میراایک دوست دوسرےشخص کوپانچ لاکھ روپے اس شرط پردیناچاہتاہےکہ وہ کاروبارکرےگا اورفیصدی حصےکےاعتبارسےہرفروخت ہونےوالی چیزکےنفع میں حصہ دارہوگا۔لیکن نقصان کا حصہ دارنہیں بنناچاہتا۔کیایہ معاملہ درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں یہ معاملہ درست ہے،لیکن سارانقصان کام کرنے والے پر ڈالنے کی شرط ”فاسد“ ہے،یعنی اس شرط کا کوئی اعتبار نہیں ہے،اگر کام کرنے والے کی غفلت کے بغیر،خدانخواستہ کوئی نقصان ہواتووہ سرمایہ دار کو برداشت کرنا ہوگا۔

لما فی ردالمحتار علی الدرالمختار: (8 /501،رشیدیہ)
کل شرط یوجب جھالۃ فی الربح،أویقطع الشرکۃ فیہ یفسدھا،وﺇلابطل الشرط وصح العقداعتباراًبالوکالۃ ، وفی ردالمحتار:قولہ:(بطل الشرط) کشرط الخسران علی المضارب
وفی شرح المجلة:(4/334،رشیدیہ)
وکذااذاشرط الوضیعۃعلی المضارب تصح المضاربۃویبطل الشرط لان ھذاشرط زایدلایوجوب قطع الشرکۃ فی الربح ولا الجھالۃ فیہ فلا یکون مفسداً وییبطل الشرط
وکذا فی العنایہ: (8 /473 ،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة: (4 /288 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (15/397 ،فاروقیہ)
وکذا فی البدائع:(5/119،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(3/263،رحمانیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3938،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط:(22/33،بیروت)
وکذا فی کنزالدقائق:(340،حقانیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (7 /449 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/2/2023/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:4

بنی بنائی مسجدکوشہیدکرکےدوسری جگہ منتقل کرنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مسجدکوشہیدکرکےدوسری جگہ منتقل کرناجائزنہیں ہے۔

لما فی ردالمختار : (6 /550 ،رشیدیہ )
ولایجوزنقلہ ونقل مالہﺇلی مسجدآخر،سواءکانویصلون فیہ أولا،وھوالفتوی
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (10 / 7673 ، رشیدیہ )
فلوخرب المسجدولیس لہ مایعمربہ،وقداستغنی الناس عنہ لبناءمسجدآخر،یبقی مسجداًعندأبی حنیفۃوأبی یوسف أبداًﺇلی قیام الساعۃ،وبرأیھمایفتی،فلایعودﺇلاملک البانی وورثتہ،ولایجوزنقلہ ونقل مالہﺇلی مسجدآخر،سواءأکانوایصلون فیہ أم لا
وکذافی البحرالرائق: (5 /421 ، رشیدیہ )
وکذا فی الموسوعةالفقھیة: (37 /225 ،علوم اسلامیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (5 /330 ، رشیدیہ )
وکذا فی الھندیة: ( 2/ 458، رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط: ( 12/ 42 ،دارالمعرفة )
وکذا فی المحیط البرھانی: (9 /128 ،دارأحیاءتراث )
وکذا فی تبین الحقائق: (3 /330 ،امدادیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (8 /164 ،فاروقیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/11/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:63

مدینے کا رہائشی عمرہ کرنے کے بعد طائف گیا اور وہاں سے واپس مدینہ آگیااور مکہ جانے کااس کا ارادہ بھی نہیں تھا،واپسی پر اس نے عمرہ نہیں کیا اب اس کے ذمے کیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر میقات سے گزارنے والاباربارمیقات سے گزرتا ہے اوراس کو حرج لازم آتا ہے تو اس کےلیےرخصت ہے کہ بغیر احرام باندھےحدودحرم میں داخل ہوجائے،صورت مسؤلہ میں ذکر کردہ صورت میں حرج لازم نہیں آرہا،لہذاحرم کے تقدس کی وجہ سے اگر حدود حرم میں سے بغیر احرام کے گزرا ہے توپھراس پر دم لازم ہےاوراگروہ واپس آکر میقات سے احرام باندھ کر عمرہ کرلے تودم ساقط ہوجائے گااوراگر وہ میقات سے نہیں گزرا تواس پر کچھ بھی لازم نہیں ہوگا۔

لما فی کتاب الفقہ:(1/542، حقانیة)
ولا یجوذ لہ أن یجاوذہ بدون إحرام،فان جاوزہ ولم یحرم،وجب علیہ الرجوع الیہ لیحرم منہ،ان کان الطریق مأموناًوکان الوقت متسعاً بحیث لایفوتہ الحج لورجع فان لم یرجع لزمہ ھدی لانہ جاوزالمیقات بدون احرام
وفی غنیة الناسک:(60/ادارةالقرآن)
آفاقی مسلم مکلف أراد دخول مکۃ أوالحرم ولولتجارۃ اوسیاحۃوجاوزآخرمواقیتہ غیرمحرم ثم احرم اولم یحرم أثم ولزمہ دم وعلیہ العودالی میقاتہ الذی جاوزہ
وکذا فی ارشادالساری: (89 /فاروقیہ
وکذافی الشامیہ: (3 /551 ،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (3 /88 ،رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/371،رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ: (2 /431 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/2129،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/253،المیزان)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/4/2023/18/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:10

ایک آدمی محرم تھا،اس نےخوکوئی جنایت نہیں کی کسی دوسرےشخص کوشکارکےبارے میں بتایااوراس نےشکاربھی کرلیاتوکیامحرم پر کوئی دم وغیرہ ہوگایانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اس پردم نہیں ہوگا،بلکہ جوشکارکیااس شکارکی قیمت لازم ہوگی۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 3/ 2331،رشیدیہ )
قال أبوحنیفۃ:تجب القیمۃبقتل الصیدأوالدلالتہ علیہ
وفی کنزالدقائق: ( 88 ،حقانیہ )
ان قتل محرم صیدااودل علیہ من قتلہ فعلیہ الجزاءوہوقیمۃالصید
وکذافی الھدایة: (1 /433 ،البشریٰ )
وکذا فی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (3 /676 ، رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: ( 2/420 ، رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (4 /421 ،دارأحیاءتراث )
وکذا فی الھندیة: (1 /247 ، رشیدیہ )
وکذا فی البحرالرائق: (3 /46 ، رشیدیہ )
وکذا فی القدوری: (281 ، البشریٰ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 / 560،فاروقیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/11/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:57

ایک آدمی عمرہ کاطواف کررہاتھااوراس کےجسم کے کسی حصےسےخون نکل رہاتھااورطواف کے بعد اس کو پتا چلاتواب کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اس شخص کووضوکرکےدوبارہ طواف کرنا چاہیے،اس طرح اس پرکچھ لازم نہیں ہوگا،لیکن اگر دوبارہ طواف نہیں کیااورگھرلوٹ گیاتودم لازم ہے۔

لما فی الشامیہ: (3 /663 ،رشیدیہ)
ولوطاف للعمرۃکلہ أوأکثرہ أوأقلہ ولوشوطاجنباأوحائضاأونفساءأومحدثافعلیہ شاۃ، لافرق فیہ بین الکثیر والقلیل والجنب والمحدث،لأنہ لامدخل فی طواف العمرۃللبدنۃولاللصدقۃ۔۔۔۔۔وأن أعادہ سقط عنہ الدم
وفی حاشیہ البحرالرائق: (3 /39 ،رشیدیہ)
ولوطاف للعمرۃکلہ أوأکثرہ أوأقلہ ولوشوطاجنباأوحائضاأونفساءأومحدثافعلیہ شاۃ۔۔۔۔۔وأن أعادہ سقط عنہ الدم
وکذا فی البنایہ: (4 /289،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 3/ 51 ، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /609 ،فاروقیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/296،المیزان)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/504،طارق)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار:(1/523،رشیدیہ)
وکذا فی تبین الحقائق:(2/60،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/12/2022/24/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر: 151

ایک عورت کی عمر ساٹھ (60)سال ہےاوراس کو ماہواری کاخون بھی نہیں آتامگراب لیکوریاکاپانی آتاہے،تووہ اس حالت میں انہیں کپڑوں کےساتھ نمازپڑھ سکتی ہےاوروضوبھی ہرمرتبہ دوبارہ کرےگی یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگراتنےوقفےسےپانی آتاہےکہ جلدی جلدی وضوکرکےمختصرنماز(یعنی فرائض وواجبات کی ادائیگی کےساتھ)اداکرسکتی ہے۔(تقریباًپانچ منٹ کاوقفہ ہوتاہے)تواسےہرنمازکےلیےنیاوضوکرناہوگااورپانی خارج ہوتے ہی اس کاوضوٹوٹ جائےگا۔کپڑےبھی پاک کرنےہوں گے۔اگرپانی مسلسل آتاہے،وقفہ نہیں ہوتاتویہ”معذور“ہے،معذورکاحکم یہ ہےکہ ہرفرض نمازکےوقت وضوکرےپھراس وضوسےفرض ونفل وغیرہ نمازپڑھ سکتی ہے،کسی اورعذرکےپیش آنےسےاوراس نمازکاوقت ختم ہوجانےسےوضوٹوٹےگا،لیکوریاکےپانی سےنہیں ٹوٹےگا،انہیں کپڑوں میں نمازپڑھے

لما فی الھندیة: (1 /40 ،رشیدیہ )
شرط ثبوت العذرابتداءأن یستوعب استمرارہ وقت الصلوۃکاملاوھوالاظھرکالانقطعاع لایثبت مالم یستوعب الوقت کلہ حتی لوسال دمھافی بعض وقت صلاۃفتوضأت وصلت ثم خرج الوقت ودخل وقت صلاۃأ خری وانقطع دمھافیہ أعادت تلک الصلوۃلعدم الاستیعاب ،وان لم ینقطع فی وقت الصلوۃالثانیہ حتی خرج لانعیدھالوجوداستیعاب الوقت،وشرط بقائہ ان لایمضی علیہ وقت فرض الاوالحدث الذی ابتلی بہ یوجدفیہ
وفی تنویرالالبصارمع الدرالمختار: ( 1/ 566 ، رشیدیہ)
وﺇن سال علی ثوبہ)فوق الدرھم(جازلہ أن لایغسلہﺇن کان لوغسلہ تنجس قبل الفراغ منھا) أی:الصلاۃ (وﺇلا) یتنجس قبل فراغہ(فلا)یجوزترک غسلہ
وکذافی کتاب الفقہ: (1 /92 ،حقانیہ ) وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 1/ 635، رشیدیہ )
وکذا فی کنزالدقائق: (14، حقانیہ) وکذا فی الھندیة: ( 1/41 ، رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة: ( 1/ 66، رشیدیہ) وکذا فی القدوری: (17 ، الخلیل)
وکذا فی بدائع الصنائع: ( 1/ 126 ، رشیدیہ ) وکذا فی البحرالرائق: (1 /372 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/11/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:67

کسی دوسرےکابچہ لے کر خود پالنااوراس کو اپنی بیوی کادودھ پلاناجائزہےیانہیں؟ (2)اگر کسی نےلےلیااوراپنی بیوی کادودھ بھی پلادیاتوکیااس بچہ کی نسبت اپنی طرف کرسکتے ہیں یا نہیں؟یعنی اس بچےکےوالد،والدہ کی جگہ اپنا اور اپنی بیوی کا(نام)لکھ سکتے ہیں یا نہیں؟(3)اگربچہ بڑاہوجائےاور سمجھ دار ہوجائےاس کی نسبت اگر حقیقی والدین کی طرف کرتے ہیں تو وہ پریشان ہوتا ہے،اس سے اس کی دل آزاری ہوتی ہے،توکیااس کو دل آزاری اور پریشانی سے بچانےکےلیےاپنی طرف (نسبت)کرسکتےہیں؟(4)اگربچہ کو پال لیا اور نسبت بھی اپنی طرف کرلی تو وہ شرعاًکس کا وارث ہوگا؟حقیقی والدین کایاجنہوں نےپالا اوراپنی طرف نسبت کی،ان کا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

بچہ گود لینا جائزہےاوراگراس کی عمردوسال سےکم ہےتواس کودودھ پلانابھی جائزہے (2)اس کی نسبت اپنی طرف کرنا حرام ہے (3)مناسب انداز سے بچےکوحقیقت سےآگاہ کردیناچاہیے(4)حقیقی والدین کا ہی وارث ہوگا۔

لما فی القرآن المجید: (الاحزاب،5 )
ادعوھم لآبائھم ھوأقسط عند اللہ فإن لم تعلموا آباءھم فإخوانكم فی الدین وموالیكم ولیس علیکم جناح فیما أخطأتم بھ ولكن ما تعمدت قلوبكم وكان اللہ غفورًا رحیما
وفی سنن ابی داؤد: (2 /356 ،رحمانیہ )
عن انس ابن مالک قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول من ادّعی الی غیرابیہ اوانتمی الی غیرموالیہ فعلیہ لعنۃاللہ المتتابعۃالی یوم القیمۃ
وفی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (4/386 ،رشیدیہ )
ھو)لغۃ:مص الثدی،وشرعاً : (مص من ثدی آدمیۃ) ولوبکراًأومیتۃأوآیسۃ ،وألحق بالمص الوجوروالسعوط ۔۔۔۔۔۔ (فی وقت مخصوص)ھو(حولان ونصف عندہ وحولان)فقط (عندھماوھوالأصح)
وفی الھندیة: (6/447 ،رشیدیہ)
” ویستحق الارث باحدی خصال ثلاث بالنسب وھوالقرابۃوالسبب وھوالزوجیۃوالولاء
وکذافی تفسیرالطبری: (21 /76 ،دارالمعرفة ) وکذافی تفسیرالقرآن العظیم: (1 /502 ،دارالمعرفة)
وکذافی المبسوط: (5 /136 ،دارالمعر فة) وکذا فی البحرالرائق: (9 /365 ،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: (3 /402 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/11/5/1444
جلدنمبر:28 فتوی نمبر:70

ایک مولوی صاحب بیان کر رہے تھے کہ جو شخص گھر سے وضو کرکے مسجد کی طرف جاتا ہے،اس کے لیے اتنا اجر ہے کہ جیسے احرام باندھ کر حج کے لیے جا رہا ہو، کیا یہ حدیث ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی یہ حدیث ہے۔

لما فی سنن ابی داود:(1/93،رحمانیة)
عن أبی اُمامۃان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من خرج من بیتہ متطھراالی صلوۃ مکتوبۃ فاجرہ کأجرالحاج المحرم
وفی مسند الامام احمد بن حنبل:(6/359،دارالاحیاء)
عن أبی اُمامۃان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:من مشی الی صلوۃ مکتوبۃوھومتطھر کان لہ کأجرالحاج المحرم،ومن مشی الی سبحۃالضحی کان لہ کأجر المعتمر
وکذا فی فیض القدیر: ( 6/ 296 ، دارالکتب)
وکذا فی کنز العمال:(7/234،رحمانیة)
وکذافی مشکوة المصابیح:(1/71، رحمانیة)
وکذافی الترغیب والترھیب :(1/134،رشیدیہ)
وکذافی المعجم الاوسط:(4/163،المعارف)
وکذافی المعجم الکبیر:(4/299،دارالکتب العلمیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:137

اگر بیٹا جماعت کروائےتوماں،باپ،بہن اوربھائی ایک صف میں کھڑےہوسکتےہیں یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نہیں،امام کے پیچھےپہلےمرد کھڑےہوں اورعورتیں اس سےپچھلی صف میں کھڑی ہوں۔

لما فی الھندیة: (1 /88 ،رشیدیہ)
وان کان معہ رجل وامرأۃأقام الرجل عن یمینہ والمرأۃخلفہ وان کان رجلان وامراۃاقام الرجلین خلفہ والمراۃ ورأھما۔۔۔۔۔( بعدالصفحۃ)محاذاۃالمرأۃالرجل مفسدلصلاۃ
وفی الشامیہ: (2 /368 ،رشیدیہ)
قولہ:(اماالواحدۃفتتأخر)فلوکان معہ رجل أیضا یقیمہ عن یمینہ والمراۃخلفھماولورجلان یقیمھما خلفہ والمراۃخلفھما
وکذا فی البحرالرائق: (1 /616 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/202،بیروت)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/163،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/268،طارق)
وکذا فی کنزالدقائق:(29،حقانیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/200،بشرٰی)
وکذا فی البدائع:(1/392،رشیدیہ)
وکذافی مختصرالقدوری:(116،البشریٰ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:47

کیا غسل کرنے سے وضو ہو جاتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی وضو ہوجاتا ہے،البتہ بلا نیت اجر نہیں ملے گا۔

لما فی المحیط البرھانی:( 1/225،بیروت)
أمافی الوضوء،الواجب غسل الوجہ،والوجہ اسم لمایواجہ الناظر،والمواجھۃ لاتقع بباطن الفم والانف، وتقدیم الوضوءعلی الاغتسال فی الجنابۃ سنۃ،ولیس بفرض عندعلماءنارحمھم اللہ تعالیٰ،حتی انہ لولم یتوضا وافاض الماءعلی راسہہ وسائرجسدہ ثلاثاًاجزاہ اذاکان قدتمضمض واستنشق
وفی الفتاوی التاتارخانیة: (1 /276 ،فاروقیہ)
وتقدیم الوضوءعلی الاغتسال فی الجنابۃ سنۃ،ولیس بفرض عندعلماءنارحمھم اللہ تعالیٰ،حتی انہ لولم یتوضا وافاض الماءعلی راسہہ وسائرجسدہ ثلاثاًاجزاہ اذاکان قدتمضمض واستنشق
وکذا فی مجمع الزوائد:(1/381، دارالکتب العلمیة)
وکذافی فیض القدیر:(6/143،دارالکتب العلمیة)
وکذا فی السنن الکبری: (1 /277 ، دارالکتب العلمیة)
وکذا فی البحرالرائق: (1 /94 ،رشیدیہ)
وکذا فی سنن النسائی :(1/60،رحمانیہ)
وکذا فی جامع الترمذی:(1/124،رحمانیہ)
وکذافی الشامیہ: (1 /158 ،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر :29 فتوی نمبر:51