بیوی کے کفن وغیرہ کا خرچہ شوہر کے ذمہ ہے یا اس خاتون کے بھائی اور والد کے ذمہ ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

شوہر کے ذمہ ہے۔

لمافی خلاصة الفتاوی:(1/220،رشیدیہ)
فالکفن علی من یجب علیہ النفقۃ الا الزوج فی قول محمد وعند ابی یوسف یجب الکفن علی الزوج وان ترکت مالا و علیہ الفتوی
وفی الھندیہ:(1/161،رشیدیہ)
فالکفن علی من تجب علیہ النفقۃ الا ازوج فی قولہ محممد رحمہ اللہ تعالی وعلی قول ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی یجب الکفن علی الزوج وان ترکت مالا وعلیہ الفتوی
وفی الموسوعة الفقہیة:(13/242،علوم اسلامیہ)
“وعلی الزوج تکفین زوجتہ عند الحنفیۃ علی قول مفتی بہ۔”
وکذافی المحیط البرھانی :3(68/ادارة القران،)
وکذافی الشامیة :(3/119،دار المعرفہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/42،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/311،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیہ:(1/189،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
19،9،1443/2022،4،21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:188

ایک شخص کی فجر کی جماعت رہ گئی جبکہ نماز کا وقت ابھی باقی ہے، کیا وہ اپنی بیوی کو جماعت کروا سکتا ہےیا اکیلے پڑھے؟ نیز اگر کروا سکتا ہے تو بیوی کو کہاں کھڑا کرے گا؟

الجواب حامداًومصلیاً

اس شخص کا اپنی بیوی کے ساتھ جماعت کروانا اکیلے نماز پڑھنے سے تو بہتر ہے، اور بیوی کو بالکل اپنے پیچھے کھڑا کرے گا۔

لمافی الھندیة:(1/82،رشیدیہ)
اذا فاتتہ الجماعۃ لا یجب علیہ الطلب فی مسجد آخر بلاخلاف بین اصحابنا لکن ان اتی مسجدااخر لیصلی بھم مع الجماعۃ فحسن وان صلی فی مسجد حیہ فحسن وذکر القدوری انہ یجمع فی اھلہ و یصلی بھم ۔
وفی المحیط البرھانی:(2/202،ادارة القران)
” وان کان معہ رجل وامرأۃ ،أقام الرجل عن یمینہ والمرأۃ خلفہ۔ “
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/280،فاروقیہ)
وکذافیہ ایضاً:(2/274،فاروقیہ)
وکذافی فتح القدیر:(1/353،رشیدیہ)
وکذافی سنن ابی داود:(1/99،رحمانیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/606،رشیدیہ)
وکذافیہ ایضاً:(1/616،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1264،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15،8،1443/2022،3،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:61

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے مزاح میں کہے “پتری” تو ان کے نکاح کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

پتری” پنجابی زبان میں بیٹی کو کہتے ہیں اور بیوی کو بیٹی کہنا مکروہ ہے، مگر اس سے نکاح نہیں ٹوٹے گا۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/223،طارق)
” یکرہ ان یقول الرجل لزوجتہ انت امی ویا ابنتی ویا اختی ونحوہ. “
وفی البحرالرائق :(4/165،رشیدیہ)
بان قال انت امی لا یکون مظاہرا لکنہ مکروہ لقربہ من التشبیہ وقیاسا علی قولہ یااختی المنھی عنہ….فعلم انہ لا بد فی کونہ ظہارا من التصریح باداۃ التشبیہ شرعا و مثلہ قولہ یا بنتی و یااختی ونحوہ
وفی الدر المختار:(3/470،ایچ۔ایم۔سعید)
یکرہ قولہ انت امی ویا ابنتی ویا اختی ونحوہ.
وکذافی سنن ابی داود :(1/319،رحمانیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/507،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(2/453،قدیمی)
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(317،بشری)
وکذافی الدر المنتقی علی ھامش مجمع الانھر:(2/118،منار)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24-12-2021،1443-5-19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:79

ایک مرد کی عمر تقریبا 32 سال ہے اور وہ اپنے خرچے پر شادی کرنا چاہتا ہے،لیکن اسکے والدین کہتے ہیں کہ جو تو نے مال جمع کر رکھا ہے اس سے پہلے اپنی بہنوں کی شادی کر و، پھر خود شادی کرنا ، جبکہ بہنوں کو چار سے پانچ سال دیر ہے، اب دیر سے شادی کرنے میں گناہ میں ملوث ہونے کاڈر بھی ہے، تو کیا اس صورت میں بہنوں کا انتظار کیے بغیر شادی کرنے سے گنہگار ہو گا؟ اور اس میں والدین کے حکم کیا حیثیت ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسؤلہ میں اس شخص کو چاہیے کہ والدین کو راضی کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے ، اگر کسی طرح بھی یہ معرکہ سر نہ ہو تو یہ بہنوں کا انتظار کیے بغیر شادی کر سکتا ہے اور اس میں والدین کے حکم کی تعمیل ضروری نہیں۔

لمافی الشامیة:(4 /72 ،رشیدیہ)
النکاح یکون واجبا عند التوقان ) بان کان لا یمکنہ الاحتراز عن الزنا الا بہ ؛ لان ما لا یتوصل الی ترک الحرام الا بہ یکون فرضا۔۔۔۔ ویکون (سنۃ) مؤکدۃ فی الاصح ، فیاثم بترکہ و یثاب ان نوی تحصینا وولدا لان الصحیح ان ترک المؤکدۃ موثم کماعلم فی الصلاۃ
وفی بدائع الصنائع :(2/482،رشیدیہ)
لا خلاف ان النکاح فرض حالۃ التوقان حتی ان من تاقت نفسہ الی النساء بھیث لا یمکنہ الصبر عنھن وہو قادر علی المھر والنفقۃ ولم یتزوج یاثم۔۔۔۔ قال بعضھم انہ مندوب و مستحب ، والیہ ذہب من اصحابنا الکرخی بما روی عن النبی ﷺانہ قال من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج ومن لم یستطع فلیصم۔
وفی الموسوعة الفقہیه :(8/72،علوم اسلامیہ)
وان جاہداک۔۔۔۔ الی آخر الایۃ۔ ففیھما وجوب برھما و طاعتھما والاحسان الیھما ، و حرمۃ عقوقھما و مخالفتھما ، الا فیما یامرانہ بہ من شرک او ارتکاب معصیۃ، فانہ فی ھذہ الحالۃ لا یطیعھما ولا یمتثل لاوامرھا ، لوجوب مخالفتھما و حرمۃ طاعتھما فی ذلک ، یؤکد ھذا قولہﷺ’ لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق
وکذافی احکام القرآن للجصاص :(3/290،قدیمی) وکذافی تفسیر القرطبی:(10/238،دار احیاءالتراث)
وکذافی المبسوط:(4/193،دارالمعرفة) وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(4/3،فاروقیہ)
وکذافی فتح الباری:(10/497،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/4/1443،2021/11/26
جلدنمبر:25 فتوی نمبر:123

رضاعی بہن ،بھائی کا نکاح ہوا ، جب تین ماہ کا حمل ہوا ،اس وقت پتہ چلا کہ بہن بھائی ہیں، اب اس نکاح کا اور حمل کاکیا حکم ہے؟ اور کیا حمل ولدالنسب ہوگا؟

الجواب حامداًومصلیاً

یہ نکاح فاسدہےاور نکاح فاسد سے ہونےوالا حمل ثابت النسب ہو گا اوراس کا نسب باپ سے ثابت ہو گا۔

لمافی البحر الرائق:(3 /297 ،رشیدیہ)
وفی النکاح الفاسد انما یجب مھر المثل بالوطء ولم یزد علی المسمی ویثبت النسب )ای نسب المولود فی النکاح الفاسد لان النسب مما یحتاط فی اثباتہ احیاء للولد فیترتب علی الثابت من وجہ اطلقہ فافاد انہ یثبت بغیر دعوۃ۔
وفی المحیط البرھانی:(4/168،علوم اسلامیہ)
رجل تزوج امراۃ نکاحا فاسدا، وجاءت بولد الی ستۃ اشھر ثبت النسب،والنکاح الفاسد بعد الدخول فی حق النسب بمنزلۃ النکاح الصحیح۔
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة :(1/371،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط:(5/144،دار المعرفة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/7176،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع :(3/304،رشیدیہ)
وکذافی النتف فی الفتاوی:(388،ایچ ایم سعید)
وکذافی الشامیة :(4/407،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/4/1443،2021/11/17
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:116

ہمارے گاؤں میں تقریباً ہر آدمی کے پاس بندوق ہے اور ان میں سے بعض کی قیمت نصاب کی مقدار سے بھی زیادہ ہے، کوئی حفاظت کے لیے اور کوئی شکار کے لیے رکھتا ہے اور ان پر سالہا سال گزر گئے ہیں، ان پر زکوۃ ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

استعمال کی غرض سے رکھے ہوئے ہتھیار پر زکوۃ نہیں ہے، اگرچہ ان کی قیمت نصاب کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔

لمافی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعة:(1/506،حقانیہ)
لاتجب الزکاۃ فی دور السکنی و ثیاب البدن واثاث المنزل ودواب الرکوب وسلاح الاستعمال ومایتحمل بہ من الاوانی اذا لم یکن من الذھب او الفضۃ ۔
وفی الھندیة:(1/172،رشیدیہ)
فلیس فی دور السکنی و ثیاب البدن وأثاث المنزل و دواب الرکوب وعبید الخدمۃ وسلاح الاستعمال زکوۃ۔
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب:(1/136،قدیمی)
وکذافی فتح القدیر:(2/173،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(3/213،دارالمعرفہ)
وکذافی الھدایة:(1/299،بشری)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1795،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/173،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2،9،1443/2022،4،4
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:91

اگر ایک ہی شخص لڑکی اور لڑکے دونوں کی طرف سے ایجاب و قبول کرے، تو کیا نکاح ہو جائے گا؟ جبکہ وہ شخص ولی بھی ہو۔

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں! ہو جائے گا۔

لمافی الھندیة:(1/299،رشیدیہ)
اجمع اصحابنا ان الواحد یصلح وکیلا فی النکاح من الجانبین وولیا من الجانبین وولیا من جانب اصیلا من جانب ووکیلا من جانب اصیلا من جانب وولیا من جانب وکیلا من جانب۔
وفی التنویر مع الدر:(4/213،رشیدیہ)
ویتولی طرفی النکاح واحد)بایجاب یقوم مقام القبول فی خمس صور کأن کان ولیا،أو وکیلا من الجانبین أو اصیلا من جانب ووکیلا او ولیا من آخر او ولیا من جانب وکیلا من آخر۔
وکذافی الھدایة:(2/35،بشری)
وکذافی المبسوط:(5/17،دارالمعرفہ)
وکذافی فتح القدیر:(3/295،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/128،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(9/6732،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15-3-2022،1443-8-11
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:4

قرآن پاک کی آیت مبارکہ” انما حرم علیکم المیتۃو الدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ” اس میں” انما “کا لفظ حد بندی کے لیے آتا ہے، اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی چیزیں حرام ہیں، حالانکہ ان کے علاوہ اور چیزیں بھی حرام ہیں، صرف ان کو کیوں خاص کیا؟

الجواب حامداًومصلیاً

اس آیت میں تمام حرام چیزوں کا ذکر کرنا مقصود نہیں ہے(حصر حقیقی نہیں ہے)بلکہ جن چیزوں میں کفار و مشرکین نے خود سے حکم لگایا ہوا تھا، ان کے مقابلے میں چند چیزوں کو ذکر کیا گیا ہے(حصر اضافی ہے)۔

لمافی التفسیر المنیر:(4/435،امیر حمزہ)
انما حرم اربعۃ اشیاء ھی :المیتۃ و الدم المفسوح و لحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ، لما فیہ من الضرر المادی والمعنوی الذی یمس العقیدۃ وعبادۃ اللہ ۔۔۔۔لکن الحصر المستفاد من ھذھ الآیۃ وامثالھا امرنسبی لامطلق وھذھ الآیۃ مخصوصۃ بالآیات والاخبار الدالۃ علی تحریم ما حرم من غیر الاربعۃ۔
وفی تفسیر المظھری:(1/170،رشیدیہ)
فان قیل کلمۃ انما للحصر وکم من حرام لم یذکر ؟ قلناالمختار عند الحنفیۃ ماقال نحاۃ الکوفۃ ان کلمۃ انما لیست للقصر بل ھی مرکبۃ من ان للتحقیق وما الکافۃ وعلی تقدیر التسلیم فالقصر اضافی بالنسبۃ الی ماحرمہ الکفارۃ من بحیرۃ وسائبۃ ووصلیۃ و حام ونحوھا واللہ اعلم ۔
وکذافی تفسیر القرطبی:(2/216،دار احیاءالتراث العربی)
وکذافی التفسیر الکبیر:(2/192،علوم اسلامیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14-2-1443،1443-7-12
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:154

! معتکف بھول کر یا لاعلمی کی وجہ سے مسجد کی حدود سے باہر نکل گیا، تو اعتکاف کا کیا حکم ہے؟ اور کتنی دیر بلاوجہ مسجد کی حدود سے باہر ٹھہرنے کی گنجائش ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اعتکاف کرنے والا شخص بھول کر یا لاعلمی کی وجہ سے مسجد کی حدود سے باہر تھوڑی دیر کے لیے بھی نکل گیا تو اس سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔

لمافی الھندیة:(1/212،رشیدیہ)
فلا یخرج المعتکف من معتکفہ لیلا ونھاراالا بعذر وان خرج من غیر عذر ساعۃ فسد اعتکافہ فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی کذا فی المحیط سواء کان الخروج عامدا او ناسیا۔
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/222،رشیدیہ)
“اذا خرج بغیر عذر ناسیا فسد اعتکافہ وان کان ساعۃ فی قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی ۔ “
وکذافی البحر الرائق:(2/529،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/284،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/444،فاروقیہ)
وکذافی التجنیس والمزید:(2/447،ادارةالقران)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/379،ادارةالقران)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(269،بشری)
وکذافی الھدایة:(1/248،میزان)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15-3-2022،1443-8-11
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:2

ایک آدمی کا بجلی والا میٹر خراب ہو گیا اوردو ہزار یونٹ آگے چلا گیاپھر ٹھیک ہو گیا ،اب اگر اس کا بل ادا کرے تو کم از کم 20سے 25 ہزار ادا کرنا پڑے گا ،اور اگر اس کو جلا دے اور نیا لگوا لے تو 5 ہزار لگے گا،کیا اس کےلیے میٹر جلانا جائز ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ہماری معلومات کے مطابق واپڈا کا ایک شعبہ (میٹر اینڈ ٹیسٹنگ ) کے نام سے ہے،جو اس طرح کے معاملات کو دیکھتاہے،آپ ان کے سامنے اپنا قضیہ رکھیں ،ان شاءاللہ وہ ضرور اس کا کوئی حل نکالیں گے۔

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
21/9/1440-2019/5/27
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:80