ایک آدمی کی پانچ نمازیں قضا ہوگئی ایک دن کی اب آیا یہ شخص ترتیب کے ساتھ ایک وقت میں پانچوں نمازیں پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرمذکورہ شخص کی بلوغت کے بعدان پانچ نمازوں کے علاوہ اورکوئی نماز قضا نہیں ہوئی تویہ شخص ”صاحب ترتیب“ہے،اس کے لیے قضا نمازیں ترتیب سے پڑھنالازم ہے اوراگر”صاحب ترتیب“نہ ہوتوپھرجب چاہے اورجیسے چاہے پڑھے۔

لما فی الھدایة: (1 /244 ،بشری )
ولوفاتتہ صلوات رتبھا فی القضاء،کما وجبت فی الاصل؛لان النبی صلی اللہ علیہ وسلم شغل عن اربع صلوات یوم الخندق،فقضاھن مرتبا،ثم قال ،صلوکمارایتمونی اصلی،الاان تزید الفوائت علی ست صلوات؛لان الفوئت قد کثرت فیسقط الترتیب فیمابین الفوائت نفسھا،کمایسقط بینھا وبین الوقتیۃ
وفی البنایة: (2 / 708 ،رشیدیة )
ولوفاتتہ صلوات رتبھا فی القضاء کماوجبت فی الاصل)ارادبھذاان بیان الترتیب کماانہ فرض بین الوقتیۃ والفائتۃفکذلک بین الفوائت نفسھا،الاان یزید علی ست
وکذافی الفقہ الاسلامی: (2 /1156 ،رشیدیة ) وکذافی الھندیة: (1 /123 ،رشیدیة )
وکذافی الشامیة: (2 /65 ،ایچ،ایم سعید ) وکذافی المبسوط: ( 1/ 154 ،دارالمعرفة )
وکذافی التاتارخانیة: (2 /445 ، فاروقیة) وکذافی فتح القدیر: (1 /507 ،رشیدیة )
وکذافی مجمع الانھر: (1 /214 ،المنار ) وکذا فی الفقہ الحنفی: (1 /304 ،الطارق )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/12/1444/5/17
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:133

دودھ پیتے بچے یا بچی کا پیشاب پاک ہے یاناپاک؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ناپاک ہے۔

لما فی الشامیة: (1 /318 ،ایچ،ایم،سعید )
وکذاکل ماخرج منہ موجبا لوضوء اوغسل مغلظ (وبول غیرماکول اللحم ولومن صغیرلم یطعم)الابول الخفاش قال ابن عابدین:(قولہ لم یطعم)ای لم یاکل فلابد من غسلہ
وفی الھندیة: (1 /46 ،رشیدیة )
کل ماخرج من بدن الانسان ممایوجب خروجہ الوضوءاوالغسل فھومغلظ۔۔۔۔۔۔۔۔وکذلک بول الصغیروالصغیرۃ اکلااولا
وکذافی البحرالرائق: (1 /398 ،رشیدیة ) وکذافی البنایة: (1 /400 ،رشیدیة )
وکذافی کتاب الفقہ: (1 / 19 ، حقانیة) وکذافی الفقہ الاسلامی: (1 /312 ،رشیدیة )
وکذافی آثارالسنن: (1 /18 ،امدادیة ) وکذافی اعلاءالسنن: (1 /415 ،ادارة القرآن )
وکذا فی المحیط البرھانی: ( 1/ 364 ،داراحیاء )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/28/7/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:107

شارک مچھلی حلال ہے یاحرام ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شارک مچھلی کے بارے میں بعض علماء فرماتے ہیں کہ حلال ہے جیساکہ ”الموسوعۃ الفقہیۃ“وغیرہ میں اوربعض دیگراھل علم حضرات فرماتے ہیں کہ حرام ہے،لیکن ہم نے جب اس میں غورکیا تویہ صرف شکل وصورت میں مچھلی کے مشابہ ہے باقی جتنی صفات ہیں وہ مچھلی والی نہیں مثلا(1) حیض کاآنا(2) انڈے نہیں ،بچے دینا(3) حملہ آور ہونا،لہذاچونکہ یہ مچھلی کے صرف صورت میں مشابہ ہے،باقی اس کے دوسرے اوصاف درندوں اور دیگرجانوروں والے ہیں،مچھلی والے نہیں اس لیے یہ حرام ہے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة: (5 /131 ،علوم اسلامیة )
والتمساح لان لہ نابا یفترش بہ لکنھم لم یستثنواسمک القرش فھوحلال ،وان کان لہ ناب یفترش بہ والظاھران التفرقۃ بینھما مبنیۃ علی ان القرش نوع من السمک لایعیش الا فی البحر بخلاف التمساح
وفی وفی فتح الباری: (9 /773 ،قدیمی )
وذکرالاطباء ان الضفدع نوعان بتی وبحری،فالبری یقتل آکلہ والبحری یضرہ،ومن المستثنی ایضا التمساح لکونہ یعدو بنابہ وعنداحمد فیہ روایۃ،ومثلہ القرش فی البحرالملح خلافالماافتی بہ
وکذافی الھندیة: (5 / 289 ،رشیدیة ) وکذافی تنویرالابصار: (6 /306 ،ایچ،ایم سعید )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (4 /2791 ، رشیدیة) وکذافی تکملة فتح الملھم: (3 /507 ،دارالعلوم )
وکذافی التجرید: (12 /6366 ،محمودیة ) وکذافی الھدایة: (4 /77 ،بشری )
وکذافی التاتارخانیة: (18 /490 ،فاروقیة ) وکذا فی بدائع الصنائع: (4 /114 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/8/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:27

ایک شخص کو پیشاب کے قطرے آتے ہیں تو کیا حکم ہے اس شخص کے وضو کے بارے میں ہر نماز کے لئے الگ وضو کرنا پڑے گا یا ایک ہی وضو کئی نمازوں کے لئے کافی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس شخص کواتنے وقفے سے قطرے آتے ہیں کہ وہ جلدی جلدی مختصر وضوکرکے جلدی جلدی مختصر نماز(فرائض وواجبات کی ادائیگی کے ساتھ)اداکرسکتا ہے یعنی تقریبا 5 منٹ کا وقفہ ہوتا ہو تواسے ہر نماز کے لئے نیا وضو کرنا ہوگا اور اگر مسلسل قطرے آتے ہیں،وقفہ نہیں ہوتا تو یہ شخص”معذور“شمار ہوگا ایسا شخص ہرنماز کے وقت کے لئے وضوکرے اور اس وقت میں فرض یا نفل وغیرہ سب اداکرسکتا ہے۔ کسی اور عذر کے پیش آنے سے وضو ٹوٹ جائے گا قطروں سے نہیں ٹوٹے گا،البتہ نماز کا وقت گذرنے پر اس کا وضو ٹوٹ جائے گااور یہ اس وقت تک معذور شمار ہوگاجب تک اسے ہر نماز کے وقت میں کم از کم ایک مرتبہ یہ عذر پیش آتا رہے۔

لما فی کتاب الفقہ: (1 /92 ،حقانیة )
واما حکمہ،فھو ان یتوضألوقت صلاۃ،ویصلی بذلک الوضوءماشاءمن الفرائض والنوال،فلایجب علیہ الوضوءلکل فرض ،ومتی خرج وقت المفروضۃ انتقض وضوءہ بالحدث السا بق علی العذر عند خروج ذلک الوقت
وفی تنویرالابصار مع الردالمختار: (1 /554 ،رشیدیة )
) ان استوعب عذرۃ تمام وقت صلاۃ مفروضۃ)بان لایجد فی جمیع وقتھا زمنا یتوضأویصلی فیہ خالیا عن الحدث(ولوحکما)لان الانقطاع الیسیر ملحق بالعدم(وھذاشرط)العذر(فی حق الابتداء وفی)حق(البقاءکفی وجودہ فی جزءمن الوقت)ولومرۃ(وفی)حق الزوال یشترط(استیعاب الانقطاع)تمام الوقت(حقیقۃ)لانہ الانقطاع الکامل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(فاذاخرج الوقت بطل)ای ظھر حدثہ السابق،حتی لوتوضأعلی الانقطاع ودا، الی خروجہ لم یبطل بالخروج مالم یطرأحدث آخر
وکذافی الھندیة: (1 /41 ،رشیدیة ) وکذافی الھدایة: (1 /119 ،بشریٰ )
وکذافی فتح القدیر: (1 / 181 ،رشیدیة ) وکذافی البحرالرائق: (1 /373 ،رشیدیة )
وکذافی البنایة: (1 /672 ،رشیدیة ) وکذافی بدائع الصنائع: (1 /163 ،رشیدیة )
وکذافی النھرالفائق: ( 1/ 139 ،قدیمی ) وکذا فی التجرید: (1 /368 ،محمودیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:72

زکوۃ میں سونا اورچاندی یا سونا اورنقدی کو جمع کرکے نصاب چاندی مکمل کیا،سال کے آخر میں صرف سونا یاصرف چاندی یا صرف نقدی ہے،جوکہ نصاب سے بھی کم ہے،تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہوگی یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں زکوۃ واجب نہیں،کیونکہ زکوۃ کے فرض ہونے کے لئےسال کے آخر میں بھی کامل نصاب کا مالک ہونا شرط ہے۔

لما فی بدائع الصنائع: ( 2/ 100 ،رشیدیة )
ولنا:ان کمال النصاب شرط وجوب الزکاۃ فیعتبر وجودہ فی اول الحول وآخرہ لاغیر،لان اول الحول وقت انعقادالسبب،وآخرہ وقت ثبوت الحکم،فاما وسط الحول فلیس بوقت انعقادالسبب ولا وقت ثبوت الحکم فلا معنی لاعتبار کمال النصاب
وفی التاتارخانیة: (3 /172 ،فاروقیة )
ولوکان الزیادۃوالنقصان فی العین قبل الحول ثم حال الحول وھی کذلک،ففی الزیادۃ تجب الزکاۃ زائدۃ؛لان تلک الزیادۃمستفادۃ فی خلال الحول فیضم الی الاصل،وفی النقصان لاتجب الزکاۃ،لان النصاب غیر کامل
وکذافی مجمع الانھر: (1 /307 ،المنار ) وکذافی المحیط البرھانی: (3 /156 ،داراحیاء )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (3 /1803 ،رشیدیة ) وکذافی الشامیة: (3 /278 ،رشیدیة )
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (717 ،قدیمی ) وکذافی فتح القدیر: (2 /228 ،رشیدیة )
وکذافی الھندیة: (1 /176 ،رشیدیة ) وکذا فی الھدایة: (1 /314 ،بشری )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:102

نماز شروع کرتے وقت ایک شخص نے زبان سے دو رکعت فرض کی نیت کی لیکن تکنیر کے بعد یاد آیا کہ میں عصر کی نماز پڑھ رہا ہوں،اب وہ شخص دل میں چار رکعت کی نیت کر لیتا ہے تو کیا اسکی نماز درست ہوگئی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر صرف زبان سے غلطی ہوئی ہےتو نماز ہوگئی اور اگر دل میں دو ہی کا ارادہ تھا تو نماز لوٹانی پڑے گی۔

لما فی فتح القدیر: (1/273 ،رشیدیہ )
فاذا ذکرہ بلسانہ کان عونا علی جمعہ ثم رایتہ فی التجنیس قال:والنیۃ بالقلب لانہ عملہ،والتکلم لا معتبربہ
وفی التاتارخانیہ: (2 /43 ،فاروقیہ )
وسئل ایضاً عمن یقول بلسنہ عند الشروع فی الصلاۃ قبل التکبیر”درآمدم بنماز“اویقول”اقتداءکردم بامام“ھل یصح ھذا وانہ اخبار عن الماضی؟قال:المعتبر قصد القلب،فان کان من قصدہ انہ یدخل فی صلاۃ نفسہ او شرع فی الصلاۃ متابعا للامام فیھا یکفیہ ذلک،ولایضرہ خلل اللفظ کما لا یضرہ عدم اللفظ
وکذافی شرح الحموی: (1 /157 ،ادارہ القرآن )
وکذافی التاتارخانیہ: (1 /40 ،فاروقیہ )
وکذافی الھندیہ: (1 /66 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی: (1 / 201 ،الطارق )
وکذافی النھر الفائق: (1 / 187 ، قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الھدایہ: (1 /158 ،بشریٰ )
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /330 ،رشیدیہ )
وکذا فی البنایہ: (2 /156 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/4/ 1444/9/11/2022
جلد نمبر :28 فتوی نمبر:78

ایک عورت سورہی تھی اس کا بچہ اس کے نیچے آکرمرگیااوراس عورت پرساٹھ (60)روزےتھے اور وہ عورت فوت ہوگئی تو اب اس کاکیا حکم ہے کہ روزوں کافدیہ دیاجائے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرمرحومہ نے وصیت کی تھی توورثاء پرلازم ہے کہ اس کے تہائی مال سے اس کے روزوں کافدیہ اداکریں اوراگروصیت نہیں کی توپھراگرخوش دلی سے ورثاء فدیہ اداکردیں توصحیح ورنہ ورثاء پرفدیہ دیناضروری نہیں۔

لما فی الھندیہ: (1 /207 ،رشیدیہ )
فان برئ المریض اوقدم المسافروادرک من الوقت بقدرمافاتہ فیلزمہ قضاء جمیع ماادرک فانلم یصم حتی ادرکہ الموت فعلیہ ان یوصی بالفدیۃ ویطعم عنہ ولیہ لکل یوم مسکینا نصف صاع من براوصاعا من تمراوصاعامن شعیر، فان لم یوص وتبرع عنہ الورثۃ جازولایلزمہھم من غیرایصاء
وفی الشامیة: (2 /643 ،رشیدیة )
ثم اعلم انہ اذااصوی بفدیۃ الصوم یحکم بالجوازقطعا،لانہ منصوص علیہ وامااذالم یوص فتطوع بھاالوارث
وکذافی الھندیة: (1 /125 ،رشیدیة ) وکذافی البحرالرائق: (2 /497 ،رشیدیة )
وکذافی الجوھرة النیرة: (1 / 346 ،قدیمی ) وکذافی التاتارخانیة: (3 /407 ،فاروقیة )
وکذافی الھدایة: (1 /353 ،بشری ) وکذا فی القدوری: ( 53 ،الخلیل )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/28/7/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:110

ایک آدمی نے ایک شخص سےسات لاکھ قرضہ لیا اور اپنی آٹا چکی اس کے پاس بطوررھن رکھوادی اوراس کے کاغذات اس کو جمع کراکے اس کو مالک بنادیا اورپھروہ چکی اس سے تین سال تک کرایہ پرلے لی ،کیایہ معاملہ جائزہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ معاملہ بالکل جائزنہیں۔

لما فی البحرالرائق: (8 /438 ،رشیدیة )
ولاینتفع المرتھن بالرھن استخداماوسکنی ولبسا واجارۃ واعارۃ) الرھن یقتضی الحبس الی ان یستوفی دینہ دون الانتفاع فلایجوزالانتفاع الابتسلیط منہ
وفی الھدایة: (4 /183 ،بشری )
ولیس لہ ان یبیع الابتسلیط من الراھن،ولیس لہ ان یؤاجرویعیر؛لانہ لیس لہ ولایۃ الانتفاع بنفسہ،فلایملک تسلیط غیرہ علیہ
وکذافی بدائع الصنائع: (5 /212 ،رشیدیة ) وکذافی فتح القدیر: (10 /169 ،رشیدیة )
وکذافی تنویرالابصار مع الدر: (6 /482 ،ایچ،ایم ) وکذافی الشامیة: (6 /482 ،ایچ،ایم )
وکذافی البنایة: (11 /571 ،رشیدیة ) وکذا فی کنزالدقائق: (439 ،حقانیة )
وکذا فی تبیین الحقائق: (6 /67 ،امدادیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/8/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:29

ایک طرف سلام پھیرنے کے بعدبات کرلی تونمازکاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دونوں سلام واجب ہیں لہذاواجب چھوڑنے کی وجہ سے نمازلوٹاناضروری ہے۔

لما فی الشامیة: (2 /199 ،رشیدیة )
ولفظ السلام)مرتین،فالثانی واجب علی الاصح
وفی الفقہ الحنفی: ( 1/ 209 ،الطارق )
الواجب ماکان دون الفرض وفوق السنۃ ولاتفسد الصلاۃ بترکہ،ویجب اعادۃ الصلاۃبترک واجب من واجباتھاعمدا،واذاترکہ سھوایجب اعادتھا ان لم یسجدلہ سجودالسھو،ویجب علیہ الاعادۃ فی وقت الصلاۃاوخارجہ،واذالم یعدالصلاۃ واصرعلی ذلک یکون فاسقا آثما وواجبات الصلاۃ ثمانیۃ عشر، وھی۔۔۔۔۔۔۔الثامن عشرلفظ السلام مرتین
وکذافی الھندیة: (1 /72 ،رشیدیة ) وکذافی الھدایة: (1 /187 ،بشری )
وکذافی فتح القدیر: (1 /328 ،رشیدیة ) وکذافی التجرید: (2 /611 ،محمودیة )
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (1 /201 ،رشیدیة ) وکذافی البنایة: (2 /337 ،رشیدیة )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی: (251 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:93