طلاق کےبعدعدت کاخرچ دیناشوہرکےذمہ لازم ہے یانہیں؟

الجواب حامداومصلیا

عدت کےدوران معتدہ کاخرچ شوہرپرلازم ہے۔لیکن اگرمعتدہ شوہرکےگھرعدت نہ گزارےیاشوہرکی نافرمان ہوتواس کاخرچ شوہرپرلازم نہیں۔

لمافی المبسوط لشمس الدین السرخسی:(5/201،بیروت)
قال )ولکل مطلقة بثلاث اوواحدۃالسکنی والنفقۃ،مادامت فی العدۃاماالمطلقۃ الرجعیۃفلانھافی بیتہ منکوحۃ لہ کما کانت من قبل وانما اشرف النکاح علی الزوال عندانقضاءالعدۃ وذلک غیرمسقط للنفقۃ کما لو آلی منھااوعلق طلاقھابمضی شھرفاماالمبتوتۃ فلھا النفقۃ والسکنی ما دامت فی العدۃ عندنا
وفی المحیط البرھانی:(4/328،بیروت)
“قال:المعتدۃ اذاخرجت عن بیت العدۃ تسقط نفقتھاھکذاروی عن الضحاک مطلقا:فھذا عندنا ما دامت علی النشوز.”
وکذافی الھندیة:(1/557،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/419،رشیدیة)
وکذا فی ردالمحتار:(5/340،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7404،رشیدیة)
وکذا فی التجرید:(10/5395،محمودیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(5/399،408،فاروقیة)
وکذا فی البحر الرائق:(4/338،رشیدیة)
وکذافی مجمع الانھر:(2/189،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
1443-03-25/2021-11-01
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:108

بعض عوام میں یہ بات مشہورہےکہ دوران جماع باتیں کرنے سےاولادگونگی اوربہری پیداہوتی ہے۔اس بات کی شرعی حیثیت وحقیقت کیا ہے؟

الجواب حامدامصلیا

امدادالمفتین(2/856،دارالاشاعت)میں لکھا ہےکہ”حالت جماع میں کلام کرنامکروہ ہے۔لیکن یہ اسوقت ہےجب کسی دوسرےسےکلام کرےاورخودزوجہ سےکلام کرنےمیں مضائقہ نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
29-04-1443/2021-12-5
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:151

حضرت شاہ شمس تبریزجوملتان میں مدفون ہیں ان کےبارےمیں مشہورہےکہ وہ مولاناروم کےشیخ ہیں کیا یہ بات سچ ہیں؟اگرنہیں توپھرمولاناروم کےشیخ کون ہیں اوروہ کہاں مدفون ہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

خیرالفتاوی میں ہے:
سیدشمس الدین مذکور(ملتان والے)ایران کےعلاقہ سبزوارمیں پیداہوئےاس لئےسبزواری کہلاتےہیں۔ان کاتعلق اہل تشیع کےفرقہ نِزاریہ سےتھااس فرقہ کاعقیدہ ہےکہ حاضرامام خداکامظہرہوتاہے۔
شمس الدین صاحب مذکورکی اپنی تصنیف کردہ کتاب”گنان برہم پرکاش“میں ہے۔
”اس کلجگ میں خداوندعالم کامظہرظہورانسانی جسم میں ہےاوروہ ساری روحوں کاشہنشاہ ہےیعنی حاضرامام۔“
ان کےنزدیک حاضرامام سب کچھ ہے۔نیزیہ لوگ اپنی عبادت گاہ کوجماعت خانہ کہتےہیں ان کاکلمہ یہ ہے۔
”اشھد ان لاالہ الااللہ واشھد ان محمدارسول اللہ واشھدان علیااللہ“
اس فرقہ کاطریقہ یہ ہےکہ یہ اپنےآپ کومصلحت کےتحت کبھی سنی ظاہرکرتےہیں اورکبھی شیعہ۔کبھی کسی صوفی سلسلہ سے وابستگی ظاہرکرتےہیں۔شمس الدین صاحب مذکورکوبھی نزاری سلسلہ کےامام قاسم شاہ نےپیر کا لقب دیکرایران سے باہرتبلیغ کےلیےبھیجا تھا۔یہاں پہنچ کرجب انہوں نےعلاقہ پنجاب کی پیر پرستی کودیکھاتوانہوں نےبھی اپنےآپ کو پیر کے بہروپ میں ظاہر کیا اور درپردہ اپنےکفریہ عقائدکی تبلیغ کرتےرہے۔جاہل عوام آج تک ان کوپیراوربزرگ سمجھ کران کے معتقدچلےآرہےہیں۔
(خیرالفتاوی:1/547،امدادیہ)
محترم جناب قاضی سجادصاحب مثنوی مولوی معنوی(اردو)میں تحریرکرتےہیں
ایک مغالطہ اوراس کاازالہ
شمس تبریزی جومولانائےروم کےپیرہیں…ان کی قبرکےبارےمیں مختلف روایات ملتی ہیں۔لیکن یہ طےہیں کہ ہندوستان سےان کی قبرکاکوئی تعلق نہیں ہے۔ایک مشہورقبرشمس تبریزکےنام سےملتان کےعلاقہ میں موجودہے۔وہ یقینااس شمس تبریزکی نہیں ہےجومولانائےروم کےپیرتھے۔اس لئے کہ یہ بزرگ ساتویں صدی کےتھےاورہندوستان میں جوصاحب مدفون ہیں۔یہ دسویں گیارہویں صدی کےہیں۔
اس سلسلہ میں خواجہ حسن نظامی دھلوی مرحوم کی وہ عبارت نقل کرتےہیں جومنشی محمدالدین فوق نے”حالات شمس تبریز“نامی کتاب میں نظام المشائخ کےحوالہ سےنقل کی ہے۔
حضرت شمس(مولانائےروم کےپیر)کےوالدکی نسبت بیان کیا گیاہےکہ وہ فرقہ اسماعیلیہ سےتعلق رکھتےتھے۔مجھ کواس دعوی کےقبول کرنےمیں تامل ہے۔کیونکہ اسماعیلی فرقہ سےتعلق رکھنےوالےشمس دوسرےگزرےہیں۔

جن کامزارملتان میں ہے۔عوام ملتانی شمس تبریزی کوہی حضرت مولانائےروم کامرشدسمجھتےہیں۔حالانکہ یہ غلط ہے۔
(مثنوی مولوی معنوی(اردو):1/10،اسلامی کتب خانہ)
اردودائرہ معارف اسلامیہ میں ہے
تبریزی:عام طورپرشمس تبریزی کےنام سےمشہورہیں۔(نفحات،طبع کلکتہ،ص535میں انھیں شمس الدین محمدبن علی بن ملک دادتبریزی لکھا ہے)۔آپ صوفی اورمولاناجلال الدین رومیؒ کےمرشدتھے۔
(دائرہ معارف اسلامیہ:6/126،دانش گاہ،پنجاب)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
14-08-1443/2022-03-18
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:50

کہ تماشائی کسی کھیل پر جوا لگاتے ہیں تو اس کی وجہ سے کھیلنے والے گنہگار ہونگے یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگروہ کھیل جوئے کی بنیاد پر کھیلا جارہا ہومثلاان لوگوں نے کھلاڑیوں کے لیےکھیل کا بندوبست کیا ہوہو یا کھیل کا سامان وغیرہ مہیا کیا ہواورکھلاڑیوں کی نیت بھی جوئے کے لیے کھیلنے کی ہو یا کھلاڑیوں کا ان کے ساتھ کوئی معاوضہ طےہو تووہ گناہ میں تعاون کی وجہ سے گنہگار ہونگےاوراگر کھلاڑیوں کی نیت جوئے کی نہ ہوبلکہ وہ محض تفریح کے لیے کھیل رہے ہوتو وہ کھیل ان کے لیے مباح ہے بشرطیکہ شریعت کے کسی امر کی خلاف ورزی نہ پائی جائے۔

لما فی القرآن الکریم: ( 2،المائدۃ)
“ولاتعاونواعلی الاثم والعدوان.”
وفی احکام القرآن للجصاص: ( 2/429 ،قدیمی کتب خانہ )
“وقولہ تعالی:(ولاتعاونواعلی الاثم والعدوان)نھی عن معاونۃغیرناعلی معاصی اللہ تعالی . “
وفی الاشباہ والنظائر: (28،قدیمی کتب خانہ )
“واماالمباحات فانھا تختلف صفتھاباعتبارماقصدت لاجلہ. “
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(18/156،فاروقیہ)
“وفی فتاوی اھل سمرقند:استاجررجلالضرب الطبل ان کان للھولایجوز،لانہ معصیۃوان کان للغزواوالقافلۃیجوز.”
وکذافی الھندیۃ:(5/324،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار)9/646،بیروت)
وکذافی المبسوط:(16/38،بیروت)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/41،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(8/371،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(289،الحقانیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/63،بیروت)
وکذافی فتاوی السراجیہ:(235،زکریا)

 

واللہ اعلم بالصواب
عبد الصمد غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29-09-2021/1443-02-21
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:85

جنابت کی حالت میں ناخن اور جسم کے زائد بال کاٹنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ناپسندیدہ ہے۔

لما فی الھندیہ: ( 5/ 358،رشیدیہ)
 حلق الشعر حالۃ الجنابۃ مکروہ وکذا قص الاظافیر کذا فی الغرائب
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 4/ 2646 ،رشیدیہ )
ومن الآداب الایحلق شعرہ ولایقلم اظفارہ ولا یخرج دما وھو جنب
وکذافی صحیح البخاری : (1 /106،رحمانیہ )

واللہ اعلم بالصواب
عبد الصمد غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25-09-2021/1443-02-17
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:33

ایک شخص زکوۃاداکرنےسےپہلےفوت ہوگیاتواس کےترکہ سےزکوۃ اداکی جائےگی یا نہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

اگرکوئی شخص زکوۃاداکرنےسےپہلےوفات پاگیاتواگراس نےوصیت کی ہوتواس کےتہائی ترکہ میں سےزکوۃاداکی جائےگی اوراگرکئی سالوں کی زکوۃادانہ کی ہواورزکوۃکی رقم تہائی مال سےزائدہوتواگرتمام ورثہ بالغ ہواوروہ بخوشی اجازت دیدیں توتمام مال سےبھی زکوۃ اداکی جاسکتی ہےاوراگروصیت نہیں کی توپھرترکہ سےزکوۃنہیں ادا کی جائے گی۔

لمافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(325،بشری)
رجل وجبت علیہ الزکاۃومات قبل ادائھا:لاتؤخذالزکاۃمن ترکتہ،الااذااوصی بہ:فتؤخذمن ثلث مالہ،وان کان الثلث اقل من القدرالواجب فان اجازالورثۃاکثرمن الثلث:یؤخذ،وان لم یجیزوا:لاتؤخذاکثرمن الثلث
وکذافی الفتاوی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(1/256،رشیدیة)
من مات علیہ الزکاۃتسقط الزکاۃولاتصیردینا فی الترکۃالاانہ لواوصی باداءالزکاۃیجب تنفیذہ الوصیۃ من ثلث مالہ
وکذافی الھندیة:(1/176،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/240،فاروقیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/240،ادارۃالقرآن)
وکذافی البحرالرائق:(2/369،رشیدیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/168،رشیدیة)
وکذافی التنویرمع الدر:(3/265،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12-08-1443/2022-03-16
جلدنمبر:27 فتوی نمبر:17

تراویح کی اجرت سےحاصل ہونےوالےپیسوں کامصرف کیاہے؟نادارآدمی خوداستعمال کرسکتا ہےیا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

اگراجرت دینےوالےمعلوم ہوتوان کوواپس کرناضروری ہےاوراگرمعلوم نہ ہوتوثواب کی نیت کےبغیرصدقہ کردے خوداستعمال کرناجائزنہیں۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2687،رشیدیة)
ولایحل للورثۃایضااخذالمیراث من کسب حرام،وعلیھم ردمااخذوہ علی اربابہ ان عرفوھم والاتصدقوابہ،لان سبیل الکسب الخبیث التصدق بہ اذاتعذرالردعلی صاحبہ.
وفی ردالمحتار:(9/95،بیروت)
فالحاصل:ان ماشاع فی زماننامن قراءۃالاجزاءبالاجرۃلایجوزلان فیہ الامربالقراءۃواعطاء الثواب للامروالقراءۃلاجل المال ،فاذالم یکن للقاری ثواب لعدم النیۃالصحیحۃفاین یصل الثواب الی المستاجرولولاالاجرۃماقرااحدلاحدفی ھذاالزمان بل جعلوالقرآن العظیم مکسباووسیلۃالی جمع الدنیا۔اناللہ واناالیہ راجعون
وکذافی الشرح الحموی:(2/297،ادارۃالقران)
وکذافی فقہ البیوع:(2/1006،مکتبہ معارف القران)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/63،بیروت)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/157،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
20-05-1443/2021-12-25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:89

وہ ڈرامےجن میں اسلامی تاریخ بتائی گئی ہےمثلاارتغل وغیرہ ان کا دیکھنا کیساہے۔

الجواب حامداومصلیا

ان ڈراموں میں موسیقی،بےپردگی اورفحاشی جیسی خرافات ہوتی ہیں،اس لیےیہ ڈرامےدیکھنابھی درست نہیں ہے۔

لمافی تکملة فتح الملھم:(4/164،دارالعلوم کراتشی)
اماالتلفزیون والفدیو،فلاشک فی حرمۃاستعمالھمابالنظرالی مایشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ،من الخلاعۃوالمجون،والکشف عن النساء المتبرجات اوالعاریات،وماالی ذلک من اسباب الفسوق
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2676،رشیدیة)
اماالتصویرالشمسی اوالخیالی فھذاجائز،ولامانع من تعلیق الصورالخالیۃفی المنازل وغیرھا،اذالم تکن داعیۃللفتنۃکصورالنساءالتی یظھرفیھاشیئ من جسدھاغیرالوجہ والکفین کالسواعدوالسیقان والشعور،وھذاینطبق ایضاعلی صورالتلفازومایعرض فیہ من رقص وتمثیل وغناءمغنیات،کل ذلک حرام فی رأی
وکذافی البحرالرائق:(8/346،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/77،ادارۃالقرآن)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/189،فاروقیة)
وکذافی التنویرمع الدر:(9/577،رشیدیة)
وکذافی مجمع الانھر:(4/223،المنار)
وکذافی الفتاوی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(3/406،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی البزازیةعلی ھامش الھندیة:(6/359،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
02-05-1443/2021-12-07
جلدنمبر:25 فتوی نمبر:176

روزےکی حالت میں اگربارش کےقطرےمنہ میں چلےجائیں تواس سےروزہ ٹوٹ جائےگایانہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

بارش کےقطرےحلق میں چلےجانےسےروزہ ٹوٹ جاتاہے۔پھربارش کےقطرےاگرحلق میں خودبخودچلےگئےتوصرف قضالازم ہوگی اوراگرجان بوجھ کران کونگل لیاتوقضاءاورکفارہ دونوں لازم ہونگے۔

لمافی الھندیة:(1/203،رشیدیة)
“والمطروالثلج اذادخل حلقہ یفسدصومہ وھوالصحیح.”
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/454،رشیدیة)
اودخل حلقہ مطراوثلج)بنفسہ
قولہ بنفسہ)بأن رفع وجھہ فدخل وان کان بادخالہ ثبت القضاءوالکفارۃ
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(28/30،علوم اسلامیة)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(162،زمزم)
وکذافی الشامیة:(3/434،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی البزازیةعلی ھامش الھندیة:(4/98،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی اتتاتارخانیة:(3/382،فاروقیة)
وکذافی الفتاوی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(1/211،رشیدیة)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/254،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12-08-1443/2022-03-16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:17

بندہ ایک سیکورٹی کمپنی میں مینجراکاؤنٹس کی حیثیت سےکام کررہا ہےہماری کمپنی مختلف اداروں کوجس میں سرکاری،غیرسرکاری اداروں کوسیکورٹی گارڈزفراہم کرتی ہے۔پاکستان پوسٹ کے ایک ریجن کا ہمیں کنٹریکٹ ملاجس میں ایک ذیلی ادارہ پوسٹل لائف انشورنس ہےجس میں ہم چارپانچ ماہ سےسیکورٹی گارڈزسروسزفراہم کررہےہیں۔بعدازاں ہمیں معلوم ہواکہ پوسٹل لائف انشورنس کےمعاملات پاکستان پوسٹ سے علیحدہ ہیں۔ہم نے اس سوال کے ساتھ اس کی کچھ تفصیل اٹیچ کی ہےبراہ کرم ہماری اس معاملے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ پوسٹل لائف انشورنس میں سیکورٹی سروسزجاری رکھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

سوال کے ساتھ منسلک تفصیل سےتو یہ سمجھ آرہا ہےکہ یہ ادارہ ”انشورنس “کرتا ہےاگر یہ بات ٹھیک ہے توجواب یہ ہےکہ مروجہ انشورنس چونکہ حرام ہے اس لیےاس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہےاور یہ لوگ اسی حرام آمدن میں سے آپ کے واجبات ادا کرینگےلہذاان کوسیکورٹی گارڈز مہیا کرنا جائز نہیں۔

لمافی القرآن الکریم:(المائدۃ،2)
ولاتعاونواعلی الاثم والعدوان
وفی احکام القرآن للجصاص(2/429،قدیمی)
وقولہ تعالی:(ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان)نھی عن معاونۃ غیرناعلی معاصی اللہ تعالی
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3817،رشیدیة)
“لایجوزاستئجار علی المعاصی کاستئجارالانسان للعب واللھوالمحرم …..لانہ استئجارعلی المعصیۃ،والمعصیۃلاتستحق بالعقد.”
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(16/511،فاروقیة)
وفی الذخیرۃ :قال شمس الائمۃ:ھذہ المسئلۃ ذکرھشام بتمامھافی نوادرہ عن محمدرحمہ اللہ(1)احدوجوھھاان یشتری شیئابعین الدراھم فیھا خبث،ویضیف العقدالیھاوینقدمنھا،ففی ھذاالوجہ المشتری لایحل لہ
وکذافی المبسوط:(16/37،بیروت)
وکذا فی الھدایة:(3/429،بشری)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/39،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(11/346،بیروت)
وکذافی التنویرمع الدر:(9/92،رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(8/35،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
16-04-1443/2021-11-22
جلدنمبر 25 فتوی نمبر:117