نماز جنازہ کے لیے کوئی مستقل درود ہے یا نماز والا ہی پڑھا جائے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

نماز جنازہ کے لیے کوئی خاص یا مستقل درود حدیث سے ثابت نہیں،لہذا ماثور درودوں میں سے کوئی بھی درود پڑھا جا سکتا ہے۔

وفی بدائع الصنائع : (2/51،رشیدیہ)
واذا کبر الثانیۃ یاتی بالصلاۃ علی النبی ﷺوھی الصلاۃ المعروفۃ،وھی ان یقول :(اللہم صلی علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابرہیم وعلی آل ابرہیم انک حمید مجید، اللہم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابرہیم وعلی آل ابرہیم انک حمید مجید)۔

 

لما فی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار:(1/373،رشیدیۃ)
(قولہ کمافی التشہد)بان یذکر الصلاۃ والبرکۃ والرحمۃ مع زیادۃ السیادۃ ندبا وتکرار انک حمید مجید وفی القھستانی عن الجلالی یصلی بما یحضرہ ۔۔۔ واتباع المسنون اولی ۔
وکذافی الشامیۃ :(3/128،رشیدیۃ)
وکذافی فتح القدیر :(2/125،رشیدیۃ)
وکذافی الموسوعۃ الفقھیۃ :(16/21،علوم اسلامیۃ)
وکذافی السنن الکبری للبیھقی:(2/529،دارالکتب)
وکذا فی المستدرک علی الصحیحین:(1/377،قدیمی)
وکذا فی فتح الباری:(11/191،قدیمی)
وکذا فی الھندیۃ:(1/76،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/321،رشیدیۃ)
وکذافی غنیۃ المستملی :(575،رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/34،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1440،2019/2/4
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :128

بخاری شریف کی ایک حدیث سنی ہے اگر کوئی شخص کسی جگہ 19دن ٹھہرنےکی نیت کرے،تو وہ وہاں قصر کرے گا ،اگر 19دن سےزیادہ ٹھہرنےکی نیت کرےگاتو پوری نماز پڑھے گا جبکہ ہم نے سنا تھا کہ15دن کی نیت سے پوری نماز پڑھے گااگر اس سے کم کی نیت کی ہے تو قصر کرے گا حدیث کے حوالہ کے ساتھ درست بات کی نشاندہی فرمائیں۔

الجواب باسم ملھم الصواب

احناف کے نزدیک مسافر کسی جگہ پندرہ یا زیادہ دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو وہ پوری نماز پڑھے گا اور اگر پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرےتو قصر کرے گا ،یہی مسلک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کاہے اورحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بھی ایک قول یہی ہے۔ انیس دن والی روایت کو فقہاءکرام اس بات پر محمول کرتے ہیں کہ آپ ﷺطائف کے محاصرے یاہوازن کے ساتھ جنگ کی حالت میں تھے تو آپﷺفتح کے منتظر تھے کہ جیسے ہی مکہ مکرمہ فتح ہو ہم یہاں سے کوچ کر جائیں گے، وہاں آپﷺ نے مستقل پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہیں کی تھی اس انتظار کی وجہ سے آپﷺکو وہاں انیس دن ہو گئے اورآپﷺ قصر کرتے رہے۔اورحالت انتظار میں اگر سال بھی گزر جائے تو نماز قصر پڑھنے ہی کا حکم ہے ۔

لما فی فتح الباری:(2/716،قدیمی)
“فالمدة التی فی حدیث ا بن عباس یسوغ الاستدلال بہ على من لم ینو الإقامۃ بل كان مترددا متى یتہیأ لہ فراغ حاجتہ یرحل والمدة التی فی حد یث أنس یستدل بہ على من نوى الإقامۃ لأنہ صلى اللہ علیہ وسلم فی ایام الحج كان جازما بالإقامۃ تلك المدة۔”
وفی فیض الباری:(2/530،رشیدیۃ)
“قلتُ: وحالُھم فی فتح مكۃكان بین أن یفْتَحَ لھم فیقروا، وبین أن یكونَ غیرَ ذلك فیقروا، وكذلك لم یکن لھم نیۃ بعد الفتح أیضًا، لأنہ لم یکن لھم بعد الفَتْح فی المقام بھا غَرَضٌ، إلا أنھم أقاموا بھا قَدْر ما یفْرُغُون عن حوائجھم، بخلاف حالھم فی حجۃالوداع، فإنھم كانوا جازمین بتلك المدۃ، لأنھم وَرَدُوا بھا للحج وسافروا لہ، فقد عزموا لھا مِنْ قبل. وقد سمعت بعضہ من الشیخ رحمہ اللہ فی درس الترمذی.”
وفی مصنف ابن ابی شیبۃ:(2/211،دارالکتب)
“حدثنا وکیع قال ثنا عمر بن ذر عن مجاھد قال :کان عمر اذا اجمع علی اقامۃ خمس عشرۃ سرح ظھرہ وصلی اربعا۔”
وفی بذل الجہود فی حل ابی داود:(6/222، قدیمی)
“عن عمران ابن حصین ۔۔۔۔۔۔ فاقام بمکۃ ثمانی عشرۃ لیلۃ لا یصلی الا رکعتین ۔۔۔۔۔ وھذا الحدیث عند الجمہور محمول علی انہ ﷺلم ینو الاقامۃ فا متد سفرہ الی ھذہ الایام۔”
وکذافی عمدۃ القاری :(7/116،بیروت)
وکذا فی کتاب الاصل:(1/248،عالم الکتب)
وکذافی جامع الترمذی:(1/236،رحمانیۃ)
وکذافی الھندیۃ:(1/139،رشیدیۃ)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی :(426،قدیمی)
وکذافی الموسوعۃ الفقھیۃ المقارنۃ:(2/881،محمودیۃ)
وکذافی سنن ابی داود :(1/181،رحمانیۃ)
وکذا فی صحیح البخاری :(ٓ1/221،رحمانیۃ)
وکذافی اعلا ء السنن :(7/314،ادارۃ القرآن)
وفی سنن ابن ماجۃ:(182،رحمانیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1440،2019/2/4
جلدنمبر:17 فتوی نمبر 122

اگر کوئی شخص فرض نماز انفرادی شروع کردے اور جماعت کاآغاز ہو جائے تو کیا وہ اپنی نماز توڑکر جماعت میں شامل ہو یا اپنی نماز جاری رکھے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر اس نے پہلی رکعت کا سجدہ نہیں کیا تونماز توڑ کر جماعت میں شامل ہوجائے ،اگر سجدہ کر لیا ہے تو چار رکعت والی نماز میں تو دو رکعت مکمل کرے پھر جماعت میں شریک ہو جائے ۔اگر تیسری رکعت کا سجدہ بھی کر لیا تو نماز مکمل کرے ،بعد میں نفل کی نیت سے جماعت میں شامل ہو جائے ،لیکن اگر ایسی صورت نماز عصر میں پیش آجائے تو اپنی نماز مکمل کرنے کے بعد عصر کی جماعت میں شامل نہ ہو۔اگر دو رکعت یاتین رکعت والی نماز یعنی فجر یا مغرب ہو،تو اگر دوسری رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے جماعت کھڑی ہو گئی تو اپنی نماز توڑ کر جماعت میں شامل ہو جائے ،اگر دوسری رکعت کا سجدہ کر لیا تو اپنی نماز مکمل کرے،بعد میں جماعت میں شامل نہ ہو۔

لما فی” الشامیۃ”:(2/610،دارالمعرفۃ)
“شرع فی فرض فأقیم قبل أن یسجد للأولى قطع واقتدى، فإن سجد لہ، فإن فی رباعی أتم شفعا واقتدى ما لم یسجد للثالثۃ، فإن سجد أتم واقتدى متنفلا إلا فی العصر، وإن فی غیر رباعی قطع واقتدى ما لم یسجد للثانیۃ، فإن سجد لھاأتم ولم یقتد. اهـ. ح (قولہ أو قیدھا) عطف على لم یقید: أي وإن قیدہابسجدۃ فی غیر رباعیۃ کالفجر والمغرب فإنہ یقطع ویقتدی أیضا ما لم یقید الثانیۃ بسجدۃ، فإن قیدھا أتم، ولا یقتدی لکراہۃ التنفل بعد الفجر، وبالثلاث فی المغرب، وفی جعلھا أربعا مخالفۃ لإمامہ۔”
وفی “بدائع الصنائع”:(1/641،642،رشیدیۃ)
“وأما إذا شرع فی الفرض ثم أقیمت الصلاۃ فإن كان فی صلاة الفجر یقطعھا ما لم یقید الثانیۃ بالسجدۃ؛ لأن القطع وإن كان نقصا صورۃ فلیس بنقص معنى۔۔۔ وإذا قید الثانیۃ بالسجدۃ لم یقطع؛ لأنہ أتى بالأكثر وللأكثر حكم الكل، وإن كان فی صلاۃ الظھر فإن كان صلى ركعۃ ضم الیہ أخرى، لأنہ یمكنہ صون المؤدى واستدراك فضیلۃ الجماعۃ۔۔۔۔ على لسان رسول اللہ – صلى اللہ علیہ وسلم – وإن صلى ركعتین تشھد وسلم لما قلنا، وكذا إذا قام إلى الثالثۃ قبل أن یقیدھا بالسجدۃ یعود إلى التشھد ویسلم۔۔۔۔ فإن كان قید الثالثۃ بالسجدۃ أتمھا۔۔۔۔ وأما فی المغرب فإن صلى ركعۃ قطعھا؛ لأنہ لو ضم إلیھا أخرى لأدى الأكثر فلایمكنہ القطع.”
وکذا فی الھندیۃ:(119/1،رشیدیۃ)۔
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:)2/310،311،فاروقیۃ)
وکذا فی مجمع الانہر:)1/209،208،مکتبۃ المنار(
وکذا فی الھدایۃ:)1/158،رحمانیۃ(
وکذا فی محیط البرھانی:(2/244،243،242،241،دار احیاء(
وکذا فی البحر الرائق:)2/124و127،126،رشیدیۃ(
وکذا فی المبسوط :)1/175،174،دارالمعرفہ(
وکذا فی الفقہ الحنفی:)1/163،162،الطارق(

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1440:،ء2019/1/20
جلد نمبر :17فتوی نمبر :97

اگرآدمی گھرمیں جماعت کرائےاورمقتدی صرف ایک عورت ہوتو وہ کس طرح نمازپڑھیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں عورت پچھلی صف میں کھڑی ہواورامام کی دائیں جانب اس طرح بھی کھڑی ہوسکتی ہےکہ اس کےقدم امام کےقدموں کےپیچھےہوں۔اگربرابر کھڑی ہوگئی تودونوں کی نمازنہیں ہوگی۔

لمافی الخانیۃعلی ھامش الھندیۃ:(1/95،رشیدیہ)
“وکذالمرأۃإذاصلت مع زوجھافی البیت إن کان قدمھا بحذاءقدم الزوج لاتجوز صلاتھمابالجماعۃوإن کان قدمھاخلف قدم الزوج إلاأنھاطویلۃتقع راس المراۃفی السجودقبل راس الزوج جازت صلاتھما.”
وفی بدائع الصنائع:(1/392،رشیدیہ)
“واذاکان مع الامام امرأۃاقامھاخلفہ لان محاذاتھامفسدۃ .”
وکذا فی التنویرمع شرحہ:(1/566،سعید) وکذا فی القول الراجح:(1/88،دارالعلوم حقانیہ)
وکذا فی الفتاویٰ الھندیۃ:(1/89،رشیدیہ) وکذا فی الفتاویٰ التاتار خانیۃ:(2/273،فاروقیہ)
وکذا فی حاشیۃالطحطاوی علیٰ مراقی الفلاح:(329،قدیمی) وکذا فی ردالمحتار:(1/572،سعید)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،15، 7جون2020

محلہ کی مسجدمیں بغیرتداعی کےدوسری جماعت کراناکیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دویاتین آدمی بغیراذان واقامت کےامام کےمصلےسےہٹ کرجماعت کرائیں توجائزہے، لیکن اس کی عادت نہ بنائی جائےاوربہتریہ ہےکہ مسجدسےباہرکسی جگہ دوسری جماعت کرائی جائے۔

لما فی بدائع الصنائع:(1/379،رشیدیہ)
“وروی عن أبی یوسف أنہ إنما یکرہ إذا كانت الجماعۃ الثانیۃکثیرۃ، فأما إذا كانوا ثلاثۃ، أو أربعۃ فقاموا فی زاویۃ من زوایا المسجد وصلوا بجماعۃ لا یكرہ.
وروی عن محمدرح أنہ إنما یكرہ إذا كانت الثانیۃعلى سبیل التداعی والاجتماع، فأما إذا لم یكن فلا یكرہ.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1182،رشیدیہ)
“یکرہ تکرارالجماعۃباذان واقامۃ فی مسجد محلۃ،الااذاصلی بہمافیہ اولاغیراہلہ،او اہلہ لکن بمخافۃالاذان ،اوکرراہلہ الجماعۃبدون الاذان والاقامۃ.”
وفی اللباب فی شرح الکتاب:(1/89،قدیمی)
“اذالم تکن الجماعۃعلی ھیئۃالاولی لاتکرہ،والاتکرہ،وھوالصحیح وبالعدول عن المحراب تختلف الھیئۃ.”
وکذا فی حاشیۃابن عابدین:(1/395،سعید)
وکذا فی البحرالرائق:(1/605،رشیدیہ)
وکذا فی المختصرفی الفقہ الحنفی:(134،البشریٰ)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،15، 7جون2020

کیاچھالیہ کھانےسےوضوٹوٹ جاتاہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نہیں۔

لمافی بدائع الصنائع:(1/118-138،رشیدیہ)
“وأمابیان ماینقض الوضؤ:۔۔۔۔۔۔،عن النبیﷺأنہ قال:«إنماعلیناالوضؤممایخرج لیس ممایدخل» .”
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/83-90،الطارق)
“وینقضوالوضؤأربعۃامور:
الأول:خروج شیئ من السبیلین۔۔۔۔۔الرابع:قہقۃالمصلی البالغ فی صلاۃذات رکوع وسجودتنقض الوضؤوتفسدالصلاۃ.”
وکذا فی الفتاوی الھندیہ:(1/13،رشیدیہ) وکذا فی نورالایضاح:(35،قدیمی)
وکذا فی الخانیۃعلیٰ ھامش الہندیۃ:(1/36،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیۃابن عابدین:(1/134-136،سعید)
وکذا فی التنویرمع شرحہ:(1/134-136، سعید)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،15، 7جون2020

کیا مچھلی کی کٹائی وصفائی کے دوران کپڑوں پر پڑنے والے چھینٹوں کے ساتھ نمازہو جائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!ہوجائے گی۔

لما فی الھندیہ:(1/46،رشیدیہ)
“ودم السمك ومایعیش فی الماءلا یفسد الثوب فی قول أبی حنیفۃ ومحمد رحمہما اللہ.”
وفی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(1/19، رشیدیہ)
“ودم السمك ومایعیش فی الماءلا یفسد الثوب فی قول أبی حنیفۃ ومحمد رحمہما اللہ.”
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/53،الطارق) وکذافی بدائع الصنائع:(1/195، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/303، رشیدیہ) وکذا فی التنویرمع شرحہ:(1/209،سعید)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیۃ:(1/432،فاروقیہ) وکذافی المبسوط:(1/57،داراحیاء)
وکذافی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(155،قدیمی)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15شوال المکرم1441، 7جون2020

ایک آدمی کسی کے بہکاوے میں آکر قادیانی ہوگیا پھر سمجھانے سےواپس اسلام کی طرف لوٹ آیا تو اس کے سابقہ اعمال کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس کے سابقہ اعمال (نماز،روزہ،حج،زکوۃ ،وغیرہ)باطل ہوگئے اوراگرفرض حج کرچکا تھا توبشرط استطاعت حج کی قضاءلازم ہوگی ،اسی طرح اگرمثلاً ظہر کی نماز کے بعد مرتد ہواپھر ظہر کے وقت میں ہی اسلام لیےآیا تو اس پر ظہر کی قضاء لازم ہوگی۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیہ :(7/380،فاروقیہ)
” والرجل اذا حج حجۃ الاسلام ثم ارتد والعیاذباللہ ثم اسلم کان علیہ حجۃ الاسلام وما ادی من الصلاۃ والصیامات فی اسلامہ ثم ارتد تبطل طاعاتہ،ولکن لایجب علیہ قضائھا بعد الاسلام.”
وفیالفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/97،الطارق)
” وتبطل عبادتہ وعلیہ قضاءماترک من عبادۃ فی الاسلام کالصلاۃ والصیام لان ترکھا معصیۃ والمعصیۃ تبقی بعد الردۃ وعلیہ قضاء الحج لانہ بالردۃ صار کالکافر الاصلی فان اسلم وہو غنی فعلیہ الحج لان سببہ البیت الحرام وھو باق بخلاف غیرہ من العبادات التی اداھا بخروج سببھا،ولھذا لوصلی الظہر مثلاً ثم ارتد ثم تاب فی وقت الظہر فعلیہ ان یعید صلاۃ الظہر ببقاء سببہ وھو الوقت .”
وکذا فی تنقیح الفتاوی :(1/194،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی الاشباہ والنظائر:(188،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی:(4/383،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع:(6/120،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(5/214،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(6/383،دارالمعرفہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/490،المنار )

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
یکم ربیع الثانی1441، 28نومبر2019

کسی شخص کو کھڑے ہوکر نماز پڑھ نے سے قطرے نکلنے کا خطرہ ہو تو کیا ایسا شخص بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے؟اگر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوے سجدہ وغیرہ کرنے سے قطرے نکلیں تو اشاروں سے نماز پڑھ سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!اگر کسی آدمی کے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے یا رکوع،سجدہ وغیرہ کرنے سے قطرے نکلتے ہوں تو بیٹھ کر یا رکوع وسجود کااشارہ کرکے نماز پڑھ سکتاہے۔

لما فی المحیط البرھانی :(3/39،داراحیاء)
“وکذالک اذا کان بہ جرا حۃ اذا قام سال جرحہ واذا قعد لایسیل اوکان شیخا کبیرا اذاقام سلس بولہ او اذا قعدا ستمسک صلی قاعدا برکوع وسجود وان کان لوسجد سال ایضاقاعد ایؤمی ایماء.”
وفی الفتاوی الولوالجیہ:(1/105،الحرمین شریفین)
“رجل بہ جرح ان صلی قائما لایسیل جرحہ واذا رکع وسجد یسیل جرحہ صلی قائما ویؤمی للرکوع ثم یجلس ویؤمی للسجود لیکون اداء الصلاۃ مع الطھارۃ.”
وکذا فی کتاب المبسوط:(1/277،دار احیاء)
وکذافی المختصر للقدوری:( 33،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع :(1/284،رشدیہ)
وکذافی الدرالمختار :(1 588/،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(1 /136،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/198،)
وکذافی الھدایہ:(1 /136،رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی النوازل:(108،الحقانیہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
یکم ربیع الثانی1441، 28نومبر2019

فقہائے کرام نے قضاء نمازوں کے اداء کرنے کی ترتیب ذکر کی ہے کہ ہر نماز کے بعد ایک نماز کی قضاء کی جائے کیا اسی جگہ قضاء کر سکتے ہیں جہاں فرض نمازیں و سنتیں پڑھی ہیں یا الگ جگہ میں پرپڑھی جائیں گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نمازوں کو قضاء کرنا گناہ ہے اور اس کا اظہار بھی گناہ ہے، لہذا اس طرح قضاء نہ کرے کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ قضاء کر رہا ہے، مثلا فجر اور عصر کے بعد لوگوں کے سامنے قضاء نماز نہ پڑھے کیونکہ اس وقت سنن و نوافل نہیں پڑھے جاتے۔

لمافی العالمکیریہ:(1/192،رشیدیہ)
“ولا یقضی الفوائت فی المسجد وانما یقضیھا فی بیتہ کذا فی الوجیز للکردری.”
وفی الفتاوی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(4/69،رشیدیہ)
“ولایقضی الفوائت فی المسجد وانما یقضیھا فی بیتہ لان التاخیر معصیۃ فلا یظھرھا.”
وکذافی تنویر الابصار مع شرحہ:(1/391،سعید)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/562،رشیدیہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
یکم ربیع الثانی1441، 28نومبر2019