منفرد اور مسبوق نمازی کو آخری رکعت میں حشرات الارض مثلا چیونٹی وغیرہ کاٹ دے ،جس کی وجہ سے آواز نکل آئے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ شخص کی نماز ٹوٹ گئی ہے ،لہذا دوبارہ پڑھے ۔

لما فی غنیۃ المستملی:(437،رشیدیۃ)
“(وان کان )ذلک الانین و نحوہ (من وجع)حصل لہ فی بدنہ (اومصیبۃ ) اصابتہ فی اھلہ او مالہ (یقطعھا)۔”
وفی بدائع الصنائع:(1/540، رشیدیۃ)
“ولو ان فی صلاتہ او بکی فارتفع بکائہ۔۔۔ان کان من وجع او مصیبۃ فسدت صلاتہ⸳”
وکذا فی التنویر وشرحہ مع رد المحتار:(2/455،دار المعرفۃ)
وکذا فی الجوھرۃ النیرۃ:(1/77،قدیمی)
وکذا فی القول الراجح:(1/100)
وکذا فی الموسوعۃ الفقہیۃ:(27/121،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی الھدایۃ مع فتح القدیر:(1/407، رشیدیۃ)
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1/100، رشیدیۃ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/155،154،امدادیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
23/5/1440
30/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:116

ایک شخص مسجد میں آیا تو اس نے دیکھا کہ ایک اور شخص اکیلا نماز پڑھ رہا ہے ، بعد میں آنے والے کو یقین ہے کہ یہ فرض نماز پڑھ رہا ہے تو کیا بعد میں آنے والا پہلے والے کی اقتداء کر سکتا ہے ؟اگر کر سکتا ہے تو اس کا مکمل طریقہ بتادیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

سوا ل میں درج شدہ صورتحال میں بعد میں آنے والا شخص،اقتداء کی نیت کر کے پہلے آدمی کی دائیں جانب کھڑا ہو جائے ،اگر جہری نماز (فجر ،مغرب یا عشاء )ہو تو مقتدی کے آنے کے بعد ،امام امامت کی نیت کر کے قراءت اونچی آواز سے شروع کردے اور راجح قول کے مطابق سابقہ قراءت کا اعادہ نہ کرے ۔اور تکبیرات انتقال بھی باآواز بلند کہے۔

لما فی غنیۃ المستملی :(617،رشیدیۃ)
“شرع منفردا فی صلاۃ جھریۃ فقرأالفاتحۃ مخافتۃ ثم اقتدی بہ جماعۃ یجھر بالسورۃ ان قصد الامامۃ والا فلا⸳”
وکذافی بدائع الصنائع:(1 /391، رشیدیة)
وکذافی الشامیۃ:(2/305،304، رشیدیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/209و213،، الطارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/201،دار احیاء التراث)
وکذافی مجمع الانھر:(1/155،المنار)
وکذافی الفتاوی العالمکیریۃ:(1/66، رشیدیة)
وکذافی الھدایۃ مع فتح القدیر:(1/365،364، رشیدیة)
وکذافی الشامیۃ(ایضا):(2/128،دار المعرفۃ)
وکذافی البحر الرائق:(1/492، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/5/1440
27/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:113

عورت نماز پڑھتے ہوئے،تکبیر کہنے کے لیے جب ہاتھ اٹھائے گی تو ہاتھ ڈوپٹہ سے باہر نکالے گی یانہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

عورت کو ہاتھ ڈوپٹے سےباہر نہیں نکالنے چاہییں۔

لما فی بدائع الصنائع:(1/466،رشیدیہ)
فأما المرأة فلم يذكر حكمها في ظاهر الرواية.وروى الحسن عن أبي حنيفة أنها ترفع يديها حذاء أذنيها كالرجل سواء؛ لأن كفيها ليسا بعورة، وروى محمد بن مقاتل الرازي عن أصحابنا أنها ترفع يديها حذو منكبيها لأن ذلك أستر لها وبناء أمرهن على الستر ۔۔۔۔۔۔والمرأة تفعل كأستر ما يكون لها۔
وفی مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی:(276،قدیمی)
“(إخراج الرجل كفيه من كميه عند التكبير) للإحرام لقربه من التواضع إلا لضرورة كبرد. والمرأة تستر كفيها حذرا من كشف ذراعيها۔”
وکذافی المحیط البرھانی:(2/31،دار احیاءتراث) ،وکذافی تنویر الابصارمع رد المحتار:(2/222،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة مع فتح القدیر(1/287، رشیدیہ)،و کذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/215،الطارق)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/73، رشیدیہ )،وکذ افی البحر الرائق :(1/532،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (2/49، فاروقیہ)،وکذا فی تبیین الحقائق:(1/109،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1440
6/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :72

گر کسی نے سفر شروع کرنا ہے اور اپنی سواری ہے، تو کیا وہ مثل ثانی میں نماز عصر ادا کرسکتا ہے؟اگر ادا کرلی تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عصر کی نماز دو مثل کے بعد ادا کی جائے، عام حالات میں اسی پر عمل کر نے میں احتیاط ہے اور یہی مفتی بہ قول ہے۔ لیکن دوسرا قول یہ بھی ہے کہ عصر کا وقت ایک مثل کے بعد شروع ہوجا تا ہے۔ اگر کوئی شخص سفر یا مرض کی وجہ سے یا باجماعت نماز کے حصول کے لیے اس قول پر عمل کر لے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

لما فی الفتاوی الھندیہ : ( 1/51 ،رشیدیہ )
“قالوا الاحتياط أن يصلي الظهر قبل صيرورة الظل مثله ويصلي العصر حين يصير مثليه ليكون الصلاتان في وقتيهما بيقين . “
وفی فیض الباری: (2 /132 ،رشیدیہ )
“فتحصل أنه صلى الظهر تارة في المثل وهو وقتها المختص وتارة في المثل الثاني وهو الوقت الصالح لها، وكذلك صلى العصر تارة بعد المثل الأول، وهو وقت صالح لها أيضا، وصلاها تارة بعد المثل الثاني قبل نهاية المثل الثالث، وهو الوقت المختص بها مع إبقاء الفاصلة بين الصلاتين في اليومين، وهذا عين مذهبنا ولله الحمد أولا وآخرا
وکذافی الشامیہ: ( 2/19 ،دار المعرفہ )
وکذا فی البحر الرائق: (1 /425 ،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /317 ،رشیدیہ )
وکذا فی شرح النقایہ لعلی القاری رحمہ اللہ: (1 /177 ،ایچ-ایم-سعید )
وکذافی ملتقی الابحر: (1 /104 ،المنار-کوئٹہ )
وکذا فی المبسوط : (1 /143 ،دار المعرفہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8-08-1440، 2019-04-14
جلد نمبر : 19 فتوی نمبر :20

 

اگر امام نماز میں( ح )کو (خ )پڑھتا ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ایسا امام اگر صحیح پڑھنے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کی نماز درست نہیں اور اگر انتہائی کوشش کے باوجود صحیح نہیں پڑھ سکتا (قریب سے سننے والے کو بھی صحیح سمجھ نہیں آتی )تو اس کی اپنی نماز تو درست ہو گی ،لیکن امام نہیں بن سکتا۔

لما فی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح:(289،قدیمی)
“(واللثغ)۔۔۔۔۔لا یکون اماما لغیرہ واذالم یجد فی القرآن شیئا خالیا عن لثغۃ عجز عن اصلا ح لسانہ آناء الیل واطراف النھار فصلاتہ جائز لنفسہ واذاترک الصحیح والجہد فصلاتہ فاسدۃ
وفی المحیط البرھانی:(2/66،65،دار احیاء)
لا ينبغي له أن يؤم إلا لمن كان حاله مثل حاله، لأنه إذا كان لا يقدر على التكلم ببعض الحروف كان في حق تلك الحروف…..، ولا تجوز إمامة الأمي للقارىء، ويجوز لمن كان بمثل حاله۔۔۔۔والمختار للفتوى في جنس هذه المسائل: أن هذا الرجل إن كان يجهد آناء الليل والنهار في تصحيح هذه الحروف، ولا يقدر على تصحيحها، فصلاته جائزة؛ لأنه جاهد، وإن ترك جهده، فصلاته فاسدة
وکذا فی المبسوط :(1 181/،دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:( 2/93،فاروقیۃ)
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1 79/،رشیدیۃ)
وکذافی الدرالمختار مع رد المحتار:( 1/396،رشیدیۃ)
وکذافی التجنیس والمزید :(1/480،ادارۃ القرآن)
وکذا فی خلاصۃ الفتاوی :(1/110،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
10/9/1440،2019/5/16
جلد نمبر :19 فتوی نمبر:45

ایک آدمی نے عشاء کی دو سنتوں کی نیت کی اور تشہد پڑھ کر کھڑا ہو گیا اب اس کے لیے کیا حکم ہے ؟کہ واپس لوٹے یا چار مکمل کرے ،سجدہ سہو ایک صورت میں ہو گا یا دونوں صورتوں میں تفصیل مطلوب ہے ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ کے متعلق پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سنت مؤکدہ ہیں جو بحکم فرض ہوتی ہیں ۔دوسری بات یہ ہے کہ نمازی سہواتیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو اہے لہذا اس شخص کے لیے بہتر یہ تھا کہ تیسری رکعت کے سجدہ سے پہلے پہلے قعدہ کی طرف لوٹ آتا اور آخر میں سجدہ سہو کر لیتا ،لیکن اگر اس نے نماز جاری رکھی اور چار رکعت مکمل کرلیں تو بھی آخر میں سجدہ سہو لازم تھا، دونوں صورتوں میں اگر سجدہ سہو نہ کیا تو نماز واجب الاعادہ ہو گی۔

لما فی الفتاوی الھندیۃ:(1/126،رشیدیۃ)
“وحکم السہو فی الفرض والنفل سواء.”
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:( 1/282،الطارق)
وان قام الی الرکعۃ الزائدۃ ساھیا ،بعد ان قعد القعود الاخیر ،عاد للجلوس عند ما یتذکر ،مالم یسجد للرکعۃ الزائدۃ ،فان سجد لھا لم یبطل فرضہ ، لوجود الجلوس الاخیر ،ویضم للزائدۃ رکعۃ اخری ان شاء لتصیر الزائدتان لہ نافلۃ ،ویسجد للسہو فی الصورتین لتاخیر السلام فی الصورۃ الاولی ،ولترکہ فی الثانیۃ.
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:) 2/297،فاروقیۃ)
وکذافی تبیین الحقائق:( 1/174،امدادیۃ)
وکذا فی المحیط البرھانی:( 2/308،دار احیاء)
وکذافی ردالمحتار علی الدرالمختار:(1/664،دارالمعرفۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
10/9/1440،2019/5/16

جلد نمبر:18 فتوی نمبر :149

ایک شخص کا پیدائشی ایک ہاتھ کلائی تک ہے یعنی ہتھیلی اور انگلیاں نہیں ہیں کیایہ امام بن سکتا ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ شخص کاامام بننا مکروہ ہے ،لیکن اگر یہ شخص شرائط امامت کے اعتبار سے دوسروں سے بہتر ہو تو مکروہ نہیں ۔

لمافی الدرالمختار مع رد المحتار :(1/562،سعید)
وكذا تكره خلف أمرد وسفيه ومفلوج، وأبرص شاع برصه
“(قوله ومفلوج وأبرص شاع برصه)
وكذلك أعرج يقوم ببعض قدمه،
فالاقتداء بغيره أولى تتارخانية وكذا أجذم برجندي، ومجبوب وحاقن، ومن له يد واحدة فتاوى الصوفية عن التحفة. والظاهر أن العلة النفرة، ولذا قيد الأبرص بالشيوع ليكون ظاهرا ولعدم إمكان إكمال الطهارة أيضا في المفلوج والأقطع والمجبوب”۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(2/1206،رشیدیۃ )
الاعمی :تکرہ امامتہ تنزیھا عندالحنفیۃ ۔۔۔۔۔۔۔واستثنی الحنفیۃ حالۃ کونہ اعلم القوم فھو اولی
وکذا فی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعۃ :(1/369،حقانیۃ)
وکذافی الموسوعۃ الفقہیۃ:(6/211،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(303 ،قدیمی)
وفی الفتاوی التاتار خانیۃ :(2/250،فاروقیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
20/7/1440،2019/3/28
جلد نمبر :18 فتوی نمبر : 104

خطبہ جمعہ کے دوران خطیب کے چہرے کو دیکھنے کا کیاحکم ہے ؟اگر اس کے فضائل مستند احادیث میں ہوں تو وہ بھی بتا دیں ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

خطیب کا چہرہ دیکھنے کی فضیلت سے متعلق تو کوئی روایت نہ مل سکی ۔البتہ دوران خطبہ خطیب کی طرف اپنا چہرہ کر کے بیٹھنے کو فقہاء کرام نے مستحب لکھا ہے ۔

لمافی البحر الرائق:(2/259،رشیدیۃ)
“وأما المستمع فيستقبل الإمام إذا بدأ بالخطبة وينصت، ولا يتكلم۔۔۔۔ثم قولهم إن السنة في المستمع استقبال الإمام مخالف لما عليه عمل الناس من استقبال المستمع للقبلة۔۔۔۔ وجزم في الخلاصة بأنه يستحب استقباله إن كان أمام الإمام، وإن كان عن يمين الإمام أو عن يساره قريبا من الإمام ينحرف إلى الإمام مستعدا للسماع.”
و فی خلاصۃ الفتاوی :(1/207،رشیدیۃ)
“و یستحب للرجل ان یستقبل الخطیب بوجہہ ھذا اذاکان الامام فان کان عن یمین الامام او عن یسارہ قریبا من الامام ینحرف الی الامام مستعدا للسماع .”
وکذافی المنتقی شرح الموطا:(1/203،شاملہ)
وکذافی فتح الباری:(2/511،قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
10/9/1440،2019/5/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:47

مسبوق امام کے قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد آخر تک پڑھے گا یا صرف تشہد ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

بہتر یہ ہے کہ مسبوق آہستہ آہستہ پڑھے، تاکہ اس کے تشہد ختم کرنے تک امام سلام پھیر دے ۔اگر یہ پہلے فارغ ہو جائے تو ”اشہد ان لا الہ الااللہ“ کو باربار پڑھتا رہے ۔ایک قول کے مطابق درود اور دعا بھی پڑھ سکتا ہے ۔

لمافی خلاصۃ الفتاوی :(1/165،رشیدیۃ)
“المسبوق اذا قعد مع الامام الصحیح انہ یترسل فی التشھد حتی یفرغ عن التشھد عند سلا م الامام وقال شمس الائمۃ السرخسی الاصح انہ یقرأ التشھد والدعوات لانہ یلزم المتابعۃ فیما لیس بمفسد ۔”
وفی غنیۃ المستملی :(469،رشیدیۃ)
“اذا فرغ من التشہد قبل سلام الامام یکرر ہ من اولہ وقیل یکرر کلمۃ الشھادۃ وقیل یسکت وقیل یأتی بالصلاۃ والدعا ء والصحیح انہ یترسل لیفر غ من التشھد عند سلام الامام ۔”
وفی المبسوط للسرخسی :(1/35،دارالمعرفۃ)
“ثم لا خلاف أن المسبوق يتابع الإمام في التشهد ولا يقوم للقضاء حتى يسلم الإمام وتكلموا أن بعد الفراغ من التشهد ماذا يصنع؟فكان ابن شجاع – رحمه الله – يقول يكرر التشهد وابو بكر الرازي يقول يسكت:لأن الدعاء مؤخر إلى آخر الصلاة والأصح أنه يأتي بالدعاء متابعة للإمام۔”
وکذا فی الھندیۃ:(1 191/،رشیدیۃ) وکذا فی البحر الرائق:(1/662،رشیدیۃ)
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:(2 /197،فاروقیۃ)وکذا فی فتح القدیر:( 1/401،رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1 /171،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1440،2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:61

چھوٹے بچے کے کان میں فجر والی اذان دی جائے یا دوسری اور کیسے دی جائے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

بچے کے کان میں عام اذان دی جائے ،نہ کہ فجر والی ۔طریقہ یہ ہےکہ بچے کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا کر قبلہ رُو کھڑا ہو اجائے اوردائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہی جائے ۔”حی علی الصلاۃ“کہتے ہوئے دائیں طرف اور ”حی علی الفلاح “کہتے ہوئے بائیں طرف اپنا چہرہ پھیرا جائے ۔

لما فی جامع الترمذی :(1/410،رحمانیۃ)
“عن عبیداللہ ابن ابی رافع عن ابیہ قال رایت رسول اللہ ﷺاذن فی اذن الحسن بن علی حین ولدتہ فاطمۃبالصلاۃھذا حدیث صحیح والعمل علیہ ۔”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(4/2750،رشیدیۃ )
“یستحب للولد ان یؤذن فی اذن المولود الیمنی ،وتقام الصلاۃ فی الیسری حین یولد لما روی ابو رافع ان النبی ﷺ اذن فی اذن الحسن ،حین ولدتہ فاطمۃ۔”
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ :(2/373،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(1/446،رشیدیۃ)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح :(197،قدیمی)
وکذافی الدرالمختار مع رد المحتار:(2/67،رشیدیۃ)
وکذافی التنویر وشرحہ:(1/387،رشیدیۃ)
وکذا فی تحفۃ الاحوذی:(5/90،قدیمی)
وکذا فی تقریرات رافعی علی ھامش شامیۃ:(2/66،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11/6/1440،2019/2/17
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :150