عورت جہری نمازوں میں مثلاًفجر،مغرب اور عشاء میں جہری قرأت کر سکتی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت کے لیے کسی بھی نماز میں جہرا قرأت درست نہیں۔

لما فی الشامیہ: (1 /504 ،سعید)
ولا تجھر فی الجھریۃ،بل لو قیل بالفسادبجھرھالأمکن بناء علی أن صوتھا عورۃ
وفی عمدة القاری:(7/279،بیروت)
فلیسج الرجال ولیصفق النساء)وانما کرہ لھا التسبیح لان صوتھافتنۃولھذا منعت من الاذان والاقامۃ والجھر بالقراءۃ فی الصلاۃ
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/227،حقانیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(16/190،علوم اسلامیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 1/ 267 ، رشیدیہ)
وکذا فی اعلاءالسنن:(5/58،ادارة القرآن والعلوم الاسلامیہ)
وکذافی بذل المجھود:(5/166،قدیمی)
وکذا فی البحرالرائق: (1 /470 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر؛29 فتوی نمبر:133

ہمارے محلے کی مسجد بہت چھوٹی ہے اور اس کی تعمیر کی ضرورت ہے،تو کیا ہم اپنی فصل کا جوعشرہے اس کی رقم مسجد کی تعمیر پے لگا سکتے ہیں یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

زکوۃ وعشر کی رقم مسجد کی تعمیر پے لگانا جائز نہیں،بلکہ کسی بھی مستحق اور نادر کو یہ رقوم مالک بنا کر دینا ہوتی ہیں۔

لما فی الھندیة: (2 /202 ،رشیدیہ)
ولا یجوزان یبنی بالزکاۃالمسجدوکذالقناطروالسقایات واصلاح الطرقات وکری الانھاروالحج والجھادوکل ما لاتملیک فیہ
وفی الشامیہ: (2 /344 ،سعید)
ویشترط ان یکون الصرف(تملیکا)لاإباحۃکمامر(لا)یصرف(إلی بناء)نحو(مسجد)۔۔۔۔تحتہ
قولہ تملیکا)فلایکفی فیھاالإطعام إلابطریق التملیک ولوأطعمہ عندہ ناویاالزکاۃلاتکفی۔۔۔۔۔(قولہ نحومسجد) کبناء بالزکاۃالمسجدوکذالقناطروالسقایات واصلاح الطرقات وکری الانھاروالحج والجھادوکل ما لاتملیک فیہ وقدمناأن الحیلۃأن یتصدق علی الفقیرثم یأمرہ بفعل ھذہ الأشیاء
وکذا فی مجمع الانھر:(1/328،المنار)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /208 ،فاروقیہ)
وکذا فی المبسوط:(2/202،بیروت)
وکذا فی الھدایة:(1/327،بشرٰی)
وکذافی الفتاوی الو لوالجیة:(1/180،حرمین شریفین)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1958،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/4/2023/10/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:176

ایک شخص جائیدادتقسیم کرکےچھوٹے بیٹے کے ہاں قیام پزیر تھا،پھر بیمار ہوا تو بڑے بیٹے کے پاس چلا گیا، جب ٹھیک ہوتا ہےتو چھوٹے بیٹے کے پاس چلا جاتاہےاوربیماری میں بڑے بیٹے کے پاس ہی فوت ہوگیااور بیوی بھی ساتھ بڑےبیٹے کے پاس تھی،توبیوی اب عدت کس بیٹے کے گھرگزارے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صحت کے زمانے میں چھوٹے بیٹے کے پاس رہتا تھااور بیماری کے عذر سے بڑے بیٹے کے پاس جاتاتھا،اس سے معلوم ہوااصل والد صاحب کی رہائش چھوٹے بیٹے کے پاس ہی تھی،البتہ بیماری کے عذر سے بڑے بیٹے کے پاس جاتاتھا،لھذاصورت مسئولہ میں بیوہ کو چھوٹے بیٹے کے گھر ہی عدت گزارناچاہیے۔

لما فی الھدایة:(2/407،رشیدیہ)
وعلی المعتدۃان تعتدفی المنزل الذی یضاف الیھابالسکنی حال وقوع الفرقۃوالموت
وفی البدائع:(3/325،رشیدیہ)
ومنزلھاالذی تؤمربالسکون فیہ للاعتدادھوالموضع الذی کانت تسکنہ قبل مفارقۃ زوجھا وقبل موتہ
وکذافی شرح الوقایہ:(2/153،امدادیہ)
وکذافی لمختصرالقدوری:(188،الخلیل)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/155،المنار)
وکذا فی ملتقی الابحر:(2/154،المنار)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیہ:(2/85،الحرمین شریفین)
وکذافی البحرالرائق: (4 /259 ،رشیدیہ)
وکذا فی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (3 /536 ،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:55

عورت کہتی ہے مرد نے مجھے طلاق دی ہے،مردکہتاہےنہیں دی۔کس کی بات کا اعتبار ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں اگر عورت کے پاس دو گواہ ہیں توطلاق واقع ہوجائےگی،اگرگواہ نہیں تو مرد سے قسم لی جائے گی،اگر مرد قسم نہ اٹھائے تو طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر قسم اٹھا لے تو طلاق واقع نہیں ہو گی۔

لما فی الشامیہ: (3 /251 ،سعید)
ویقع قضاء الا ان یکون مکرھاوالمرأۃ کالقاضی اذا سمعتہ أوأخبرھاعدل لایحل لھاتمکینہ،والفتوی علی انہ لیس لھا قتلہ،ولا تقتل نفسھابل تفدی نفسھا بمال أو تھرب،کماانہ لیس لھا قتلھا إذاحرمت علیہ وکلما ھرب ردتہ بالسحر،وفی البزازیہ عن الاوزجندی انھا ترفع الأمر للقاضی،فان حلف ولا بینۃ لھا فالاثم علیہ ،قلت :ای اذالم تقدرعلی الفداء اوالھرب ولا علی منعہ عنھا فلا ینافی ما قبلہ
وفی السنن الکبری:(10/428،دارالکتب العلمیة)
عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ألنبیﷺقال: البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعی علیہ
وکذا فی البحرالرائق: (3 /448 ،رشیدیہ
وکذا فی الھندیة: (1 /354 ،رشیدیہ
وکذا فی حاشیةالصحیح لمسلم:(2/84،رحمانیہ)
وکذافی مشکوةالمصابیح:(2/337،رحمانیہ)
وکذا فی تبین الحقائق:(2/198،امدادیہ)
وکذا فی مرقاةالمفاتیح: (7 /326 ،التجاریة)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:56

سینے کے بال منڈوانا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

درست نہیں۔

لما فی فی الھندیة: (5 /358 ،رشیدیہ)
وفی حلق الشعرالصدروالظھرترک الادب کذا فی القنیۃ
وفی الشامیہ: (3 /313 ،رشیدیہ)
وفی حلق الشعرالصدروالظھرترک الادب
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (18 /211 ،فاروقیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (8/375 ،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار:(4/203،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط:(4/73،بیروت)
وکذا فی الصیح البخاری:(2/398،رحمانیہ)
وکذا فی:الموسوعةالفقھیة(18/100،علوم اسلامیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/12/2022/24/5/1444
جلد نمبر :28 فتوی نمبر:152

 

اگر کسی نے اپنی سوتیلی ماں کوشہوت سے چھولیاتواس کے باپ کانکاح ٹوٹ جائےگایانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی نکاح بھی ٹوٹ جائے گا اور وہ باپ پرہمیشہ کے لیے حرام بھی ہوجائے گی۔

لما فی الھندیة: (1 /274 ،رشیدیہ)
وکماتثبت ھذہ الحرمۃبالوطءتثبت بالمس والتقبیل والنظرالی الفرج بشھوۃکذافی الذخیرۃ
وفی الشامیہ: (4 /121 ،رشیدیہ)
وإن ادعت الشھوۃ)فی تقبیلہ أوتقبیلھاابنہ(وأنکرھاالرجل فھومصدق)لاھی(إلاان یقول الیھامنتشراً) آلتہ(فیعانقھا)لقرینۃکذبہ او یاخذ ثدیھااویرکب معھا او یمسھا علی الفرج او یقبلھا علی الفم
وکذا فی فتح القدیر: ( 3/ 213 ، رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/537،رشیدیہ)
وکذا فی تبین الحقائق:(2/101،امدادیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/480،المنار)
وکذا فی کنزالدقائق:(98،حقانیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (4 /48 ،فاروقیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (3 /179 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(4/86،بیروت)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر :29 فتوی نمبر57

اگرکوئی شخص سجدہ سہوکرنابھول گیااورسلام پھیرنےکےفوراًبعدیادآیاکہ سجدہ سہوکرناتھاتواب وہ شخص کیا کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگراس نےنمازکےمنافی کوئی کام نہیں کیامثلاً:بات کرنا،ہنسناوغیرہ توجب تک مسجدمیں ہوتوسجدہ سہوکرکےدوبارہ تشہدوغیرہ پڑھ کرسلام پھیردےتونمازہوجائےگی اوراگرمسجدسےنکل گیایانمازکےمنافی کوئی عمل کرلیاتووہ نمازدوبارہ پڑھے۔

لما فی المبسوط: (1/226 ،دارالمعرفہ)
قال واذاسلم وانصرف ثم تذکران علیہ سجدۃصلاتیۃأوسجدۃتلاوۃفان کان فی المسجدولم یتکلم عادالی صلاتہ استحسانا
وفی العنایہ: (1 /532 ،رشیدیہ )
وقولہ ومن سلم یرید بہ قطع الصلاۃیعنی فی عزمہ أن لایسجدللسھوفعلیہ أن یسجد للسھوفی مجلسہ قبل أن یقوم أویتکلم وفی روایۃقبل أن یتکلم أویخرج من المسجد،وھذہ تفید أن الانحراف عن القبلۃفی المسجدغیرمانع عن السجود۔وقولہ لأن ھذاالسلام أی سلام من علیہ سجدۃالسھوغیرقاطع أی با لاتفاق
وکذافی الموسوعتہ الفقھیة: (24 /240 ،علوم اسلامیہ )
وکذا فی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (2 /670 ،رشیدیہ )
وکذافی المحیط البرھانی: (2 /324 ،دار أحیاءتراث العربی )
وکذافی حاشیہ مجمع الأنھر: (1 /226 ،المنار )
وکذافی البنایہ: (2 /755 ،رشیدیہ )
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ: (2 /411 ،فاروقیہ )
وکذافی الھدایہ: (1 /252 ،البشری )
وکذافی کنزالدقائق ازحاشیہ: (39 / ،حقانیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/11/2022/13/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:34

سجدہ سہوکرنے کے بعد التحیات دوبارہ پڑھے گایادرودشریف سے پڑھ لے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

التحیات سے دوبارہ شروع کرے گا۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:( 460،قدیمی)
ویجب(سجدتان)لانہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدسجدتین للسھو، وھوجالس بعدالتسلیم وعمل بہ الاکابر من الصحابۃ والتابعین(بتشھدوتسلیم)۔۔۔۔۔ھماواجبان بعدسجودالسھولان الاولین ارتفعابالسجود
وفی الشامیہ: (2 /651تا653 ،رشیدیہ)
یجب لہ بعدسلام واحد)عن یمینہ فقط،لانہ المعھود،وبہ یحصل التحلیل،۔۔۔۔۔(سجدتان) ویجب أیضاً
(تشھدوسلام)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/306،بیروت)
وکذا فی البدائع:(1/417،رشیدیہ)
وکذا فی سنن ابی داؤود :(1/157،رحمانیہ)
وکذافی السنن الکبری:(2/499،دارالکتب العلمیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (2 /385 ،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیة: (1 /125 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1122،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/3/2023/18/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:112

میں سال پورا ہونے سے پہلے ہی زکوۃ دینا شروع کردیتا ہوں غریبوں کو،زکوۃ کی نیت سے ،جب سال پورا ہوتاہے تو میری زکوۃ کی رقم تقریباً پوری ہوچکی ہوتی ہےاگر بچ بھی جائے تو میں سال کے آخر میں حساب کرکے ادا کردیتا ہوں تو اس طرح میری زکوۃ ادا ہوجا تی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی زکوۃ ادا ہوجائے گی۔

لما فی الھندیة: (1 /176 ،رشیدیہ)
ویجوز تعجیل الزکاۃ بعد ملک النصاب ولایجوز قبلہ کذافی الخلاصۃ
وفی الخانیہ: (1 /264 ،رشیدیہ)
یجوز تعجیل الزکاۃ بعد ملک النصاب
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(23/294،علم اسلامیة)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/241، رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/191،بیروت)
وکذا فی المبسوط:(2/176،بیروت)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1816،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /184 ،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/4/2023/18/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:11

میرے ہاتھ پرزخم ہےاس پرپٹی باندھی ہوئی ہے تووضوکرتےوقت پٹی کواتارنا ضروری ہے یااوپر سے مسح کر لینا کافی ہے،وضاحت فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرممکن ہو توپٹی اتار کر،زخم کودھویاجائے!لیکن اگرپانی زخم کونقصان دیتا ہوتوزخم پر گیلا ہاتھ پھیر لیا جائے،اگراس سےبھی نقصان ہوتاہویا پٹی اتارنے سے نقصان ہوتا ہو توپٹی پر مسح کرلینا کافی ہےاور جس جگہ پٹی ہواسی جگہ کامسح کیاجائے،باقی کو دھونا ضروری ہے۔

لما فی بدائع الصنائع: ( 1/ 90 ،رشیدیہ )
ثم ﺇذامسح علی الجبائروالخرق التی فوق الجراحۃجاز لماقلنا
وفی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (1 /517 ،رشیدیہ )
قولہ:(علی کل عصابۃ)ﺃی:علی کل فردمنﺃفرادھاسواءکانت عصابۃتحتھاجراحۃوھی بقدرھاﺃوزائدۃعلیھاکعصابۃالمفتصد،ﺃولم یکن تحتھاجراحۃاصلاًبل کسرﺃوکی ،وھذا معنی قول”الکنز”کان تحتھاجراحۃﺃولاً،لکنﺇذاکانت زائدۃعلی قدرالجراحۃ،فان ضرّہ الحل والغسل مسح الکل تبعاًوﺇلافلا،بل یغسل ماحول الجراحۃویمسح علیھالاعلی الخرقۃ،مالم یفسرہ مسحھافیمسح علی الخرقۃالتی علیھاویغسل حوالیھاوماتحت الخرقۃالزائدۃ
وکذافی تبین الحقائق: (1 /53 ،امدادیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (1 /360 ،دارأحیاءتراث العربی )
وکذا فی مجمع الأنھر: (1 / 75 ،المنار )
وکذا فی خلاصتہ الفتاوی: (1 /30 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (1 /424 ،فاروقیہ )
وکذا فی المبسوط: (1 / 104 ،دارالمعرفہ )
وکذا فی الھندیہ: (1 /35 ،الرشیدیہ )
وکذا فی الھدایہ: (1 /112 ،البشری )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/11/2022/13/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:33