میں نے اپنے دوست سے دوکان کرایہ پر لی ہے اور کرایہ طے نہیں کیا،بلکہ میرے دوست نے کہا ہےکہ آپ کو جوماہانہ نفع ہو اس میں سے مجھے بھی کچھ دے دیا کرو کرایہ متعین نہیں کیا،کیا اجارہ داری میں اس طرح کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح معاملہ کرنا درست نہیں ،انہیں فی الفور اس دوکان کا کرایہ متعین کر لینا چاہیے،ورنہ یہ دونوں گنہگار ہوں گے۔

لما فی الشامیہ: (9 /9 ،رشیدیہ)
وشرطھا:کون الاجرۃ والمنفعۃ معلومتین لأن جھالتھما تفضی إلی المنازعۃ
وفی الفقہ الحنفی:(4/342،طارق)
یشترط فی الإجارۃ أن تکون الأجرۃ والمنفعۃ معلومتین لأن جھالتھما تفضی إلی المنازعۃ
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (15 /7 ،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(11/217،بیروت)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3822،رشیدیہ)
وکذافی المصنف لابن ابی شیبة:(4/371،دارالکتب)
وکذا فی الھدایة:(3/296،رحمانیة)
وکذا فی البحرالرائق: (7 /507 ،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:138

باپ اپنےبیٹوں کوزکوۃدےسکتاہےیانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

والدین اپنی اولاد کوزکوۃنہیں دےسکتے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (3/1968 ،رشیدیہ)
فلاتدفع الزکاۃﺇلی الوالدین وﺇن علوا(أی الأجداد)والمولودین وﺇن سفلوا (أی الأ حفا د والأسباط)
وفی المبسوط: (3 /11 ،دارالمعرفة )
ولایعطی زکاتہ وعشرہ ولدہ وولدولدہ وأبویہ وأجدادہ وکل من ینسب الی المئودی بالو لادۃأوینسب الیہ بالولادۃ
وکذافی خلاصتہ الفتاوی: (1 /242 ،رشیدیہ )
وکذا فی الھدایة: (1 /223 ،المیزان )
وکذا فی الفقہ الحنفی: (1 /371 ، الطارق)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /206 ،فاروقیہ )
وکذا فی البحرالرائق: (2 /425 ،رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی: (3 /212 ،دارأحیاءتراث )
وکذا فی بدائع الصنائع: (2 /162 ،رشیدیہ )
وکذا فی تنویرالابصارمع الدرالمختار: (3 /344 ،رشیدیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/12/2022/11/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:69

ایک آدمی کی فصل ایک من ہوئی ہےکیااس میں سے بھی عشرنکالےگایانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اس آدمی پربھی عشرواجب ہوگا۔

لما فی البدائع:(2/180،رشیدیہ)
وکذاالنصاب لیس بشرط لوجوب العشرفیجب العشرفی کثیرالخارج وقلیلہ،ولایشترط فیہ النصاب عندأبی حنیفۃ
و فی الھندیة: (1 /186 ،رشیدیہ)
ویجب العشرعندأبی حنیفۃفی کل ماتخرجہ الارض من الحنطۃوالشعیر۔۔۔۔۔قل أوکثرھکذافی فتاوی قاضیخان
وکذافی تنویرالابصار مع الدرالمختار: (3 /313 ،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ: (3 /313 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (3 /278 ،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/275،بیروت)
وکذا فی الھدایة:(1/183، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1890،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط:(2/208،بیروت)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/246، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/12/2022/20/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:124

ہمارے علاقے میں دوکان کا کرایہ عموما بیس ہزار پے ہوتا ہے،لیکن بعض لوگ اسی علاقے میں بارہ یا تیرہ لاکھ ایڈوانس قرض لیتے ہیں اور ماہانہ کرایہ پانچ یا چھ ہزار طے کرتے ہیں ایڈوانس لینے کی وجہ سے ،کیا اس طرح کرنا درست ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

بظاہر سود خوروں نے یہ حیلہ سود خوری کے لیے ہی ایجاد کیا ہے اس لیے بالکل درست نہیں ہے۔

لما فی الشامیہ: (7 /413 ،رشیدیہ)
قولہ کل قرض جر نفعاحرام)ای اذاکان مشروطا
وفی المصنف لابن ابی شیبة:(4/333،دارالکتب)
حدثنا أبو بکر قال حدثنا حفص عن أشعث عن الحکم بن إبراھیم قال: کل قرض جرمنفعۃ فھو ربا
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (9 /388 ،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(10/351،بیروت)
وکذا فی المبسوط:(14/35،بیروت)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(4/220،طارق)
وکذا فی البدائع:(6/518،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی:(3/105،رشیدیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:166

اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کوگواہ مان کرنکاح کرلےتوکیانکاح درست ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح نکاح نہیں ہوگا ۔

لما فی خلاصتہ الفتاوی:(2/15،رشیدیہ)
تزوج امراۃ بشھادۃ اللہ ورسولہ لاینعقد وھل یکفرعرف فی الفاظ الفکر
وفی البحرالرائق: (3 /155 ،رشیدیہ)
لوتزوج بشھادۃاللہ ورسولہ لاینعقد
وکذا فی الھدایة:(2/8،بشرٰی)
وکذا فی البدائع:(2/527،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (4 /37 ،فاروقیہ)
وکذافی التجرید:(9/4371،محمودیہ)
وکذا فی البنایہ: (4 /490 ،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 3/ 191 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/2/2023/4/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:43

جب اذان کا وقت ہوتاہے تو ایک ہی وقت میں کئی اذانیں شروع ہوجاتی ہیں،چونکہ اذانیں لاؤڈاسپیکر پر دی جاتی ہیں اس لیے ان سب کی آواز سنائی دیتی ہے،توان میں سے کس کا جواب دیا جائے،اگر ایک اذان کاجواب دےدیاجائےتوکافی ہوگایانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر معمولی وقفے سے کئی اذانیں شروع ہوجائیں تو پہلی اذان کاجواب دیاجائے،خواہ قریبی مسجدکی اذان ہو یا دور کی،اگر تمام اذانیں بالکل اکٹھی سنائی دیں،توقریبی مسجدکی اذان کا جواب دے۔ایک اذان کاجواب کافی ہوگا۔

لما فی فتح القدیر: ( 1/ 254 ، رشیدیہ)
فان سمعھم معا اجاب معتبرا کون جوابہ لمؤذن مسجدہ حتٰی لوسبق مؤذنہ بعد ذالک اوسبق تقید بہ دون غیرہ من المؤذنین ولولم یعتبر ھذاالاعتبارجاز
وفی الشامیہ: (2 /87 ،رشیدیہ)
والذی ینبغی اجابۃالاول سواء کان مؤذن مسجدہ اوغیرہ، فان سمعھم معا اجاب معتبرا کون اجابتہ لمؤذن مسجدہ، ولولم یعتبر ذالک جاز
وکذا فی البحرالرائق: (1 /452 ،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (2 /154 ،فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(1/714،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/4/2023/20/9/1444
جلد نمبر:30 فتوی نمبر:13

ایک آدمی نے اپنی زندگی میں وصیت کی کہ میری قبر میرے ڈیرے میں ہی بنانا،اب اس کے مرنے کے بعد بیٹے ڈیرےکے بجائےقبرستان میں دفناناچاہتے ہیں،کیا وہ عام قبرستان میں دفن کرسکتے ہیں یا وہاں دفناناضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح کی وصیت پر عمل نہیں کرنا چاھیے،لھذااسے عام قبرستان میں دفن کرناچاھیے۔

لما فی البحرالرائق: (9 /300 ،رشیدیہ)
ولو أوصی أن یکفن فی ثوب کذا ویدفن فی موضع کذا فالوصیۃفی تعین الکفن وموضع القبر باطلۃ
وفی الھندیة: (6 /95 ،رشیدیہ)
أوصی بأن یدفن فی دارہ فوصیتہ باطلۃ الاأن یوصی أن یجعل دارہ مقبرۃ للمسلمین وفی الفتاوی الخلاصۃولو أوصی أن یدفن فی بیتہ لایصح ویدفن فی مقابر المسلمین
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار:(4/321،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: ( 2/ 149 ، رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی قاضی خان:(6/440،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(4/236، رشیدیہ)
وکذافی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(612،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/4/2023/14/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:195

ایک شخص نے حج کااحرام باندھالیکن وقوف عرفہ نہ کرسکا کسی وجہ سے،اب اس کے لیے کیاحکم ہے ،دم آئے گایانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس شخص کوچاہیے کہ طواف اورسعی کرلے اوراحرام کھول دے،اس پرقضاءلازم ہے،دم نہیں ہے۔

لما فی الھدایة: (1 /314 ،المیزان )
ومن احرم بالحج وفاتہ الوقوف بعرفۃ حتی طلع الفجر من یوم النحرفقد فاتہ الحج وعلیہ ان یطوف ویسعی ویتحلل ویقضی الحج من قابل ولادم علیہ
وفی الھندیة: (1 /256 ،رشیدیة )
من احرم بالحج فرضاکان اومنذورا۔۔۔۔۔۔۔وفاتہ الوقوف بعرفۃ حتی طلع الفجرمن یوم النحرفقد فاتہ الحج وعلیہ ان یطوف ویسعی ویقضی من قابل ولادم علیہ
وکذافی القدوری: (69 ،الخلیل ) وکذافی التاتارخانیة: (3 /638 ،فاروقیة )
وکذافی مجمع الانھر: (1 /454 ،المنار ) وکذافی الخانیة: (1 /305 ،رشیدیة )
وکذافی البحرالرائق: (3 /101 ،رشیدیة ) وکذافی المحیط البرھانی: (3 /468 ،داراحیاء )
وکذا فی شرح العینی علی کنزالدقائق: ( 1/ 185 ،ادارة القرآن )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/28/7/8/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:111

اگرکوئی نشے کی حالت میں ہواوروہ اپنی بیوی کوتین طلاق دے کیاطلاق واقع ہوجائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!طلاق واقع ہوجائے گی۔

لما فی الھندیة: ( 1/ 353 ،رشیدیة )
وطلاق السکران واقع اذاسکرمن الخمراولنبیذ
وفی بدائع الصنائع: (3 /158 ، رشیدیة )
واماالسکران:اذاطلق امراتہ،فان کان سکرہ بسبب محظوربان شرب الخمراوالنبیذطوعاحتی سکروزال عقلہ فطلاقہ واقع عندعامۃ العلماء وعامۃ الصحابۃ رضی اللہ عنھم
وکذافی الھدایة: (2 /83 ،بشری ) وکذافی القدوری: (173 ،الخلیل )
وکذافی المحیط البرھانی: (4 /391 ،داراحیاء ) وکذافی التاتارخانیة: (4 /394 ،فاروقیة )
وکذافی الشامیة: (4 /432 ،رشیدیة ) وکذافی البنایة: (5 /27 ،رشیدیة )
وکذافی تبیین الحقائق: (2 /194 ،امدادیة ) وکذا فی الفقہ الحنفی: ( 2/ 168 ،الطارق )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/17/22/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:181

بکری بیمار ہے مالک کہتا ہے اگر ٹھیک ہوگئی تو میں اللہ کے نام پر ذبح کروں گا تو ٹھیک ہونے کے بعد اس بکری کو ذبح کرکے خود کھاسکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ منت اورنذر ہے اورنذر کی چیز سے خود کھانا صحیح نہیں،اگرکھالیا تواتنی مقدار کی قیمت صدقہ کرے۔

لما فی الشامیة: (6 /320 ،ایچ،ایم،سعید )
ولوترکت التضحیۃ ومضت ایامھا تصدق بھا حیۃ ناذر )فاعل تصدق(لمعینۃ)ولوفقیرا،ولوذبحھاتصدق بلحمھا،ولونقصھا تصدق بقیمۃ النقصان ایضاً ولایاکل الناذر منھا،فان اکل تصدق بقیمۃ ما اکل
وفی البحرالرائق: (8 /327 ،رشیدیة )
وانما وجبت بالنذر فلیس لصاحبھاان یاکل منھا شیئا ولاان یطعم غیرہ من الاغنیاء،سواءکان الناذر غنیا او فقیرا لان سبیلھاالتصدق ولیس للمتصدق ان یاکل من صدقتہ ولا ان یطعم الاغنیاء
وکذافی المجمع الانھر: ( 4/ 170 ،المنار ) وکذافی التاتارخانیة: (6 / 226 ،فاروقیة )
وکذافی الھندیة: (5 /295 ،رشیدیة ) وکذافی الفقہ الاسلامی: (4 /2739 ،رشیدیة )
وکذافی شرح الوقایة: (4 /42 ،رحمانیة ) وکذافی بدائع الصنائع: (4 /224 ،رشیدیة )
وکذافی المحیط البرھانی: (8 /460 ،داراحیاء ) وکذا فی تبیین الحقائق: (6 /5 ،امدادیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:65