میں ایک دفعہ نمازپڑھارہاتھادرمیان میں یادآیاکہ میراوضونہیں ہے میں نے نمازتوڑدی وضوکیاپھرآیااب آیاتکبیردوبارہ کہنی پڑے گی یاپہلی پراکتفاء کریں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پہلی تکبیرکافی ہے دوبارہ کہنے کی ضرورت نہیں۔

لما فی الھندیة: (1 /53 ،رشیدیة )
حضرالامام بعد اقامۃ المؤذن بساعۃ اوصلی سنۃ الفجربعدھالایجب اقامتھا
وفی الدرالمختار: (1 / 400 ،سعید )
صلی السنۃ بعدالاقامۃ اوحضرالامام بعدھالایعیدھا
وکذافی بدائع الصنائع: (1 / 374 ، رشیدیة)
وکذافی مجمع الانھر: (1 /118 ،المنار )
وکذافی فتح القدیر: (1 /258 ،رشیدیة )
وکذافی الشامیة: (1 / 400 ،سعید )
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر: (1 /187 ،رشیدیة )
وکذافی فی الفقہ الاسلامی: (1 /720 ،رشیدیة )
وکذا فی التاتارخانیة: (2 /144 ،فاروقیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/03/23/1/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:167

ایک آدمی نمازمیں آخری قاعدہ کےاندرتشہدپڑھ رہاتھااوراس کی توجہ تشہدسے ہٹ گئی،اس نے دوبارہ تشہدشروع کردیاتونمازکاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نمازہوگئی۔

لما فی الھندیة: (1 /127 ،رشیدیة )
ولوکررالتشھد فی القعدۃ الاولی فعلیہ السھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولوکررفی القعدۃ الثانیۃ فلاسھوعلیہ
وفی البحرالرائق: (2 /172 ،رشیدیة )
ولوکررالتشھد فی القعدۃ الاخیرۃفلاسھوعلیہ
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی: (461 ،قدیمی )
وکذافی التاتارخانیة: (2 /392 ،فاروقیة )
وکذافی المحیط البرھانی: (2 /315 ،داراحیاء )
وکذافی خلاصة الفتاوی: (1 /177 ،رشیدیة )
وکذافی فتح القدیر: (1 /521 ،رشیدیة )
وکذافی تبیین الحقائق: (1 /193 ،امدادیة )
وکذافی التجنیس والمزید: (2 /144 ،بیروت )
وکذا فی غنیة المتملی: (460 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/4/8/17/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:24

ایک بندے نے اپنی بیوی کو کہا کہ میں تمہیں تین لفظ کہتا ہوں اوروہ یہ ہیں کہ میں تمہیں دفع کرتا ہوں،میں تمہیں دفع کرتا ہوں،میں نے تمہیں دفع کیا،کتنی طلاق واقع ہوں گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگراس شخص نے یہ الفاظ طلاق کی نیت سے کہے تواس عورت کوایک طلاق بائن واقع ہوگئی لہذا یہ شخص دوبارہ نکاح کے بغیر اس عورت کواپنے پاس نہیں رکھ سکتا،لیکن اگراس شخص نے ان الفاظ کے ساتھ طلاق کی نیت نہیں کی تھی توطلاق واقع نہ ہوگی۔

لما فی الھندیة: (1 /376 ،رشیدیة )
ولوقال ابعدی عنی ونوی الطلاق یقع ومن الکنایات تنحی عنی ونجوت منی
وفی الھندیة: (1 /377 ،رشیدیة )
ولایلحق البائن البائن بان قال لھا انت بائن ثم قال لھاانت بائن لایقع الاطلقۃ واحدۃ بائنۃ
وفی الھدایة: (2 /101 ،بشری )
وبقیۃ الکنایات اذانوی بھاالطلاق کانت واحدۃ،وان نوی ثلاثاکان ثلاثا،وان نوی ثنتین کانت واحدۃ بائنۃ،وھذامثل قولہ :انت بائن،وبتۃ وبتلۃ،وحرام،وسرحتک،وفارقتک،واذھبی،وقومی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الاان یکون فی حالۃ مذاکرۃ الطلاق فیقع بھاالطلاق فی القضاء،ولایقع فیمابینہ وبین اللہ تعالی الاان ینویہ
وکذافی القدوری: ( 173 ،الخلیل ) وکذافی کنزالد قائق: (120 ،حقانیة )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (9 /6958 ،رشیدیة ) وکذافی الشامیة: (4 /516 ،رشیدیة )
وکذافی الھدایة: (2 /101 ،بشری ) وکذافی المحیط البرھانی: (4 /420 ،داراحیاء )
وکذافی الفقہ الحنفی: (2 /172 ،الطارق ) وکذا فی البنایة: (5 /105 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/25/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:109

ایک آدمی عام دنوں میں نماز کا اہتمام نہیں کرتا،کچھ داڑھی بھی کترواتا ہےاس کے پیچھے تراویح پڑھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسا آدمی فاسق ہے اور اسکے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے اس آدمی کو چاہیئے کہ سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔

لما فی الھدایہ: (1/198 ،بشریٰ )
ویکرہ تقدیم العبد،لانہ لا یتفرغ للتعلم۔والاعرابی لان الغالب فیھم الجھل۔والفاسق،لانہ لایھتم لامر دینہ
وفی التاتارخانیہ: (2 /250 ،فاروقیہ )
ویکرہ ان یکون الامام فاسقا،ویکرہ للرجال ان یصلوا خلفہ
وکذافی النھرالفائق: (1 /242 ،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی الشامیہ: (2 /334 ،رشیدیہ )
وکذافی الھندیہ: (1 /85 ،رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی: (1 / 265 ،الطارق )
وکذافی فتح القدیر: (1 / 390 ، رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ: (1 /368 ،حقانیہ )
وکذافی بحر الرائق: (1 /610 ،رشیدیہ )
وکذا فی البنایہ: (2 /391 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/4/ 1444 /9/11/2022
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:59

داڑھی کٹوانے والا اذان دے سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسا آدمی فاسق ہے اور فاسق کا اذان دینا مکروہ ہے۔

لما فی الھندیة: (1 /54 ،رشیدیہ )
یکرہ اذان الفاسق ولا یعاد ھکذا فی الذخیرۃ
وفی البحرالرائق: ( 1/ 458 ،رشیدیہ )
وکرہ اذان الجنب واقامتہ واقامۃ المحدث واذان المرأۃوالفاسق واقاعد والسکرن
وکذافی حاشیة ابن عابدین: (2 /75 ،دارالمعرفة ) وکذافی التاتارخانیة: (2 /145 ،فاروقیة )
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /372 ،رشیدیة ) وکذافی البنایة: (2 /108 ،رشیدیة )
وکذافی الجوھرة النیرة: (1 /125 ،قدیمی ) وکذافی مجمع الا نھر: ( 1/ 119 ،المنار )
وکذافی تبیین الحقائق: (1 /93 ،امدادیة ) وکذا فی النھرالفائق: (1 /179 ،قدیمی )

 

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/13/17/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:97

بیوی کی موت پر خاوند اسکو غسل دے سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

خاوند اپنی مرحومہ بیوی کو غسل نہیں دے سکتا۔

لما فی الشامیہ: ( 3/106،رشیدیہ )
المرأۃ تغسل زوجھا،لان اباحۃ الغسل مستفادۃ بالنکاح،فتبقی مابقی النکاح،والنکاح بعدالموت باق الیأن تنقضی العدۃ،بخلاف ما اذا ماتت فلا یغسلھا لانتھاء ملک النکاح لعدم المحل فصار أجنبیاً
وفی المبسوط: (2 /71 ،دارالمعرفہ )
ولو ماتت امرأۃ بین الرجال وفیھم زوجھا لم یکن لہ أن یغسلھا عندنا
وکذافی التاتارخانیہ: (3 /14 ،فاروقیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: (2 /35 ،رشیدیہ )
وکذا فی الھندیہ : (1 /160 ،رشیدیہ )
وکذافی فتح القدیر : (2 /109 ،رشیدیہ )
وکذافی البنایہ : (3 /212 ،رشیدیہ )
وکذافی کتاب الفقہ : (1 /429 ،حقانیہ )
وکذافی التجرید: (3 /1056 ،محمودیہ )
وکذافی محیط البرھانی: (3 /45 ،داراحیاء )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ حفظہ اللہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/4/ 1444/9 /11/ 2022
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:74

حلال جانورمثلابکری وغیرہ کے جھوٹے پانی سے وضوکرناجائزہے؟جبکہ دوسراپانی نہ ہو۔

الجواب حامداً ومصلیاً

جائزہے۔

لما فی بدائع الصنائع: (1 /201 ،رشیدیة )
وروی ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم توضأبسؤر بعیراوشاۃ،لکون اللعاب متولدمن لحمہ وماتولدمن الطاھرفطاھر
وفی البحرالرائق: (1 /222 ،رشیدیة )
وسؤرالآدمی والفرس ومایؤکل لحمہ طاھر
وکذافی المحیط البرھانی: (1 /282 ،داراحیاء ) وکذا فی شرح الوقایة: ( 1/ 92 ،امدادیة )
وکذا فی تنویرالابصار مع الدر: (1 /425 ،رشیدیة ) وکذا فی الھدایة: ( 1/89 ،بشری )
وکذا فی الفتح القدیر: (1 /112 ، رشیدیة) وکذا فی البنایة: (1 /429 ،رشیدیة )
وکذا فی التاتارخانیة: (1 /350 ،فاروقیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/02/8/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:72

حائضہ لڑکی کا مدرسے میں پڑھنے کیلئے جانا کیسا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حائضہ لڑکی کا مدرسے میں پڑھنے اور پڑھانے کی غرض سے جانا جائز ہے٬لیکن قرآن مجید بقصد تلاوت پڑھنا اور قرآن کو چھونا جائز نہیں ہے٬ہاں پڑھنے پڑھانے کی غرض سے ایک٬ایک کلمہ کر کے پڑھنا جائز ہے۔

لما فی تنویرالابصار مع الردالمختار : ( 1/ 535،رشیدیہ )
قولہ:(وقراءۃقرآن)ای: ولو دون آیۃ من المرکبات لاالمفردات،لأنہ جوّز للحائض المعلمۃ تعلیمہ کلمۃ،کلمۃ کماقدمناہ وکالقرآن والتوراۃوالانجیل والزبور کما قدمہ المصنف․ قولہ)بقصدہ)فلو قرأت الفاتحۃعلی وجہ الدعاء أوشیئامن الآیات التی فیھا معنی الدعاء ولم تردالقرأۃ لابأس بہ
وفی المحیط البرھانی : ( 1/ 403، دار احیاء)
واذاحاضت المعلۃ٬فینبغی لھا أتعلم الصبیان کلمۃ٬کلمۃوتقطع بین الکلمتین علی قول الکرخی٬وعلی قول الطحاوی تعلم نصف آیۃ وتقطع٬ثمتعلم نصف آیۃ٬ولا یکرہ لھا التہجی بالقرآنوکذا لا یکرہ لھا قراءۃدعاءالقنوت اللھم انا نستعینک
وکذافی التاتارخانیہ: ( 1/ 480 ، فاروقیہ)
وکذا فی الھندیہ: (1 / 38، رشیدیہ)
وکذا فی النھر الرائق: (1/ 132، قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی: (1/ 120،طارق)
وکذا فی البنایہ: (1 / 643، رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: (1 / 171، رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع: (1 / 163، رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط: (3 / 102،دارالمعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ حفظہ اللہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24 /10/ 2022/27/3 /1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:61

حالت جنابت اور حالت حیض میں قرآن پاک کی تلاوت کرنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز نہیں،البتہ قرآن کریم کی کوئی آیت دعا،شکر،وغیرہ کے ارادے سےپڑھے تو اس کی گنجائش ہے۔

لما فی الترمزی: (1 / 129 ،رحمانیة )
عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا تقرأالحائض ولاالجنب شیئا من القرآن
وفی الھندیة: (1 /38 ،رشیدیة )
ومنھا) حرمۃ قراءۃالقرآن،لا تقرأالحائض والنفسآء والجنب شیئا من القرآن والآیۃ ومادونھا سواء فی التحریم علی الاصح الا ان لایقصد بما دون الآیۃالقراءۃمثل ان یقول الحمد للہ یریدالشکر او بسم اللہ عند الاکل او غیرۃفانہ لا باس بہ
وکذافی سنن ابن ماجة: (1 /44 ،قدیمی ) وکذافی الھدایة: (1 /115 ،بشری )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 1/ 163 ،رشیدیة ) وکذافی المبسوط: (3 /102 ،دارالمعرفة )
وکذافی النھرالفائق: ( 1/132 ،قدیمی ) وکذافی البنایة: (1 /663 ،رشیدیة )
وکذافی التاتارخانیة: (1 / 480 ،فاروقیة ) وکذا فی الشامیة: (1 /535 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:103

حالت احرام میں خوشبووالی ٹافی یاببل کھانے کاکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صدقہ اوردم میں سے کوئی چیزواجب نہیں ہوگی،مگرحالت احرام میں اس طرح کی مشتبہ چیزوں سے بچناچاہیئے۔

لما فی غنیة الناسک: (246 ،ادارة القرآن )
فلواکل طیباکثیرا،وھوان یلتصق باکثر فمہ یجب الدم،وان کان قلیلابان لم یلتصق باکثرفمہ فعلیہ الصدقہ، ھذااذااکلہ کماھومن غیرخلط اوطبخ،فلوجعلہ فی الطعام وطبخہ،فلاباس باکلہ لانہ خرج من حکم الطیب، وصارطعاما،وکذلک کل ماغیرتہ النارمن الطیب،فلاباس باکلہ،ولوکان ریح الطیب یوجد منہ،وان لم تغیرہ الناریکرہ اکلہ اذاکان یوجدمنہ رائحۃ الطیب،وان اکل فلاشئ علیہ
وفی بدائع الصنائع: (2 /417 ،رشیدیة )
ونوع لیس بطیب بنفسہ لکنہ اصل الطیب،یستعمل علی وجہ الطیب ویستعمل علی وجہ الادام کالزیت والشیرج فیعتبرفیہ الاستعمال،فان استعمل استعمال الادھان فی البدن یعطی لہ حکم الطیب وان استعمل فی ماکول اوشقاق رجل لایعطی لہ حکم الطیب کالشحم،ولوکان الطیب فی طعام طبخ وتغیرفلاشئ علی المحرم فی اکلہ سواء کان یوجد ریحہ اولالان الطیب صارمسھلکافی الطعام بالطبخ،وان کان لم یطبخ یکرہ اذاکان ریحہ یوجدمنہ ولاشیئ علیہ
وکذافی البحرالرائق: (3 /9 ،رشیدیة )
وکذا فی الفقہ الاسلامی: (3 /2298 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/9/1444/8/4/2023
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:27