روزے کی حالت میں اگر کوئی شخص دن کو سو جائے اور نیند میں اس کو احتلام ہوجائےتواس کاروزہ ٹوٹے گا یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سوتے ہوئے اگر احتلام ہوجائےتوروزہ نہیں ٹوٹے گا۔

لما فی البدائع:(2/239،رشیدیہ)
ولو احتلم فی نھار رمضان فأنزل لم یفطرہ
وفی الھندیة: (1 /200 ،رشیدیہ)
ومن أصبح جنباأو احتلم فی النھار لم یفطرہ کذافی محیط
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /386 ،فاروقیہ)
وکذا فی فتاوی قاضی خان:(1/208،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(28/62،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/335،قدیمی)
وکذا فی الھدایة:(1/234،المیزان)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/406،طارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:135

 

رمضان شریف میں ہم وتروں میں جہری قرأت کرتے ہیں،اسی طرح رمضان کے علاوہ بھی وتروں میں جہری قرأت کر سکتے ہیں یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

رمضان کے علاوہ وتروں میں سراً قرأت ضروری ہے،جہری قرأت نہیں کر سکتے۔

لما فی البحر الرائق:(1/527،رشیدیہ)
وأما الجھر فی الصلاۃ والجھریۃ فواجب علی الإمام فقط وھو افضل فی حق المنفرد وھی صلاۃ الصبح والرکعتان الأولیان من المغرب والعشاء وصلاۃ العیدین والتراویح والوتر فی رمضان
وفی الموسوعة الفقھیة:(27/298،علوم اسلامیہ)
قال الحنفیۃ:یجھر فی والوترإن کان اماما فی رمضان لافی غیرہ
وکذافی الشامیہ: (3 /313 ،سعید)
وکذافی غنیة المتملی:(296/رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة: (1 /72 ،رشیدیہ)
وکذا فی الجوہرة النیرة:(1/151،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/41،بیروت)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/156،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:139

دوران نمازاگرامام کا وضوٹوٹ جائے تو کیا کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں امام کوچاہیےکہ وہ اپنا خلیفہ مقررکرے،خواہ اشارہ سےیاہاتھ وغیرہ پکڑکراپنی جگہ کھڑاکردے۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/292،بیروت)
والامام المحدث علیﺇمامتہ مالم یخرج من المسجد،ویستخلف رجلا،ویقوم الخلیفۃفی مقامہ ینوی أن یوم الناس فیہ،أو یستخلف القوم غیرہ
وفی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (2 /424 ،رشیدیہ)
سبق الامام حدث)۔۔۔۔۔۔۔۔(استخلف)أی:جازلہ ذلک ولوفی جنازۃباشارۃأوجرلمحراب،ولولمسبوق، ویشیر بأصبع لبقاءرکعۃ،وبأصبعین لرکعتین ویضع یدہ علی رکبتہ لترک رکوع،وعلی جبھۃلسجود،وعلی فمہ لقراءۃ،وعلی جبھۃولسانہ لسجودتلاوۃأو صدرہ لسھو
وکذا فی فتح القدیر: ( 1/ 390 ، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (2/369 ،فاروقیہ)
وکذا فی تبین الحقائق:(1/146،امدادیہ)
وکذا فی البدائع:(1/522،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/206،بشرٰی)
وکذا فی کنزالدقائق:(30،حقانیہ)
وکذا فی الھندیة: (1/95 ،رشیدیہ
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1269،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/2/2023/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:2

ایک شخص لوگوں سے جھوٹ بول کر پیسے لیتا ہےکہ میرے پاس کچھ نہیں میں غریب ہوں،حالانکہ وہ مالدار ہے،اس کے لیے وہ مال حلال ہے یا واپس کرے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

جھوٹ بول کر مال حاصل کرنا حرام ہے،اگر اس کے مالکان معلوم ہوں تو ان کو واپس کرنا ضروری ہے،ورنہ ان کی طرف سے فقیروں کو صدقہ کردے۔

لما فی المبسوط:(30/271،بیروت)
وقال صلی اللہ علیہ وسلم لا تحل الصدقۃ لغنی ولا لدی مرۃ سوی یعنی لا یحل السؤال للقوی القادر علی التکسب
وفی الفقہ الحنفی:(5/513،طارق)
ومن أخذ من الناس مالاً علی صفۃ أنہ محتاجٌ أو صالحٌ أوعالمٌ أوشریفٌ وھولیس کذلک،فماأخذہ حرام
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(24/97،علوم اسلامیہ)
وکذا فی القرآن الکریم:(آل عمران/60)
وکذا فی التجنیس والمزید:(2/342،ادارة القرآن)
وکذا فی الصحیح البخاری:(1/10،قدیمی)
وکذافی الشامیہ: (5 /99 ،سعید)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر: 29 فتوی نمبر:136

میت کو دفن کرنے کے بعد میت کے سر کی طرف سورۃ بقرہ کا پہلا رکوع اور پاؤں کی طرف آخری رکوع پڑھا جاتاہے،کیا یہ حدیث سے ثابت ہے یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی یہ حدیث سے ثابت ہے۔

لما فی المعجم الکبیر للطبرانی:(6/255،بیروت)
حدثنا أبو شعیب الحرانی ،ثنایحیی بن عبد الللہ البابلتی، ثنا أیوب بن نھیک، قال:سمعت عطاء بن أبی رباح، یقول: سمعت ابن عمر یقول: سمعت النبی صلى اللہ علیہ وسلم یقول: إذا مات أحدكم فلا تحبسوہ، وأسرعوا بہ إلى قبرہ، ولیقرأ عند رأسہ بفاتحۃالكتاب، وعند رجلیہ بخاتمۃ البقرۃ فی قبرہ
وفی اثار السنن:(338،امدادیہ)
عن عبد الرحمن بن العلاء بن اللجلاج عن ابیہ قال قال لی ابی اللجلاج ابو خالد رضی اللہ عنہ یابنی اذا انامت فالحدلی فاذاوضعتنی فی لحدی فقل بسم اللہ وعلی وملۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثم سن التراب سنا ثم اقراعند راسی بفاتحۃ البقرۃ وخاتمتھا فانی سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول ذلک رواہ الطبرانی فی المعجم الکبیر واسنادہ صحیح
وکذافی مشکوة المصابیح:(1/151،رحمانیہ)
وکذافی الشامیہ: (2 /232 ،سعید)
وکذا فی اعلاءالسنن:(8/342،ادارة القرآن)
وکذا فی مجمع الزوائد:(3/124،بیروت)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/4/2023/18/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:9

درازسٹورسےخریداری کاآرڈرکرنےکےبعدبیچنےوالاسامان مہیانہ کرسکااوروہ آرڈرکینسل کردیااس نےاورپھرخریدارکواصل رقم واپس دی اورساتھ دوسواضافی دیااورکہایہ ہماری طرف سے معذرت ہے،کیایہ دوسوروپیہ لینا حلال ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پوچھی گئی صورت میں آرڈرکینسل ہونےکی وجہ سےکسٹمرکوکچھ رقم اضافی دینااگرپہلےسےمشروط یامعروف ہویاخریدارکی طرف سےاس کامطالبہ ہوتویہ سوداورحرام ہے،ورنہ یہ رقم بیچنےوالے کی طرف سے ہدیہ ہےاورخریدارکےلیےحلال ہے۔

لما فی البحرالرائق: (6/207،رشیدیہ)
وقیدبالمعاوضۃلان الفضل الخالی عن العوض الذی فی الھبۃلیس بربا،وترک المصنف قیداًلابدمنہ ان یکون الفضل الخالی مشروطاًفی العقدلاحدالمتعاقدین
وفی البدائع:(6/519،رشیدیہ)
ھذاﺇذاکانت الزیادۃمشروط فی القرض،فاماﺇذاکانت غیرمشروطۃفیہ ولکن المستقرض أعطاہ أجودھمافلا بأس بذلک
وکذافی الشامیہ: (7 /413 ،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الزوائد:(4/178، دارالکتب العلمیة)
وکذا فی شرح المجلة:(2/443،رشیدیہ)
وکذا فی بحوث فی قضایافقھیة معاصرة:(2/155،معارف القرآن)
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (7 /416 ،رشیدیہ)
وکذا فی النھرالفائق: (3 /469 ،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3700،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/2/2023/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:3

اگر جیب میں خون کی تھیلی ہوتو نما ز ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جیب میں خون کی تھیلی ہو تو نماز درست نہیں ہوتی۔

لما فی ردالمحتار:(2/92،رشیدیہ)
کما لو صلی حاملاً بیضۃ مذرۃ صارمحھا دماًجاز،لأنہ فی معدنہ،والشئ مادام فی معدنہ لایعطی لہ حکم النجاسۃ، بخلاف مالوحمل قارورۃ مضمومۃ فیھا بول فلا تجوز صلاتہ،لأنہ فی غیر معدنہ
وفی الفقہ الحنفی:(1/53،طارق)
أما لو حمل قارورۃدم،فلا تصح صلاۃ لحملۃ النجاسۃ
وکذا فی الھندیة: (1 /62 ،رشیدیہ
وکذا فی البحرالرائق: (1 /465 ،رشیدیہ
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(1/735،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/280،بیروت)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /354 ،فاروقیہ
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار:(1/190،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/4/2023/14/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:196

جمعہ کےخطبہ کے دوران چندہ کرنا کیسا ہے؟کہ خطیب خطبہ دے رہا ہواورکچھ لوگ صفوں کے درمیان چل پھر کرچندہ وصول کررہےہوں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

خطبہ سننا واجب ہے،لہذاخطبہ کے دوران چندہ کرنا درست نہیں۔

لما فی تنویرالابصارمع الدرالمختار:(3/39 ،رشیدیہ )
وکل ماحرم فی الصلاۃحرم فیھا)ٰأی:فی الخطبۃ۔خلاصۃوغیرھا۔فیحرم أکل وشرب وکلام ولو تسبیحاً، أوردّسلام أوأمربمعروف بل یجب علیہ أن یستمع و یسکت۔
وفی: (فتح القدیر:2 /66،رشیدیہ )
یحرم فی الخطبۃالکلام وإن کان أمراًبمعروف أوتسبیحاً،والأکل والشرب والکتابۃ،ویکرہ تشمیت العاطس وردالسلام
وکذافی البحرالرائق: (2 /272 ،رشیدیہ) وکذا فی المبسوط: (2 /28 ،دارالمعرفہ )
وکذا فی خلاصتہ الفتاوی: (1 /206 ،رشیدیہ ) وکذا فی الھندیہ: (1 /147 ،رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (2 /460 ،دارأحیاءتراث ) وکذا فی بدائع الصنائع : ( 1/ 593 ، رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ: (2 /574 ،فاروقیہ )
وکذافی الھدایہ: (1 /271 ،البشرٰی )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9/11/2022/13/4/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:35

اگر عورت کا حیض عادت پوری ہونے پر ختم ہوجائےاورعورت نے ابھی غسل نہ کیا ہوتوغسل سے پہلے جماع کرسکتے ہیں یانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر دس دن سےپہلےخون بند ہواہےتودوشرطوں میں سےکسی ایک کےپائےجانے کےبغیرجماع جائزنہیں،یاتوعورت غسل کرلےیاپھرایک کامل نماز کاوقت گزرجائے۔

لما فی الھندیة: (1 /39 ،رشیدیہ)
واذاانقطع دم الحیض لاقل من عشرۃأیام لم یجزوطؤھاحتی تغتسل أویمضی علیھاآخر وقت الصلاۃالذی یسع الاغتسال والتحریمۃ لان الصلاۃانما تجب علیھا اذاوجدت من آخرالوقت ھذاالقدر
وفی البحرالرائق: (1 /352 ،رشیدیہ)
وفیماإذاانقتع لأقل لتمام عادتھاإن اغتسلت أومضی علیھاوقت صلوۃ حل وإلالا
وکذافی القدوری:(14/الخلیل)
وکذا فی اللباب شرح الکتاب:(1/62،قدیمی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(18/325،علوم اسلامیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 1/ 173 ، رشیدیہ)
وکذا فی الھدایة:(1/64، رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/4/2023/14/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:194

بیوی اگرحاملہ ہوجائےتوکتنی مدت تک جماع جائزہے،کیونکہ مشہورہےکہ حاملہ عورت کےساتھ چارماہ کےبعدجماع نہیں کرناچاہیے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

آپ نے جوسناہےوہ غلط ہے۔شرعی اعتبارسےحاملہ سےہمبستری جائزہے۔البتہ طبی اعتبارسےرہنمائی کے لیےکسی ماہرڈاکٹرسےرجوع کریں۔

لمافی الصیحح لمسلم: (1 / 537 ،رحمانیہ )
 حدثناسعدبن ابی وقاص ان رجلاجاءالی رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم فقال انی اعزل عن امرأتی فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم تفعل ذلک فقال الرجل اشفق علی ولدھااوعلی اولادھمافقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوکان ذلک ضآرّاًضرَّفارس والرّوم
و فی الموسوعةالفقھیة: (44 /47 ،علوم اسلامیہ )
وذھب جمہورالفقھاءﺇلی حل وطءالحامل،واستدلوابماوردعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم(أن رجلاًجاءﺇلی رسول اللہ فقال:ﺇنی أعزل عن امرأتی، فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:لم تفعل ذلک؟فقال الرجل:أشفق علی ولدھا،فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:ﺇن کان لذلک فلا،ماضارذلک فارس والروم)
وکذافی مشکوةالمصابیح: (2 / 283، رحمانیہ)
وکذا فی مرقاةالمفاتیح: (6 /345 ،التجاریہ )
وکذا فی الدرالمختار: ( 4/ 377،رشیدیہ )
وکذا فی شرح الطیبی: (6 / 308 ،دارالکتب العلمیہ )
وکذا فی التعلیق الصبیح: ( 4/ 50، رشیدیہ)
وکذا فی فتح الملھم: ( 6/ 459،دارالعلوم )
وکذا فی فتح الباری: (9 /384 ،قدیمی کتب خانہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/11/5/1444
جلد نمبر؛28 فتوی نمبر:68