

سامان تجارت کو ایک تولہ سونے کی قیمت کے ساتھ ملا کر دیکھیں گے،اگر ان دونوں کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سےزیادہ ہو جائے تو اس پر زکوۃ فرض ہو گی۔
آج کل صرف ایک تولہ سونے کی قیمت ہی ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت سے زیادہ ہے اور سامان تجارت ملنے کے بعد تو یقیناً آدمی صاحب نصاب ہو جائے گا،اس لیے صورت مسئولہ میں زکوۃ فرض ہو گی۔

لما فی تنویر الابصار مع الدر المختار:(3/270 ،رشیدیة)
و)فی(عرض تجارۃ قیمتہ نصاب)الجملۃ صفۃ عرض وہو ھنا ما لیس بنقدٍ۔۔۔(من ذھب او ورق)ای فضۃٍ مضروبۃٍ فافاد انّ التقویم انّما یکون بالمسکوک عملاً بالعرف(مقوّماً باحدھما)ان استویا فلو احدھما اروج تعیّن التقویم بہٖ ولو بلغ باحدھما نصابا وخمساوبالآخر اقلّ قوّمہ بالانفع للفقیر
وفی الفتاوی الھندیة:(1/179 ،رشیدیة)
الزکوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت اذا بلغت قیمتھا نصابا من الورق والذھب۔۔۔۔۔ ویتقوّم بالمضروبۃ۔۔۔۔۔۔ثم فی تقویم عروض التجارۃ التخییر یقوّم بایھما شاء من الدراہم والدنانیر الا اذا کانت لا تبلغ باحدھما نصابا فحین اذٍ تعیّن التقویم بما یبلغ نصاباً
وکذا فی البحر الرائق:(2/400 ،رشیدیة) وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/365 ،الطارق)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(2/191 ،دار المعرفة) وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(3/164 ،فاروقیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلّتہ:(1871 ،رشیدیة) وکذافی تبیین الحقائق:(1/279 ،امدادیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(3/163 ،دار احیاء التراث) وکذا فی الفقہ علی المذاھب الاربعة:(1/515 ،حقانیة)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ:محمد نوید عفی اللہ عنہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
21/02/1443 /2021/09/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:54

لوگ صدقہ وخیرات کرتے ہیں مثلاً کچھ پکا کر ہمسایوں اور رشتہ داروں کے گھروں میں تقسیم کر دیتے ہیں حالانکہ بہت سارے ہمسائے اور رشتہ دار صدقہ وخیرات کے مستحق نہیں ہوتے،کیا اس طرح سے صدقہ وخیرات کرنا درست ہے؟اگر نہیں تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

نفل صدقہ وخیرات ہمسائیوں اور رشتہ داروں کو دینا درست ہے،اس کے لیے ان کا مستحق ہونا ضروری نہیں۔البتہ ان میں سے ضرورتمندوں کو ترجیح دینا چاہیئے۔

لما فی الموسوعة الفقہیة:(26/331،علوم اسلامیة)
لا اختلاف بین الفقہاء فی جوز التصدق علی الأقرباء والأزواج صدقۃ التطوع بل صرح بعضہم: بأنہ یسن التصدق علیہم ولہم أخذہا ولو کانوا ممن تجب نفقتہ علی المتصدق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وقالﷺ:الصدقۃ علی المسکین صدقۃ وعلی ذی الرحم ثنتان:صدقۃ وصلۃ
وفیہ ایضاً:(26/332،علوم اسلامیة)
الأصل أن الصدقہ تعطی للفقراء والمحتاجین وہذا ہو الأفضل کما صرح بہ الفقہاء وذالک لقولہ تعالی:أو مسکینا ذا متربۃ.الآیۃ واتفقوا علی أنہا تحل للغنی لأن صدقۃ التطوع کالہبۃ فتصح للغنی والفقیر
وکذا فی فتح القدیر:(9/57،رشیدیة)
۔۔۔۔والتصدق علی الغنی لا ینافی القربة
وکذا فی الشامیة:(2/360،رشیدیة)
وکذا فی الکفایة:(9/17،رشیدیة)
وکذا فی الہندیة:(4/406،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(12/92،دار المعرفة)
وکذا فی التاتارخانیة:(14/498،فاروقیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(9/212،ادارة القرآن)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/09/1443/2022/04/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:176

ایک حافظ قرآن نماز تراویح میں قرآن پاک آہستہ پڑھتے ہیں(ائمہ حرمین کی طرز پر بلا تکلف) جبکہ اس کے مقتدی کہتے ہیں کہ قرآن جلدی پڑھا کریں،اس طرح وقت زیادہ لگتا ہے اور ہم سارے دن کے تھکے ہوئے ہوتے ہیں؛سوال یہ ہے کہ امام صاحب کس حد تک مقتدیوں کی بات ماننے کا پابند ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

مقتدیوں کی رعایت رکھتے ہوئے حافظ صاحب اس قدر تیز پڑھ سکتے ہیں جس میں الفاظ سمجھ آئیں اور تجوید کا بھی کسی حد تک لحاظ رہے پھر بھی مقتدی راضی نہ ہوں تو بہتر یہ ہےچھوٹی سورتوں سے تراویح پڑھائے،پورے قرآن کا ختم نہ کرے۔

لما فی الشامیة:(2/601،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔۔فقد تتغیر الاحکام لاختلاف الزمان فی کثیر من المسائل بحسب المصالح ولذا قال فی البحر:فالحاصل أنّ المصحح فی المذہب أن الختم سنۃ لکن لا یلزم منہ عدم ترکہ إذا لزم منہ تنفیر القوم وتعطیل کثیر من المساجد خصوصاً فی زماننا فالظاہر اختیار الأخف علی القوم
وفی بدائع الصنائع:(1/646،رشیدیة)
وأما فی زماننا:فالأفضل أن یقرأ الإمام علی حسب حال القوم من الرغبۃ والکسل فیقرأ قدر ما لا یوجب تنفیر القوم عن الجماعۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔والأفضل تعدیل القراءۃ فی الترویحات کلہا۔۔۔۔۔۔۔
وکذا فی القرآن الکریم:(المزمل:4)
وکذا فی احکام القرآن للجصاص:(3/701،قدیمی)
وکذا فی الجامع لاحکام القرآن:(19/37،مؤسسہ التاریخ العربی)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(4/699،دار الکتب)
وکذا فی الشامیة:(2/601،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(2/253،ادارة القرآن)
وکذا فی الہندیة:(1/117،رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(2/325،فاروقیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/09/1443/2022/04/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:178

اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو اپنا وکیل بنائے تو کیا مؤکل خود بھی اپنا وہ کام کر سکتا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جی کر سکتا ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(5/4116،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔کأن یؤکل انسان غیرہ ببیع شیئ ثم یبیعہ المؤکل فتنتہی الوکالۃ بالاتفاق لأن العقد یصبح حینئذ غیر ذی موضوع فینعزل الوکیل وإن لم یعلم بالعزل
وفی بدائع الصنائع:(5/45،رشیدیة)
ومنہا أن یتصرف المؤکل بنفسہ فیما وکل بہ قبل تصرف الوکیل نحو ما إذا وکلہ ببیع عبدہ فباعہ المؤکل۔۔۔۔۔۔۔لأن الوکیل عجز عن التصرف لزوال ملک المؤکل فینتہی حکم الوکالۃ
وکذا فی فتح القدیر:(8/154،رشیدیة)
وکذا فی الموسوعة الفقیة:(45/114،علوم اسلامیة)
وکذا فی تبیین الحقائق:(4/289،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(7/324،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/447،الطارق)
وکذا فی الہدایة:(3/290،البشری)
وکذا فی التاتارخانیة:(12/413،فاروقیة)
وکذا فی الدر المختار:(8/325،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/09/1443/2022/04/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:179