عقد نکاح کے بعدمہر میں زیادتی کرنے کاکیاحکم ہےاوراس صورت میں مہر کونسا دینا ضروری ہوگا؟

الجواب حامداومصلیا

نکاح کے بعد مہر میں اضافہ کرنا جائز ہے اور یہ اضافہ بھی لازم ہوگا۔

لمافی الھندیة:(1/312،رشیدیہ)
الزیادۃ فی المھر صحیحۃ حال قیام النکاح عند علمائنا الثلاثۃ……………فاذازاد فی المھر بعد العقد لزمتہ الزیادۃ کذا فی السراج الوھاج ھذااذا قبلت المرأۃالزیادۃ سواء کانت من جنس المھر أولامن زوج أو من ولی……………والزیادۃ انما تتأکد باحد معان ثلاثۃاما بالدخول واما بالخلوۃ الصحیحۃ واما بموت احد الزوجین فان وقعت الفرقۃ بینھما من غیر ھذہ المعانی الثلاثۃ بطلت الزیادۃ ولاتنصف ألاصل ولا تتنصف الزیادۃ
وکذافی المحیط البرھانی:(4/134،ادارۃ القران)
الزیادۃ فی المھر صحیحۃ حال قیام النکاح عند علمائنا الثلاثۃ …………وفی فتاوی أبی اللیث:أن الزیادۃ فی المھر بعد الفرقۃ باطلۃ
وکذافی النھر الفائق:(2/234،قدیمی)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6795،رشیدیہ)
وکذافی التنویر والرد:(4/237،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/184،فاروقیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(290،البشری)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
14،8،1443/2022،3،18
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:35

مہر فاطمی کی مقدار کیا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

مہر فاطمی پانچ سو درھم(یعنی25․131تولہ چاندی)ہے جس کا وزن 5309․1 کلو گرام ہے۔

لمافی الاوزان الشرعیہ لمولانا مفتی محمد شفیع صاحب:(62،معارف القراٰن)
مہر فاطمی 25․131 تولہ چاندی،5309․1 کلو گرام چاندی۔
وکذافی جامع الترمذی:(1/340،رحمانیہ)
عن ابی العجفاء قال :قال عمر بن الخطاب الا لا تغالو اصدقۃ النساءفانھا لو کانت مکرمۃ فی الدنیا او تقوی عند اللّٰہ لکان اولاکم بھا نبی اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ما علمت رسول اللّٰہ صلی اللّہ علیہ وسلم نکح شیئا من نسائہ وانکح شیئا من بناتہ علی اکثرمن ثنتی عشرۃ اوقیۃ
وکذافی سنن ابن ماجہ:(251،رحمانیہ)
عن ابی سلمۃ قال سالت عائشۃ کم کان صداق نساء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قالت کان صداقہ فی ازواجہ اثنتی عشرۃ اوقیۃ ونشاھل تدری ماالنش ھو نصف اوقیۃ وذلک خمس مائۃ درھم
وکذافی عون المعبود:(6/75،قدیمی)
وکذافی سنن ابی داؤد:(1/303،رحمانیہ)
وکذافی فتح الملھم:(6/405،دار العلوم)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(39/162،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
15،8،1443/2022،3،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:36

ٹرین میں یاکسی ایسی جگہ میں جہاں نامحرم مردوں کے دیکھنے کا شبہ ہو،وہاں عورتوں کا نقاب کرکے نماز پڑھنا کیساہے؟کیابغیر عذر کے بھی منہ چھپا کر نماز پڑھنا جائز ہے؟

الجواب حامداومصلیا

بے پردگی کے خوف سے عورت کانقاب کرکے نمازپڑھناجائز ہے،لیکن بلاعذر منہ چھپا کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔

لمافی المحیط البرھانی:(2/137،ادارةالقراٰن)
یکرہ للمصلی أن یغطی فاہ فی الصلاۃ،لماروی ابو ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ(أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نھی أن یغطی المصلی فاہ فی الصلاۃ)وھذا الذی ذکرناہ فی غیر حالۃ الغذر
وکذافی التنویر مع الدر:(1/406،ایچ،ایم،سعید)
وتمنع)المرأۃالشابۃ(من کشف الوجہ بین رجال )لالأنہ عورۃ بل(لخوف الفتنۃ)کمسہ وإن أمن الشھوۃ،لأنہ اغلظ ۔ وقال تحتہ فی الشامیۃ:(وتمنع المرأۃ)أی تنھی عنہ وإن لم یکن عورۃ(قولہ بل لخوف الفتنۃ)أی الفجور بھا قاموس أو الشھوۃ والمعنی تمنع من الکشف لخوف ان یری الرجال وجھھا فتقع الفتنۃ،لانہ مع الکشف قد یقع النظر الیھا بشھوۃ
وکذافی کتاب الفقہ:(1/238،حقانیہ)
“وأن یغطی الرجل فاہ وھذاان کان بغیر عذر وإلافلا یکرہ․”
وکذافی الھندیة:(1/118،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی:(350،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی سنن ابی داؤد:(1/103،رحمانیہ)
وکذافی ا لفتاوی التاتارخانیة:(2/199،فاروقیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/506،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
20-5-1443/2021-12-25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:81

ایک عالم دین جو مدرسہ میں پڑھاتا ہےاور اس پر قرضہ جات ہیں،اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

اگر اس کے پاس قرضہ جات کی ادائیگی کے بعد ساڈھے باون تولہ(50․52)تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر سونا،چاندی،مال تجارت یا ضرورت سے زائد سامان نہیں ہے تو زکوٰۃ دے سکتے ہیں ورنہ نہیں۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/373،الطارق)
والتصدق علی العالم الفقیر افضل من التصدق علی الجاھل الفقیر کما یجوز نقل الزکاۃ اذا عجل المزکی إخراجھا قبل تمام الحول
وکذافی الھندیة:(1/187،رشیدیہ)
“التصدق علی الفقیر العالم افضل من التصدق علی الجاھل․”
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی :(238،البشری)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/526،حقانیة)
وکذافی الھدایة:(1/189،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(2/243،رشیدیہ)
وکذافی شامیة:(3/356،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
22،8،1443/2022،3،26
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:96

اگر قرض دینے والاقرض لینے والے کے گھر میں کھانا کھائے تو کیا یہ”کل قرض جر نفعا“کے تحت داخل ہوگا؟

الجواب حامداومصلیا

اگر محض قرض دینے کی وجہ سے اس کے ہاں کھانا کھا رہا ہے تو ناجائز ہے اور اگر پرانے تعلق یا معمول کے مطابق کھارہا ہے تو جائزہے۔

لمافی اعلاء السنن:(14/513،ادارةالقراٰن)
ولو أ قرضہ قرضا ثم استعملہ عملا لم یکن یستعملہ مثلہ قبل القرض کان قرضا جر منفعۃ ولو استضاف غریمہ ولم یکن العادۃ جرت بینھمابذلک حسب لہ ما اکلہ،لماروی ابن ماجۃ فی سننہ عن انس قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:(إذا أقرض أحدکم قرضا،فأھدی الیہ أوحملہ علی الدابۃفلا یرکبہاولایقبلہ،إلاأن یکون جری بینہ وبینہ قبل ذلک)
وکذا فی محیط البرھانی:(10/353،ادارةالقراٰن)
وأما دعوۃ المستقرض قال محمد رحمہ اللّٰہ تعالی:ولا بأس بان یجب دعوۃ رجل لہ علیہ دین،قال شیخ الإسلام:ھذا جواب الحکم فأما الافضل ان یتورع عن الإجابۃ اذا علم أنہ لأجل دین أو اشکل علیہ الحال قال شمس الأئمۃ الحلوانی:ما ذکر محمد رحمہ اللہ تعالی محمول علی ماإذا کان یدعوہ قبل الإقراض،اما اذا کان لایدعوہ قبل الاقراض او کان یدعوہ قبل الاقراض فی کل عشرین یوما وبعد الإقراض جعل یدعوہ فی کل عشرۃ أیام أو زاد فی الباجات،فإنہ لایحل
وکذا فی البحرالرائق:(6/204،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(3/202،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(9/390،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
23،8،1443/2022،3،27
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:95

مقتدی”سمع اللہ لمن حمدہ“کہے گا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مقتدی”سمع اللہ لمن حمدہ“نہیں کہے گا

لما فی صحیح البخاری: (1/170،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم:انما جعل الامام لیئو تم بہ ،فاذا کبر فکبرواواذرکع فارکعواواذاقال سمع اللہ لمن حمدہ، فقولوا ربنا ولک الحمدو اذاسجد فاسجدواواذاصلٰی جالسافصلوا جلوسا اجمعون
وفی الفتاوی الھندیہ: (1 /74 ،رشیدیہ )
فان کان اماما یقول سمع اللہ لمن حمدہ بالاجماع وان کان مقتدیا یاتی بالتحمید ولا یاتی بالتسمیع بلا خلاف وان کان منفردا یاتی بھما
وفی الفتاوی االتاتارخانیہ:(2/169،فاروقیہ)
ثم یرفع راسہ من الرکوع،فبعدذلک لایخلو: اماان یکون المصلی امامااو مقتدیا اومنفردا، فاذاکان اماما یقول سمع اللہ لمن حمدہ بالاجماع(وعلی الصفحۃ الاتیۃ) وان کان مقتدیا یاتی بالتحمید ولایاتی بالتسمیع بلا خلاف۔
وکذافی البحرالرائق : (1 /552 ،رشیدیہ )
اذا قال الامام سمع اللہ لمن حمدہ فقولوا ربنا لک الحمدفقسم بینھماوالقسمۃ تنافی الشرکۃ
وکذا فی المحیط البرھانی: (2 /118 ،ادارۃ القران )
وکذافی المبسوط: (1 /20 ،دار المعرفہ )
وکذا فی تنویرالابصار: (2 /245 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی ادلتہ:(2/891،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ:(1/98،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/491،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17،2،1443/2021،9،25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:56

ایک مجرم کو پھانسی کی سزا ہونی تھی ،جب اس کو تختہ دار پرلایاگیااوراس کو یقین ہوگیا کہ میں کچھ ہی دیر میں مر جاوں گا تو اس نےاپنی بیوی کو طلاق دےدی۔اس طلاق کا اور اس کی بیوی کی میراث کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

صورت مسولہ میں طلاق واقع ہو جائے گی اور بیوی کو میراث میں سے حصہ ملے گا،کیونکہ طلاق دینے سے شوہر کا مقصود اپنی بیوی کووراثت سے محروم کرناہے۔

لما فی کتاب المبسوط:(6/168،دارالمعرفة)
واذا قرب الرجل لیقتل فھو بمنزلۃ المرض اذا طلق امراتہ ثلاثا فی تلک الحالۃ فلھا المیراث والحاصل ان المریض مشرف علی الھلاک فکل سبب یعترض مما یکون الغالب فیہ الھلاک فھو بمنزلۃ المرض
وفی المحیط البرھانی:(5/164،ادارةالقران)
اذااخرج الرجل للقصاص او للرجم فھو فی حکم المریض وکذا قال اذا بارزوخرج عن الصف،فھو فی حکم المریض
وفی الھدایة:(2/123،البشری)
وفی الفتاوی الھندیة:(1/463،رشیدیہ)
وفی تنویر الابصار:(5/5،رشیدیہ)
وفی البحرالرائق:(4/77،رشیدیہ)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(5/124،فاروقیہ)
وفی مجمع الانھر:(2/73،المنار)
وفی تبیین الحقائق:(2/248،امدادیہ)
وفی المختصر القدوری:(176،الخلیل)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعةالحسن ساہیوال
24،3،1443/2021،10،30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:99

ایک آدمی نے کھانا کھایا اس کے بعداس کے دانتوں سے خون نکل آیااور تھو ک میں واضح نظرآیااور اس نے کلی نہیں کی،بلکہ اس کو نگل گیااور فورا ہی امام نے اسے کہا کہ اقامت کہو اس نےاقامت کہی ،اب پوچھنا یہ ہے کہ(1) اس کا خون نگلناکیساہے؟(2)اس کا اقا مت کہنا کیساہے؟(3)اوراس کی نماز کا کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداومصلیا

(1)

اس شخص کا خون نگلنا حرام ہے۔(2)اس شخص کااقامت کہنا مکروہ ہے۔(3)نماز نہیں ہوئی۔

لمافی الموسوعةالفقہیة:(21/25،علوم اسلامیہ)
“اتفق الفقھاء علی أن الدم حرام نجس لایؤکل ولا ینتفع بہ․”
وکذافی المحیط البرھانی:(1/363،ادارةالقراٰن)
“کل مایخرج من بدن الآدمی مما یوجب الوضوءأوالغسل فھو نجس کالغائط والبول والدم․”
وکذافی التنویرالابصار:(2/75،رشیدیہ)
ویکرہ اذان جنب واقامة محدث لاأذانہ}وتحتہ فی الشامیة}ویکرہ أذان جنب لأنہ یصیر داعیا إلی مالا یجیب إلیہ واقامتہ اولی بالکراھةوصرح فی(الخانیۃ)بانہ تجب الطھارۃ فیہ عن اغلظ الحدثین وظاہرہ ان الکراھة تحریمیة
وکذافی الھندیة:(1/54،رشیدیہ)
وکرہ اذان الجنب واقامتہ باتفاق الروایات والاشبہ ان یعاد الاذان ولاتعاد الاقامةولایکرہ اذان المحدث فی ظاہرالروایةھکذا فی الکافی وھو الصحیح کذا فی الجوھرۃ النیرۃ وکرہ اقامتہ ولاتعاد
وکذافی الصحیح البخاری:(1/84،رحمانیہ)
وکذافی الفتاوی اتاتارخانیة:(1/428،فاروقیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/301،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(1/10،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/729،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/118،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
9،5،1443/2021،12،14
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:14

لفظ ”اللہ “بغیروضوکے لکھ سکتے ہیں اور اس کو چھو سکتے ہیں؟

الجواب حامداومصلیا

بغیر وضو لفظ اللہ لکھ اور چھو تو سکتے ہیں،لیکن احتیاط اس میں ہےکہ بغیر وضو لفظ اللہ نہ چھو اجائے۔

لمافی البحرالرائق:(1/350،رشیدیہ)
یکرہ مس کتب الاحادیث والفقہ للمحدث عندھماوعند ابی حنیفۃالاصح أنہ لایکرہ․․․․․․․ورخص المس بالید فی الکتب الشرعیۃالاالتفسیر
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/452،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/402،ادارۃالقراٰن)
وکذافی الھندیة:(1/39،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/64،رشیدیہ)
وکذافی شرح الوقایة:(1/131،امدادیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/351،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/122،الطارق)
وکذافی التنویر مع الدر:(1/536،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/141،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
18،4،1443/2021،11،24
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:125

اگر کسی شخص نے بیوی کا مہر اس طرح کیاکہ اس گھر کے دو کمرے مہر کے طور پر آپ کے ہیں ،گھر میں تین کمرے ہیں ،یہ طے نہیں کیا کہ کون سے دو کمرے مہر ہیں ؟اس طرح مہر طے کرنا درست ہےیا نہیں؟ کیونکہ کمرے متعین نہیں ہیں ،اگر درست ہے تو کیسے طے کیا جائے گاکہ کون سے کمرے ہیں؟ اگر درست نہیں تواب مہر کیسے طے کیا جائے،نکاح کو کئی سال گزر چکے ہیں؟

الجواب حامداومصلیا

اس طرح مہر طے کرنادرست ہے اوردرمیانے کمرے یاان کی قیمت مہر میں دی جائے۔

لمافی المحیط البرھانی:(3/288،ادارة القراٰن)
الأصل أنّ جھالۃ المسمی إذا کانت جھالۃ جنس تمنع صحّۃ التسمیۃ ویجب مھر المثل وإن کانت جھالۃ صفۃ لایمنع صحۃ التسمیۃ وللمرأۃ الوسط من ذلک
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/170،فاروقیہ)
الأصل:أنّ جھالۃ المسمی إذاکانت جھالۃ جنس تمنع صحۃ التسمیۃ ویجب مھر المثل وان کانت جھالۃ صفۃ لایمنع صحۃ التسمیۃ وللمرأۃالوسط من ذلک
وکذافی البحرالرائق:(3/288،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/571،رشیدیہ)
وکذافی شرح الوقایة:(2/35،امدادیہ)
وکذافی الھدایة:(2/309،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(290،البشری)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
11-7-1443/2022-2-13
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:161