ایک آدمی نےاپنی زمین میں تجارت کےارادےسےپانی کاتالاب بنایاہے،جس میں وہ مچھلیاں پال کرفروخت کرتاہے،توکیااس پران مچھلیوں کی زکاۃواجب ہوگی؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگریہ شخص پہلےسےصاحب نصاب ہےیامچھلیاں اتنی مالیت کی ہیں کہ جس سےوہ صاحب نصاب بن جائےتودونوں صورتوں میں اُن مچھلیوں کی مالیت پربھی زکاۃ واجب ہوگی ،ورنہ نہیں۔

لمافی المحیط البرہانی:(3/163،احیاءالتراث)
فنقول الزکاۃ واجبۃ فی عروض التجارۃلظاہرقولہٖ تعالی:خُذمن اموالہم صدقۃ“واسم المال یتناول عروض التجارۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لٰکنالانوجب الزکاۃفی العروض ان لم تکن للتجارۃبالاجماع ،والاجماعُ اذاکان للتجارۃ،ولان ہذامال یبتغیٰ منہ النماء،فیکون سبباًلوجوب الزکاۃ،کالدراہم والدنانیر،والسوائم
وفی البدائع:(2/109،رشیدیہ)
وامااموال التجارۃ فتقدیرالنصاب فیہابقیمتہامن الدنانیروالدراہم فلاشیئ فیہامالم تبلغ قیمتہامائتی درہم اوعشرین مثقالاًمن ذہب،فتجب فیہاسالزکاۃ
وکذافی الموسوعةالفقہیہ:(23/292،علوم اسلامیہ)
وکذافی الہندیہ:(1/179،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(2/190،دارالمعرفت)
وکذافی الدرالمختار:(3/230،رشیدیہ)
وکذافی البحر:(2/398،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(3/164،فاروقیہ)
وکذافی التبیین:(1/278،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/515،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہٗ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
23/3/1443/2021/10/30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:74

قربانی کےدن جانورذبح کرنےکےبعدگوشت بناتےہوئےجوخون کپڑوں کولگ جاتاہےاس کےساتھ نمازپڑھ سکتےہیں یانہیں؟رہنمائی فرمائیں۔

الجواب حامداومصلیا

ذبح کرتےہوئےجوخون بہنےکی صورت میں نکلاتھااگروہ لگ گیاتونمازنہیں ہوگی ،ورنہ ہوجائےگی۔

لمافی الشامیة:(1/575،رشیدیہ)
“وکذادم الخارج من اللحم المہزول عندالقطع،ان منہ فطاہر،والافلا ۔”
وفی الہندیة:(1/46،رشیدیہ)
ومایبقی من الدم فی عروق المذکاۃبعدالذبح لایفسدالثوب وان فحش،وکذاالدم الذی یبقی فی اللحم لانہ لیس بمسفوح،ھکذافی محیط السرخسی
وکذافی التاتارخانیة:(1/431،فاروقیہ)
وکذافی الخانیةعلی ہامش الہندیة:(1/19،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(1/398،رشیدیہ)
وکذافی النہرالفائق:(1/147،المنار)
وکذافی البدائع:(1/196،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15/8/1443/2022/3/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:19

کیاآنکھ سے پانی بہنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

آنکھ سے بغیر کسی وجہ سے پانی بہنے سے وضو نہیں ٹوٹےگا،لیکن اگرزخم کی وجہ سے لیس دار پانی یا پیپ بہےتو وضو ٹوٹ جائے گا۔

لمافی المحیط البرھانی:(1/196،ادارةالقراٰن)
عن محمد رحمہ اللّٰہ:الشیخ اذا کان فی عینیہ رمد ویسیل الدموع منھا،آمرہ بالوضوء لوقت کل صلاۃ،لانی اخاف ان مایسیل قیح او صدید،فانہ قدیکون فی الجفون جرح
وکذافی الدر المختار:(1/306،رشیدیہ)
“فدمع من بعینہ رمد او عمش ناقض،فان استمر صار ذاعذروالناس عنہ غافلون․”
وکذافی التبیین :(1/8،امدادیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/53،قدیمی )
وکذافی البحرالرائق:(1/64،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(1/244،فاروقیہ)
وکذافی الھندیة:(1/11،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/87،الطارق)
وکذافی الخانیةعلی ہامش الہندیة:(1/37،رشیدیہ)
وکذافی رد المحتار:(1/306،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
2/5/1443/2021/12/7
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:182

دوسےزائدرکعت والی نوافل اورسنن مؤ کدہ وغیرمؤ کدہ کےقعدہ اولیٰ میں تشھدکےبعددرود شریف پڑھنےکاکیاحکم ہے؟اورکن نمازوں کےقعدہ اولیٰ میں تشھدکےبعددرودشریف پڑھنےسےسجدۂ سہوواجب ہوگااورکن میں نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

دورکعت سےزائدنوافل اورسنن غیرمؤکدہ کےقعدہ اولیٰ میں تشھّدکےبعددرودشریف پڑھناچاہیے،سنن مؤکدہ میں نہیں۔ اوردورکعت سےزائدوالی فرض،واجب اورسنت مؤ کدہ نمازکےقعدہ اولیٰ میں تشھّدکےبعدبھول کردرودشریف پڑھنے سےسجدۂ سہوواجب ہوگا،سنن غیرمؤ کدہ اورنوفل میں نہیں۔

لمافی البحرالرائق:(2/86،رشیدیہ)
وفی الاربع قبل الظہروالجمعۃو بعدھالایصلی علی النبیﷺفی القعدۃالاولیٰ،ولایستفتح اذاقام الی الثالثۃ،بخلاف سائرذوات الاربع من النوافل }وفی صفحۃ172}ومنھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولتأخیرالقیام وکذالوصلی علی النبیﷺفیھالتأخیرہ
وفی الہندیة:(1/113،رشیدیہ)
وفی الاربع قبل الظہروالجمعۃوبعدھالایصلی علی النبیﷺفی القعدۃالاولیٰولایستفتح اذاقام الی الثالثۃ،بخلاف سائرذوات الار بع من النوافل،}وفی صفحۃ127{وکذااذازادعلی التشھدالصلاۃ علی النبیﷺ
وکذافی المجمع الانہر:(1/197،المنار)
وکذافی التاتارخانیة:(2/132،فاروقیہ)
وکذافی التنویروالدر:(2/270،رشیدیہ)
وکذافیہ ایضاً:(2/552،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرہانی:(2/314،ادارةالقرآن)
وکذافی البدائع:(1/402،رشیدیہ)
وکذافی التبیین:(1/193،رشیدیہ)
وکذافی الخانیةعلی ہامش الہندیة:(1/121،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
22/4/1443/2021/11/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:139

کتنی عمرکابچہ اذان دےسکتاہے؟(2)اگراذان میں غلطی ہوجائےمثلاًکلمات آگےپیچھےہوجائیں توکیااذان ہوجائےگی؟

الجواب حامداومصلیا

سمجھ داربچہ جس کواذان صحیح یاد ہودےسکتاہے،مگربہتریہ ہےکہ بالغ آدمی اذان دے۔(2)اگراذان کےاندریادآجائےتوان کلمات کواپنی جگہ پرکہہ لے،لیکن اگراس طرح نہ کیااوراذان مکمل کرلی تودوبارہ اذان دیناافضل ہے۔

لمافی الہندیة:(1/54،رشیدیہ)
“اذان الصبی العاقل صحیحح من غیرکراہۃفی ظاہرالروایۃ،ولٰکن اذان البالغ افضل،واذان الصبی الذی لایعقل لایجوز ویعاد ۔”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/699،رشیدیة)
“یسن ترتیب الکلمات الاذان والاقامۃ،والموالاۃبینھا،یصح بغیرالترتیب والموالاۃمع الکراہۃ،والافضل ان یعید الا ذان والاقامۃ ۔”
وفی البحرالرائق:(1/460،رشیدیة)
“اماالصبی الذی یعقل فاذانہ صحیح من غیرکراہۃفی ظاہرالروایۃ،الاان اذان البالغ افضل۔”
وکذافی التاتارخانیة:(2/136،فاروقیة)
وکذافی الدروالرد:(2/73،رشیدیة)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/49،رشیدیة)
وکذافی التاتارخانیة:(2/149،فاروقیة)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/270،حقانیة)
وکذافی البدائع:(1/369،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
18/9/1443/2022/4/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:167

ایک شخص نےقعدہ اخیرہ میں تشھدکی مقداربیٹھنےکےبعدکسی سےبات کرلی یاہنس پڑا،کیانمازہوگئی؟نمازکاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

یہ نمازواجب الاعادہ ہوگی۔

لمافی البحرالرائق:(1/653،رشیدیہ)
وان تعمدہ اوتکلم تمت صلاتہ)ای :تعمدالحدث۔۔۔۔۔۔۔۔ومعنی قولہ:”تمت صلاتہ”تمت فرائضھا،ولھذالم تفسدبفعل المنافی،والافمعلوم انھالم تتم بسائرماینسب الیھامن الواجبات لعدم خروجہ بلفظ السلام وھوواجب،بالاتفاق حتی ان ھذہ الصلاۃتکون مؤداۃ علی وجہ مکروہ فتعادعلی وجہ غیرمکروہ۔
وفی درالمختار:(2/327،رشیدیہ)
ان تعمدعملاینافیہابعدجلوسہ قدرالتشھد )۔۔۔۔۔۔(تمت)لتمام فرائضھا،نعم!تعادلترک واجب السلام،}وفی الرد{ قولہ:(تمت) ای:صحت،اذلاشک انھاناقصۃ لترک الواجب،قولہ:(نعم تعاد)ای:وجوبا۔”
وکذافی النہرالفائق:(1/260،قدیمی)
وکذافی الدرالمختار:(2/181،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/209،الطارق)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/206،حقانیہ)
وکذافی فتح القدیر:(1/327،رشیدیہ)
وکذافی اعلاء السنن:(2/20،ادارةالقرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
1/5/1443/2021/12/7
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:181

ایک شخص دوسرےسےکچھ رقم قرض لیتاہےاورادائیگی کےوقت رقم میں اضافہ کرکےدیتاہےقرض دینےوالااضافی رقم لینےسےانکارکرتا،لیکن وہ قبول کرنےپراصرارکرتاہےپھرقرض دینےالالےلیتاہے،تواس طرح اضافہ کر کے دینااورقبول کرناکیساہے؟

الجواب حامداومصلیا

اگریہ زیادتی قرض میں مشروط نہ ہوبلکہ مقروض اپنی مکمل خوش دلی سے دیتاہےتوجائزہے۔

لمافی البدائع:(6 /518، رشیدیہ)
اذااقرضہ دراہم غلۃ علی ان یردعلیہ صحاحا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لان الزیادۃالمشروطۃتشبہ الربالانھافضل لایقابلہ عوض ، والحرز عن حقیقۃ الرباوعن شبہۃ الرباواجب،ھذااذاکانت الزیادۃمشروطۃ فی القرض،فامااذاکانت غیرمشروطۃ فیہ ،لکن المستقرض اعطاہ اجودھمافلابأس بذالک،لان الربااسم لزیادۃ مشروطۃ فی العقد،ولم توجد،بل ھذامن باب حسن القضاءوامرمندوب الیہ
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:( 5/3793،رشیدیہ)
قال الحنفیۃ فی الراجح عندہم:کل قرض جرنفعافھوحرام اذاکان مشروطا،فان لم یکن النفع مشروطااومتعارفاعلیہ فی القرض ،فلابأس بہ ۔۔۔۔۔۔۔۔وکذالک حکم الھدیۃ للمقرض ان کان بشرط کرہ ای:تحریما۔والافلا
وکذافی ردالمحتار:(7 /413،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(4 /222،الطارق)
وکذافی الصحیح للبخاری:(1 /420،رحمانیہ)
وکذافی النتف فی الفتاوی:( 299،ایچ ،ایم)
وکذافی السنن ابی داوٗد:(2/120،رحمانیہ)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(33/125،علوم اسلامیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(9/391،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
14/5/1443/2021/12/19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:57

گزارش ہےکہ میری شادی ہمراہ محمداخترمورخہ2009-11-7کوسرانجام پائی تھی،تقریباًگیارہ سال بعدمحمداخترنےمجھےنوٹس طلاق اول مورخہ2020-1-13،نوٹس طلاق دوم مورخہ2020-2-20اورنوٹس طلاق سوم بھی دےدیا جوکہ مجھے،اپریل2021،کوموصول ہواجس کااندراج مصالحتی عدالت /ثالثی کونسل یونین کونسل نمبر8غلہ منڈی ساہیوال میں مورخہ 2021-5-28کوکروادیاگیا،مورخہ 2021-6-12کومیں نےاپنابیان روبروانچارج مصالحتی کونسل کو قلمبند کروادیا، لیکن محمداختر(فریق اول)کونسل مذکورہ کی جانب سےنوٹسزمورخہ 2021-6-12،2021-7-29،اور2021-8-26جاری ہونے کےباوجود دانستہ طورپرحاضرنہ آیا،لہذاانچارج مصالحتی کونسل نےیہ قرار دےدیاکہ عرصہ عدت پوراہوچکاہےاوربوجہ عدم پیروی فریق اول، مثل مورخہ 2021-8-28،کوداخل دفترکردی،جبکہ طلاق کےمؤثرہونےکاسرٹیفکیٹ جاری نہ کیا،جوکہ محض دفتری مجبوری کی وجہ سےشایدایساکیاگیاہے۔جس کی وجہ سےاب جناب والاسےگزارش ہےکہ اسلامی شریعت کی روسےاس بابت فتویٰ جاری فرمایاجائے،عین نوازش ہوگی۔

الجواب حامداًومصلیاً

سوال کےساتھ جونوٹس لگائےگئےہیں ان میں مذکورہےکہ شوہرنےمورخہ2014-3-19کوطلاق دےکررجوع کرلیا تھا، لہذاشوہرکودوطلاق کااختیارباقی رہ گیاتھا،جب اس نےنوٹس بھیج کرمزیددوطلاق دےدیں توتین طلاق واقع ہوگئیں اورحرمت غلیظہ ثابت ہوگئی،اب حلالہ شرعیہ کے بغیر رجوع کی کوئی صورت نہیں ہے۔

(1)

لمافی القرآن الکریم
الطلاق مرّتان فامساک بمعروف اوتسریح باحسان۔۔۔۔۔۔۔فإن طلّقھافلاتحلّ لہ من بعد حتّٰی تنکح زوجاغیرہ فإن طلّقھا فلاجناح علیھماأن یتراجعا،الآیۃ

ترجمہ:”طلاق (زیادہ سےزیادہ )دوبارہونی چاہیےاس کےبعد(شوہرکےلیےدوہی راستےہیں)یاتوقاعدہ کےمطابق (بیوی) کو روکے رکھے(یعنی طلاق سےرجوع کرلے)یاخوش اسلوبی سےچھوڑدے…..پھراگرشوہر(تیسری)طلاق دیدےتووہ(مطلقہ عورت)اس کے لیےاس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک وہ کسی اورشوہرسےنکاح نہ کرےہاں! اگروہ (دوسراشوہ بھی)طلاق دےدےتوان دونوں پرکوئی گناہ نہیں کہ وہ ایک دوسرےکےپاس (نیانکاح کرکے)دوبارہ واپس آجائیں۔
البقرۃ):229،230،آسان ترجمہ:ص113)

(2)

وفی الصحیح للبخاری:(2/300،رحمانیہ)
عائشۃرضی اللہ عنھا،أن رجلاً طلق امرأتہ ثلاثافتزوجت فطلق ،فسئل النبیﷺ اتحل للاول قال لا حتیٰ تذوق عسیلتھا کماذاق الاول

“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہےکہ ایک صاحب نےاپنی بیوی کوتین طلاقیں دے دی تھیں، ان کی بیوی نےدوسری شادی کرلی پھردوسرے شوہرنےبھی (ہمبستری سےپہلے)انہیں طلاق دےدی تورسول اللہﷺ سےپوچھاگیا،کہ پہلاشوہرانکےلیےحلال ہے(کہ اس سےدوسری شادی کرلے)آنحضورﷺنےفرمایا:نہیں! یہاں تک کہ وہ(دوسرا شوہر)اس کےشہدکامزہ چکھے جیساکہ پہلےنےمزہ چکھاہے”۔

(3)

وفی سنن ابی داؤد:( 2/140،دار الکتب)
عن سہل بن سعدرضی اللہ عنہ، فی ہذا الخبر، قال: فطلقہا ثلاث تطلیقات عند رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، فأنفذہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم

ترجمہ:حضرت سہل بن سعدرضی اللہ عنہ سے اس خبر(حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کے واقعہ لعان) کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت عویمر نےحضورﷺ کے سامنےتین طلاقیں دیں تو حضورﷺ نے ان کونافذکردیا۔

(4)

“سنن دارقطنی ” میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو فرمادیا تھا “اذھبی فانت طالق ثلاثا” (جا تجھےتین طلاق ) عدت گزارنے کے بعدآپ نے اپنی مطلقہ کو کچھ ہدیہ وغیرہ بھیجا تو اس خاتون نے کہا”متاع قلیل من حبیب مفارق”(آپ سے جدائی کے بدلے میں یہ بہت تھوڑا ہے)اور وہ چیز قبول کرنے سے انکار کردیا۔جب یہ بات حضرت حسن رضی اللہ عنہ کومعلوم ہوئی تو آپ رونے لگے اور فرمایا

لولا أنی سمعت جدی أو حدثنی أبی أنہ سمع جدی یقول: أیما رجل طلق امرأتہ ثلاثا مبہمۃأو ثلاثا عند الاقراء لم تحل لہ حتى تنكح زوجا غیرہ لراجعتھا
(سنن الدار قطنی: 4/20، دارالکتب)

ترجمہ: اگر میں نے اپنے نا نا (حضورﷺ)سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ”جس شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دے دی ہوں یا تین طہروں میں تین طلاقیں دے دی ہوں تو وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے” تو میں اس سے رجوع کر لیتا ۔

(5)

وفی سنن دار قطنی
أن حفص بن المغیرۃ طلق امرأتہ فاطمۃ بنت قیس على عہد رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم ثلاث تطلیقات فی كلمۃ واحدۃ ۔” فأبانہا منہ النبی صلى اللہ علیہ وسلم
(سنن الدارقطنی: 4/10، دار الکتب)

ترجمہ: حضرت حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نےحضورﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو ایک کلمہ سے تین طلاقیں دیں تو آپﷺ نے ان کی بیوی کو ان سے جدا کر دیا۔

(6)

بیہقی”اور “مصنف ابن ابی شیبہ”میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ موجود ہے

جاء رجل إلى علی رضی اللہ عنہ فقال: إنی طلقت امرأتی ألفا قال: بانت منك بثلاث، واقسم سائرہابین نسائك
(السنن الکبری للبیہقی: 7/548، دار الکتب، ومصنف ابن ابی شیبہ: 4/63، دار الکتب)

ترجمہ:ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کےپاس آکرکہنےلگا میں نےاپنی بیوی کوہزارطلاقیں دی ہیں۔آپ نےفرمایا تین طلاق سےتیری بیوی تجھ پرحرام ہو گئی اور باقی طلاقیں عورتوں میں تقسیم کر دے۔

(8)

وفی الشامیة:(4/442،رشیدیہ)
وان کانت مرسومۃ یقع الطلاق نویٰ اولم ینو،ثم المرسومۃلا تخلوأماان ارسل الطلاق بأن کتب:امابعدفأنت طالق، فکما کتب ھذایقع الطلاق تلزمھاالعدۃ من وقت الکتابۃ،وان علق طلاقھابمجیئ الکتاب بان کتب:اذجاءک کتابی فانت طالق فجاءھا الکتاب فقرأتہ اولم تقرأیقع الطلاق
(9)
وفی الفقہ الاسلامی :9ـ/6902،رشیدیہ)
کتابہ مرسومۃ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کأن یکتب الرجل الی زوجتہ قائلا الی زوجتی فلانۃ،امابعد فانت طالق ،وحکمھاحکم الصریح اذاکان اللفظ صریحا،فیقع الطلاق ولومن غیرنیۃ۔”
(10)
وفیہ ایضاً:(9/6903،رشیدیہ)
ویلزم الطلاق بمجردارسالہ مع رسول ولولم یصل،فمتی قال للرسول:اخبرہابأنی طلقتھا،لزمہ الطلاق
(11)
(وفی البدائع:3/295،رشیدیہ)
اماالطلقات الثلاث،فحکمھا الاصلی ھوزوال الملک وزوال حل المحلیۃایضاًحتیٰ لایجوز نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر
(12)
وفی المبسوط:(6/8،دارالمعرفت)
“ولاتحل لہ المرأۃ بعدماوقع علیہا ثلاث تطلیقات حتیٰ تنکح زوجاًغیرہ۔”

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1443/2021/12/16
جلد نمبر :25 فتوی نمبر:166

ایک شخص نےپڑوسی کواطلاع کیےبغیرایک سال پہلےدس لاکھ روپےمیں مکان فروخت کیا،اب ایک سال بعدپڑوسی کوعلم ہوااوروہ شفعہ کرتاہے،جبکہ اس مکان کی قیمت پچیس لاکھ روپےہے،توکیاشفیع موجودہ قیمت یعنی پچیس لاکھ کے ساتھ یاایک سال قبل والی قیمت یعنی دس لاکھ روپے میں خریدےگا؟

الجواب حامداومصلیا

شفیع اس قیمت پرلےگاجوخریدارنےایک سال پہلےدی تھی یعنی دس لاکھ روپے،نہ کہ موجودہ قیمت پر۔ اگرخریدارنےاس مکان میں کوئی اضافی چیزلگائی ہوتواس کی قیمت لےسکتاہے۔

لمافی شرح المجلة:(1/811،العربیة)
“فالقیمۃ المعتبرۃ فی البدل ھی القیمۃ وقت الشراءولاتعتبر قیمتہ وقت الأخذبالشفعۃ ۔”
وفی الفقہ الاسلامی:(6 /4906،رشیدیہ)
اتفق الفقہاءعلی ان الشفیع یأخذالمبیع بالثمن،اوالعوض الذی ملک بہ اوبمثل الثمن الذی تملک بہ المشتری ۔۔۔۔۔۔۔۔ لأن الشرع اثبت للشفیع ولایۃ التملک علی المشتری بمثل مایملک بہ قدراًوجنساً
وکذافیہ ایضاً:(6/4886،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(6/231،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(4/131،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(4/101 ،المنار)
وکذافی الہندیة:(1/160،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(3/226،الطارق)
وکذافی التاتارخانیة:(17/62،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
16/5/1443/2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:67

ایک آدمی نےنمازشروع کی،ثناءپڑھنےکےبعدسورۃفاتحہ بھول گیااوراگلی سورۃ شروع کردی،اب رکوع سےپہلےاس کویادآگیاکہ سورۃفاتحہ نہیں پڑھی،اب اس نمازی کوکیاکرناچاہیے،سورۃفاتحہ پڑھےیانہ پڑھے؟دوبارہ سورۃملائےیانہ ملائے؟

الجواب حامداومصلیا

یہ شخص فاتحہ پڑھےپھرسورۃپڑھےاوراس پرسجدہ سہوبھی لازم ہوگا۔

لمافی البحرالرائق:(1/516، رشیدیہ)
وجوب تقدیم الفاتحۃعلی السورۃ،لثبوت المواظبۃمنہﷺکذالک،حتیٰ قالوا:لوقرأحرفامن السورۃقبل الفاتحۃ ساھیا ثم تذکریقرأالفاتحۃثم السورۃ،ویلزمہ سجودالسہو
وفی الدروالرد:( 2/187،رشیدیہ)
وتقدیم الفاتحۃعلی)کل(السورۃ)قولہ:(علی کل السورۃ )حتیٰ قالوا:لوقرأحرفامن السورۃساہیاثم تذکریقرأالفاتحۃ ثم السورۃ،ویلزمہ سجودالسہو
وکذافی النہرالفائق:(1/197،قدیمی)
وکذافی الدرالمختار:(2/311،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/209،حقانیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح:(255،قدیمی)
وکذافی التاتارخانیة:(2/69،فاروقیہ)
وفیہ ایضاً:(2/77)
وکذافی المحیط البرہانی:(2/55،ادارةالقرآن)
وکذافی الہندیة:(1/71،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
13/5/1443/2021/12/18
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:33