ایک آدمی نے کسی سے قرض لیا اور اس کی ادائیگی میں تاخیر کر دی جس کی وجہ سے اب قرض خواہ نے قرض دار پر جرمانہ لگا دیا۔پوچھنا یہ ہے کہ قرض خواہ کا جرمانہ لگانا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

سود ہونے کی وجہ سے نا جائز اور حرام ہے۔

لما فی بدائع الصنائع:(6/518،رشیدیة)
وأما الذی یرجع الی نفس القرض فہو أن لا یکون فیہ جرّ منفعۃ فإن کان لم یجز۔۔۔۔۔۔۔ لأن الزیادۃ المشروطۃ تشبہ الربو لأنہا فضل لا یقابلہ عوض والتحرز عن حقیقۃ الربو وشبہۃ الربو واجب
وفی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(5/3739،رشیدیة)
ویجری [الربو ا]یضاً فی القرض:بأن یقرض شخص آخر مبلغاً من المال علی أن یرد لہ زیادۃ معینۃ أو یجری التعارف بالزیادۃ أو یشترط علیہ دفع فائدۃ شہریّۃ أو سنویّۃ علی مبلغ القرض
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/517،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/519،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی :(10/351،ادارة القرآن)
وکذا فی التاتارخانیة:(9/391،فاروقیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(33/130،علوم اسلامیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(33/128،علوم اسلامیة)
وکذا فی الشامیة:(7/413،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار:(7/413،رشیدیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(22/50،علوم اسلامیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/09/1443/2022/04/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:177

ایک شخص نے حالت روزہ میں جان بوجھ کر گندم کے چند دانے(آٹھ یا دس دانے) یا کچے چاول کے آٹھ یا دس دانے کھا لیے ،اس صورت میں کیا قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

روزے کی حالت میں جان بوجھ کر کچی گندم کھانے سے قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے جبکہ کچا چاول کھا لینے کی صورت میں فقہاء کرام نے روزے کی صرف قضاء لازم ہونے کا فرمایا ہے۔

لما فی المحیط البرہانی:(3/354،ادارة القرآن)
وإذا أکل الحنطة فعلیہ الکفارۃ قال شمس الأئمۃ الحلوانی:تلزمہ الکفارۃ وإن أکل حبة وفی القدوری:یقول:إذا قضم حنطة وابتلعہا فعلیہ الکفارة۔۔۔۔۔۔۔۔۔وأکل الأرز والجاورش لا یوجب الکفارة
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/318،الطارق)
وکذالک تجب الکفارة بأکل الشحم۔۔۔۔۔۔۔۔أو بقضم الحنطة۔۔۔۔۔۔۔۔ویفسد الصوم ولا تجب الکفارة إذا أکل أو شرب شئایعافہ الناس ویستقذرونہ عادة کما لوابتلع حصاة أو أرزا نیئا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وکذا فی الہندیة:(1/205،رشیدیة)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی ترجمة بہشتی زیور:(258،البشری)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(1/453،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(2/481،رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(3/390،فاروقیة)
وکذا فی مجمع الأنہر:(1/357،المنار)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/09/1443/2022/04/16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:126

قربانی کس شخص پر واجب ہے؟ اس کے واجب ہونے کے لیے کس نصاب کا مالک ہونا ضروری ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جس شخص کے پاس یہ پانچ چیزیں یا ان میں سے بعض ہوں؛سونا، چاندی،نقدی، مال تجارت اور ضرورت سے زائد سامان اور ان کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے تو اس پر قربانی واجب ہو جاتی ہے۔

لما فی المحیط البرہانی:(8/455،ادارة القرآن)
وشرط وجوبہا الیسار عند أصحابنا،والموسر فی ظاہر الروایة:من لہ مأتا درہم أو عشرون دیناراً أو شیئ یبلغ ذالک سوا مسکنہ ومتاعہ ومرکوبہ وخادمہ فی حاجتہ التی لا یستغنی عنہا فأما ما عدا ذالک من سائمۃ أو رقیق أو خیل أو متاع للتجارۃ أو لغیرہا فإنہ یعتد بہ فی یسارہ
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/198،الطارق)
والیسار الذی یتعلق بہ وجوب صدقۃ الفطر والمعتبر وجود ہذہ الشرائط آخر الوقت وإن لم یکن فی اولہ۔۔۔۔۔۔۔ والیسار بأن یملک مأتی درہم أو عرض یساویہا غیر مسکنہ وثیاب اللبس ومتاع یحتاجہ إلی أن یذبح الأضحیۃ۔۔۔۔۔۔۔۔وصاحب الثیاب الأربعۃ لو ساوی الرابع نصاباً غنیّ وثلاثۃ فلا
وکذا فی البزازیة علی ہامش الہندیة:(6/286،رشیدیة)
وکذا فی الخانیة علی ہامش الہندیة:(3/344،رشیدیة)
وکذا فی الہندیة:(5/292،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی السراجیة:(157،383،زمزم)
وکذا فی البنایة:(11/12،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(8/318،رشیدیة)
وکذا فی مجمع الانہر:(1/167،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی:(1/167،المنار)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/08/1443/2022/03/26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:100

ایک آدمی کا دانت کمزور ہے، کھانا کھانے میں بہت پریشانی ہوتی ہے، کیا اس کے لیے مصنوئی دانت لگوانا جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

فقہاء کرام رحمہم اللہ نے سونا چاندی کے دانت لگوانے کی اجازت دی ہے،چونکہ مصنوعی دانت جس مواد سے تیار ہوتے ہیں ان میں بھی کوئی نا جائز چیزاستعمال نہیں ہوتی ،اس لیے مصنوئی دانت لگوانے کی اجازت ہو گی۔

لما فی المحیط البرہانی:(8/51،ادارة القرآن)
لو تحرک ثنیۃ رجل وخاف سقوطہا فشدّہا بذہب أو فضۃ لم یکن بہ بأس عند أبی حنیفۃ وأبی یوسف۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفی الشامیة:(5/231،رشیدیة)
إذا سقطت ثنیۃ رجل فإن أبا حنیفۃ یکرہ أن یعیدہا ویشدہا بذہب أو فضۃ ویقول ہی کسن میتۃ ولکن یأخذ سن شاۃ ذکیۃ یشد مکانہا وخالفہ أبو یوسف فقال: لا بأس بہ ولا یشبہ سن میتۃ استحسن ذالک۔۔۔۔۔۔۔ زاد فی التاتارخانیة: قال بشر: قال أبو یوسف: سألت أبا حنیفۃ عن ذالک فی مجلس اخر فلم یر بإعادتہا بأسا
وکذا فی البنایة شرح الہدایة:(11/134،رشیدیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(4/182،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/316،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/365،الطارق)
وکذا فی المحیط البرہانی:(8/52،إدارة القرآن)
وکذا فی الہدایة:(3/83،البشری)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/333،رشیدیة)
وکذا فی الہندیة:(5/354،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/315،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/08/1443/2022/03/26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:99

ایک آدمی اپنی زندگی میں وصیت کرتا ہے کہ جب میں مَروں تو میرے فلاں رشتہ دار کو میرے جنازے میں نہیں آنے دینا، کیا ایسی وصیت کو پورا کرنا ضروری ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ہر وہ وصیت جو خلاف شریعت ہو اس کو پورا کرنا جائز نہیں ہے۔ لہذا ،صورت مسئولہ میں مذکور وصیت کو بھی پورا کرنا جائز نہیں۔

لما فی الموسوعة الفقہیة:(43/258،علوم اسلامیة)
خامسا:أن لا یکون الموسی بہ معصیة أو محرماً شرعاً
وفی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(10/7483،رشیدیة)
۔۔۔۔۔۔۔أن لا یکون الموسی بہ معصیة أو محرماً شرعاً:لأن القصد من الوصیۃ تدارک ما فات فی حال الحیات من الاحسان فلا یجوز أن تکون معصیة
وکذا فی الموسوعة الفقیة:(43/258،علوم اسلامیة)
وکذا فی الشامیة:(10/419،رشیدیة)
وکذا فی مصنف عبد الرزاق:(11/335،المکتب الاسلامی)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(10/7484،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/440،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/439،رشیدیة)
وکذا فی البزازیة علی ہامش الہندیة:(6/433،رشیدیة)
وکذا فی الخانیة علی ہامش الہندیة:(3/494،495،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(9/303،رشیدیة)
وکذا فی مجمع الأنہر:(4/4510،المنار)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/08/1443/2022/03/26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:98

زید نے 10 جون کو آم کے باغ کا پھل پانچ لاکھ میں بیچا ،مشتری نے 10 جو ن ہی کو تین لاکھ روپے دے دیے اور تین لاکھ کا پھل بھی اس نے توڑ لیا۔اس نے کہا کہ بقیہ دو لاکھ میں جب پھل توڑوں گا اس وقت دوں گا،پھل توڑنے سے پہلے۔ اس نے ابھی تک نہ پیسے دیے ہیں اور نہ ہی پھل توڑا ہے۔اب 10 جولائی کو زید کے سالانہ زکوۃ کے حساب کی ترتیب ہے،اب کیا زید ان دو لاکھ روپے کی بھی زکوۃ نکالے گا جو ابھی تک مشتری نے ادا نہیں کیے اور نہ پھل توڑا ہے؟جبکہ بیع ہو چکی ہے،عشر تو سارے باغ کا ادا کر دیا ہے،براہِ کرم! زکوۃ کے بارے میں راہنمائی فرما دیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں ان دو لاکھ روپے پر بھی زکوۃ فرض ہے،چاہے ابھی ادا کرے یا وصول ہونے کے بعد۔

لما فی رد المحتار:(3/281،رشیدیة)
قولہ(وحال الحول) أی:ولو قبل قبضہ فی القویّ والمتوسط وبعدہ فی الضعیف.قولہ(عند قبض أربعین درہماً) قال فی المحیط:لأن الزکاۃ لا یجب فی الکسور من النصاب الثانی عندہ ما لم یبلغ أربعین للحرج فکذالک لا یجب الأداء ما لم یبلغ أربعین للحرج
وفی الہندیة:(1/175،رشیدیة)
وأما سائر الدیون المقرّ بہا فہی علی ثلث مراتب عند أبی حنیفۃ۔۔۔۔۔۔۔وقویّ:وہو ما یجب بدلاً عن سلع التجارۃ إذا قبض أربعین زکّی لما مضی
وکذا فی الشامیة:(3/281،رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار:(3/281،رشیدیة)
وکذا فی الدر المنتقی:(1/289،المنار)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(23/240،علوم اسلامیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(3/1830،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(3/1831،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(3/244،ادارة القرآن)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/90،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/08/1443/2022/03/21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:74

اگر کسی شخص نے وفات سے پہلے اپنی قضاء نمازوں کے فدیہ کی وصیت کی،قضاء نمازیں اتنی زیادہ ہیں کہ وہ ترکہ کے ثلث سے زیادہ سے پوری ہو ں گی،کیا اس وصیت کو پورا کرنا ضروری ہے؟ شریعت مطہرہ اس بارے میں کیا راہنمائی فرماتی ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر وصیت ترکہ کی تہائی سے پوری نہ ہو تو جو بالغ ورثہ خوش دلی سے اجازت دیں(نا بالغ ورثہ کی اجازت کا اعتبار نہیں ہو گا) ان کے حصے سے باقی وصیت پوری کی جائے گی۔

لما فی رد المحتار:(10/358رشیدیة)
“إذا أجاز بعض الورثۃ جاز علیہ بقدر حصتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔.”
وفی التاتارخانیة:(2/458،فاروقیة)
رجل مات وعلیہ صلوات کثیرۃ فأوصی أن یطعموا عنہ بصلاتہ اتفق المشایخ علی أنّہ یجب تنفیذ ہذہ الوصیۃ من ثلث مالہ
وکذا فی الشامیة:(3/467،رشیدیة)
وکذا فی الہندیة:(1/125،رشیدیة)
وکذا فی الخانیة:(1/114،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ:(1/441،الطارق)
وکذا فی البحر الرائق:(2/160،رشیدیة)
وکذا فی ملتقی الأبحر:(1/367،المنار)
وکذا فی مجمع الأنہر:(1/367،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی:(1/367،المنار)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(2/1152،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/08/1443/2022/03/21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:75

روزے کی حالت میں آدمی اپنی بیوی کے جسم سے اپنا جسم چمٹا سکتا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ننگے بدن تو ایسا کرنا جائز نہیں اور کپڑوں سمیت بھی اس وقت اجازت ہے جب اپنے اوپر مکمل اطمینان اور کنٹرول ہو کہ معاملہ مباشرت تک نہیں جائے گا۔

لما فی المحیط البرہانی:(3/357،ادارة القرآن)
روی الحسن عن أبی حنیفة:أنّہ یکرہ المعانقۃ والمباشرۃ الفاحشۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فروایۃ الحسن محمولۃ علی المباشرۃ الفاحشۃ بأن یعانقہا وہمامتجرّدان ویمس فرجہ فرجہا وہذا مکروہ بلا خلاف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفی المباشرۃ إذا لم تکن فاحشۃ إذا یخاف علی نفسہ یکرہ ایضاً
وفی فتح القدیر:(2/336،رشیدیة)
والمباشرۃ الفاحشۃ مثل التقبیل فی ظاہر الروایۃ وعن محمد أنّہ:کرہ المباشرۃ الفاحشۃ لأنّہا قلما تخلوا عن الفتنۃ(وعلی الصفحۃ الاتیۃ)قولہ:(لأنّہا قلما تخلوا عن الفتنۃ) قلنا الکلام فیما إذا کان بحال یأمن فإن خاف قلنا بالکراہۃ والأوجہ الکراہۃ
وکذا فی التاتارخانیة:(3/400،فاروقیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(3/400،فاروقیة)
وکذا فی مجمع الانہر:(1/365،المنار)
وکذا فی الدر المنتقی:(1/365،المنار)
وکذا فی البحر الرائق:(2/476،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/270،رشیدیة)
وکذا فی النہر الفائق:(2/27،قدیمی)
وکذا فی الخانیة:(1/205،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/08/1443/2022/03/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:23

معتکف مسجد میں فرش پر شاپر بچھا کر غسل جمعہ کر سکتا ہے؟حالانکہ اس سے مسجد خراب نہیں ہوتی؟

الجواب حامداًومصلیاً

فقہاء نے اس طرح غسل کرنے کی اجازت تو دی ہے لیکن آج کل اس میں زیادہ احتیاط نہیں کی جاتی اور مستعمل پانی عموما مسجد میں گر ہی جاتا ہے،نیز اس طرح غسل کرنے سے مسجد کی بے ادبی بھی محسوس ہوتی ہے۔
البتہ آج کل ایسے عارضی غسل خانے تیار ہوتے ہیں کہ جن سے پانی مسجد میں بالکل نہیں گرتا،اگر اس طرح کا کوئی غسل خانہ بنوا لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/284،رشیدیة)
وإن غسّل رأسہ فی المسجد فی اناء لا بأس بہ إذا لم یلوث المسجد بالماء المستعمل فإن کان بحیث یتلوّث المسجد یمنع منہ لأںّ تنظیف المسجد واجب ولو توضأ فی المسجد فی إناء فہو علی ہذا التفصیل
وفی الخانیة علی ہامش الہندیة:(1/223،رشیدیة)
وإن غسّلہ [الرأس ]فی المسجد فی إناء لا بأس بہ لأنّہ لیس فیہ تلویث المسجد
وکذا فی الہندیة:(1/213،رشیدیة)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/269،رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(3/445،فاروقیة)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة:(5/220،علوم اسلامیة)
وکذا فی الدر المختار:(3/501،رشیدیة)
وکذا فی الشامیة:(3/501،رشیدیة)
وکذا فی الدر المنتقی:(1/378،المنار)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/08/1443/2022/03/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:25

خاوند بیوی غسل جنابت اکٹھے ایک غسل خانہ میں کر سکتے ہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں!کر سکتے ہیں۔

لما فی بدائع الصنائع:(4/290،رشیدیة)
المرأۃ یحل لہا النظرإلی زوجہا واللمس من قرنہ الی قدمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ویحل النظر الی عین فرج المرأۃالمنکوحۃ لأنّ الاستمتاع بہ حلال فالنظر الیہ اولی إلا أنّ الأدب غض البصر عنہ من الجانبین۔۔۔۔۔۔۔۔
وفی الفقہ الاسلامی وأدلّتہ:(4/2650،رشیدیة)
جاز للزوج النظر واللمس الی جمیع جسدہا حتی فرجہا باتفاق المذاہب الأربعۃ والفرج محل التمتع
وکذا فی الفتاوی الہندیة:(5/327،رشیدیة)
وکذا فی عمدة القاری:(3/234،دار إحیاء التراث)
وکذا فی عمدة القاری:(3/195،دار إحیاء)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/374،الطارق)
وکذا فی المحیط البرہانی:(8/26،إدارة القرآن)
وکذا فی التاتارخانیة:(18/91،فاروقیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/289،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(8/354،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/08/1443/2022/03/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:26