مرغی اور بطخ کی بیٹ پاک ہے یا نہیں؟(2)اگر کپڑے یا بدن کو لگ جائے تو نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مرغی اور بطخ کی بیٹ نجس ہے(2)اگر کپڑے یا بدن وغیرہ کو لگ جائےتو ایک درھم(پانچ روپے والے بڑے سکے کے) برابریا اس سے کم ہے تودھونا ضروری نہیں،اگر زیادہ ہے تو پھر دھونا ضروری ہے،بغیر دھوئے نماز نہیں ہو گی۔

لما فی البدائع الصنائع: (1 /197 ،رشیدیة )
واماالاوراث فکلھا نجسۃ عندہ عامۃ العلماء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ومنھا:خرء بعض الطیور من الدجاج والبط
وفی الھندیة: (1 /46 ،رشیدیة )
وخرء الدجاج والبط والاوز نجس نجاسۃ غلیظۃ
وکذافی التاتارخانیة: (1 /442 ،فاروقیة ) وکذافی تنویرالابصار وشرحہ: (1 /577 ،رشیدیة )
وکذافی تبیین الحقائق: (1 /73 ،امدایة ) وکذافی النھرالفائق: ( 1/ 147 ،قدیمی )
وکذافی البحرالرائق: (1 /395 ،رشیدیة ) وکذافی کنزالدقائق: (1 /16 ،حقانیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:99

اگربیوی نفل روزہ سے ہواور خاونداسے ہمبستری کے لئے بلائے توکیاعورت روزہ توڑسکتی ہے یا نہیں؟اوراگرروزہ توڑلے توبعد میں اس کی قضا ہوگی یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

خاوندکوبتادے کہ میراروزہ ہے اگرپھربھی بلائےتوروزہ توڑدے اوراس کے پاس چلی جائے،بعدمیں قضاکرلے۔

لما فی البخاری: ( 2/ 289 ،رحمانیة )
عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم:لاتصوم المرأوبعلھا شاھد الاباذنہ
وفی الدر المختار: (2/ 430، ایچ،ایم،سعید)
ولاتصوم المرأۃنفلاالاباذن الزوج الاعند عدم الضرربہ ولوفطرھاوجب القضاءباذنہ
وکذافی سنن ابی داؤد: (1 /355 ،رحمانیة ) وکذافی المسلم : (1 /387 ، رحمانیة)
وکذافی حاشیة مسلم: (1 /387 ،رحمانیة ) وکذافی الھندیة: (1 /201 ،رشیدیة )
وکذافی فیض القدیر: (6 /528 ،بیروت ) وکذافی فتح الباری: (9 /369 ،قدیمی )
وکذا فی الموسوعة الفقھیة: (28 /99 ،علوم اسلامیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/13/21/7/1444
جلد نمبر: 29 فتوی نمبر: 34

اگر کسی آدمی کی ملازمت کے دوران ایسی جگہ تقرری ہوجائے جو مسافت سفر پر ہو لیکن اسے وہاں قیام کی مدت معلوم نہ ہو۔یعنی کسی بھی وقت دوسری جگہ منتقلی ہوسکتی ہوتووہاں پرنمازقصرہوگی یامکمل؟

الجواب حامداً ومصلیاً

وہاں پر نماز قصرہوگی۔

لما فی الھندیة: (1 /139 ،رشیدیة )
ولایزال علی حکم السفر حتی ینوی الاقامۃ فی بلدۃ اوقریۃ خمسۃ عشر یوما اواکثر
وفی وفی الشامیة: (2 /731 ،رشیدیة )
اودخل بلدۃ ولم ینو)ای:مدۃ الاقامۃ (بل ترقب السفر)غدا اوبعدہ(ولوبقی)علی ذلک(سنین)الاان یعلم تاخرالقافلۃ نصف شھرکمامر(وکذا)یصلی رکعتین
وکذافی الھدایة: (1 /262 ، بشری) وکذافی الفقہ الاسلامی: (2 /1347 ،رشیدیة )
وکذافی البحرالرائق: (2 /233 ،رشیدیة ) وکذافی التاتارخانیة: (2 /496 ،فاروقیة )
وکذافی مجمع الانھر: (1 /241 ،المنار ) وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (426،قدیم)
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /268 ،رشیدیة ) وکذا فی المبسوط: (1 /237 ،دارالمعرفة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:90

وضوءکاجوپانی استعمال ہوگیاہےاس سے استنجاءہوجائے گایانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ہوجائےگا۔

لما فی الفقہ الحنفی: (1 /79 ،الطارق )
ویکرہ ان یشرب ماءمستعملااویطبخ بہ شیئاوتجوزازالۃ النجاسۃ بہ
وفی الفقہ الاسلامی: (1 /274 ،رشیدیة )
والمستعمل:ھوالذی اتصل بالاعضاء،لاکل الماءوحکمہ عندھم انہ طاھربنفسہ غیرمطھرلغیرہ من الحدث ویطھرالخبث ای انہ لایزیل الحدث من وضوءوغسل،ویزیل النجاسۃ الحقیقۃ عن الثوب والبدن علی الراجح المعتمد
وکذافی البحرالرائق: (1 /174 ،رشیدیة )
وکذافی ھامش الھدایة: (1 / 80 ،بشری )
وکذافی التاتارخانیة: (1 /344 ،فاروقیة )
وکذا فی المحیط البرھانی: (1 /276 ،داراحیاء )
وکذافی البنایة: (1 /344 ،رشیدیة )
وکذافی فتح القدیر: (1 /94 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
/2023/4/8/17/4/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:23

ایک شخص نے دو سال سے سونے کی زکوۃ ادا نہیں کی اب اداکرنا چاہتا ہے،دوسال قبل سونے کی قیمت موجودہ قیمت کے حساب سے کم تھی تو اب وہ شخص کس حساب سے زکوۃ اداکرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس مسئلے میں اختلاف ہے ایک قول یہ کہ موجودہ قیمت کے اعتبار سے زکوۃ دی جائے،دوسرا قول یہ کہ سابقہ قیمت کے اعتبار سے زکوۃ ادا کی جائے،دوسرا قول زیادہ صحیح اور مستحقین کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اس قول کے اعتبار سے لوگ زیادہ سے زیادہ زکوٰۃ ادا کریں گے جبکہ پہلا قول مستحقین کے لیے اس طرح نقصان دہ ہے کہ ہر آئے دن سونے کی قیمت بڑھ رہی ہے اس اعتبار سے لوگ زکوٰۃ ادا کرنا چھوڑ دیں گے۔

لما فی الھندیة: (1 /180 ،رشیدیة )
اذاکان لہ مائتا قفیز حنطۃ للتجارۃ تساوی مائتی درھم فتم الحول ثم زاد السعراو انتقص فان ادی من عینھا ادی خمسۃ اقفزۃ وان ادی القیمۃ تعتبر قیمتھا یوم الوجوب لان الواجب احدھما ولھذا یجبرالمصدق علی قبولہ وعندھما یو م الاداء وکذاکل مکیل او موزون اومعدود وان کانت الزیادۃ فی الذات بان ذھبت رطوبتہ تعتبرالقیمۃ یوم الوجوب اجماعا لان المستفاد بعد الحول لایضم وان کان النقصان ذاتا بان ابتلیت یعتبر یوم الاداء عندھم
وفی بدائع الصنائع: (2/111 ، رشیدیة)
وعند ابی یوسف ومحمد:ان ادی من عینھا یؤدی خمسۃ اقفزۃ فی الزیادۃ والنقصان جمیعا کما قال ابو حنیفۃ ،وان ادی من القیمۃ یؤدی فی النقصان درھمین ونصفا وفی الزیا دۃ عشرۃ درھم،لان الواجب الاصلی عندھما ھو ربع عشرالعین وانما لہ ولایۃ النقل الی القیمۃ یوم الاداءفیعتبر قیمتھا یوم الاداء،والصحیح ان ھذا مذھب جمیع اصحابنا لا ن المذھب عندھم انہ اذاھلک النصاب بعدالحول تسقط الزکاۃ سواء کان من السوائم اومن اموال التجارۃ
وکذافی التاتارخانیة: (3 /170 ،فاروقیة ) وکذا فی الشامیة: (3 /250 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:100

کیا یہ بات درست ہے کہ بچے کی ولادت کے بعدعورت پورے چالیس دن ناپاک رہتی ہے اگرچالیس دن سےپہلے خون بند ہوجائے،تب بھی یہ نمازوغیرہ نہیں پڑھے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ بات درست نہیں کہ بچے کی ولادت کے بعدعورت چالیس دن ناپاک رہتی ہے بلکہ چالیس دن سے پہلے بھی اگر خون بندہوجائے تونمازوغیرہ شروع کردے گی۔

لما فی فتح القدیر: (1 /190 ،رشیدیة )
واقل النفاس لاحدلہ)لاحد لاقل النفاس اتفق اصحابناعلی ان اقل النفاس مایوجد فانھاکماولدت اذارأت الدم ساعۃ ثم انقطع عنھاالدم فانھاتصوم وتصلی
وفی حاشیة الھدایة: (1 /122 ،بشری )
لاحدلہ:وعلیہ اتفق اصحابنا،فلوانقطع دل النفاس بعدالولادۃ فی ساعۃ یجب علیھاان تصوم وتصلی بعدالاغتسال ، صرح بذلک شیخ الاسلام فماتعارف فی زمانناھذامن ان النساءلاتؤدین الفرائض الابعدانقضاء اربعین یوماوان انقطع الدم قبلہ،ذنب کبیر
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /157 ،رشیدیة ) وکذافی البنایة: (1 /696 ،رشیدیة )
وکذافی الفقہ الحنفی: (1 /146 ،الطارق ) وکذافی الھندیة: (1 /37 ،رشیدیة )
وکذافی المبسوط: (3 /216 ،دارالمعرفة ) وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی: (1 / 140 ،قدیمی )
وکذافی التاتارخانیة: (1 /538 ،فاروقیة ) وکذا فی مجمع الانھر: ( 1/ 82 ، المنار)

 

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/171444/5/22
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:178

اگر کوئی عورت حج پر جانا چاہتی ہے اور اسکا دودھ پیتا بچہ ہے،کیا اسکو چھوڑ کرحج پر جا سکتی ہے یانہیں؟اگر نہیں تو کیا صورت ہوگی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر بچے کو ساتھ لے جانا ممکن نہ ہو تو اسکے دودھ یا خوراک وغیرہ کا قابل بھروسہ نظم کر کے جاسکتی ہے،لیکن اگر بچہ کو نا قابل برداشت تکلیف ہو مثلاًخدانخواستہ اس کی جان کو خطرہ ہو تو یہ عورت حج کو مؤخر کر دے۔

لما فی التاتارخانیہ: (3/688 ،فاروقیہ )
فاذا ارادالرجل ان یخرج الی الحج وابوہ کارہ لذلک فان کان الاب مستغنیا عن خدمتہ لا باس بذلک،وان لم یکن مستغنیا لایسعہ الخروج،والاجداد والجدات عند عدم الابوین بمنزلۃ الابوین وذکر فی السیر الکبیر:اذاکان لا یخاف علیھم الضیعۃفلاباس بالخروج،وکذلک ان کرہ خروج زوجتہ واولادہ

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/9/13/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:76

ایک آدمی کا نکاح ہواہے،لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی آیارخصتی سے پہلے طلاق واقع ہوسکتی ہے یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!واقع ہوسکتی ہے۔

لما فی القرآن الکریم: (الاحزاب : 49 )
یآایھاالذین آمنوااذانکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فمالکم علیھن من عدۃ تعتدونھا
وفی تنویرالابصار: (4 / 496 ،رشیدیة )
(قال لزوجتہ غیرالمدخول بھا انت طالق ثلاثاوقعن وان فرق بانت بالاولی لم تقع الثانیۃ)
وکذافی الھدایة: (2 / 350 ،رشیدیة ) وکذافی کنزالدقائق: (120 ،حقانیة )
وکذافی القدوری: (175 ،الخلیل ) وکذافی الفقہ الاسلامی: (9 /6950 ،رشیدیة )
وکذافی التاتارخانیة: (4 /428 ،فاروقیة ) وکذافی المحیط البرھانی: (4 /406 ،داراحیاء )
وکذافی الفتاوی الولوالجیة: (2 /23 ،الحرمین ) وکذا فی الھندیة: (1 /373 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/17/22/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:182

ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ جب تک میں دوسری شادی نہ کر لوں اسوقت تک تیرے قریب نہیں آؤں گا،اس بات کو چار ماہ ہو چکے ہیں،وہ بیوی کے قریب نہیں آیا،نہ تو کوئی ناراضگی ہوئی اور نہ قسم اٹھائی،تو کیا اسکی بیوی کو طلاق ہوگئی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اسکی بیوی کو طلاق واقع نہیں ہو گی،کیونکہ ایلاء کیلئے قسم یاکوئی ایسا لفظ جو قسم کے معنی میں ہو کہنا ضروری ہےاور صورت مسئولہ میں عبارت کے اندر الفاظ قسم موجود نہیں۔

لما فی التاتارخانیہ: ( 5/ 185، فاروقیہ)
وفی الینابیع:وینعقدالایلاءبکل لفظ ینعقد بہ الیمین کقولہ:واللہ،و:باللہ، و:تاللہ۔۔۔ (188) قال القدوری:ولایکون الایلاء الا بالحلف علی الجماع بالفرج خاصۃ
وفی الھندیہ: ( 1/ 477 ، رشیدیہ)
وفی الینابیع وینعقدالایلاء بکل لفظ تنعقد بہ الیمین کقولہ واللہ وباللہ وتاللہ وجلال اللہ وکبریاءاللہ وسائر الالفاظ التی تنعقد بھا الیمین ولا تنعقد بکل لفظ لا تنعقد بھا الیمین
وکذافی مجمع الانھر: ( 2/ 96 ، المنار)
وکذافی المبسوط: ( 7/ 19،دارالمعرفہ ) )
وکذافی کتاب الفقہ: ( 3/ 363،حقانیہ)
وکذا فی تنویر الابصار مع الدر المختار: ( 5/ 65،رشیدیہ )
وکذافی الھندیہ: ( 2/ 477،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:( 2/218،الطارق)
وکذافی بدائع الصنائع: ( 3/ 270،رشیدیہ)
وکذافی البنایہ: ( 5/ 268،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق: ( 2/ 426،قدیمی کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/3/1444/9/11/ 2022
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:62

چوتھے کلمے میں جوالفاظ”اَبَدًااَبَدَاذُوالجَلَالِ وَالاِکرَام“پڑھے جاتے ہیں کیایہ حدیث سے ثابت ہیں؟دوسرایہ کہ پانچواں کلمہ اَستَغفِرُاللہَ رَبِّی۔۔۔۔الخ اوراَلّٰلھُمَّ اَنتَ رَبِّی۔۔۔۔۔الخ یہ دوپڑھے جاتے ہیں ان میں سے کون ساکلمہ حدیث سے ثابت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

چوتھے کلمے کے مذکورہ الفاظ احادیث مبارکہ میں ہمیں نہیں ملے۔
پانچواں کلمہ اَلّٰلھَمَّ اَنتَ رَبِّی۔۔۔۔۔الخ یہ تو مکمل طورپرحدیث سے ثابت ہے لیکن اَستَغفِراللہَ رَبِّی۔۔۔۔الخیہ مکمل طورپراحادیث میں نہیں اس کلمے کے تھوڑے الفاظ ملتے ہیں۔
یادرہے چھ کلمے جوعلماء نے ذکرکیےہیں یہ عوام کی آسانی کے لیے بطوردعاواقرارکےذکر کیے ہیں جن سے ایک عام آدمی دین کی بہت ساری ضروری باتوں کازبان اوردل سے اقراروتصدیق کرلیتاہے احادیث میں ان کابالترتیب ہونا ضروری نہیں۔

لما فی فی البخاری: (2 /460 ،رحمانیة )
قال ابوھریرۃ سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول واللہ انی لاستغفراللہ واتوب الیہ فی الیوم اکثرمن سبعین مرۃ
وفی سنن الترمذی: (789 ،بیروت )
عن سالم بن عبداللہ بن عمر فحدثنی عن ابیہ عن جدہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:من دخل السوق فقال لاالہ الااللہ ووحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحیی ویمیت وھو حی لایموت بیدہ الخیر وھوعلی کل شیئ قدیر کتب اللہ لہ الف حسنۃ ومحی عنہ الف سیئۃ ورفع لہ الف درجۃ
وکذافی البخاری: (2 /474 ،رحمانیة ) وکذافی فی البخاری: (2 /474 ،رحمانیة )
وکذافی سنن الترمذی: (798 ،بیروت ) وکذافی مصنف عبدالرزاق: (2 /235 ،بیروت )
وکذافی مصنف عبدالرزاق: (2 /238 ،بیروت ) وکذافی مصنف ابن ابی شیبة: (6 /37 ،بیروت )
وکذافی مصنف ابن ابی شیبة: (6 /57 ،بیروت ) وکذا فی مصنف ابن ابی شیبة: (6 /57 ،بیروت )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/13/21/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:33