کشتی میں نمازپڑھناکیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کشتی میں بھی نماز پڑھناصحیح ہے،لیکن بہتریہ ہے کہ اگرآسانی سے ممکن ہو توکشتی سے اتر کرزمین پر نمازپڑھی جائے۔

لما فی الھندیة: ( 1/ 143 ،رشیدیة )
اماالصلاۃ فی السفینۃ فالمستحب ان یخرج من السفینۃ للفریضۃ اذاقدرعلیہ
وفی المحیط البرھانی: (2 /430 ،داراحیاء )
واذااستطاع الرجل الخروج من السفینۃ للصلاۃ،فأحب لہ ان یخرج ویصلی علی الارض،وان صلی فیھاجاز
وکذافی خلاصةالفتاوی: ( 1/ 193 ،رشیدیة )
وکذافی المصنف لعبدرالرزاق: ( 2/ 581،الاسلامی )
وکذافی التاتارخانیة: (2 /540 ،فاروقیة )
وکذافی التجرید: (2 /895 ،محمودیة )
وکذافی المبسوط: (1 /280 ،عالم الکتب )
وکذافی الموسوعة الفقہیہ: (25 /75 ،علوم اسلامیة )
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی: (408 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/17/22/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:183

قیام ہرنمازمیں فرض ہے یانہیں؟مثلافرضوں میں،سنتوں میں،وترمیں اورنفلوں میں.

الجواب حامداً ومصلیاً

فرضوں،وتراورفجرکی سنتوں میں قیام فرض ہے،دیگرسنتوں اورنفلوں میں فرض نہیں ہے۔

لما فی نورالایضاح مع شرحہ علی ھامش حاشیة الطحطاوی: (402 ،قدیمی )
یجوزالنفل)انماعبربہ لیشمل السنن المؤکدۃ وغیرھافتصح اذاصلاھا(قاعدامع القدرۃ علی القیام) وقدحکی فیہ اجماع العلماءوعلی غیرالمعتمد یقال:الاسنۃ الفجرلماقیل بوجوبھاوقوۃ تاکدھا
وفی الشامیة: (1 /444 ،سعید )
ومنھاالقیام)بحیث لومدیدیہ لاینال رکبتیہ ومفروضہ وواجبہ ومسنونہ ومندوبہ بقدرالقراءۃ فیہ (فی فرض) وملحق بہ کنذروسنۃ فجرفی الاصح (لقادرعلیہ)وعلی السجود،فلوقدرعلیہ دون السجودندب ایماؤہ قائدا
وکذافی الھندیة: (1 /69 ،رشیدیة )
وکذافی الھندیة: (1 /111 ،رشیدیة )
وکذافی البحرالرائق: (1 /509 ،رشیدیة )
وکذافی الفقہ الحنفی: ( 1/ 202 ،الطارق )
وکذافی مجمع الانھر: ( 1/ 130 ،المنار )
وکذافی تبیین الحقائق: (1 /104 ،امدادیة )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (1 /202 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/3/23/9/1/1444
جلد نمبر : 29 فتوی نمبر:162

قضاءحاجت کے بعد ہاتھ دھوناشرعااس کی کیاحیثیت ہے،سنت ہے یاواجب؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سنت ہے۔

لما فی سنن ابی داؤد: ( 1/ 18 ،رحمانیة )
عن ابی ھریرۃقال کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذااتی الخلاءاتیتہ بماء فی توراورکوۃ فاستنجی قال ابوداؤدفی حدیث وکیع ثم مسح یدہ علی الارض ثم اتیتہ بماءاٰخرفتوضا
وفی فتاوی النوازل: (41 ،حقانیة )
وغسل یدہ قبل الاستنجاءوبعدہ سنۃ
وکذافی سنن النسائی: (1 /29 ،رحمانیة )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (1 /354 ،رشیدیة )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 1/ 109 ،رشیدیة )
وکذافی الشامیة: ( 1/ 345 ،سعید )
وکذافی خلاصة الفتاوی: (1 /24 ،رشیدیة )
وکذا فی الھندیة: (1 /49 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
/2023/3/24/3/9/1444
جلد نمبر :29 فتوی نمبر:165

ایک شخص نے کہاکہ اگرمیری کمیٹی نکل آئی تومیں اس سال قربانی کروں گا،اس کی کمیٹی نکل آئی اوروہ صاحب نصاب بھی ہے تواس پر دوقربانیاں واجب ہیں یاایک ہی قربانی کافی ہوجائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ شخص پردوقربانیاں واجب ہوں گی،لیکن اگراس نے اس بات سے واجب قربانی ہی مرادلی ہوتوپھرایک قربانی واجب ہوگی۔

لما فی الشامیة: (9 /531 ،بیروت )
ولونذر انن یضحی شاۃ وذلک فی ایام النحروھوموسرفعلیہ ان یضحی بشاتین عندنا:شاۃ بالنذروشاۃ بایجاب الشرع ابتداء
وفی المحیط البرھانی: (8 /460 ،داراحیاء )
وفی اضاحی الزعفرانی الی اذاقال:للہ علی ان اضحی بشاۃ فی ایام النحرفان کان موسرا،فعلیہ ان یضحی بشاتین الاان یعنی بالایجاب مایجب علیہ لان النذرایجاب والایجاب ینصرف الی غیرالوجوب ظاھرا
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (4 /163 ،رشیدیة )
وکذافی خلاصة الفتاوی: (4 /320 ،رشیدیة )
وکذافی البحرالرائق: (8 /321 ،رشیدیة )
وکذافی التاتارخانیة: (17 / 415 ،فاروقیة )
وکذافی الھندیة: ( 5/ 291 ،رشیدیة )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 4/ 195 ، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/3/24/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:163

قبرکی اونچائی زمین سے کتنی ہو؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قبرکی اونچائی زمین سے ایک بالشت اونچی ہونا چاہیے،اگرقبرسے نکالی گئی مٹی بچی ہوئی ہے تواس کو ڈالنے سے تھوڑی سی اونچی ہو جائے تو اس کی گنجائش ہے۔

لما فی بدائع الصنائع: (2 /65 ،رشیدیة )
ثم جعل التسنیم فی وسطہ ومقدارالتسنیم ان یکون مرتفعا من الارض قدر شبر او اکثر قلیلا
وفی البنایة: (3 /301 ،رشیدیة )
 ویسنم القبر من التسنیم وتسنیم القبر رفعہ من الارض مقدارشبر او اکثر قلیلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وفی قاضی خان قدرشبر،وفی المہذب شخص القبربقدرشبر
وکذافی الھندیة : (1 /166 ،رشیدیة ) وکذافی الشامیة: (3 / 169 ، رشیدیة)
وکذافی الھدایة: (1 /292 ،بشریٰ ) وکذافی مجمع الانھر: (1 /275 ،المنار )
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (611 ،قدیمی ) وکذافی خلاصة الفتاوی: (1 /226 ،رشیدیة )
وکذافی : حاشیة الطحطاوی علی الدرالمختار (1 /281 ،رشیدیة ) وکذافی فتح القدیر: (2 /148 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:60

آج کل بطورگھاس کچھ فصلیں اگاتے ہیں مثلامکئی،جواروغیرہ اورپھرمرلے کے حساب سے ان کوبیچتے ہیں توکیا ان فصلوں پرعشرہوگایانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عشرواجب ہوگا۔

لما فی الشامیة: (3 /316 ،دارالمعرفة )
قولہ(حتی لواشغل ارضہ بھایجب العشر)فلواستنمی ارضہ بقوائم الخلاف ومااشبھہ اوبالقصب اوالحشیش وکان یقطع ذلک ویبیعہ کان فی العشر
وفی الھندیة: (1 /186 ،رشیدیة )
والحشیش والقصب وغصفون النخل اوفیھادلب اوصنوبرونحوھاوکان یقطعہ ویبیعہ یجب فیہ العشر
وکذافی بدائع الصنائع: (2 /178 ،رشیدیة )
وکذافی البنایة: (3 /499 ،رشیدیة )
وکذافی فتح القدیر: (2 /251 ،رشیدیة )
وکذافی الھدایة: (1 /322 ،بشری )
وکذافی مجمع الانھر: (1 /319 ،المنار )
وکذا فی فتاوی الولوالجیة: (1 /201 ،حرمین شریفین )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/4/6/15/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:26

کچھ عورتیں نذر مانتی ہیں کہ میری اولاد ہوگی تو میں گھر،گھر جا کر بھیک مانگوں گی اور اس کو لوگوں پر خیرات کروں گی تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ نذر ٹھیک نہیں ہے،لہذااس کا پورا کرنا درست نہیں ہے۔

لما فی الشامیة: (5 /548 ،رشیدیة )
نذران یتصدق بالف من مالہ وھو یملک دونھا لزمہ)ما یملک منھا(فقط)لانہ فیما لم یملک لم یوجد النذر فی الملک ولا مضافا الی سببہ فلم یصح۔۔۔۔۔۔۔۔وشرط صحۃ النذر ان یکون المنذور ملکا للناذر او مضافا الی السبب
وفی سنن ابی داود: (2 /115 ،رحمانیة )
عن عمران بن حصین عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا وفاء لنذر فی معصیۃ اللہ ولا فیما لا یملک ابن ادم
وکذافی الفقہ الاسلامی: (4 /2558 ،رشیدیة ) وکذافی التاتارخانیة: (6 /284 ،فاروقیة )
وکذافی البحرالرائق: (4 /498 ،رشیدیة ) وکذافی النھرالفائق: (3 /63 ،قدیمی )
وکذافی بدائع الصنائع: (4 /102 ،رشیدیة ) وکذافی المحیط البرھانی: (6 /352 ،داراحیاء )
وکذافی التجرید: (12 /6512 ،محمودیة ) وکذا فی سنن النسائی: ( 2/115 ،رحمانیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:95

عورت اعتکاف کے لیے مسجد میں بیٹھے یاگھرمیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت کامسجدمیں اعتکاف بیٹھنامکروہ ہے،اپنے گھرمیں نمازکے لیے جوجگہ بنائی گئی ہےوہیں اعتکاف بیٹھے۔

لما فی الشامیة: (3 / 494 ،رشیدیة )
امرأۃ فی مسجدبیتھا)ویکرہ فی المسجدای:تنزیھاکماھوظاھرالنھایۃ.وصرح فی البدائع بانہ خلاف الافضل
وفی البحرالرائق: (2 /527 ،رشیدیة )
والمرأۃتعتکف فی مسجد بیتھا یرید بہ الموضع المعد للصلاۃلانہ استرلھا،واشار تعتکف دون ان یقول یجب علیھاالی ان اعتکافھا فی مسجد بیتھاافضل فافاد ان اعتکافھافی مسجد الجماعۃ جائز وھومکروہ
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی: (699 ، قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی: (3 /379 ،داراحیاء )
وکذافی التاتارخانیة: ( 3/ 343 ،فاروقیة )
وکذافی بدائع الصنائع: (2 /281 ،رشیدیة )
وکذافی المبسوط: (3 /119 ،بیروت )
وکذافی تبیین الحقائق: (1/ 350 ،امدادیة )
وکذا فی فتح القدیر: (2 /400 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/03/25/1444/9/3
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:160

ایک دن میری ظہرکی پہلی چارسنتیں رہ گئیں،فرضوں کے بعدمیں نے پہلے چارسنت پڑھ لیں اورپھردو۔بعدمیں مجھے اس کا خیال آیاکہ پہلے تودوسنتیں پڑھنی تھیں اب چارسنتوں کودوبارہ پڑھناضروری ہے یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اصل طریقہ تویہی ہے کہ ایسی صورت میں فرضوں کے بعدپہلے دورکعت پڑھیں اورپھرچاررکعت،لیکن اگرکبھی اس کے خلاف ہوجائے توپھردوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔

لما فی الھندیة: (1 /112 ،رشیدیة )
واماالاربع قبل الظھراذافاتتہ وحدھابان شرع فی صلاۃ الامام ولم یشتغل بالاربع فعامتھم علی انہ یقضیھابعدالفراغ من الظھرمادام الوقت باقیاوھوالصحیح ھکذافی المحیط،وفی الحقائق یقدم الرکعتین عندھماوقال محمدرحمہ اللہ یقدم الاربع وعلیہ الفتوی کذافی السراج الوھاج
وفی الشامیة: (2 /621 ،دارالمعرفة )
ان خاف فوت رکعۃ یترکھاویقتدی (ثم یاتی بھا)علی انھاسنۃ(فی وقتہ)ای:الظھر(قبل شفعہ)عندمحمد،وبہ یفتی، اقول:وعلیہ المتون،لکن رجح فی الفتح تقدیم الرکعتین
وکذافی التاتارخانیة: (2 /302 ،فاروقیة ) وکذافی الجوھرة النیرة: (1 /188 ،قدیمی )
وکذافی المحیط البرھانی: (2 /235 ،داراحیاء ) وکذافی اعلاءالسنن: (7 / 137 ،ادارة القرآن )
وکذافی تحفة الاحوذی: (2 /512 ،قدیمی ) وکذافی غنیة المتملی: (399 ،رشیدیة )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (1 /301 ،رشیدیة )

 

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/17/22/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:179

ایک مدرسے میں موبائل پر پابندی کی وجہ سے طلبہ کے موبائل ضبط کیے گئے،تقریباًچھ سال ہو گئے ان میں سے کچھ کا پتا ہی نہیں چل رہا کہ وہ موبائل کس کے ہیں،اب آیاان موبائلوں کو بیچ کر ان کی رقم مدرسہ میں لگائی جا سکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ہر ممکن ذریعے سے مثلاًمدرسے کے ریکارڈ وغیرہ سے ان کے مالکان کا پتا کیا جائے اور ممکنہ پلیٹ فارمز پر اعلان بھی کرایا جائے یہاں تک کہ غالب گمان ہو جائے کہ ان کے مالک نہیں آئیں گے تو ان موبائلوں کو بیچ کر ان کی رقم بطور صدقہ مدرسے یا پھر کسی کارخیر میں لگائی جا سکتی ہے،لیکن اگر بعد میں کوئی مالک آگیا اور وہ صدقہ پر راضی نہ ہوا تو موبائل ضبط کرنے والے یا کروانے والے کو اسکی قیمت دینا پڑے گی۔

لما فی النھرالفائق: (3 /278 ،قدیمی کتب خانہ )
لقطۃالحل والحرم امانۃ ان اخذھا لیردھا علی ربھا واشھد وعرف الی ان علم ان ربھا لا یطلبھاثم تصدق فان جاء ربھا نفذہ او ضمن الملتقط
وفی الھندیہ: (2 /289 ،رشیدیہ )
ثم بعد تعریف المدۃ المذکورۃ الملتقط مخیر بین ان یحفظھا حبسہ وبین ان یتصدق بھا فان جاء صاحبھا فامضی الصدقۃ یکون ثوابھا وان لم یمضھا ضمن الملتقط اوالمسکین ان شاء لو ھلکت فی یدہ فان ضمن الملتقط لا یرجع علی الفقیر وان ضمن الفقیر لایرجع علی الملتقط
وکذافی الھدایہ: (2 /414 ،بشریٰ ) وکذافی التاتارخانیہ: (7 /424 ،فاروقیہ )
وکذافی الدارقطنی: (4 /108 ،العلمیہ ) وکذافی البحرالرائق: (5 /257 ،رشیدیہ )
وکذافی تنویرالابصار وشرحہ: (6 /434 ،رشیدیہ ) وکذافی البنایہ: (6 /770 ،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: (5 /299 ،رشیدیہ ) وکذا فی المحیط البرھانی: ( 8/ 172 ،داراحیاء )

 

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/13/17/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:79