کیا پکی اینٹ پے تیمم ہو جائےگا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہو جائےگا۔

لما فی المحیط البرھانی: (1 /309 ،دارأحیاءتراث)
ویجوزالتیمم بالآجرمدقوقاًوغیرمدقوقافی قول أبی حنیفۃرحمہ اللہ تعالیٰ
وفی المبسوط: (1 /109 ،دارالمعرفة )
فیجوزالتیمم بھماوالاجرکذلک لأنہ طین مستحجرفھوکالحجرالاصلی والتیمم بالحجریجوزفی قول أبی حنیفۃومحمد رحمھمااللہ تعالیٰ وان لم یکن علیہ غبار
وکذافی فتح القدیر: (1 /132 ،رشیدیہ )
وکذا فی تنویرالابصارمع الدرالمختار: ( 1/ 451 ، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (1 /258 ، رشیدیہ)
وکذا فی غنیةالمتملی: ( 78، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (1 /375 ،فاروقیہ )
وکذا فی الھندیة: ( 1/ 26، رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی قاضی خان: ( 1/ 61، رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (1 /182 ، رشیدیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/6/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:55

ہوٹلوں میں رائج کھاناکھانےکےبوفےسسٹم کاشرعی حکم کیاہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بوفےسسٹم میں کھاناکھانادرست ہے۔

لما فی بدائع الصنائع: (4 /355 ،رشیدیہ )
ومنھا:أن یکون المبیع معلوماوثمنہ معلوماًعلماًیمنع من المنازعۃ، فان کان أحدھمامجھولاً جھالۃمفضیۃﺇلی المنازعۃفسدالبیع ، وﺇن کان مجھولاجھالۃلاتفضیﺇلی المنازعۃلایفسد
وفی الھندیہ: (4 / 411 ، رشیدیہ )
فان کان مجھولاجھالۃمفضیۃالی المنازعۃیمنع صحۃالعقدوالافلا
وکذافی فیض الباری : (3 /535 ، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرئق: ( 8/ 65، رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة: (3 /21 ،رحمانیہ )
وکذا فی فتح القدیر: ( 6/ 240، رشیدیہ )
وکذا فی البنایة: (7/ 28، رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ مختصرالقدوری: (302، البشریٰ)
وکذا فی الشامیہ: ( 9/ 90 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/11/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:92

میں نے قسم کا کفارہ ادا کرنا تھا تو میں نے کھانا پکوا کر محلے کے لوگوں کو بلوا کر کھانا کھلادیا،تواس طرح میری قسم کاکفارہ اداہوگیایانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں محلے والے اگر مستحق زکوۃ ہیں تو کفارہ قسم ادا ہوگیا،ورنہ دوبارہ مستحق لوگوں کو کھلانا پڑے گا۔

لما فی القرآن الکریم:(المائدہ،89)
فَکَفَّارَتُہٗ اِطْعَامُ عَشَرَۃِمَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَاتُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ اَوْکِسْوَتُھُمْ
وفی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (5 /523 ،رشیدیہ)
وکفارتہ)ھذہ اضافۃ للشرط لان السبب عندنا الحنث(تحریر رقبۃأوإطعام عشرۃ مساکین)کمامر فی الظھار۔۔۔۔۔
وکذا فی الھدایة:(2/460، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/343،طارق)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (6 /300 ،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(6/367،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/4/2023/18/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:12

فی جیدھا حبل من مسد کو فی دینھا حبل مسد پڑھ دیا تو نماز کا حکم؟

 

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں نمازفاسد ہوجائے گی۔

لما فی الھندیة: (1 /80 ،رشیدیہ)
وان تغیر المعنی نحوأن یقرأان الابرارلفی جحیم وان الفجار لفی نعیم فاکثر المشایخ علی انھا تفسد وھوالصحیح ھکذا فی الظھیریۃ
وفی المحیط البرھانی:(2/73،بیروت)
وإن کان یغیر المعنی،یفسد صلاۃ بلا خلاف نحو ان یقرأ:الذین آمنواوکفرواباللہ ورسولہ أولئک ھم الصدیقون
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (2 /96 ،فاروقیہ)
وکذا فی فتاوی قاضی خان:(1/152،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1037،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ: (2 /473 ،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی:(1/268،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/112، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/4/2023/14/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر: 193

اگر کسی شخص نے نماز میں فَلَھُمٗ اَجٗرٌغَیٗرُمَمٗنُوٗن کی جگہ غَیٗرٌمنونپڑھ دیا تو نما ز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں نماز ہوجائے گی،کیونکہ یہ فاش غلطی نہیں ہے۔

لما فی اعلاءالسنن:(4/165،ادارة القرآن والعلوم الاسلامیہ)
وھوالمختار فینبغی أن ینظر الی تغیرالمعنی بسبب ذلک أمرفإن کان فاحشاتفسد،وان صح معناہ ولم یبعد کثیرامن المعنی المراد لاتفسد
وفی الشامیہ: (2 /477 ،رشیدیہ)
وإماأن یکون خطأ،وحینئذفإذالم یغیر المعنی،فإن کان مثلہ فی القرآن نحو:ان المسلمون لایفسد
وکذا فی الھندیة: (1 /80 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/71،بیروت)
وکذافی الفتاوی قاضی خان:(4/42،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1037،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (2 /98 ،فاروقیہ)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/114، رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار:(1/268،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:49

اگر کسی غیرمستحق نےزکوۃ کی رقم وصول کی کافی عرصہ کے بعد اس کو اپنی غلطی کا احساس ہواتو اب اس کا ازالہ کرنا ہو تو کیسے کیا جائے؟(2)کیا زکوۃ دینے والے کی زکوۃ اس طرح ادا ہو جاتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اس آدمی کا زکوۃ لینا جائزنہیں تھا،لہذااصل مالک کورقم واپس کرے اگر وہ فوت ہوگیا ہے تواس کے ورثاء کو دے،اگر کوئی نہیں مل رہا تو اس کی طرف سے صدقہ کردے (2)اگر زکوۃ دینے والے نے زکوۃ دیتے وقت مستحق سمجھ کردی، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ غیرمستحق ہے توزکوۃ اداہوجائےگی اوراگرادائیگی کے وقت بغیرسوچے،سمجھے،خالی الذہن ہوکردی،پھر معلوم ہوا کہ وہ مستحق نہیں تھا،توزکوۃ ادانہیں ہوئی بلکہ دوبارہ اداکرناہوگی۔

لما فی الھندیة: (1 /189 ،رشیدیہ)
اذاشک وتحری فوقع فی اکبر رأیہ انہ محل الصدقۃ فدفع الیہ أوسال منہ فدفع أورآہ فی صف الفقراءفدفع فان ظھرانہ محل الصدقۃ جاز بالاجماع ۔۔۔۔۔أوالزوجۃفانہ یجوز وتسقط عنہ الزکاۃ۔۔۔۔۔واذادفعھا ولم یخطر ببالہ انہ مصرف أم لافھوعلی الجوازالااذا تبین انہ غیر مصرف واذادفعھا الیہ وھوشاک ولم یتحر أوتحری ولم یظھرلہ انہ مصرف أوغلب علی ظنہ انہ لیس بمصرف فھوعلی الفساد الا اذا تبین انہ مصرف
وفی الھندیة: (1 /189 ،رشیدیہ)
ولا یجوز دفع الزکاۃ الی من یملک نصاباأی مال کان دنانیر اودراھم أوسوائم أوعروضاللتجارۃ أو لغیر التجارۃ فاضلا عن حاجتہ فی جمیع السنۃ ھکذافی الزاھدی
وکذا فی البحرالرائق: (2 /426 ،رشیدیہ)
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (3 /353 ،رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/163،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/329،بشرٰی)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1966،رشیدیہ)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/318،قدیمی)
وکذا فی العنایہ: (3 /557 ،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:48

عورت کاعورت کے لئے ستر ہے یا نہیں،اگر ہے تو کتنا ستر ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت کا عورت کے لیے ستر دو طرح کا ہے غلیظ اور خفیف۔ستر خفیف اتنا ہے جتنا ایک مرد اپنی محارم عورتوں کا ستر دیکھ سکتا ہےاور ستر غلیظ وہ ناف سے لے کر گھٹنے تک کا ہے۔عورت،عورت کا بوقت ضرورت ستر خفیف تو دیکھ سکتی ہے،مگر ستر غلیظ کو بغیر شدید مجبوری کے دیکھنا جائز نہیں۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیة: (18 /19 ،فاروقیہ)
وعن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی أن نظرالمر أۃ الی المر أۃ کنظر الرجل إلی محارمہ
وفی فی فتح القدیر: ( 10/ 37 ، رشیدیہ)
قولہ:(وعن ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی أن نظرالمر أۃ الی المر أۃ کنظر الرجل إلی محارمہ)یعنی لا تنظر الی ظھرھا وبطنھا،وھذا معنی قول صاحب الکافی: حتی لا یباح لھاالنظرالی ظھرھاوبطنھا
و فی المبسوط:(10/147،بیروت)
فأما نظرالمرأۃ فھوکنظر الرجل الی الرجل باعتبارالمجانسۃألاتری أن المرأۃتغسل المرأۃ بعد موتھا کما یغسل الرجل الرجل وقد قال بعض الناس نظرالمرأۃالی المرأۃ کنظرالرجل الی ذوات محارمہ حتی لا یباح لھاالنظرالی ظھرھاوبطنھا
وکذا فی الھندیة: (5 /327 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/25،بیروت)
وکذا فی الھدایة:(4/463،رحمانیہ)
وکذا فی البدائع:(4/299،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(40/359،علم اسلامیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(4/2656،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/4/2023/20/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:6

عورت کا سر کے بالوں میں مہندی لگانا جائز ہےیانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے۔

لما فی الفتاوی قاضی خان:(3/412،رشیدیہ)
والخضاب بالحناء والوسمۃحسن۔۔۔۔۔ولابأس بہ للنساء
وفی کتاب الفقہ:(2/44،المکتبة الحقانیة)
یکرہ صباغۃاللحیۃوالشعربالسوادالاالخضاب بالصفرۃوالحمرۃفانہ جائز
وکذا فی الھندیة: (5 /359 ،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ: (9 /696 ،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (8 /335 ،رشیدیہ)
وکذا فی سنن ابی داؤود :(2/225،رحمانیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (18 /215 ،فاروقیہ)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(2/617،قدیمی)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(2/281،علوم اسلامیہ)
وکذا فی بذل المجھود:(17/46،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/4/2023/10/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:175

حدیث پاک میں عورت کے لیےتین دن اور تین رات بغیر محرم کے سفر کرنا منع ہےحالانکہ آج کل کے حساب سے تو یہ بہت لمبا سفر بھی بن سکتا ہےمثلاًجہاز وغیرہ پر تو چاہےجتنے ملکوں کاسفر کرلیاجائے؟اور دوسری بات یہ کہ اگرعورت نے سفر کرلیا چاہے محرم کے ساتھ ہویا بغیر محرم کے ،اب دوسری جگہ کمائی کے لیے،تعلیم(دینی یادنیاوی)کے لیے یا کسی اور مقصد کے لیے محرم کے بغیر رہنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں جس حدیث پاک کا ذکر ہے اس سے اس وقت کے عرف کے مطابق پیدل یا اونٹ پر سفر مراد ہےجو 77کلو میٹر بنتا ہےلہذابغیر محرم کے77کلو میٹر سفر کرنا عورت کے لیے جائز نہیں ہے(2)اگرگھر کے قریب کوئی تعلیمی ادارہ ہو تو وہاں تعلیم حاصل کرےورنہ محرم کے ساتھ سفر ہواور اس ادارے میں پردہ کااور ہر قسم کےشروروفتن سےحفاظت کامکمل انتظام ہوتو وہاں تعلیم حاصل کرنے کی گنجائش ہے۔

لما فی الصحیح لمسلم:(1/499،رحمانیہ)
عن ابن عمر رضی اللہ عنہ ان رسولﷺقال لا تسافر المرأۃثلاثاالاومعھاذومحرم
وفی البدائع:(1/261،رشیدیہ)
قال أصحابنا:مسیرثلاثۃ أیام سیرالإبل ومشی الأقدام
وکذافی مشکوةالمصابیح:(1/221،حقانیہ)
وکذافی سنن أبی داؤد:(1/254،رحمانیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 2/ 27 ، رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ: (3 /533 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/394،بیروت)
وکذا فی البحرالرائق: (2 /551 ،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة: (1 /218 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /474 ،فاروقیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/251،المیزان)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:53

ایک عورت کا شوہرفوت ہوگیا ،اب وہ اسی گھر میں ساس سسرکےساتھ رہتی ہے اس کے بچےابھی چھوٹےہیں اوراس گھرمیں اب اس کا دل نہیں لگتا،وہ چاہتی ہے کہ عدت اپنے میکے میں گزارلےاور اس کے میکے کاگھراس سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہےکیاوہ اپنےوالدین کےگھرعدت گزارسکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

وہ اسی گھر میں عدت گزارے گی،دل نالگنے کی وجہ سےخاوند کے گھرکونہیں چھوڑسکتی۔

لما فی البحرالرائق: (4 /259 ،رشیدیہ)
قولہ:(وتعتدان فی بیت وجبت فیہ إلاأن تخرج أو ینھدم)أی معتدۃالطلاق والموت یعتدان فی المنزل المضاف إلیھمابالسکنی وقت الطلاق والموت ولایخرجان منہ إلالضرورۃلماتلوناہ من الآیۃ
وفی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (3 /536 ،سعید)
ومعتدۃموت تخرج فی الجدیدین وتبیت)أکثر اللیل(فی منزلھا)لأن نفقتھاعلیھافنحتاج للخروج،حتی لوکان عندھاکفایتھاصارت کالمطلقۃفلایحل لھاالخروج فتح۔۔۔۔۔(طلقت)أومات وھی زائرۃ(وفی غیرمسکنھاعادت إلیہ فورا)لوجوبہ علیھا(وتعتدان) أی معتدۃطلاق وموت(فی بیت وجبت فیہ)
وکذافی شرح الوقایہ:(2/153،امدادیہ)
وکذافی لمختصرالقدوری:(188،الخلیل)
وکذا فی البدائع:(3/325،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/155،المنار)
وکذا فی الھدایة:(2/407،رشیدیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر:(2/154،المنار)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیہ:(2/85،الحرمین شریفین)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:54