ایک شخص سگریٹ کا عادی ہے اور وہ اعتکاف میں بیٹھ گیا ،سگریٹ کے بغیر اس کا گزارہ نہیں ہوتا،تو وہ روزہ افطار کرنے کے بعد حدود مسجد میں یا مسجد سے باہر اس کے لئے سگریٹ پینے کی گنجائش ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حدود مسجد میں سگریٹ پینے کی گنجائش نہیں ہے البتہ قضائے حاجت کے لئے آتے جاتے ہوئے مسجدسے باہر جلدی جلدی سگریٹ پی سکتا ہے ،مگرپھرمسواک وغیرہ سے اچھی طرح منہ صاف کرلے ۔

لما فی الصحیح المسلم:(1/152،رحمانیہ)
عن جابر بن عبداللہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال من أکل ھذہ البقلۃ الثوم وقال مرّۃ من اکل البصل والثوم والکراث فلا یقربن مسجدنا فان الملائکۃ تتاذی مما یتاذی منہ بنو آدم
وفی الفتاوی العالمکیریہ:(1/212،رشیدیہ)
فلایخرج المعتکف من معتکفہ لیلا ولانھارا الا بعذروإن خرج من غیرعذرساعۃ فسدإعتکافہ فی قول ابی حنیفۃ …ومن الأعذار الخروج للغائط ،والبول وأداء الجمعۃ
وفی المحیط البرھانی:(3/379،داراحیاءتراث)
ولا یخرج المعتکف من معتکفہ لیلا ولانھارا إلا بعذر ووإن خرج من غیر عذر ساعۃ فسد اعتکافہ فی قول ابی حنیفۃ …ومن الاعذار الخروج للغائط أ والبول ،أولأداء الجمعۃ
وکذافی صحیح البخاری:(2/332،رحمانیہ)
وکذافی جامع الترمذی:(2/444،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابن ماجہ:(241،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی سنن الکبریٰ للبیھقی:(3/107،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/282،رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار:(3/500،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1776،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/5/1443/2021/12/20
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:52

اگرکوئی شخص اپنی بیوی سےحق مہرمعاف کرالے اور بیوی اپنی خوشی سے معاف کردے،اب اگر بعد میں بیوی حق مہر کا مطالبہ کرے تو کیا حق مہر ادا کرنا ضروری ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نہیں۔

لما فی شرح معانی الاثار :(2/223،رحمانیہ)
ولکنھا امراۃ وھبت لزوجھا او زوج وھب لامراتہ فھما فی ذلک کذی الرحم المحرم ولیس لواحد منھما ان یرجع فیما وھب لصاحبہ
وفی البحر الرائق:(4/500،رشیدیہ)
” لو نکح ثم وھب لا یرجع لان المعتبر حالۃ الھبۃ . “
وکذافی صحیح البخاری:(1/454،رحمانیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(395،البشریٰ)
وکذافی مجمع الانھر:(3/502،المنار)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/396،الطارق)
وکذافی الدر المختار:(8/596،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعة(2/217،الحقانیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار:(3/405،رشیدیہ)
وکذافی الفتاویٰ العالمکیریہ:(4/385،رشیدیہ)
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(14/448،فاروقیہ)
وکذافی البحرالرائق:(3/279،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1443/2022/3/21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:78

مستحق زکوٰۃ بہو کو زکوٰۃ دینا اور یہ نیت کرنا کہ ہمارے بیٹے تک بھی پہنچ جائے گی تو وہ بھی اس سے نفع حاصل کرلے گا،توکیا اس صورت میں زکوٰۃ ادا ہوجائیگی؟اور اس طرح زکوٰۃ ادا کرنا درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بہو اگر واقعی حاجت مند ہے اور اس کی حاجت براری کے لئے اگر یہ زکوٰۃ اس کو دی جائے تو یقینا زکوۃ اد ہوجائے گی لیکن اگر بہو کے حیلے سے زکوٰۃ کو بیٹے تک پہنچانا مقصود ہو تو واضح رہے یہ سخت گناہ ہوگا۔

لما فی الفتاوی التاتار خانیہ:(4/198،فاروقیہ)
” قال اللہ تعالیٰ (انما الصدقات للفقراء والمسٰکین)فالایۃ جامعۃ محل الصدقات من جملۃ ذلک الفقرء والمساکین. “
وفی ردالمحتار:(3/344،رشیدیہ)
” ویجوز دفعھا الزوجۃ ابیہ و ابنہ وزوج ابنتہ. “
وکذافی الفتاوی التاتار خانیہ:(3/211،فاروقیہ)
” ویجوز ان یعطی امرۃ ابیہ وابنہ وزوج ابنتہ. “
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1970،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/425،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/5/1443/2021/12/21
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:56

مسجد کے محراب میں جانے سے اعتکاف ٹوٹے گا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر محراب مسجد کی زمین مین ہو (جیسا کہ اکثر علاقوں میں ہوتا ہے)تومحراب میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا اور اگر محراب مسجد کی زمین میں نہ ہو(جیسا کہ بعض علاقوں میں ہوتا ہے کہ گلی کی زمین میں محراب بنایا جاتا ہے)تو محراب میں جانے سے اعتکاف ٹوٹ جائیگا۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/212،رشیدیہ)
” فلا یخرج المعتکف من معتکفہ لیلا ولا نھارا الا بعذر وان خرج من غیر عذر ساعۃ فسد اعتکافہ فی قول ابی حنیفۃ . “
وفی الفتاوی السراجیہ:(172،زمزم)
” لا یخرج المعتکف الا لبول اؤغائط…فان خرج بغیر عذر من اکل اؤشرب اؤ عیادۃ فسد اعتکافہ. “
وکذافی المحیط البرھانی:(3/379،داراحیاء تراث)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(3/444،فاروقیہ)
وکذافی رد المحتار علی الدر المختار:(3/500،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاویٰ(1/267،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/378،المنار)
وکذافی کتاب المبسوط للسرخسی:(3/117،دارالمعرفة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1443/2022/3/20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:41

وضو کا جو پانی استعمال ہوگیا ہے،اس سے استنجاء ہوجائے گا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ہوجائے گا۔

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(79،البشریٰ)
 ویکرہ أن یشرب ماءًمستعملا أویطبخ بہ شیاءً وتجوز ازالۃ النجاسۃ بہ
وفی البحر الرائق:(1/174،رشیدیہ)
 عن ابی حنیفۃ أن الماء المستعمل طاھرغیرطھور لأن إزالۃالنجاسةالحقیقۃ تجوز بالمائعات عند ابی حنیفۃ
وفی ھامش الھدایة:(1/80،البشریٰ)
الماء المستعمل لا یطھر الاحداث)خص الاحداث بالذکر،لأنہ یطھر الأنجاس اذھو مائع مزیل کالخل
وکذافی الفتاوی التتارخانیہ:(1/342،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/276،داراحیاءتراث)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/274،رشیدیہ)
وکذافی العنایہ علی الھامش فتح القدیر:(1/909،رشیدیہ)
وکذافی البنایہ فی شرح الھدایة:(1/344،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/5/1443/2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:59

میں ایک سنار ہوں،ہماری دکان پرسونے چاندی کے جو زیورات برائے فروخت ہوتے ہیں،ان میں تھوڑا بہت کھوٹ ضرورہوتا ہے۔کھوٹ کی شرح بتائے بغیر ان کو بیچنا جائز ہےیا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر کھوٹ عرف اور رواج کے مطابق ہو اور خریدار کو اس کا علم بھی ہو تو اس کی شرح بتائے بغیر بیچنا جائز ہےاور اگر خریدار کو کھوٹ کا علم نہیں یا عرف ورواج سے زیادہ ہو تو بتانا ضروری ہے ،ورنہ یہ دھوکہ ہوگا جو شرعانہایت قبیح عمل ہے۔

لما فی سنن ابی داؤد: ( 2/124،رحمانیہ)
“ون ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن بیع الغرر . “
وفی الفقہ الاسلام وادلتہ:(5/3307،رشیدیہ)
ان الغبن الفاحش فی الدنیا ممنوع باجماع الشرائع اذھو من باب الخدع المحرم شرعا فی کل ملۃ،لکن الیسر منہ الذی لایمکن احتراز عنہ لاحد امر جائز،اذلو حکمنا بردہ ما نفذ بیع ابدا
وکذافی الموسوعة الفقھیہ:( 31/221،علوم اسلامیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(8/304،فاروقیہ)
وکذافی حاشیہ ابن عابدین:(7/197،دارالمعرفة)
وکذا فی العالمکیریہ :(3/74،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی :(10/91،داراحیاتراث)
وکذا فی درالاحکام شرح المجلہ :(1/364،العربیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: :(4/41،الطارق)
وکذا فی :مجمع الضمانات :(399،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احقرمحمدعبداللہ غفرلہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/4/1443/2021/11/21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:130

ایک کمپنی جو مون ٹوور اینڈ ٹریولز کے نام سے ہے،کمنپی اپنے انویسٹر کو 8 پرسینٹ سے 13 پرسینٹ تک پرافٹ مہیا کرتی ہے ۔(سائل سے تنقیح کرانے کے بعد معلوم ہواکہ کمپنی انویسٹر کو جو پرافٹ دیتی ہے،یہ انویسٹر کے سرمایہ کے اعتبار سے ہوتا ہے)۔ سائل کا سوال یہ ہے کہ یہ پرافٹ شرعا جائز ہے یا نہیں ؟ نیز یہ بھی بتا دیں کہ نقصان کی صورت میں اگر کمپنی پھر بھی انویسٹر کو 8 پرسینٹ دے رہی ہے تو یہ شرعا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کمپنی کا یہ طے کرنا کہ وہ انویسٹر کو اس کی انویسٹمنٹ کا 8 پرسینٹ سے 13 پرسینٹ تک نفع دے گی مثلا ایک لاکھ پر۔/ 8000 سے۔/ 13000 روپے تک نفع دے گی یہ صورت جائزنہیں بلکہ کمپنی کا کل حقیقی نفع کا فیصدی حصہ متعین کرنا ضروری ہے ،مثلا کل نفع کا 8 پرسینٹ یا کم و بیش۔
نیز اگرکمپنی کی شرائط میں طے ہے کہ نقصان کی صورت میں بھی کمپنی اپنے انویسٹر کو 8 پرسینٹ دے گی تو یہ بھی جائز نہیں ہے ۔اگر کمپنی معاہدے میں خود نقصان برداشت کرنے کی شرط نہیں لگاتی بلکہ بغیر کسی شرط کے خود نقصان برداشت کرتی ہے تو یہ کمپنی کا احسان ہے اور کاروبار کے اصولوں کے بھی خلاف نہیں،اس لئے یہ جائز ہوگا۔

لما فی بدائع الصنائع للکاسانی:(5/77،رشیدیہ)
ان یکون الربح جزءاً شائعا فی الجملۃ لا معینا فان عینا عشرۃ أومائۃ أو نحو ذلک کانت الشرکۃ الفاسدۃ لأن العقد یقتضی تححقق الشرکۃ فی الربح والتعین یقطع الشرکۃ لجواز أن لا یحصل من الربح الا القدر المعین لأحدھما فلا یتحقق الشرکۃ فی الربح
وفی الفتاوی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(3/161،رشیدیہ)
ومنھا إذا شرط علی المضارب لأحدھما من الربح ما یقطع الشرکۃ نحو أن یجعل لہ دراھم مسماۃ مائۃ أو قل أو أکثر فسدت المضاربۃ
وکذافی رد المحتار:(8/501،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(4/287،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(2/544،المنار)
وکذافی المحیط البرھانی:(18/126،داراحیاء تراث)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(346،البشریٰ)
وکذافی شرح المجلہ:(4/260،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر علی ھامش ملتقی الابحر:(2/544،المنار)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(2/352،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/5/1443/2021/12/19
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:169

کام کاج کی چھٹی کرنی چاہیئے یا نہیں؟ اسلام میں اس کی کیا حیثیت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جمعہ کی پہلی اذان کے بعد کام کاج کی چھٹی کرنا واجب ہے۔اس کے علاوہ اوقات میں انسان کو اپنی حاجات ، ضروریات اور طبیعت کے موافق چھٹی کرنا جائز ہے۔

لما فی القرآن الکریم والفرقان الحمید:(الجمعة:9)
یا ایھاالذین آمنو اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعو االی ذکر اللہ وذرو االبیع
وفی الصحیح المسلم:(1/339،رحمانیہ)
ان عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وابا ھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدثاہ انھما سمعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول علی اعواد منبر ہ لینتھین اقوام عن ودعھم الجمعات او لیختمن اللہ علی قلوبھم ثم لیکونن من الغافلین
وکذافی الفتح الباری شرح صحیح البخاری:(1/214،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/435،داراحیاء تراث)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1279،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/317،الطارق)
وکذافی رد المحتار:(3/5،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(1/149،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/8/1443/2022/3/16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:39

ایک صاحب نصاب شخص کی قربانی کاجانور قربانی کے وقت سے پہلے بھاگ جائے یا گم ہوجائے یا کسی آفت کی وجہ سے ہلاک ہوجائے توکیا اس پر دوسرے جانور کی قربانی واجب ہوگی؟اور اگر پہلا جانور مل جائے تو کیا دونوں کی قربانی واجب ہوگی یا ایک کی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!اس پر دوسرے جانور کی قربانی ہوگی اور اگر پہلے والا مل جائے تو ان میں سے ایک کی قربانی کرے گا۔

لما فی التاتار خانیہ:(17/458،فاروقیہ)
واذا مات المشتراۃ للتضحیۃعلی الموسر مکانھا اخریٰ،ولا شیئ علی الفقیر ولو ضلت او سرقت فاشتری اخری ثم ظھرت الاولیٰ فی ایام النحر علی الموسر ذبح احدھما
وفی کتاب البسوط:(12/16،دارالمعرفة )
“قالوالموسر اذاضلت اضحیۃ فاشتریٰ اخریٰ ثم وجد الاولیٰ فلہ ان یضحیٰ بایھماء . “
وکذافی المحیط البرھانی:(7/459،داراحیاء تراث)
وکذافی البحرالرائق:(8/320،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(5/294،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(384،زمزم)
وکذافی الفقہ الحنفی:(414،البشریٰ)
وکذافی خلاصة الفتاویٰ:(4/318،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(4/173،المنار)
وکذافی الفتاویٰ قاضیخان علی الھامش الھندیة:(3/347،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی النوازل:(336،الحقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1443/2022/1/31
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:136

قربانی کے ایام کون کون سے ؟کیا شریعت نے قربانی کے ایام کی کوئی خاص مدت متعین فرمائی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قربانی کے تین دن ہیں۔دس،گیارہ اور بارہ ذی الحجہ کےغروب شمس تک کا وقت متعین ہے۔

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(413،البشریٰ)
وقت الاضحیۃ من طلوع الفجر لیوم النحر وھو یوم العاشر من ذی الحجۃ الی غروب الشمس من الیوم الثانی لذی الحجۃ، والافضل ان یضحی یوم النحر ثم الیوم الحادی عشرثم الثانی عشر
وفی الحیط البرھانی:(8/461،داراحیاءتراث)
وقت الاضحیۃ ثلاثہ ایام:الیوم العاشر،والحادی عشر،والثانی عشر من ذی الحجۃ،فاذا غربت الشمس من الیوم الثانی عشر لا تجوز الاضحیۃ بعد ذلک وافضلھا اولھا
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2714،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(17/416،فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(5/295،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(387،زمزم)
وکذافی الدرالمختار:(9/529،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/198،رشیدیہ)
وکذافی کتاب المبسوط للسرخسی:(12/9،دارالمعرفة)
وکذافی مجمع الانھر:(4/169،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
5/9/1443/2022/4/7
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:111