کیا باپ اپنے بیٹے کو وراثت سے نکال سکتا ہے؟شریعت کی رو سے اس مسئلے کا جواب دیں؟نیز باپ کے انتقال کے بعد،اس نے جس بیٹے کو وراثت سے نکالا تھا،اب اس کی میراث کا حق دار ہے یا نہیں؟(2):ایک کاروبار میں دو بھائیوں کی شراکت داری ہے جس میں ان کے باپ کا کوئی پیسہ نہیں ہے،آیا اب اس کاروبار میں ان کی ماں اور بہن کا حصہ ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

باپ اولاد کو میراث سے محروم“عاق”نہیں کر سکتا،اگر کسی کو محروم کر دیا تب بھی وہ باپ کے مرنے کے بعد شرعاً اس کی میراث کا حق رکھتا ہے۔(2):چونکہ یہ مال انہیں دو بھائیوں کا ہے،ان کے والد کا نہیں ہے،اس لیے ان کی ماں اور بہن کا اس کاروبار میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

لما فی الدر المختار:(10/538،رشیدیة)
وموانعہ)علی ما ھھنا اربعۃ:(الرق۔۔۔۔۔۔۔(وعلی الصفحۃ الاٰتیۃ)(والقتل)۔۔۔۔(وعلی الصفحۃ الاٰتیۃ)(واختلاف الدین) وبعد اسطرٍ(و) الرابع(اختلاف الدارین)۔۔۔۔(حقیقۃ)۔۔۔۔(او حکماً).”
وفی الموسوعة الفقہیة:(3/22،علوم اسلامیة)
المانع: ما یلزم من وجودہ العدم
وموانع الارث المتّفق علیھا بین الائمۃ الاربعۃ ثلثۃ: الرق والقتل واختلاف الدین.واختلفو فی ثلثۃ اخری وھی: الردۃ واختلاف الدارین والدور الحکمی
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/4984،رشیدیة) وکذا فی تبیین الحقائق:(6/239،امدادیة)
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(6/454،رشیدیة) وکذا فی البزازیة:(6/468،رشیدیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/04/1443/2021/11/22
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:133

ایک آدمی کے پاس ایک تولہ سونا ہے اور ساتھ ہی کچھ گھریلو سامان بھی ہے جس کی قیمت ایک تولہ سونے سے کم ہے،کیا اس آدمی پر زکوۃ فرض ہو گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں گھریلو سامان سے سمجھ میں آتا ہےکہ وہ ضروری سامان ہے،لہذا محض ایک تولہ پر زکوۃ فرض نہیں ہو گی۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1795 ،رشیدیة)
ولا زکوۃ باتفاق المذاھب علی الحوائج الاصلیۃ من ثیاب البدن والامتعۃ ودرر السکنیٰ(العقارات) واثاث المنزل ودوابّ الرکوب وسلاح الاستعمال والکتب العلمیّۃ
وفی مجمع الانھر:(1/286 ،المنار)
و) فارغ عن(حاجتہ الاصلیّۃ)ای عما یدفع عنہ الھلاک تحقیقاً او تقدیراً کطعامہٖ وطعام اھلہٖ وکسوتھما والمسکن والخادم والمرکب والٰۃ الحرف لاھلھا وکتب العلم لاھلھا وغیر ذالک مما لا دبّ منہ فی معاشہٖ فانّ ھذہ الاشیاء لیست بنامیۃٍ فلا یجب فیھا شیئ۔۔۔
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(3/173 ،فاروقیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/88 ،رشیدیة)
وکذافی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعة:(1/506 ،حقانیة)
وکذافی النھر الفائق:(1/415 ،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1795 ،رشیدیة)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/253 ،امدادیة)
وکذا فی العنایة علی ھامش فتح القدیر:(2/172 ،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(1/173 ،رشیدیة)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ:محمد نویدعفی اللہ عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/02/1443/2021/09/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:55

زید کی بیوی ہندہ نے اپنی بڑی بہن عالیہ کا بچپن میں دودھ پیا ہے،کیا اب ہندہ اور عالیہ کی اولاد کا نکاح آپس میں ہو سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں ان کی اولاد کا نکاح آپس میں جائز نہیں،کیونکہ ہندہ اپنی بہن عالیہ کی رضائی بیٹی ہے اور اس کی اولاد کی رضائی بہن ہے،ان دونوں کی اولاد کا رشتہ آپس میں رضائی ماموں بھانجی اور رضائی خالہ بھانجے کا ہے،جیسے نسب کے ان رشتوں کا نکاح آپس میں جائز نہیں اسی طرح رضاعت کی صورت میں بھی جائز نہیں ہو گا۔

لما فی القرآن الکریم: ( النساء:23)
” وامھاتکم اللاتی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ۔۔۔۔الآیۃ . “
وفی بدائع الصنائع: ( 3/ 396،رشیدیہ )
فالاصل من یحرم بسبب القرابۃ من الفرق السبع الذین ذکرھم اللہ عزّ وجلّ فی کتابہ الکریم نصّاً او دلالۃً علیٰ ما ذکرنا فی کتاب النکاح یحرم بسبب الرضاعۃ (وبعد اسطرٍ)والاصل فی ھذہ الجملۃ قول النبیّ صلّی اللہ علیہ وسلْم:یحرم من الرضاع ما یحرم من النسب فیجب العمل بعمومہٖ الا ما خص بدلیلٍ
وکذافی فتاویٰ قاضیخان: (1 /416 ،رشیدیہ )
الرضاع فی اثبات حرمۃ المناکحۃ بمنزلۃ النسب والصھریّۃ لما انّ الحرمۃ بالنسب اذا ثبتت فی الامْھات والبنات تتعدّٰی الی الجدات والنوافل فکذا اذا ثبتت بالرضاع تتعدّٰی الی اصول المرضعۃ وفروعھا واِخوتِھا واَخَوَاتھا
وکذا فی صحیح البخاری:(2/270 ،رحمانیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(5/132 ،دار المعرفۃ،بیروت)
وکذافی المحیط البرہانی:(4/93 ،دار احیاء التراث)
وفی الدر المختار مع تنویر الابصار:(4/393 ،رشیدیہ)
وفی الفتاوی الھندیہ:(1/277 ،رشیدیہ)
وفی احکام القرآن للشیخ ظفر احمد العثمانی:(2/206 ،ادارۃ القرآن)
وفی الفتاوی النوازل:(191 ،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نوید عفی اللہ عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/02/1443/2021/09/22
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:24

زکوۃ کی رقم سےنابالغ بھانجوں اور بھتیجوں کو کپڑے یا دیگر ضروریات ِزندگی سے متعلق اشیاء خریدکر دے سکتا ہے ،جبکہ بھائی یا بہنوئی ، بہن یا بھابھی صاحب نصاب ہیں ،لیکن نصاب زیادہ سے زیادہ ½52تو لہ چاندی کی بقدر ہے اور مہنگائی بہت زیادہ ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگر بھا ئی یا بہنوئی صاحب نصاب ہیں تو نا بالغ بھتیجو ں یا بھانجو ں کو زکوۃ نہیں دے سکتا ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (3/1971،رشیدیة)
ولایجوز دفع الزکاۃ لولدالغنی اذاکان صغیرا لان الولد الصغیر یعد غنیا بغنی ابیہ ویجوز اعطاءھا لہ اذا کان کبیرا فقیرا لانہ لایعد غنیا بما ل ابیہ فکان کالاجنبی
وفی بدائع الصنائع : (2/158،رشیدیة)
واما ولد الغنی فان کان صغیرا لم یجز الدفع الیہ وان کان فقیرا لامال لہ لان الولد الصغیر یعد غنیا بغنا ابیہ وان کان کبیرا فقیرا یجوز ،لانہ لا یعد غنیا بمال ابیہ فکان کالاجنبی
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی :(239،البشری )
وکذا فی المحیط البرھانی :(3/212،ادارة القرآن)
وکذا فی الشامیة:(2/350،ایم سعید)
وکذا فی الموسو عة الفقہیة:(23/315،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/3/2022/19/8/1443
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:52

ایک شخص کی بیوی پر کچھ الزامات تھے ،اس نے بھری مجلس میں کہا کہ اگر میری بیوی پر الزامات سچ ثابت ہوئے تو میں اسے طلاق دے دوں گا ۔گواہوں نے گواہی دی اور الزامات سچ ثابت ہوئے ،اس نے اسی مجلس میں کہا کہ میری بیوی میرے اوپر میری ماں ،بہن کی طرح ہے ۔بعد میں وہ کہتا ہے کہ میں نے اس مجلس میں یہ الفاظ طلاق کی نیت سے نہیں کہے تھے بلکہ ویسے ہی بول دیے تھے ۔تو یہ کونسی طلاق ہوئی؟

الجواب حامدا ومصلیا

صورت مسئولہ میں اگر وہ شخص حلفیہ بیان دے کہ اس نے یہ الفاظ اس مجلس میں بغیر کسی نیت کے بولے تھے تو اس طرح کہنے سے طلاق نہیں ہوئی ،بلکہ اس کا یہ کہنا فضول ہوگا اور اگر اس کی نیت طلاق کی تھی تو ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی ۔

لما فی بدائع الصنائع:(3/366رشیدیة)
ولوقال لھاانت علی کامی او مثل امی یرجع الی نیتہ فان نوی بہ الظھار کان مظاہرا وان نوی بہ الکرامۃ کان کرامۃ وان نوی بہ الطلاق کا ن طلاقاوان نوی بہ الیمین کان ایلاء لان اللفظ یحتمل کل ذلک اذہو تشبیہ المراۃ بالام فیحتمل التشبیہ فی الکرامۃ المنزلۃ ای انت علی فی الکرامۃوالمنزلۃ کامی ویحتمل التشبیہ فی الحرمۃ ثم یحتمل ذلک حرمۃ الظھار ویحتمل حرمۃالطلاق وحرمۃ الیمین فای ذلک نوی فقد نوی ما یحتملہ لفظہ فیکون علی ما نوی وان لم یکن لہ نیۃ لا یکون ظھارا عند ابی حنیفۃ وہو قول ابی یوسف الاان عند ابی حنیفۃ لایکون شیئا
وفی التنویر مع الدر للخطیب التمر تاشی :(3/470،ایم سعید)
وان نوی بانت علی مثل امی) او کامی وکذالک لو حذف علی ( خانیۃ )(برا او ظھارا او طلاقا صحت نیتہ )ووقع مانواہ لانہ کنایۃ (والا) ینو شیئا اوحذف الکاف (لغا) وتعین الادنی ای البر
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(5/169،فاروقیة) وکذا فی فتح القدیر :(4/226،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی :(5/188،دارالاحیاء) وکذافی النہرالفائق:(2/452،قدیمی )
وکذافی المبسوط للسرخسی :(6/228،دارالمعرفہ) وکذافی تبیین الحقائق:(3/4،امدادیة)
وکذا فی الموسوعةالفقہیة:(29/196،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
10/5/1443/15/12/2021
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:195

ایک آدمی نے اپنے گھر سے 50کلو میٹر کا سفر طے کرکے ایک مقام پر 10دن قیام کیا ،پھر آگے 60 کلو میٹر مزید سفر طے کرکے ایک مقام پر پہنچنا ،یہاں اس کا 10دن ٹھہرنے کا ارادہ ہے ۔آیا اب یہ نماز میں قصر کرے گا یا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

اگر شروع سے ہی صرف اس پہلے مقام تک جانے کا ارادہ تھا ،پھر وہاں سے دوسرے مقام تک جانے کا ارادہ تھا تودونوں مقاموں پرپوری نماز پڑھے گااور اگر شروع سے ہی دوسرے مقام پر جانے کا ارادہ تھاتودونوں مقاموں پر قصر کرےگا۔

لما فی الہندیة(1/139،رشیدیة)
لابدللمسافر من قصد مسافۃ مقدرۃ ثلاثۃ ایام حتی یترخص برخصۃ المسافرین والالا یترخص ابداولو طاف الدنیا جمیعھابان کان طالب آبق۔۔۔۔۔۔۔۔الخ
وفی تبیین الحقائق (1/209،امدادیة)
واما الثانی وھو بیان اشتراط قصد السفر فلابد للمسافر من قصد مسافۃ مقدرۃبثلاثۃ ایام حتی یترخص برخصۃ المسافرین والا لایترخص ابدا ولوطاف الدنیا جمیعھا بان کان طالب آبق او غریم ونحو ذلک
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(2/1342،رشیدیة) وکذافی المراقی الفلاح :(424،قدیمی )
وکذافی المحیط البرھانی :(2/389،ادارةالقرآن) وکذافی النتف فی الفتاوی :(51،سعید)

 

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ :مدثر شریف غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/2/2022/9/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:172

قبلہ کی طرف پاوَں کر کے لیٹنا کیسا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

مکروہ ہے۔

لما فی الہندیة:(5/319،رشیدیة)
ویکرہ مد الرجلین الی الکعبۃفی النوم وغیرہ عمدا وکذالک الی کتب الشریعۃ وکذالک فی حال المواقعۃ الاہل
وفی الخانیة:(18/69،فاروقیة)
ویکرہ مد الرجلین الی القبلۃ فی النوم وغیرہ عمدا وکذالک مدالرجلین الی المصحف
وکذا فی التنویر:(1/655،سعید)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/168،امدادیة)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(4/164،علوم اسلامیة)
وکذا فی الشامیة مع الدر:(1/655،سعید)
وکذافی النھر الفائق :(1/287،قدیمی)
وکذا فی فتح القدیر1/234،رشیدیة)
وکذا فی الکفایة علی الھدایة:(1/132،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/12/2021/3/5/1443

جلد نمبر:25 فتوی نمبر:193

میں توامتی ہوں اے شاہ امم ،کردے میرے آقا اب نظر کرم “اس نعت میں میرے خیا ل میں یہ الفاظ شرک ہیں کیونکہ “نظر کرم “کی دعا ہمیں صرف اللہ سے کرنی چاہیے ،اس نعت اور ایسی دوسری نعتوں کے متعلق کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداومصلیا

مذکورہ شعر میں شاعر اگر آپ علیہ الاسلام کو قادر مطلق سمجھ کر پکار رہا ہے تب تو شر ک ہے ،ہاں اگر روضہ اقدس پر حاضری کا تصور کر کے اور آپ ﷺکی شفاعت مراد لے کر یہ شعر پڑھا جائے تو گنجائش معلوم ہوتی ہے ۔

لما فی القرآن المجید :(یونس :106)
“ولاتدع من دون اللہ مالا ینفعک ولایضرک فان فعلت فانک اذا من الظالمین “
وفی جامع التر مزی :(2/530،رحمانیة)
عن ابن عباس قال کنت خلف النبی یوما فقال یاغلام ۔۔۔۔۔اذا سالت فاسال اللہ واذااستعنت فاستعن باللہ ۔۔۔۔۔الخ
وفی الموسو عة الفقھیة:(4/18،علوم اسلامیة)
ان یسال المستغاث بہ مالا یقدر علیہ ولا یسا ل اللہ تبارک وتعالی کان یستغیث بہ ان یفرج الکرب او یاتی لی با لرزق فھذا غیر جائز وقد عدہ العلماء من الشرک لقولہ عزوجل ﴿ولاتدع من دون اللہ مالا ینفعک ولایضرک فان فعلت فانک اذا من الظالمین
وکذا فی المرقات المفاتیح شرح مشکاةالمصابیح (9/162،التجاریة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/2/2022/9/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:173

ایک سنیار دوسرےسنیار سے سونا،چاندی یاسونے،چاندی کے زیورات فروخت وغیرہ کے لیےقرض پر لے سکتا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

جی ہاں!لے سکتاہے۔

لمافی المو سوعة الفقھیة:(33/124،علوم اسلامیة)
وانہ لو استقرض شیئا من المکیلات والموزونات اوالمسکوکات من الذھب او الفضۃ فرخصت اسعار ھااو غلت فعلیہ مثلھااو لا عبرۃ برخصھاغلائھا۔۔۔۔۔۔الخ
وفی الہندیة:(3/202،رشیدیة)
“ویجوزاستقراض الذھب و الفضۃ وزناولایجوزعددا”
وکذافی التنویر:(5/162،سعید)
وکذافی الشامیة:(5/162،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(6/334،رشیدیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3789،رشیدیة)
وکذافی النتف فی الفتاوی:(299،سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(10/349،دارالاحیاء)
وکذافی المحیط البرھانی:(10/351،دارالاحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ :مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
3-5-1443/8/12/2021
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:192

آج کل قبروں پر کتبے لگائے جاتے ہیں،جو ہر خواص وعام کے لیے رائج ہیں،یہ کتبے لگا نا کیسا ہے؟اس کی جائزاور ناجائز صورت کو نسی ہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگر کتبہ لگا نے کی ضرورت ہو مثلا قبر کے نشانات مٹ جانے کا یا اس کی اہانت کا اندیشہ وغیرہ تو پھر کتبہ لگانا جائز ہے ورنہ نہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1553،رشیدیة)
وقال الحنففیۃ لا باس بالکتابۃ ان احتیج الیھاحتی لا یذھب الاثرولایمتھن لان النھی عنھاوان صح فقد وجدالاجما ع العملی بھا۔۔۔۔۔۔والخلاصۃ ان النھی عن الکتابۃ محمول علی عدم الحاجۃ وان الکتابۃ شئ من القرآن اوالشعراو اطراء مدح لہ ونحوذلک فھو مکروہ
وفی اللباب :(132،قدیمی)
“ولا باس بالکتابۃ ان احتیج الیھا حتی لایذھب الاثر ولا یمتض”
وکذا فی الشامیة:(2/238،ایم،سعید)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(133،زمزم)
وکذافی النتف فی الفتاوی:(75،ایم،سعید)
وکذافی البحر الرائق:(2/340،رشیدیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثو بہ الجدید:(1/344،طارق)
وکذا فی غنیة المتملی:(599،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:مدثرشریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/2/2022/6/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:131