ایک آدمی آڑھتی کو گندم فروخت کرتا ہے لیکن قیمت طے نہیں کرتا بلکہ وہ یہ شرط لگاتا ہے کہ مجھے پیسوں کی ضرورت ہو گی میں اس وقت لوں گا،اور جس دن پیسے لینے آؤں گا تو اس دن گندم کی جو قیمت بازار میں ہو گی اس حساب سے آپ مجھے پیسے دے دینا۔کیا یہ معاملہ درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ بالا معاملے کا حاصل یہ ہے کہ ایک آدمی آڑھتی کوگندم قرض دیتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ بوقت ضرورت گندم یا اس دن کی قیمت وصول کر لوں گا،اگر گندم وصول کر لے یا اس کے بدلے میں پیسے وصول کر لے تو یہ جائز ہے۔

لما فی التاتارخانیہ:(9/385،فاروقیہ)
کل شیئ یکال او یوذن نحوالحنطۃ والشعیر والسمسم والتمروالزبیب جازاستقراضہ،……ذکرفی الاصل:اذااستقرض الدقیق وزنا لایردہ وزنا،ولکن یصطلحان علی القیمۃ،کما لو استقرض الحنطۃوزنا،وعن ابی یوسف فی روایۃ:یجوز استقراضہ وزنا استحسانا اذا تعارف الناس ذالک،وعلیہ الفتوی
وفی الفقہ الحنفی:(4/217،218،الطارق)
لواستقرض الطعام ببلد الطعام فیہ رخیص،……وعند الصاحبین علیہ قیمتہ.فقداتفقاعلی وجوب ردالقیمۃ دون المثل لانہ لما بطل وصف الثمنیۃ بالکساد تعذرردعینھا کما قبضھا فیجب ردقیمتھا.
وکذافی الفقہ الاسلامی:(5/3789،3790،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(33/124،علوم اسلامیہ)
وکذا فی تنویرالابصارعلی ردالمحتار:(7/409،410،رشیدیہ)
وکذا فی تنویرالابصاروشرحہ علی ردالمحتار:(7/392،393،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/8/1440-2019/4/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:36

ایک آدمی امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا کہ آخری رکعت کے سجدہ میں سو گیا جب امام نے سلام پھیرا تو اسے پتہ چلا،اب وہ کیا کرے،سلام پھیر دے یا تشہد پڑھ کر سلام پھیرے؟اگر سلام پھیر دیا تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

تشہد وغیرہ پڑھ کر سلام پھیرے اگر پہلے سلام پھیر دیا تو نماز نہ ہو گی۔

لما فی الھندیہ:(1/70،رشیدیہ)
ومنھا[الفرائض [القعودالأخیر)مقدارالتشہد…….[وعلی الصفحۃ71]ویجب التشہد فی القعدۃ الأخیرۃوکذا فی القعدۃالأولی وھو الصحیح ھکذا فی السراج الوھاج.”
وفی کنزالدقائق:(22،حقانیہ)
باب صفۃ الصلاۃ:فرضھا التحریمۃ والقیام والقراءۃوالرکوع والسجود والقعودالأخیر قدرالتشہد والخروج بصنعہ،وواجبھا قراءۃالفاتحۃوضم سورۃ وتعیین القراءۃ فی الأولیین ورعایۃالترتیب فی فعل مکرر وتعدیل الأرکان والقعودالأول والتشہد ولفظ السلام.
وکذا فی فی الھندیہ:(1/92،رشیدیہ) وکذا فی المحیط البرھانی:(3/112،داراحیاءتراث)
وکذا فیہ ایضا:(1/138،امدادیہ) وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(35/186،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الفقہ السلامی:(2/1228،رشیدیہ) وکذا فیہ ایضا :(2/807،808،812،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/103،104،105،106،امدادیہ) وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(251،قدیمی)
وکذا فی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(2/414،415،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:146

ایک لومڑی ہے وہ گھر میں آکر چوری کرتی ہے پھر بھاگ جاتی ہے اور بل میں گھس جاتی ہے،کیا ہم اس بل کے سامنے آگ جلا سکتے ہیں تاکہ یہ دھواں بل میں جائے اور لومڑی باہر نکل آئے تاکہ ہم اس کو مار دیں،کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

جائز ہے۔

لما فی التاتارخانیہ:(18/504،فاروقیہ)
“وفی الھدایۃ:ویجوز اصطیادما یؤکل لحمہ من الحیوان وما لا یؤکل.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2826،رشیدیہ)
یباح عندالحنفیۃاصطیاد ما فی البحر والبر،مما یحل أکلہ،ومالایحل أکلہ،غیر أن ما یحل أکلہ یکون اصطیادہ للانتفاع بلحمہ وبقیۃ أجزائہ،وما لا یحل أکلہ یکون اصطیادہ للانتفاع بجلدہ وشعرہ وعظمہ،أو لدفع أذاہ وشرہ،……الا صید الحرم
وکذا فی تنویر الابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(10/73،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(5/250،الطارق)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/191،رشیدیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر علی مجمع الانھر:(4/254،المنار)
وکذا فی مجمع الانھر:(4/255،المنار)
وکذا فی الدرالمنتقی علی مجمع الانھر:(4/255،المنار)
وکذا فی اللباب:(3/91،قدیمی)
وکذا فی الھدایہ:(1/263،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1440-2019/3/25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:125

ایک آدمی نے ظہر کی نماز مسجد میں جماعت سے پڑھی اور اس کے فوراً بعد سفر پر نکل گیا،جب عصر کا وقت داخل ہوا تو عصر کی نماز پڑھ لی ابھی مغرب کا وقت داخل نہیں ہوا تھا کہ اس نے سفر درمیان میں ترک کر کے واپسی شروع کر دی،جبکہ ابھی اس نے سفر شرعی کی مقدار طے نہیں کی تھی،بعد میں اسے یاد آیا کہ میں نے تو ظہر اور عصر بغیر وضو کے پڑھی ہے،اب اس کےلیے ان دو نمازوں کی قضاکا کیا حکم ہے؟یعنی قصر کی قضا کرے گا یا پوری کی قضا کرے گا؟

الجواب باسم ملہم الصواب

چونکہ یہ شخص ظہر کے وقت میں مسافر تھا اس لیے ظہر کی دو رکعات قضا کرے گا،اور عصر کے وقت مقیم بن چکا تھا اس لیے چار رکعات پڑھے گا۔

لما فی الھندیہ:(1/141،رشیدیہ)
رجل صلی الظہر ثم سافر فی الوقت ثم صلی العصر فی وقتہ ثم ترک السفر قبل غروب الشمس ثم ذکر انہ صلی الظہر والعصر بغیر وضوء،یصلی الظہر رکعتین والعصر اربعا
وفی فتاوی قاضی خان علی الھندیہ:(1/169،رشیدیہ)
رجل صلی الظہر فی منزلہ وھو مقیم ثم خرج الی السفر و صلی العصر فی سفرہ فی ذالک الیوم ثم تذکر انہ ترک شیئاًفی منزلہ فرجع الی منزلہ لاجل ذالک ثم تذکر انہ صلی الظہر والعصر بغیر طہارۃ فالواجب علیہ ان یصلی الظہر رکعتین والعصر اربعا لان صلاۃ الظہر کانھا لم تکن وصارت دینافی الذمۃ فی آخر وقتھا
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/386،400،داراحیاءتراث) وکذا فی الھندیہ:(1/139،رشیدیہ)
وکذا فی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(2/738،رشیدیہ) وکذا فی التاتارخانیہ:(2/506،فاروقیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/738،رشیدیہ) وکذا فی اللباب:(1/111،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:145

دو آدمیوں نےسودا کیا ،مثلا سو کاٹن ،فی کاٹن ڈیڑھ سو کے حساب سے ،بائع نے سو کاٹن کی قیمت وصول کر لی ،اب خریدنےوالا وقتاًفوقتاًاپنا مال لے جا رہا ہے حتی کہ 3 ماہ تک مشتری غائب رہا مال لینے نہیں آیا تو بائع نے اس کے غائب ہونے کو موت سمجھا اس لیے کہ رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا ،اور بقیہ مال تقریبا 40ً کاٹن اسی حساب سے دوسری جگہ فروخت کیا ،اس لیے کہ مال جہاں رکھا تھا اس گودام کا مالک گودام خالی کرنا چاہ رہا تھا ۔(نوٹ)جبکہ کسی ذریعے سے بعد میں یہ پتہ چلا کہ یہی مشتری مارکیٹ آتا جاتا رہا لیکن بائع کے سامنے نہیں آیا اس لیے کہ اب مال سستا تھا اس نے بقیہ مال نہیں لینا چاہا۔پھر 3ماہ بعد مشتری آیا اور بائع سے کہا کہ میرا مال دو۔بائع نے کہا کہ آپ کا مال ہم نے بیچ دیا آپ آئے نہیں اور گودام کا مالک گودام خالی کرنے کا کہ رہا تھا ہم مجبور تھے۔آپ کے جو پیسے ہم نے لیے تھے جن کا مال آپ نہیں لے گئے اپنے مال کے وہ پیسے واپس لے لو ۔لیکن مشتری انکار کر رہا ہےکہ مجھے یا تو میرا وہ مال واپس دو یا اس کی جو قیمت آج کل ہے وہ دے دو (اس لیے کہ اب تو مہنگاہے)بائع اس کو کہ رہا ہے کہ یہ نا جائز ہے اور مشتری مطالبہ کر رہا ہے۔اب یہ وضاحت فرما دیں کہ مشتری کا یہ مطالبہ جائز ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

بائع نے مشتری کا جو سامان بیچ دیا ہے اگر اس سامان کو واپس کرنا کسی طریقے سے ممکن ہو تو وہی سامان واپس کرنا ضروری ہو گا،ورنہ اس جیسا سامان خرید کر دےدے،اور اگر اس جیسا سامان بھی نہ ملتا ہو تو جتنے کا بیچا تھا اتنی رقم واپس کر دے۔

لما فی البحرالرائق:(8/198،199،رشیدیہ)
“ویجب رد عینہ فی مکان غصبہ او مثلہ ان ھلک وھو مثلی،وان انصرم المثلی فقیمتہ یوم الخصومۃ وما لا مثل لہ فقیمتہ یوم غصبہ.
وفی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(8/536،537،رشیدیہ)
وکذا لو خلطھا المودع)بجنسھا او بغیرہ(بمالہ)اومال آخر.ابن کمال (بغیر اذن)المالک(بحیث لاتتمیز)الا بکلفۃ کحنطۃ بشعیر ودراھم جیاد بزیوف.مجتبی(ضمنھا)لاستھلاکہ بالخلط لکن لا یباح تناولھاقبل اداء الضمان،……..(ولو انفق بعضھا فرد مثلہ فخلطہ بالباقی)خلطا لا یتمیز معہ(ضمن)الکل لخلط مالہ بھا.
وکذا فی البحرالرائق:(7/469،رشیدیہ)
وکذا فی اعلاء السنن:(16/65،ادارہ القرآن)
وکذا فی الھدایہ:(3/271،رشیدیہ)
وکذا فی القدوری:(143،144،الخلیل)
وکذا فی اللباب:(2/111،112،قدیمی)
وکذا فی مجمع الانھر:(3/471،المنار)
وکذافی بدائع الصنائع:(5/316،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/182،183،الحقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدسلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10/8/1440-2019/4/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:37

اگر کوئی شخص سجدہ سہو کرتے وقت بجائے سلام پھیرنے کے سجدہ میں چلا جائے تو کیا وہ دونوں سجدوں کے بعد تشہد شروع کر دے گا یا پہلے سلام پھیرے گا پھر تشہد پڑھے گا؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ایسی صورت میں سجدوں کے بعد تشہد پڑھے اور آخر میں سلام پھیر دے۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(462،قدیمی)
قولہ:(وقیل یجب فعلہ بعد السلام)فعلیہ لا یجوز قبلہ لتأدیتہ قبل وقتہ کذا فی الشرح.قولہ:(ما رویناہ)من أنہ صلی اللہ علیہ وسلم سجد بعد التسلیم،وھو لا یقتضی السنیۃ،بل یحتمل الوجوب وعبارۃ الشرح وجہ الظاہر أن فعلہ حصل فی محل مجتھد فیہ فلم یحکم بفسادہ اذ المعنی المعقول من شرعیتہ،وھوالجبر لا ینتفی بوقوعہ قبل السلام ،ولکنہ خلاف السنۃ عندنالما رویناہ،قال فی الھدایۃ:والخلاف فی الاولویۃ،ولاخلاف فی الجواز قبل السلام،وبعدہ لصحۃ الحدیث فیھما
وکذا فی جامع الترمذی:(1/198،رحمانیہ)
وکذا فی مراقی الفلاح :(462،قدیمی)
وکذا فی تنویرالابصاروشرحہ علی ردالمحتار:(2/651،652،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/163،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(1/517،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/384،385،الحقانیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(2/386،فاروقیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/417،418،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/7/1440-2019/3/25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:124

اشراق کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ کتنی رکعات ہیں؟حوالہ جات کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں

الجواب حامداً ومصلیاً

احادیث سے اشراق کی کم سے کم دو رکعات اور زیادہ سے زیادہ چار رکعات کا ثبوت ہے۔

لما فی الترغیب والترھیب:(1/178،رشیدیہ)
عن ا بی امامۃ رضی اللہ عنہ قال:من صلی الفجر ثم ذکراللہ حتی تطلع الشمس،ثم صلی رکعتین او اربع رکعات لم تمس جلدہ النار
وفی کنز العمال:(7/333،رحمانیہ)
من صلی الفجر فی جماعۃ ثم قعد یذکر اللہ تعالی حتی تطلع الشمس،ثم صلی رکعتین کانت لہ کاجر حجۃ و عمرۃتامۃتامۃتامۃ
وکذافی السنن ابی داؤد:(1/191،رحمانیہ)
وکذا فی شمائل الترمذی مع جامع الترمذی:(2/744،رحمانیہ)
وکذا فی شعب الایمان:(3/420،دارالکتب )
وکذا الترغیب والترھیب:(1/178،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440-2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:30

سورۃ زمر کے آخرمیں جہاں جہنم والوں اور جنت والوں کا ذکر ہے وہاں جہنمیوں کے ذکر والی آیت میں ہے”{حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا}“جبکہ جہاں جنت والوں کا ذکر ہے وہاں یوں ہے”{حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا}“پہلی آیت میں واؤنہیں جبکہ دوسری آیت میں واؤہے۔لہذا اس کی تفسیری و بلاغی وجوہ سے آگاہ کردیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

کافروں کےبارے میں فرمایا گیا ”{حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا}“کہ ان کے پہنچنےکےبعدجہنم کےدروازے کھولے جائیں گے پہلے سے کھلے ہوئے نہ ہوں گے،تاکہ وہ لوگ وہاں کھڑے ہو کر انتظار کریں ،یہ ان کی اہانت ،تذلیل اور رسوائی کےلیے ہے۔اور متقیوں کے بارے میں فرمایا گیا ”{حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا}“کہ جنت کے دروازے ان کےلیے پہلے سے کھل چکے ہوں گے ،اس سے مقصود اللہ کی طرف سےان کا اعزاز واکرام ہے کہ مہمان کے آنے سے پہلے ان کےلیے دروازے کھول دیے جائیں،اور جنتیوں کو دور سے ہی جنت کے مناظر اور اس کی خوشبوئیں آنا شروع ہو جائیں گی۔

لما فی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:(15/285،داراحیاء تراث)
وقد قیل:ان زیادۃالواو دلیل علی ان الابواب فتحت لھم قبل ان یاتوا لکرامتھم علی اللہ تعالی،والتقدیر حتی اذا جاءوھا وابوابھا مفتحۃ،بدلیل قولہ:{جنات عدن مفتحۃ لھم الابواب}وحذف الواو فی قصۃ اھل النار ،لانھم وقفوا علی النار وفتحت بعد وقوفھم اذلالا وترویعالھم
وفی تفسیر روح المعانی:(24/32،34،داراحیاء تراث)
حتی اذا جاءوھافتحت ابوابھا}لیدخلوھاوکانت قبل مجیئھم غیر مفتوحۃ فھی کسائر ابواب السجون لا تزال مغلقۃ حتی یاتی اصحاب الجرائم الذین یسجنون فیھا فتفتح لیدخلوھا فاذا دخلوھا اغلقت علیھم ،……….{حتی اذا جاءوھاوفتحت ابوابھا}وقرئ بالتشدید،والواو للحال والجملۃ حالیۃ بتقدیر قد علی المشہور،ای جاءوھا وقد فتحت لھم ابوابھا
وکذا فی الکشاف للزمخشری:(4/147،من منشورات البلاغہ)
وکذا فی نظم الدرر:(6/479،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی الاکلیل :(6/348،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی تفسیر ابی السعود:(5/425،الوحیدیہ)
وکذا فی تفسیر البحر المحیط:(7/425،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی تفسیرالبغوی:(4/88،89،دارالمعرفہ)
وکذا فی التفسیر الکبیرللرازی:(9/478،479،480،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10/8/1440-2019/4/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:38

جنابت کی حالت میں عورت بچے کو دودھ پلا سکتی ہے ،اس میں کراہت تو نہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

پلا سکتی ہے ،البتہ اگر وضو کرلے تو بہتر ہے۔

لما فی سنن ابی داؤد:(1/41،رحمانیہ)
عن عائشۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا أراد أن یأکل أو ینام توضأتعنی وھو جنب
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/292،فاروقیہ)
الظھیریۃ:ولو عاودجنب أھلہ أو نام قبل أن یتوضأ لم یکرہ……..واذا أراد الجنب الأکل فینبغی أن یغسل یدیہ ثم یتمضمض ثم یأکل
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(1/70،دارالمعرفہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/237،داراحیاءتراث)
وکذا فی تنویرالابصاروشرحہ علی ردالمحتار:(1/350،351،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(18/136،فاروقیہ)
وکذا فی شرح معانی الآثار:(88،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/7/1440-2019/3/25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:123

جس مسجد میں امام اور مؤذن مقرر نہ ہوں وہاں اگر جماعت کے وقت سے پہلے دو آدمی اذا ن دے کر جماعت کروا لیں تو کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

جس مسجد میں امام اور مؤذن مقرر نہ ہوں اس میں اذان و اقامت کے ساتھ دوسری جماعت نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ افضل ہے۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/240،رشیدیہ)
“(قولہ لا فی مسجد طریق)ای مسجد علی قارعۃطریق بحر(قولہ او مسجدلاامام لہ ولا مؤذن)ای ویصلی الناس فیہ فوجا فوجا فالافضل ان یصلی کل فریق باذان واقامۃ علی حدۃ بحر.”
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(2/1182،رشیدیہ)
وکذا فی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(2/342،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/342،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/605،رشیدیہ)
وکذا فی منحہ الخالق علی البحر:(1/605،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/373،الحقانیہ)
وکذا فی البنایہ:(2/383،رشیدیہ)
وکذا فی اعلاءالسنن:(4/279،ادارہ القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمدسلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:134