اگر نوٹ نجس ہو جائے تو اسکے پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نوٹ کو پانی کے ساتھ دھونے سے چونکہ نوٹ کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے،اس لیے کسی اور ایسی پاک مائع چیز سے دھو لیں جو نجاست کو دور کر دے اور اس سے نوٹ بھی ضائع نہ ہو،جیسے پٹرول اور سپرٹ وغیرہ تو اس سے وہ نوٹ پاک ہو جائے گا۔

لما فی تنویرالابصار وشرحہ: (1 /560 ،رشیدیہ )
یجوز رفع نجاسۃ حقیقۃ عن محلھا)۔۔۔۔۔۔۔(بماءولو مستعملا)بہ یفتی(وبکل مائع طاھر قالع)للنجاسۃ ینعصر بالعصر(کخل وماءورد)
وفی الھندیہ: (1 /41 ،رشیدیہ )
یجوز تطھیرالنجاسۃ بالماءوبکل مائع طاھر یمکن ازالتھا بہ کالخل وماءالورد ونحوہ ممااذا عصر انعصر
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /240 ،رشیدیہ ) وکذافی البحرالرائق: (1 /384 ،رشیدیہ )
وکذافی تبیین الحقائق: (1 /69 ،امدادیہ ) وکذافی فتح القدیر: (1 /194 ،رشیدیہ )
وکذافی الھدایہ: (1 /124 ،بشریٰ ) وکذافی الفقہ الحنفی: (1 /58 ،الطارق )
وکذافی التجرید: (1 /60 ،محمودیہ )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/13/17/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:71

کمال احمد نسرین سے شادی کرنا چاہتا ہے،لیکن اسے معلوم ہے کہ اسکے نانا نے،نسرین کی ماں سے زنا کیا ہوا ہے تو کیا اب ان دونوں کا نکاح ہو سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں :کمال احمد ،نسرین سے شادی کر سکتا ہے۔

لما فی ردالمحتار: ( 4/ 113،رشییدیہ )
ویحل لاصول الزانی وفروعہ أصول المزنی بھا وفروعھا
وفی مجمع االانھر: ( 1/ 481، المنار)
والزنا یوجب حرمۃ المصاھرۃ)حتی لو زنا بامرأۃ حرمت علیہ اصولھا وفروعھا،وحرمت المزنیۃ علی اصولہ وفروعہ ولا تحرم اصولھا وفروعھا علی ابن الواطئ وأبیہ کما فی المخیط للسرخسی
وکذافی الھدایہ : ( 2/ 13 ، بشری)
وکذافی النھر الفائق: (2 /193،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی فتح القدیر: (3 /210 ،رشیدیہ )
وکذا فی البنایہ: (4 /526،رشیدیہ )
وکذا فی الھندیہ: (1/274،رشیدیہ )
وکذا فی التاتارخانیہ: (4 /49 ،فاروقیہ)
وکذا فی المبسوط: 4(/204 ،دارالمعرفہ)
وکذا فی بدائع الصنائع: (2/535،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ حفظہ اللہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/3/1444/ 6 /11/ 2022
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:93

 

اگرمیت کوکسی شرعی عذرکی وجہ سے تیمم کرایہ جائے توتیمم کاکیاطریقہ ہے؟پورے جسم پریاہاتھوں اورچہرے پرتیمم کرایاجائے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عذرکی وجہ سے میت کوویسے ہی تیمم کرایاجائے جیسے نمازکے لئے کیاجاتاہے،یعنی جوشخص تیمم کرائے وہ مٹی وغیرہ پرہاتھ پھیر کرپہلے میت کے چہرے پرپھیردے،پھردوسری مرتبہ مٹی وغیرہ پرہاتھ پھیرکردونوں کہنیوں تک پھیردے۔

لما فی التاتارخانیة: (3 /13 ،فاروقیة )
غسل المیت یسقط باسباب،احدھا:انعدام الغاسل،حتی ان الرجل اذامات بین یدی النسآءفی السفرییمم والثانی:انعدام ماءیغسل بہ فاذامات الرجل فی السفرولیس ھناک ماءطاھرییمم ویصلی علیہ
وفی الشامیة: (1 /435 ،رشیدیة )
التیمم ضربتان:ضربۃ للوجہ،وضربۃ للیدین الی المرفقین،فقلت:کیف ھو؟فضرب بیدیہ علی الصعیدفاقبل بھماوادبرثم نفضھماثم مسح بھماوجھہ،ثم عادکفیہ علی الصعیدثانیافاقبل بھماوادبرثم نفضھما،ثم مسح بذلک ظاھرالزراعین وباطنھماالی المرفقین
وکذافی الھدایة: (1 /49 ،المیزان )
وکذافی المحیط البرھانی: (3 /50 ،داراحیاء )
وکذافی الھندیة: (1 /26 ،رشیدیة )
وکذافی مجمع الانھر: (1 /61 ،المنار )
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /165 ،رشیدیة )
وکذافی الفقہ الحنفی: (1 /153 ،قدیمی )
وکذا فی خلاصة الفتاوی: (1 /34 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/4/6/15/9/1444
جلد نمبر:30فتوی نمبر:25

منی اور مذی میں کیا فرق ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

منی گاڑھی ہوتی ہے اس کے نکلنے کے بعد شہوت ختم ہوجاتی ہے جب کہ مذی پتلی ہوتی ہے اور اس کے نکلنے سے شہوت ختم نہیں ہوتی۔

لما فی الھدایہ: (1 /74 ،بشریٰ )
والمنی:خاثر ابیض ینکسر منہ الذکروالمذی:رقیق یضرب الی البیاض،یخرج عند ملاعبۃ الرجل اھلہ.
وفی الھندیہ: (1 /10 ،رشیدیہ )
ومنی الرجل خاثر ابیض رائحتہ کرائحۃ الطلع فیہ لزوجۃ ینکسر الذکر عند خروجہ ومنی المراۃ رقیق اصفر والمذی رقیق یضرب الی البیاض یبدوخرجہ عندالملاعبۃ مع اھلہ
وکذافی التاتارخانیہ: (1 /282 ،فاروقیہ ) وکذافی فتح القدیر: (1 /65 ،رشیدیہ )
وکذافی البحرالرائق: (1 /102 ،رشیدیہ ) وکذافی بدائع الصنائع: (1 /149 ،رشیدیہ )
وکذافی البنایہ: (1 /291 ،رشیدیہ ) وکذافی المحیط البرھانی: (1 /229 ،دار احیاء )
وکذا فی الجوھرة النیرہ: (1 /43 ،قدیمی کتب خانہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/11/13/17/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:75

شریعت مطہرہ میں منگنی کی کیاحیثیت ہے اوریہ کرناگناہ میں شامل ہے یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

منگنی کی شرعی حیثیت وعدہ نکاح ہے،اگردیگرناجائزامورناپائے جائیں توگناہ نہیں ہے۔

لما فی سنن النسائی: (2 /495 ،رحمانیة )
عن عبد اللہ بن بریدۃ عن ابیہ قال خطب ابوبکروعمررضی اللہ عنھمافاطمۃ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھاصغیرۃ فخطبھاعلی فزوجھامنہ
وفی الشامیة: ( 3/ 11 ،سعید )
لوقال ھل اعطیتنیھافقال اعطیت ان کان المجلس للوعد فوعد وان کان للعقد فنکاح
وکذافی سنن ابی داؤد: (1 /301 ،رحمانیة )
وکذافی مشکاة المصابیح: (2 /276 ،رحمانیة )
وکذافی البحرالرائق: (3 /148 ،رشیدیة )
وکذا فی الفقہ الاسلامی: (9 /6492 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/3/23/1/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:158

اگرامام اورمقتدی دونوں مسافر ہوں اورمقتدی کی ایک رکعت رہ جائے توکیاوہ اپنی رہی ہوئی رکعت میں قراءت کرے گایانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مقتدی قراءت کرے گا۔

لما فی المحیط البرھانی: (3 /112 ،داراحیاء )
ومن حکم المسبوق انہ یصلی اولاماادرک مع الامام،فاذافرغ الامام من صلاتہ ماسبق بہ۔۔۔۔۔۔۔۔والمسبوق فی الحکم کانہ منفرد ولھذاکان علیہ القراءۃ فیمایقضی
وفی الشامیة: (1 /596 ،سعید )
والمسبوق من سبقہ الامام بھااوببعضھاوھومنفرد)حتی یثنی ویتعوذویقرأ(فیمایقضیہ)ای بعدمتابعتہ لامامہ فلوقبلھافالاظھرالفساد،ویقضی اول صلاتہ فی حق قراءۃ،وآخرھافی حق تشھد
وکذافی التاتارخانیة: (3 /97 ،فاروقیة )
وکذافی خلاصة الفتاوی: (1 /165 ،رشیدیة )
وکذافی النھرالفائق: (1 /198 ،قدیمی )
وکذافی الشامیة: (1 / 595 ،سعید )
وکذا فی الموسوعة الفقہیة: (37 /164 ،علوم اسلامیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/3/23/1/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:164

کیا معتکف آدمی جنازہ پر جا سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

معتکف کا صرف جنازہ کے لئے مسجد سے جانا جائز نہیں البتہ اگر اپنی طبعی یا شرعی حاجت(مثلا پیشاب پاخانہ یاجمعہ کی ادائیگی وغیرہ)کے لئے نکلا ہواوراس کے راستے ہی میں جنازہ تیارہو توپڑھ سکتاہے۔

لما فی بدائع الصنائع: (2 /284 ،رشیدیة )
 ویجوز ان تحمل الرخصۃ علی ما اذاکان خرج المعتکف لوجہ مباح کحاجۃ الانسان او للجمعۃ ثم عاد مریضا او صلی علی جنازۃ من غیر ان کان خروجہ لذلک قصدا،وذلک جائز
وفی البحرالرائق: (2 /529 ،رشیدیة )
واشار الی انہ لوخرج لحاجۃ الانسان ثم ذھب لعیادۃ المریض او لصالاۃ الجنازۃ من غیر ان یکون لذلک قصد فانہ جائز بخلاف مااذاخرج لحاجۃ الانسان ومکث بعد فراغہ انہ ینتقض اعتکافہ
وکذافی الھندیة: (1 /213 ،رشیدیة ) وکذافی تبیین الحقائق: (1 /351 ،رشیدیة )
و کذافی الشامیة: (3 /506 ،رشیدیة ) وکذافی التاتارخانیة: (3 /445 ،فاروقیة )
وکذافی المحیط البرھانی: (3 /380 ،داراحیاء ) وکذافی النھرالفائق: (2 /46 ،قدیمی )
وکذافی الفقہ الاسلامی: (3 /1766 ،رشیدیة ) وکذافی سنن ابی داود: (1 /357 ،رحمانیة )

 

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:58

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی اور دینے کے بعد اس کے ساتھ ہمبستری بھی کی جس کے نتیجے میں بچہ ہوگیا اب آیا اس بچہ کا نسب اس آدمی سے شمار ہوگا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ بچہ کا نسب اس آدمی سے ثابت نہیں ہوگا۔

لما فی الھدایة: (2 /273 ،بشریٰ )
ثم الشبھۃنوعان:شبھۃفی الفعل،وتسمی شبھۃاشتباہ،وشبھۃفی المحل،وتسمی شبھۃ حکمیۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔والنسب یثبتفی الثانیۃ اذاادعی الولد،ولایثبت فی الاولی وان ادعاہ؛لان الفعل تمحض زنا فی الاولی۔ فشبھۃ الفعل فی ثمانیۃ مواضع:جاریۃابیہ وامہ وزوجتہ،والمطلقۃ ثلاثا وھی فی العدۃ،وبائنا بالطلاق علی مال وھی فی العدۃ
وفی التاتارخانیة: (6 /360 ،فاروقیة )
ولوطلق امراتہ ثلاثا او طلقھا بمال او خالعھا ثم وطأھا فی العدۃ وقال” ظننت انھا تحل لی“لا حد علیہ واذا لم یجب الحد فی ھذہ المسائل یجب العقرولا یثبت نسب الولد
وکذافی المحیط البرھانی: (6 /436 ،دار احیاء ) وکذافی الشامیة: (6 /33 ،رشیدیة )
وکذافی الھندیة: (2 /148 ،رشیدیة ) وکذافی بدائع الصنائع: ( 5/491 ،رشیدیة )
وکذافی البحر الرائق: (5 /23 ،رشیدیة ) وکذافی تبیین الحقائق: (3 /175 ،رشیدیة )
وکذافی فتح القدیر: (5 /237 ،رشیدیة ) وکذا فی سنن ابی داود: (1 /329 ،رحمانیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:64

ایک آدمی نے کہا میں اپنی اس زمین میں مسجد بناؤں گا لیکن ساتھ میں ایک اور پلاٹ بک رہا تھا تو آیا یہ شخص اس زمین کو بیچ کران پیسوں سے وہ زمین خرید کروہاں مسجد بناسکتاہے یا نہیں؟نیز اس آدمی نے وہ زمین وقف بھی نہیں کی صرف مسجد بنانے کا کہا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ زمین نہ مسجد ہے نہ ہی مسجد کے حکم میں ہے،لہذااس زمین کو بیچ کر اس کی رقم سے دوسری جگہ مسجد کے لئے زمین خریدنا جائز ہے۔

لما فی الھدایة: (2 /453 ،بشریٰ )
واذابنی مسجدا لم یزل ملکہ عنہ حتی یفرزہ عن ملکہ بطریقہ،ویأذن للناس بالصلاۃ فیہ،فاذا صلی فیہ واحدا زال عند ابی حنیفۃ عن ملکہ۔اماالافرازفلانہ لایخلص للہ تعالی الا بہ،واماالصلاۃفیہ فلانہ لابد من التسلیم عند ابی حنیفۃ ومحمد،ویشترط تسلیم نوعہ،وذلک فی المسجد بالصلاۃ فیہ،او لانہ لماتعذرالقبض یقام تحقق المقصودمقامہ
وفی بدائع الصنائع: (5 /326 ،رشیدیة )
واجمعوا علی ان من جعل دارہ او ارضہ مسجدا یجوز وتزول الرقبۃ عن ملکہ لکن عزل الطریق وافرازہ والاذن للناس بالصلاۃ فیہ والصلاۃ شرط عند ابی حنیفۃ ومحمد حتی کان لہ ان یرجع قبل ذلک
وکذافی التاتارخانیة: (8 /156 ،فاروقیة ) وکذافی البحرالرائق: (5 /416 ،رشیدیة )
وکذافی المبسوط: (12 /34 ،دارالمعرفة ) وکذافی الشامیة: (6 /546 ،رشیدیة )
وکذافی الھندیة: (2 / 454 ، رشیدیة) وکذافی البنایة: (6 /925 ،رشیدیة )
وکذافی تبیین الحقائق: (3 /329 ،رشیدیة ) وکذافی النھرالفائق: (3 /328 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:94

ایک شخص پرزکوٰۃ فرض ہوئی پھروہ فوت ہوگیا توکیااب اس کے مال سے زکوٰۃ اداکی جائے گی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگراس نے وصیت کی تھی تواس کے تہائی مال سے زکوٰۃ دی جائے گی ورنہ نہیں۔البتہ اگربالغ ورثاء اپنے حصے سے زکوٰۃ اداکریں توامید ہے کہ اللہ تعالی اس کومعاف فرمادیں گے۔

لما فی الشامیة: (3 /207 ،رشیدیة )
بیان لاشتراط النیۃ فانھاشرط بالاجماع فی مقاصد العبادات کلھا۔۔۔۔۔۔۔حتی لوارتدبعدوجوبھاسقطت کمافی الموت
وفی البحرالرائق: (2 / 369 ،رشیدیة )
والی انہ لومات من علیہ الزکاۃ لاتؤخذ من ترکتہ لفقد شرط صحتھاوھوالنیۃ الااذااوصی بھافتعتبرمن الثلث
وکذافی التاتارخانیة: (3 /196 ،فاروقیة ) وکذافی بدائع الصنائع: ( 2/ 144 ،رشیدیة )
وکذافی البنایة: (3 /368 ،رشیدیة ) وکذافی کنزالدقائق: ( 56 ،حقانیة )
وکذافی الھدایة: (1 /301 ،بشری ) وکذافی البحرالرائق: (2 /370 ،رشیدیة )
وکذا فی الھندیة: (1 /170 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/3/2023/12/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:108