ویسے توشرعابہتے ہوئےپانی میں وضوکرناجائزہے،جب کہ آج کل بڑی نہروں کا بھی یہ حال ہے کہ ان میں فیکٹریوں کاپانی،فضلات،گندےنالوں کاپانی،شہروں کےسیوریج کا پانی وغیرہ گرتا ہے۔توکیااس صورت میں بھی ایسی چھوٹی یابڑی نہروں کا پانی پاک ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرنہرکےپانی میں ناپاک پانی کااثریعنی رنگ بو یاذائقہ میں سےکوئی ایک محسوس ہو تو یہ پانی نجس ہے،اس سے وضواور غسل درست نہیں ورنہ یہ پانی جاری ہونے کی وجہ سے پاک ہےاس سے وضووغسل وغیرہ درست ہے۔

لما فی الفتاوی الھندیہ:(1/17،الرشیدیہ)
وفی النصاب والفتوی فی الماءالجاری أنہ لا ینجس مالم یتغیرطعمہ أولونہ أوریحہ من النجاسۃکذافی المضمرات،واذاأ لقی فی الماءالجاری شئ نجس کالجیفۃوالخمر لایتنجس مالم یتغیرلونہ أوطعمہ أوریحہ کذافی منیۃالمصلی
وفی بدائع الصنائع:(1 /216،رشیدیہ)
فان وقع فی الماءفان کان جاریاًفان کان النجس غیرمرئی کالبول والخمرونحوھمالایتنجس مالم یتغیر لونہ،أوطعمہ،أوریحہ،ویتوضأمنہ من أی موضع کان من الجانب الذی وقع فیہ النجس،أومن جانب آخر
وکذا فی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (1 /370 ،رشیدیہ )
وکذا فی البحرالرائق: (1 /152 ،رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الأنھر: (1 /47 ،المنار)
وکذا فی الھدایہ: (1 /78 ،البشری )
وکذا فی الفقہ الحنفی: (1 /31 ،الطارق )
وکذا فی المحیط البرھانی: (1 /238 ، دارأحیاءتراث العربی)
وکذا فی خلاصتہ الفتاوی: (1 /9 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (1 /293 ،فاروقیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/11/2022/13/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر: 31

کہ فرض نماز کے لیے اور جمعہ کی نماز کے لیے کتنے مقدیوں کا ہونا شرط ہے،جس سے جماعت درست ہوجائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

فرض نماز کے لیے امام کے علاوہ ایک مقتدی اور جمعہ کی جماعت کے لیے امام کے علاوہ تین مقتدیوں کا ہونا شرط ہے

لما فی المحیط البرھانی: (2 /446 ،دارأحیاءتراث العربی )
والشرط الرابع الجماعۃ،فظاھر قولہ تعالیٰ:(فَاسْعَوْاإلی ذِکْرِاللہِ) فھذاخطاب للجماعۃ،ولأنھاسمّیت جمعۃ،وفی ھذاالاسم مایدل علی اعتبارالجماعۃفیہا،ثم إن العلماءرحمھم اللہ تعالیٰ اختلفوافیما بینہم فی تقدیرالجماعۃ،قال أبوحنیفۃ ومحمدرحمھمااللہ تعالیٰ:ھم ثلاثۃنفرسوی الإمام،وعن أبی یوسف رحمہ اللہ تعالی فی غیرروایۃالأصول اثنان سوی الإمام
وفی الھندیہ: (1 /148 ،الرشیدیہ )
ومنھاالجماعۃوﺃقلھاثلاثۃسوی الامام کذافی التبین
وکذافی بدائع الصنائع : (1 /600 ،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع : (1/385 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (2 /273 ،فاروقیہ )
وکذافی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (2 /344 ، رشیدیہ)
وکذافی کنزالدقائق مع البحرائق: (2 /262 ،رشیدیہ )
وکذافی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (3/27 ، رشیدیہ )
وکذافی المبسوط: (2 /24 ،دارالمعرفہ )
وکذافی الھندیہ: (1 /148 ،الرشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/11/2022/13/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:32

 

میں میکے آئی ہوئی تھی تو میراشوہرایک دن آیااورگھر کے باہر کھڑا ہوکرزورزور سے میرا نام لے کرکہنے لگاکہ میں نے آپ کوطلاق دی یہ الفاظ اس نے پانچ چھ مرتبہ کہے،باہر ساتھ ہی دوکان پر کچھ لوگ بیٹھے تھے انہوں نے اس کو روکااوروہاں سےبھیج دیا،اب تقریبا ڈیڑھ ماہ بعدمیرےجوسسرتھےوہ میرےپاس آئےاور مجھےکہنےلگےکہ چلو میرےساتھ اپنےگھر،تومیں نےاس کوکہاآپ کے بیٹےنےمجھےطلاق دےدی ہے،تومیراسسر کہنےلگااس وقت میرابیٹانشےمیں تھااورنشےمیں اس کو پتانہیں چلالہذاطلاق نہیں ہوئی آپ میرےساتھ چلوتوکیامیں اس کے ساتھ جاسکتی ہوں یانشے میں بھی طلاق واقع ہوگئی ہے؟(2)اگرطلاق واقع ہوگئی ہے تو بغیر حلالہ کے میں اسی شوہر سے نکاح کرسکتی ہوں یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نشے کی حالت میں طلاق ہوجاتی ہے،لہذاصورت مسؤلہ میں بغیر حلالہ کےاسی شوہر سے نکاح کرناجائزنہیں۔

لمافی القرآن المجید:(البقرة/230)
فَإنْ طَلَّقَھَافَلَاتَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُحَتَّی تَنْکِحَ زَوْجاًغَیْرَہ
و فی البدائع:(3/158،رشیدیہ)
وأماسکران:إذاطلق امرأتہ،فإن کان سکرہ بسبب محظوربأن شرب الخمراوالنبیذطوعاًحتی سکروزوال عقلہ فطلاقہ واقع عندعامۃالعلماءوعامۃالصحابۃرضی اللہ عنھم
وفی الھندیة: (1 /353 ،رشیدیہ)
وطلاق السکران واقع اذاسکرمن الخمراوالنبیذوھو مذھب أصحبنا رحمھم اللہ تعالی
وکذا فی الصحیح البخاری:(2/801،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(4/248،بیروت)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(9/6642،رشیدیہ)
وکذا فی البنایہ: (5 /27 ،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(2/378، رشیدیہ)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(2/75، رشیدیہ)
وکذافی الھندیة: (1 /282 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/4/2023/10/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:177

میں نے منت مانی تھی کہ اگر میری والدہ صحت یاب ہوگئی تو پانچ روزےرکھوں گا،اب لگاتار رکھوں یا الگ الگ رکھ سکتا ہوں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر آپ نے لگاتارروزےرکھنے کی نیت کی تھی تولگاتار رکھنے ہوں گے،ورنہ الگ الگ روزے بھی رکھ سکتے ہیں۔

لما فی الھندیة: (1 /209 ،رشیدیہ)
ولوقال للہ علی ان اصوم یومین او ثلاثۃاوعشرۃلزمہ ذلک ویعین وقتا یؤدی فیہ فان شاءفرّق وان شاءتابع الاان ینوی التتابع عندالنذر فحینئذیلزمہ متتابعافان نوی فیہ التتابع وافطر یوما فیہ اوحاضت المراۃ فی مدۃ الصوم استأنف واستانفت کذافی سراج الوھاج
وفی البحرالرائق: (2 /519 ،رشیدیہ)
وان ارادبہ فی التتابع فعلیہ ان یتابع وان لم یکن لہ نیۃفلہ ان یصوم متفرقاً
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (3 /481تا484 ،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/373،بیروت)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/262، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /434 ،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/3/2023/18/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر: 113

ایک صاحب کا کہنا ہے کہ ناپاکی کی حالت میں قرآن پاک کے الفاظ کو ہاتھ لگانا جائز نہیں،بلکہ قرآن کی خالی جگہ اور جلد کو ہاتھ لگاسکتے ہیں،کیایہ بات ٹھیک ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس کی یہ بات ٹھیک نہیں ہے،جس طرح قرآن مجید کےالفاظ کوہاتھ لگاناجائزنہیں،اسی طرح خالی جگہ اور جلد کوبھی ہاتھ لگانا جائزنہیں،اس لیے کہ یہ بھی قرآن کے حکم میں ہیں۔البتہ اگر کسی دوسری کتاب وغیرہ میں قرآن پاک کے الفاظ کم اوردیگر مضامین زیادہ ہوں تو اس کی جلد اور خالی جگہ کو ناپاکی کی حالت میں چھونے کی گنجائش ہے۔

لما فی البدائع:(1/141،رشیدیہ)
إنما یکرہ مس الموضع المکتوب دون الحواشی لأنہ لم یمس القرآن حقیقۃ،والصحیح انہ یکرہ مس کلہ لان الحواشی تابعۃ للمکتوب،فکان مسھامساًللمکتوب
وفی الشامیہ: (1 /293 ،رشیدیہ)
قولہ ومسہ)ای القرآن ولو فی لوح أو درھم او حائط،لکن لا یمنع الا من مس المکتوب،بخلاف المصحف فلا یجوز مس الجلد وموضع البیاض منہ وقال بعضھم:یجوز،وھذااقرب الی القیاس،والمنع اقرب الی التعظیم کمافی البحر:ای والصحیح المنع کمانذکرہ
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (1 /270 ،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیة: (1 /38 ،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/116،بشرٰی)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/90،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/219،بیروت)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(1/626،رشیدیہ)
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (1 /172 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر: 42

نابالغ بچے کی طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نابالغ کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

لما فی المحیط البرھانی:(4/391،بیروت)
طلاق الصبی غیرواقع
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(9/6881،رشیدیہ)
فلایصح الطلاق من غیرزوج،ولامن صبی ممیزأوغیرممیز
وکذا فی الھندیة: (5 /110 ،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 3/ 468 ، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (4 /392 ،فاروقیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/10،المنار)
وکذا فی الھدایة:(2/82،بشرٰی)
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (9 /291 ،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط:(6/53،بیروت)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(2/75، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/12/2022/20/5/1444
جلد نمبر :28 فتوی نمبر: 123

ایک شخص فوت ہوااس کےورثہ نےجنازہ پراعلان کیا،اگرکسی کااس میت کےساتھ لین دین ہے تووہ ہم سے رابطہ کرےبعدمیں ایک شخص آیااوراس نےدعوی کیاکہ متوفی نے میرادس سال پہلےکاقرض دیناہےکہ اس نےمجھ سےدرخت خریدے تھےمتوفی کے حصےداروں سے پتاکیااور ساتھ کام کرنے والوں سے بھی پتا کیاتوانہوں نےانکار کردیاکہ ہمیں نہیں پتااوراس مدعی کےبارے میں یہ بھی مشہورہےکہ یہ فراڈیا ہے۔اب ورثاء کیاکریں جس سےمیت کوکوئی پکڑنہ ہو۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں مدعی اگرثبوتوں یادوگواہوں کےذریعےاپنادعوی ثابت کردےتواس کےدعوےکااعتبارکیاجائےگا، ورنہ میت کے ورثہ قسم کھائیں گے۔

لما فی السنن الکبری:(10/427،دارالکتب العلمیة)
عن ابن عباس رضی اللہ عنھماأن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:البینۃعلی المدعی والیمین علی المدعی علیہ
وفی الشامیہ: (10 /529 ،رشیدیہ)
قولہ:(ویقدم دین الصحۃ)ھوماکان ثابتاًبالبینۃمطلقاًأوبالاقرارفی حال الصحۃ
وکذافی المعتصرالضروری:(736،البشری)
وکذا فی البنایہ: (8/401 ،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (9 /366 ،رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(5/336،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(3/210،رحمانیہ)
وکذا فی المبسوط:(17/28،بیروت)
وکذا فی تبین الحقائق:(4/290،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/12/2022/20/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:125

میں سعودی عرب میں رہتا ہوں اورپاکستان میں موبائل کے ذریعے نکاح کرناچاہتاہوں ، توکیامیرانکاح ہوجائے گایا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح نکاح نہیں ہوگا،اس لیے کہ نکاح کےانعقاد کے لیےمجلس کا ایک ہونا ضروری ہے،جب کہ فون پرنکاح کی صورت میں مجلس ایک نہیں ہوتی،البتہ اس کی صورت یہ اختیارکی جاسکتی ہے کہ آپ پاکستان میں کسی کواپنا وکیل بنادیں اور وکیل گواہوں کی موجودگی میں آپ کی طرف سےایجاب وقبول کرلے تواس صورت میں مجلس ایک ہوجائے گی اور نکاح منعقد ہوجائے گا۔

لما فی تقریرات الرافعی مع ردالمحتار:(4/86،رشیدیہ)
المتبادرمن اشتراط اتحادالمجلس ان المرادبہ مجلس المتعاقدین،لامجلس الایجاب والقبول
وفی البدائع:(2/490،رشیدیہ)
واماالذی یرجع الی مکان العقدفھواتحادالمجلس اذاکان العاقدان حاضرین وھوان یکون الایجاب والقبول فی مجلس واحد حتی لو اختلف المجلس لا ینعقدالنکاح
وکذا فی الھندیة: (1 /269 ،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ: (4 /86 ،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 3/ 184 ، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (3 /148 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (4 /126 ،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیة: (1 /294 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:50

ایک عورت نے کسی شخص کو فون پے کہا میں آپ کواپناشوہرمانتی ہوں آگے سے مرد نے کہا میں آپ کو اپنی بیوی مانتا ہوں،جبکہ ناتووہاں کوئی گواہ موجود ہےاور نا ہی مجلس واحد تو کیا شریعت کی رو سے یہ نکاح درست ہے ؟

 

الجواب حامداً ومصلیاً

نکاح کے صحیح ہونے کےلیےدومرد یاایک مرد اوردو عورتوں کی گواہی اور ایک مجلس میں ایجاب وقبول کا ہونا ضروری ہے۔ صورت مسئولہ میں چونکہ گواہ بھی موجود نہیں اور مجلس بھی ایک نہیں لہذا یہ نکاح نہیں ہوا۔

لما فی الھندیة: (1 /269 ،رشیدیہ)
ومنہا)أن یکون الایجاب والقبول فی مجلس واحد حتی لو اختلف المجلس بان کان حاضرین فاوجب احدھما مقام الآخر عن المجلس قبل القبول او اشتغل بعمل یوجب اختلف المجلس لاینعقد
وفی فتح القدیر: ( 3/ 184 ، رشیدیہ)
قال (ولاینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین۔۔۔۔۔(لانکاح الا بشھود)
وکذا فی تقریرات الرافعی مع ردالمحتار:(4/86،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ: (4 /86 ،رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/490،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق: (3 /148 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (4 /126 ،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/2/2023/6/8/1444
جلد نمبر : 29 فتوی نمبر:41

اکرم نے آمنہ سے نکاح کیاایک سال پہلے،اب ایک سال کے بعد آپس میں ان دونوں کی لڑائی ہوئی تو اکرم نے آمنہ کوایک طلاق رجعی دےدی،جبکہ آمنہ اس وقت حاملہ تھی،ایک ماہ بعد بچہ پیدا ہوگیا،تواکرم نے آمنہ سے رجوع کرنا چاہا بغیر نکاح کے اوراکرم کہتا ہے کہ چونکہ تین حیض کےاندر رجوع ہوسکتا ہےاور مجھے طلاق دیے ہوئےایک ماہ ہواہے مجھے رجوع کا حق حاصل ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ عورت کی عدت وضع حمل کے ساتھ تھی یا تین حیض،اکرم بغیر نکاح کے رجوع کر سکتا ہے یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بچہ پیدا ہوتے ہی عورت کی عدت ختم ہوگئی اور طلاق رجعی ،طلاق بائنہ بن گئی،لہذادوبارہ نکاح کے بغیر عورت کو اپنے ساتھ رکھنا جائز نہیں۔

لما فی الشامیہ: (3 /313 ،سعید)
و)فی حق(الحاصل)مطلقاولوأمۃ أوکتابیۃ أومن زنا بأن تزوج حبلی من زنا ودخل بھاثم مات أوطلقھا تعتد بالوضع جواھر الفتاوی(وضع)جمیع(حملھا)
وفی احکام القران للشیخ المفتی محمد شفیعؒ:(5/77،ادارةالقران)
قال تعالی:(وَأُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُھُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَھُنَّ)قال أبوبکر:لم یختلف السلف والخلف بعدھم أن عدۃ المطلقۃ الحامل أن تضع حملھا
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (5 /228 ،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیة: (1 /527 ،رشیدیہ)
وکذا فی الخانیہ: (1 /550 ،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(2/401،رشیدیہ)
وکذافی القرآن الکریم:(الطلاق/4)
وکذا فی فتح القدیر: ( 4/ 281 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر 29 فتوی نمبر:134