دو آدمی جماعت کرارہے ہوں اور امام بائیں جانب کھڑا ہونے کی بجائے دائیں جانب کھڑا ہوجائے اور جماعت کرادے تو اس کی نماز کا کیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسا کرنا مکروہ ہے لیکن نماز ہوجائے گی اور سنت چھوڑنے کا گناہ ہوگا۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/273،فاروقیہ)
واذا کان مع الامام رجل أو صبی یعقل الصلاۃ قام عن یمینہ وھو المختار ،وفی الفتاوی العتابیہ:ویکرہ أن یقوم عن یسارہ
وفی الفتاوی العالمکیریہ:(1/88،رشیدیہ)
” ولو وقف علی یسارہ جاز وقد اساء کذا فی محیط السرخسی . “
وکذافی البحر الرائق:(1/616،رشیدیہ)
وکذافی بدائع والصنائع:(1/391،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/1264،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/165،المنار)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب:(91،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(80،الحقانیہ)
وکذافی الجوھرۃ النیرة:(1/71،الحقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1443/2021/12/18
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:28

رمضان شریف میں حائضہ عورت گھر میں کھانا پکا کر کھاسکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ:(1/215،رشیدیہ)
” واجمعوا علی انہ لایجب التشبہ بالصائم علی الحائض. “
وفی الفتاوی الخانیہ علی ھامش الھندییة:(1/218،رشیدیہ)
” واجمعوا علی انہ لایجب التشبہ بالصائم علی الحائض. “
وکذافی العتابیہ علی ھامش فتح القدیر:(2/368،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/263،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(1/504،رشیدیہ)
وکذافی السراجیة:(165،زمزم)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1443/2022/4/4
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:104

اگر جانور ذبح کرتے وقت جانور کی ساری گردن کٹ گئی تو وہ جانور حلال ہوگا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسا کرنا سخت ناپسندیدہ ہے،لیکن گوشت حلال ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2767،رشیدیہ)
اؤقطع کل الرقبۃ(ابانۃ الراس)،کرہ الذ بح عند جمہور الفقہاءغیر الحنابلۃ،لما روی عن ابن عمر انہ نھی عن النخع(بلوغ السکین النخاع)ولان فیہ زیادۃ التعذیب،فان فعل ذلک لم یحرم،لان قطاع النخاع یوجد بعد حصول الذکاۃ
وفی المحیط البرھانی:(8/449،دار احیاء تراث)
” واذا ضربت شاۃ بالسیف،وابان راسھاحلت،وذلک الفعل مکروہ. “
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(17/395،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/311،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة مع الدرایة:(4/437،رحمانیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/189،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی العالکیریہ:(5/287،رشیدیہ)
وکذافی کتاب المبسوط للسرخسی:(12/3،دارالمعرفة)
وکذافی الدر المختار:(9/495،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(380،زمزم)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/8/1443/2022/3/16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:44

ایک آدمی نے غصے کی حالت میں اپنی زوجہ کو پانچ سے چھ دفعہ طلاق،طلاق کہا ہے ۔اس مسئلہ کا شرعی حکم بیان کردیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صؤرت مسؤلہ میں پہلے تین لفظوں(طلاق، طلاق، طلاق) سےاس کی زوجہ کو تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔ یہ عورت اپنے شوہر پر مکمل حرام ہوگئی ہے۔اب جب تک اس طلاق کی عدت مکمل کرکے کسی دوسرے مرد سے نکاح کے بعد دوبارہ طلاق ہو کر عدت مکمل نہ ہوجائے تو اس پہلے شوہر کےلیے حلال نہ ہوگی۔

ایک مجلس میں تین طلاقوں کے بارے میں تفصیل
احادیث صحیحہ کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں۔اس پر متعدد مرفوع احادیث موجود ہیں۔

1

چنانچہ صحاح ستہ میں سے”ابوداؤد شریف”میں حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نےحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین طلاقیں دیں تھیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نافذ فرمادیا تھا۔

”عن سھل بن سعد فی ھذا الخبر قال فطلقھاثلاث تطلیقات عندرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فانفذہ رسول اللہ ”
(سنن ابی داؤد:2/140،بیروت)

ترجمہ:حضرت سھل بن سعد سے اس خبر(حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کے واقعہ لعان)کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تین طلاقیں دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نافذ فرمادیا۔

2

سنن دار قطنی”میں ہے کہ کہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو فرمادیا تھا :اذھبی فانت طالق ثلاثا (جا تجھے تین طلاق)عدت گزرنے کے بعد آپ نے پنی مطلقہ کو کچھ ہدیہ وغیرہ بھیجاتو اس خاتون نے کہا :متاع قلیل من حبیب مفارق(آپ سے جدائی کے بدلے میں یہ بہت تھوڑا ہے)اور وہ چیز قبول کرنے سے انکار کردیا،جب یہ بات حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو آپ رونے لگےاور فرمایا

”لولا انی سمعت جدی او حدثنی ابی انہ سمع جدی یقول:ایما رجل طلق امراتہ ثلاثا مبھمۃ او ثلاثا عند الاقراء لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیر لراجعتھا.”
(سنن دار قطنی4/20،بیروت)

ترجمہ”اگر میں نے اپنےنانا (حضورصلی اللہ علیہ وسلم )سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دے دی ہوں یا تین طہر وں میں تین طلاقیں دی ہوں تو وہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے تو میں رجوع کرلیتا۔

3

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں ایک طلاق دے دی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے رجوع کا حکم دیا۔اس موقع پر حضرت عبداللہ بن عمر رضی ا للہ عنہ نے دریافت کیا

“یارسول اللہ افرایت لو انی طلقھا ثلاثا کان یحل لی ان اراجعھا ؟قال لا کانت تیین منک وتکون معصیۃ.”
(السنن الکبریٰ للبیھقی7/576،بیروت)

ترجمہ:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں تین طلاقیں دیتا تو میرے لیے رجوع حلال ہوتا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہیں۔وہ تجھ سے جدا ہوجاتی اور گناہ بھی ہوتا۔

“ان حفص بن مغیرۃ طلق امراتہ فاطمہ بنت قیس علی عھد رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم ثلاث تطلیقات فی کلمۃ واحدۃ فابانھا منہ النبی”
(سنن الدار قطنی”4/10،بیروت)

ترجمہ:حضرت حفص بن مغیرۃ نے حضور صلی اللہ علیہوسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو ایک کلمہ سے تین طلاقیں دیں توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی کو ان سے جداکردیا۔

4

بیہقی”اور “مصنف ابن ابی شیبۃ”میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ موجود ہے۔

”جاء رجل الی علی فقال طلقت امراتی الفا قال ثلاث تحرمھا علیک واقسم سائرھابین نسائک”
(السنن الکبری للبیھقی:7/548،بیروت/مصنف ابن ابی شیبة:8/63،بیروت)

ترجمہ”ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگاکہ میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دی ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تین طلاق سے تیری بیوی تجھ پر حرام ہوگئی اور باقی طلاقیں تو اپنی دوسری عورتوں پر تقسیم کردے۔

5

ایک مجلس کی تین طلاق کے بارے میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ملاحظہ فرمائیں

”سئل عمران بن حصین عن رجل طلق امراتہ ثلاثا فی مجلس قال اثم بربہ وحرمت علیہ امراتہ.”
(مصنف ابن ابی شیبة/62،بیروت)

6

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا کہ جس نے ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دی فرمایا:اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی۔

آیت “الطلاق مرّتان”سے استدلال اس لیے درست نہیں کہ اس آیت میں بتایا گیا کہ رجوع کا حق دو طلاق تک ہے،تیسری کے بعد رجوع کا کوئی اختیار نہیں اور قرآن کریم میں ایک مجلس یا ایک کلمہ کی کوئی قید وغیرہ بھی نہیں۔لہذا جو آدمی بھی دو سے زیادہ یعنی تین طلاقیں دے،اس آیت کی رو سے اس کے لیے رجوع کا اختیار نہیں جب تک یہ عورت آگے دوسرانکاح نہ کر لےجیسا کہ اگلی آیت میں اس کا ذکر ہے۔

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
”فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ.”
(البقرة:230)

ترجمہ”پھر اگر شوہر (تیسری) طلاق دیدے تو وہ( مطلقہ عورت)اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے۔

حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا۔چنانچہ بخاری شریف میں ہے

“عن عائشۃ ان رجلا طلق امراتہ ثلاثا فتزوجت فطلق فسئل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتحل للاول قال لا حتی یذوق عسیلتھا کما ذاق الاول.”
(صحیح البخاری:2/300،رحمانیہ)

ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تھی پھر اس نے دوسری شادی کرلی پھر دوسرے شوہر نےبھی( ہم بستری سے پہلے )طلاق دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کیا یہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگئی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں یہاں تک کہ شوہر ثانی اس کا شہد چکھے جیسا کہ شوہر اول نے چکھا۔

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24/8/1443/2022/3/28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:79

پرندوں کا کاروبار کرنا حلال ہے؟اور کبوتر پالنا کیسا ہے؟اور گھر میں پرندے رکھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پرندوں کا کاروبار حلال ہےاور کبوتر ودیگر پرندوں کو پالنا اور گھروں میں رکھنا بھی درست ہے،بشرطیکہ خوراک ودانہ کا خیال رکھا جائے۔

لما فی صحیح البخاری:(2/443،رحمانیہ)
عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم احسن الناس خلقا وکان لی اخ یقال لہ ابوعمیر قال احسبہ فطیم وکان اذا جاء قال یا ابا عمیر ما فعل النغیر نغر کان یلعب بہ فربمّا حضر الصلوۃ وھو فی بیتنا فیأمر بالبساط الذی تحتہ فیکنس وینضح ثم یقوم ونقوم خلفہ فیصلی بنا
وفی الفتاوی العالمکیریہ:(3/114،رشیدیہ)
والحمام اذاعلم عددھا ویمکن تسلیمھا جاز بیعھا وامّا اذا کانت فی بروجھا ومخارجھا مسدود فلا اشکال فی جواز بیعھا
کذافی الصحیح المسلم:(2/218،رحمانیہ)
وکذافی جامع الترمذی:(2/462،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابن ماجہ:(399،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابی داؤد:(1/337،رحمانیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(8/337،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/330،داراحیاء تراث)
وکذافی رد المحتار علی الدر المختار:(9/661،دارالمعرفة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/5/1443/2021/12/26
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:94

ایک مسجد میں ایک مؤذن کافی عرصہ سے اذان دے رہا ہے اب وہ بڑھاپے کی وجہ سے کھڑے ہوکر اذان نہیں دے سکتا ےتو کیا اس کو بیٹھ کر اذان دینا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بغیر عذر کے بیٹھ کر اذان دینا مکروہ ہے اور معذور کے لیے گنجائش ہے۔

لما فی المختصر الفقہ الحنفی:(97،البشریٰ)
” ویؤذن قائما فان اذّن قاعدا یکرہ ،وینبغی ان یعاد ،الا اذا اذن المسافر راکبا. “
وفی بدائع الصنائع:(1/374،رشیدیہ)
” ان یؤذّن قائما اذا اذّن للجماعۃ،ویکرہ قاعدا….واما المسافر فلا باس ان یؤذّن راکبا. “
وکذافی ردالمحتار علی الدر المختار:(2/75،دار المعرفة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/709،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/193،الطارق)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(1/54،رشیدیہ)
وکذافی کتاب المبسوط للسرخسی:(1/132،)دار المعرفة
وکذافی الفتاوی الولوالجیہ:(1/71،الحرمین شریفین)

واللہ اعلم بالصواب
احقر محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
1/5/1443 /2021/12/6
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:148

بے وضو آدمی کو اگر قرآن پاک کی کوئی آیت لکھنے کی ضرورت پڑ جائےتو وہ کیا کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قرآن پاک لکھتے ہوئے اس صفحہ پر اگر ہاتھ نہ رکھے تو اس کی گنجائش ہےورنہ نہیں۔

لما فی الحیط البرھانی:(1/402،داراحیاء تراث)
ولا باس لھا بکتابۃ القرآن عند ابی یوسف اذا کانت الصحیفۃ علی الارض،لانھا لاتحمل المصحف،والکتابۃ تقع حرفا حرفاولیس الحرف الواحد بقرآن،وقال محمد احب الی ان لا تکتب،انہ حکم الماس للحروف فھی بکلتیھا قرآن
وفی بدائع الصنائع:(1/149،رشیدیہ)
ولو کانت الصحیفۃ علی الارض فاراد الجنب ان یکتب القرآن علیھا۔روی عن ابی یوسف انہ لا باس،لانہ لیس بحامل للصحیفۃ،والکتابۃ توجد حرفاحرفا،وھذا لیس بقرآن۔وقال محمد احب ان لایکتب لان کتابۃ الحروف تجری مجراۃ القراۃ
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/122،الطارق)
وکذافی الفتاوی العالمکیریہ:(1/39،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/57،الحرین شریفین)
وکذافی کتاب التجنیس والمزید:(1/191،ادارة القرآن)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/480،فاروقیہ)
وکذافی شرح الفتح القدیر:(1/172،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(144،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1443/2022/4/4
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:108

اگر کوئی آدمی پانی میں ڈوب کر مر جائے تو اسے غسل دیا جائیگایا بغیر غسل کے اسے جنازہ پڑھ کر دفن کیا جائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

میت کو پانی سے نکالتےہوئے غسل کی نیت سے اس کو حرکت دےدی جائےتو یہ کافی ہے ،مزید غسل دینے کی ضرورت نہیں، ورنہ مسنون طریقے سے غسل دیا جائے گااور اگر میت کی حالت خراب ہو تو اس پر صرف پانی بہادیں گے۔

لما فی الفتاویٰ العالمکیریہ:(1/158،رشیدیہ)
المیت اذاو جد فی الماء لابد من غسلہ لان الخطاب بالغسل توجہ علی بنی آدم ولم یوجد من بنی آدم الاان یحرکہ فی الماء بنیۃ الغسل عند الاخراج ولو کان المیت متفسخا یعتذر مسحہ کفی صب الماء علیہ
وفی ردالمحتار علی الدر المختار:(3/108،دارالمعرفة)
لووجد المیت فی الماء فلابد من غسلہ ثلاثا)لانا امرنا بالغسل فیحرکہ فی الماء بنیۃ الغسل ثلاثا
وکذا الفتاوی التاتارخانیہ:(1/12،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/49،داراحیاءتراث)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/24،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/304،رشیدیہ)
وکذافی کتاب التجنیس والمزید:(2/241،ادارة القرآن والعلوم)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(569،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24/8/443/2022/3/28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:107

کچھ کاروباری حضرات اعتکاف میں بیٹھ کر اپنا کاروبار وغیرہ جاری رکھتے ہیں،کیا ان کا ایسا کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مسجد میں سامان لائے بغیر ضرورت کے وقت اگرچہ خریدوفروخت کی گنجائش ہے،مگر باقاعدہ کاروبار چلانا نہ صرف یہ کہ روح اعتکاف کے منافی ہےبلکہ شرعابھی درست نہیں۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیہ:(3/464،فاروقیہ)
ولا باس للمعتکف بان یبیع ویشتری فی المسجد،وعن ابی یوسف انہ قال:ھذا اذالم یحضر السلعۃ فی المسجد،فاما اذا احضرھا فھو مکروہ،وقیل:اذا کان یبیع ویشتری للتجارۃ فھومکروہ
وفی الفتاوی العالمکیریہ:(1/213،رشیدیہ)
” ولاباس للمعتکف ان یبیع ویشتری الطعام ومالابد منہ واما اذا اراد ان یتخذ متجرا فیکرہ لہ ذلک ھکذا فی فتاوی قاضیخان . “
وکذافی الفتاوی الخانیہ علی ھامش الھندیة:(1/222،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(173،زمزم)
وکذافی ردالمحتار علی الدر المختار:(3/506،دارالمعرفة)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(270،البشریٰ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدرالمختار:(1/476،رشیدیہ)
وکذافی کتاب المبسوط للسرخسی:(3/122،دارالمعرفة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1774،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/530،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
5/9/1443/2022/4/7
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:105

سنار کی گاہکوں کے پاس رقم یا سوناادھار ہوتا ہے،ان میں سے بعض قرض ملنے کی امید ہوتی ہے اور بعض سے قرض ملنے کی امید نہیں ہوتی اور وصولی میں بسااقات سال سے زیادہ عرصہ بھی لگ جاتا ہے،تو اس صورت میں زکوۃ کس طرح ادا کی جائے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جس قرض کے ملنے کی امید ہے،اس کی زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی،چاہے ابھی دے چاہے ملنے کے بعد اداکرے،جس قرض کے ملنے کی امید نہیں،اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔لیکن اگروصول ہوگیاتو ائندہ اس کی زکوٰۃ دینا ہوگی۔

لما فی السنن الکبریٰ للبیھقی:(4/252،دارالکتب العلمیہ)
” عن ابن عمر قال زکّواما کان فی ایدیکم وماکان من دین فی ثقۃ فھوبمنزلۃ مافی ایدیکم،وماکان من دین ظنون فلازکّوٰۃ فیہ حتی یقبضہ. “
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(3/252،فاروقیہ
روی الحسن عن ابی حنیفۃ انہ سوی بین ماوجب بدلا عما ھومال التجارۃ بینما وجب بدلا عن مال لیس ھو للتجار وقال اذا قبض منھما اربعین درھما یجب علیہ الاداء بقدر ماقبض اما علی قولھا فالدیون کلھا سواء وھی نصاب کلہ تجب فیہ الزکاۃ قبل القبض اذا حال الحول لکن لایجب الاداء قبل القبض،واذا قبض شیئا منہ یجب الاداء بقدر ما قبض قلیلا کان اؤکثیرا
وکذافی الفقیہ المقارنة التجرید:(3/1192،محمودیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/251،داراحیاءتراث)
وکذافی بدائع والصنائع:(2/88،رشیدیہ)
وکذافی الکتاب المصنف لابن ابی شیبہ:(2/389،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/362،رشیدیہ)
وکذافی الھدیة:(1/202،المیزان)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عبداللہ غفرلہ ولوالدیہ کوٹ ادو
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1443/2022/1/30

جلد نمبر:26 فتوی نمبر:134