ایک خاتون نے حیض کی حالت میں عمرہ کرلیااب اس کےلیےکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حیض کی حالت میں عمرہ کرناسخت گناہ ہے،اگرپاک ہوکرعمرہ اداکرنےکاوقت ہےتودوبارہ عمرہ کرنا لازم ہوگااوراگروقت نہیں ملا تواس صورت میں حرم کی حدود میں ایک دم دینا لازم ہوگا۔

لما فی البحرالرائق: (2 /649 ،رشیدیہ)
ولو حاضت عندالإحرام أتت بغیرالطواف)لقولہ علیہ السلام لعائشۃحین حاضت بسرف(افعلی مایفعل الحاج غیران لاتطوفی بالبیت حتی تطھری)فأفادأن طوافھاحرام وھومن وجھین:دخولھاالمسجدوترک واجب الطھارۃ،فإن الطھارۃواجبۃفی الطواف فلایحل لھاأن تطوف حتی تطھر،فإن طافت کانت عاصیۃمستحقۃلعقاب اللہ ولزمھاالإعادۃ،فإن لم تعدکان علیھابدنۃوتم حجھا
وفی الھدایة:(1/296،المیزان)
ومن طاف لعمرتہ وسعیٰ علی غیروضوءوحل فمادام بمکۃ یعیدھماولاشئ علیہ امااعادۃالطواف فلتمکن النقص فیہ بسبب الحدث واماالسعی فلانہ تبع لطواف واذااعادھمالاشئ علیہ لارتفاع النقصان وان رجع الیٰ اھلہ قبل ان یعیدفعلیہ دم
وکذا فی ارشادالساری: (390 /فاروقیہ)
وکذافی غنیة الناسک:(276/ادارةالقرآن)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/504،طارق)
وکذا فی البنایہ: (4 /289 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /609 ،فاروقیہ)
وکذافی الشامیہ: (2 /551 ،سعید)
وکذافی البحرالرائق: (3 /38 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:44

نماز جنازہ کےفوت ہونے کاخطرہ ہوتوکیاعام آدمی تیمم کرسکتاہےیانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی تیمم کرسکتاہے۔

لما فی الھندیة: (1 /31 ،رشیدیہ)
ویجوزالتیمم اذاحضرتہ جنازۃوالولی غیرہ فخاف ان اشتغل بالطھارۃان تفوتہ الصلاۃولایجوزللولی
وفی البدائع:(1/177،رشیدیہ)
حتی لوحضرتہ الجنازۃوخاف فوت الصلاۃلواشتغل بالوضوءتیمم وصلی،وھذاعنداصحابنا
وکذافی الشامیہ: (1 /241 ،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (1 /244 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (1 /384 ،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/312،بیروت)
وکذا فی اعلاءالسنن:(1/313،ادارة القرآن والعلوم الاسلامیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/52،المیزان)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/63،المنار)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/159،طارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/2/2023/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:1

ہمارے علاقے میں لوگ جنازے سے فارغ ہوکر جو قبرستان نہیں جاناچاہتے ہیں وہ میت کے لواحقین سے اجازت لے کر گھر جاتے ہیں،اگر کوئی اجازت نا لے تو لوگ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ میت جلدی اس کو اپنے پاس بلا لے گی(یعنی یہ جلدی مرجائےگا)کیا شریعت میں اس کاکوئی ثبوت ہے،کیا میت کے لواحقین سے اجازت لینا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

آپ نے جوسنا غلط ہے،میت کے لواحقین سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے،بلکہ مستحب ہے۔

لما فی الھندیة: (1 /165 ،رشیدیہ)
ولا ینبغی ان یرجع من جنازۃ حتی یصلی علیہ وبعد ماصلی لایرجع الا باذن اھل الجنازۃ قبل الدفن وبعدالدفن یسعہ الرجوع بغیراذنھم
وفی حاشیہ الطحطاوی علی المراقی:(590،قدیمی)
والرجل یتبع الجنازۃ فیصلی علیھا فلیس لہ ان یرجع حتی یستأمر أھلھاوفی سکب الأنھر:لوانصرف بدون إذن الولی قیل:یکرہ،وقیل:لاوھوالأوجہ
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(16/17،علوم اسلامیہ)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/225، رشیدیہ)
وکذافی غنیة المتملی:(593/رشیدیہ)
وکذا فی الخانیہ: (1 /190 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /39 ،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/72،بیروت)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/451،حقانیة)
وکذا فی مصنف ابن ابی شیبہ:(3/5،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:132

ٹھیکہ پر لی گئ زمین کاعشر کل پیداوار سے نکالا جائےگایاٹھیکہ کی رقم اس سے نکالی جائےگی؟کیونکہ آج کل ٹھیکہ بہت زیادہ ہوتا ہے،ٹھیکہ نکالنے کے بعد بہت کم رقم بچتی ہے۔مہربانی فرماکرجواب عنایت فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

کل پیداوار سے عشر نکالا جائےگا،ٹھیکہ کی رقم اس سے منہا نہیں کر سکتے۔

لما فی الھندیة: (1 /187 ،رشیدیہ)
ولاتحسب أجرۃالعمال ونفقۃ البقر وکری الانھاروأجرۃالحافظ وغیر ذلک فیجب اخراج الواجب من جمیع ماأخرجتہ الارض عشرااونصفا
وفیالشامیہ: (2 /334 ،سعید)
والعشر علی المؤجرکخراج موظف وقالاعلی المستأجرکمستعیرمسلم،وفی الحاوی وبقولھمانأخذ
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1901،رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/173،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/366،طارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/290،بیروت)
وکذا فی البحرالرائق: (2 /416 ،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/320،المنار)
وکذا فی ملتقی الابحر:(1/319،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:45

آج کل اکثر مالش کرنے والے جب مالش کرتےہیں توٹانگوں پر گھٹنوں کے اوپر بھی تیل کی مالش کرتے ہیں بغیر کسی چیز کے حائل کے،توکیاران پرتیل کی مالش کرانا شرعاًجائز ہے یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شرعی عذر کے بغیر گھٹنوں سے اوپر مالش کرنا جائز نہیں۔

لما فی المحیط البرھانی:(8/24،بیروت)
یجوز أن ینظر الرجل إلی الرجل إلی جمیع جسدہ الا الی عورتہ،وعورتہ مابین سرتہ حتی یجاوز رکبتہ۔۔۔۔۔ وماجازالنظرالیہ جاز مسہ،لان مالیس بعورۃ فمسہ والنظرالیہ علی السواء
وفی الھندیة: (5 /327 ،رشیدیہ)
أما بیان القسم الاول)فنقول ویجوزأن ینظر الرجل الی الرجل الاالی عورتہ،کذافی المحیط وعلیہ الاجماع کذافی الاختیار شرح المختار،وعورتہ مابین سرتہ حتی تجاوز رکبتہ۔۔۔۔۔ومایباح النظر للرجل من الرجل یباح المس
وکذافی الشامیہ: (9 /602 ، دارالمعرفة)
وکذا فی البحرالرائق: (8 /353 ،رشیدیہ)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(2/385،قدیمی)
وکذا فی الھدایة:(4/102،بشرٰی)
وکذا فی المبسوط:(10/146،بیروت)
وکذا فی تبین الحقائق:(6/18،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/4/2023/10/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:174

پرندوں کی خریدوفروخت جائز ہے یا نہیں؟مثلا کبوتر وغیرہ

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے۔

لما فی الھندیة: (3 /114 ،رشیدیہ)
والحمام اذاعلم عددھاوامکن تسلیمھاجاز بیعھاواما اذاکانت فی بروجھا ومخارجھا مسدودۃ فلااشکال فی جواز بیعھا
وفی المحیط البرھانی:(9/330،بیروت)
اذاباع طیراًفی الماء،اوسمکۃ وھی ممایرجع الیہ اوطیرایطیرفی السماء ،ویرجع الیہ فالبیع جائز،ویسلمہ اذا رجع الیہ وان توحش بعدالإلف،ولایؤخذإلابصید فباعہ لم یجز
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (8 /337 ،فاروقیہ)
وکذافی الشامیہ: (3 /313 ،دارالمعرفة)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(29/148،علم اسلامیة)
وکذا فی کنزالدقائق:(30،حقانیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/4/2023/18/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:5

اگر کوئی شخص بیوی کا دودھ پی لے تو کیا بیوی حرام ہوجاتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بیوی کا دودھ پینے سے نکاح تو نہیں ٹوٹتالیکن یہ عمل حرام ہے،اگردودھ منہ میں چلاجائےتوتھوک دیاجائےنگلنانہیں چاہیے۔

لما فی الشامیہ: (3 /211 ،رشیدیہ)
ولم یباح الإرضاع بعد مدتہ)لأنہ جزءآدمی والانتفاع بہ لغیرضرورۃحرام علی الصحیح شرح الوھبانیۃ
وفی مؤطاامام مالک:(538،قدیمی)
عن یحیی بن سعیدان رجلاسال ابا موسی الاشعری فقال انی مصصت عن امرأتی من ثدیھالبنافذھب فی بطنی فقال ابوموسی الاشعری لااراھاالاقدحرمت علیک فقال عبداللہ بن مسعودانظرماتفتی بہ الرجل فقال ابو موسی فما تقول انت فقال عبداللہ بن مسعود لا رضاعۃ الاماکان فی الحولین فقال ابوموسی لاتسالونی عن شئ ماکان ھذاالحبربین اظھرکم
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار:(2/101،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی قاضی خان علی ھامش الھندیة:(1/417،)
وکذا فی البنایہ: (4 /812 ،رشیدیہ)
وکذافی الدرالمختار: (4 /411 ،رشیدیہ)
وکذا فی عمدةالقاری:(20/97،بیروت)
وکذا فی الھندیة: (1 /342 ،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:46

بیوی فوت ہوجائےتوکفن وغیرہ کاخرچہ شوہر کے ذمےہے یااس خاتون کے والدین کے ذمے ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شوہر کے ذمے ہے۔

لما فی البحرالرائق: (2 /311 ،رشیدیہ)
واشتغنی ابویوسف الزوجۃ،فإن کفنھاعلی زوجھالکن اختلف العبارات فی تحریرمذھب ابی یوسف ففی فتاوی قاضیخان والخلاصۃ والظھیریۃوعلی قول ابی یوسف یجب الکفن علی الزوج وان ترکت مالاًوعلیہ الفتوی
وفی الھندیة: (1 /161 ،رشیدیہ)
فالکفن علی من تجب علیہ النفقۃ الاازوج فی قولہ محمدرحمہ اللہ تعالی وعلی قول ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی یجب الکفن علی الزوج وان ترکت مالاوعلیہ الفتوی
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(13/242،علم اسلامیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/68،بیروت)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/220، رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/42،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ: (3 /119 ،دارالمعرفة)
وکذافی فتاوی قاضی خان :(1/189،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/4/2023/18/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:8

میں نے بینک سے دس لاکھ روپے قرض لیا ہےگھر تعمیر کرنے کے لیےاور بینک کے پاس سونا گروی رکھا ہےتو مجھ پراس سونے کی زکوۃ لازم ہوگی یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

آپ پر اس سونے کی زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔

لما فی الشامیہ: (2 /263 ،سعید)
قولہ ولا فی مرھون)أی لاعلی المرتھن لعدم ملک الرقبۃولاعلی الراھن لعدم الید،وإذااستردہ الراھن لایزکی عن السنین ا لمافیۃ،وھومعنی قول الشارح بعد قبضہ
وفی الفقہ الحنفی:(1/356،طارق)
فلا زکوۃ فی مرھون بعد قبضہ، لاعلی المرتھن لعدم ملک الرقبۃ،ولاعلی الراھن لعدم الید،فإذااستردہ الراھن لایزکیہ عن السنین ا لمافیۃ
وکذا فی البحرالرائق: (2 /355 ،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی:(1/391،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1800،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/4/2023/10/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:178

میرا بہنوئی فوت ہوگیا ہے اور وہ مقروض بھی تھا تو کیا اب میں اپنی بہن کو زکوۃ دے سکتا ہوں جبکہ وہ زکوۃ کی مستحق بھی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بہن کو دینا جائز بلکہ افضل ہے۔

لما فی البحرالرائق: (2 /425 ،رشیدیہ)
وقید بأصلہ وفروعہ لأن من سواھم من القرابۃ یجوز الدفع لھم وھو اولی لمافیہ من الصلۃ مع الصدقۃ کالإخوۃ والأخوات والأعمام والعمات والأخوال والخالات الفقراء
وفی الشامیہ: (3 /344 ،رشیدیہ)
وقید بالولادلجوازہ لبقیۃ الأقارب کالاخوۃ والأعمام والأخوال الفقراءبل اولی لانہ صلۃ وصدقۃ
وکذا فی البدائع:(2/162،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 2/ 275 ، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /220 ،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/219،بیروت)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/320،قدیمی)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:( 721،قدیمی)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/4/2023/18/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:7