ایک شخص کسی وجہ سے مسجد کی جماعت میں شامل نہ ہو سکا، اب وہ گھر میں نماز پڑھے یا مسجد میں اگر وہ مسجد جاتا ہے تو اس میں اس بات کا اظہار ہوگا کہ اس نے جماعت چھوڑ دی اور جماعت چھوڑنا ایک گناہ ہے ۔تو کیا اسے مسجد کی بجائے گھر میں نماز پڑھ لینی چاہیے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس مسجد کے بجائے اگر ممکن ہو تو کسی اور مسجد کی جماعت میں شریک ہو جائے ،ورنہ گھر کے افراد کو ملا کر جماعت کروالے ،یہ اس سے بہتر ہے کہ مسجد میں جا کر اکیلا نماز پڑھے۔

لما فی فتح القدیر: (1 / 353 ، رشیدیہ)
وإذا فاتته لا يجب عليه الطلب في المساجد بلا خلاف بين أصحابنا، بل إن أتى مسجدا آخر للجماعة فحسن، وإن صلى في مسجد حيه منفردا فحسن. وذكر القدوري يجمع بأهله ويصلي بهم، يعني وينال ثواب الجماعة
وفی بدائع الصنائع: ( 1/385 ، رشیدیہ)
ذكر في الأصل أنه إذا فاتته الجماعة في مسجد حيه فإن أتى مسجدا آخر يرجو إدراك الجماعة فيه – فحسن، وإن صلى في مسجد حيه فحسن،۔۔۔وذكر القدوري أنه إذا فاتته الجماعة جمع بأهله في منزله، وإن صلى وحده جاز
وکذافی الھندیہ: ( 1/ 83،82، رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق: ( 1/ 606، رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (1 /261 ،الطارق )
وکذا فی البحر الرائق:(1 /606 ،رشیدیہ )
وکذافی المحیط البرھانی:(2 /210 ، دار احیاء التراث)
وکذا فی التاتارخانیہ: (2 /280 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
وکذافی التبیین الحقائق: (1 /133 ،امدادیہ )
وکذا فی الترغیب والترھیب : ( 1/ 25 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:185

ہم نے تو سنا ہے کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا جا ئز نہیں ۔ہمارا ایک عزیز سعودیہ سے واپس آیا ہے تو وہ کہتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں اور مدینہ منورہ میں مسجد کے اندر نماز جنازہ پڑھا جاتا ہے ۔جب وہاں جائز ہے تو یہاں کیوں ناجائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مسجد میں نماز جنازہ عام حالات میں احناف کے نزدیک مکروہ ہے۔کیونکہ ابو داؤد شریف کی روایت میں ہے: “جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی تو اس کے لیے کوئی اجر نہیں ۔”اور حرمین شریفین میں اتنے بڑے مجمع کے ، ہرجنازے کے لیے مسجد سے باہر آنے میں شدید حرج ہے اور دائیں بائیں اب اتنے بڑے میدان وغیرہ بھی نہیں جن میں وہ مجمع سماسکے اس ضرورت کی بناء پر مسجد کے اندر بھی وہاں نماز جنازہ جائز ہے۔

لما فی سنن ابی داود: ( 2/ 101 ،رحمانیہ )
” حدثنا مسدد۔۔۔عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((من صلى على جنازة في المسجد، فلا شيء له )). “
لما فی شرح النقایہ للقاری : (1 / 448، ایچ -ایم-سعید)
(ولو وضع المیت خارجہ) ای خارج المسجد،وقام الامام خارجہ ومعہ صف، والباقی فی المسجد(اختلف المشایخ)فقیل:لایکرہ، لانہ لیس فیہ احتمال تلویث المسجد ۔ وقیل:یکرہ ،لان المسجد اعدّ لاداء المکتوبات،فلایقام فیہ غیرھاالا لعذر۔ و الاول اظہر ،لانہ لایکرہ النوافل و غیرھا من انواع الطاعات و اصناف الدعاء۔واما المسجد الحرام فمستثنی ،کماصرح بہ ابن الضیاء اذ ھو موضوع لاداء المکتوبات، والجمعۃ، والعیدین وصلاۃ الکسوف والخسوف،وصلاۃ الجنازۃ والاستسقاء،ولعلہ بھذا لمعنی جمع فی قولہ تعالی:}انما یعمر مساجد اللہ }او لکبر وسعۃ قدرہ،او لتعظیم امرہ، او لاشتمالہ علی جھات، کل جھۃ بمنزلۃ مسجد، او لانہ قبلۃ المساجد کلھا.
وفی الھدایہ مع فتح القدیر:(2 /133،132 ،رشیدیہ )
” (ولا يصلى على ميت في مسجد جماعة) لقوله – عليه الصلاة والسلام -: من صلى على جنازة في المسجد فلا أجر له .”
وتحتہ فی فتح القدیر:
لقوله – عليه الصلاة والسلام – :(من صلى على جنازة ) أخرج أبو داود وابن ماجه عن ابن أبي ذئب عن صالح مولى التوأمة عن أبي هريرة قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – :من صلى على ميت في المسجد فلا أجر له
وکذافی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (595،قدیمی )
وکذا فی اوجز المسالک الی مؤطا مالک: (4 / 352، دار الکتب العلمیہ)
وکذافی سنن ابن ماجہ: ( 221 ، رحمانیہ)
وکذا فی البحر الرائق : ( 2/ 327 ، رشیدیہ)
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ:(16 /35 ،علوم اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:177

آخری رکعت کے دو سجدے کرتے ہوئے ایک صاحب ایک سجدہ کرنے کے بعد بیٹھ گئے، دوسرا سجدہ نہیں کیا اور التحیات شروع کردی،آدھی یا آدھی سے زیادہ التحیات پڑھنے کے بعد یاد آیا کہ دوسرا سجدہ نہیں کیا، تو اب اس نے التحیات ترک کر کے دوسرا سجدہ کرلیا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس پر سجدہ سہو واجب ہو گا جبکہ دو سجدوں کے درمیان آپﷺ سے دعائیہ کلمات پڑھنا منقول ہیں۔ براہ مہربانی وضاحت کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ شخص سجدہ سہو کرے گا ۔ کیونکہ دو سجدوں کے درمیان ذکر اگر ارادۃ ًہو تو اس کی اگرچہ اجازت ہے مگر نسیان اور بھول سے اگر ہو تو اس پر سجدہ سہو آتا ہے۔

لما فی الشامیہ : (2 /202 ،دار المعرفہ )
لو أطال قيام الركوع أو الرفع بين السجدتين أكثر من تسبيحة بقدر تسبيحة ساهيا يلزمه سجود السهو۔۔۔ من شك في صلاته فأطال تفكره۔۔۔إن في جلوسه بين السجدتين فعليه السهو؛لأن له أن يطيل اللبث في جميع ما وصفنا إلا فيما بين السجدتين۔۔۔.
وفیہ ایضا: (2/260 ، دار المعرفہ)
وقدمنا في الواجبات عن ط أنه لو أطال هذه الجلسة أو قومة الركوع أكثر من تسبيحة بقدر تسبيحة ساهيا يلزمه سجود السهو.
وکذافی شرح النقایہ لعلی القاری رحمہ اللہ: (1 /262 ، ایچ-ایم-سعید)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار : (1 /211 ،رشیدیہ )
وکذافی غنیۃالمستملی : ( 460 ، رشیدیہ)
وکذا فی اعلاء السنن: ( 3/44،43 ،ادارۃ القرآن )
وکذا فی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح : ( 268 ،قدیمی )
وکذا فی المحیط البرھانی: (2 /313 ،دار احیاء التراث )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ : (2 /397 ،فاروقیہ-کوئٹہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29-07-1440، 2019-04-6
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:166

ایک بستی ہے وہ بڑے قصبے سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ پوچھنا یہ تھا کہ قصر نماز بستی سے نکل کر ہو گی یا بڑے قصبے سے نکل کر؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر تو قصبہ اور بستی کی آبادی آپس میں ملی ہوئی ہے پھر تو قصبہ سے نکل کر قصر کرے گا، ورنہ بستی کی آبادی سے نکل کر۔

لما فی الفتاوی الھندیہ: ( 1/139 ،رشیدیہ )
الصحيح ما ذكر أنه يعتبر مجاوزة عمران المصر لا غير إلا إذا كان ثمة قرية أو قرى متصلة بربض المصر فحينئذ تعتبر مجاوزة القرى
وفی الشامیہ: ( 2/722 ،دار المعرفہ )
قال في الإمداد: فيشترط مفارقتها ولو متفرقة وإن نزلوا على ماء أو محتطب يعتبر مفارقته كذا في مجمع الروايات، ولعله ما لم يكن محتطبا واسعا جدا اهـ وكذا ما لم يكن الماء نهرا بعيد المنبع وأشار إلى أنه يشترط مفارقة ما كان من توابع موضع الإقامة كربض المصر ۔۔۔وكذا القرى المتصلة بالربض في الصحيح،{وقال الرافعی}قول المصنف: (من خرج من عمارۃ الخ) قال الرحمتی: العمارۃ مایعمر بہ المکان .قاموس، فیشتمل بیوت المصر والقریۃ وبیوت الشعر
وکذافی غنیۃ المستملی: ( 536، رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ: (33 /164 ،علوم اسلامیہ )
وکذافی مجمع الانھر: (1 /238 ،المنار-کوئٹہ )
وکذا فی الجوھرۃ النیرۃ : (1 /217 ،قدیمی )
وکذافی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعہ: ( 1/ 405 ،حقانیہ-پشاور )
وکذا فی البحر الرائق: (2 /226 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25-07-1440، 2019-04-02
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:163

سورت ’’النصر ‘‘ میں ’’افواجا ‘‘ پر وقف کرنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ مقام پر وقف کرنا بہتر ہے۔اور نہ کرنا بھی جائز ہے۔کیونکہ اس مقام پر آیت کے نشان پر جو “(لا)” لکھا ہوا ہے ،اس کے بارے میں حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہ “معارف القرآن” کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:”لا : یہ لَاتَقِفْ کا مخفف ہے اس کا مطلب یہ ہے یہاں نہ ٹھہرو لیکن اس کا منشاء یہ نہیں کہ یہاں وقف کرنا ناجائز ہے، بلکہ اس میں بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں وقف کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور اس کے بعد والے لفظ سے ابتداء کرنا بھی جائز ہے۔

لما فی البرھان فی علوم القرآن: ( 1/505 ، دار المعرفہ)
فان النبی ﷺ کان یقف عند کل آیۃ فیقول:(الحمد للہ رب العالمین) ویقف [ثم یقول] (الرحمن الرحیم) وھکذا ۔۔۔قال:وھذا ھو الافضل؛ اعنی الوقف علی رؤوس الآی.
وکذافی سنن ابی داؤد: (2 / 200،199، رحمانیہ)
وکذا فی سنن الترمذی: ( 2/ 586، رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019-02-17
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:157

جب امام امامت کروا رہا ہو اور اس کو حدث لا حق ہو جائے تو وہ اپنا خلیفہ کیسےمتعین کرےگا؟ اشارہ سے یا ہاتھ وغیرہ سے پکڑ کر اپنی جگہ کھڑا کر دے گا؟

الجواب باسم المنعم الدیان

دونوں طرح سے درست ہے۔

لما فی التنویر وشرحہ للحصکفی رحمہ اللہ مع رد المحتار: (4 /425 ، رشیدیہ )
” (استخلف)ای جاز لہ ذلک ولو فی جنازۃ باشارۃ او جرّ لمحراب . “
وفی شرح النقایہ للبرجندی رحمہ اللہ: (1 /123 ،حقانیہ )
“الامام اذا سبقہ الحدث یستخلف آخر من المقتدی بان یجرہ الی مکانہ وان اشار الیہ من غیر جرّ کفی . “
وکذافی المبسوط: ( 2/116 ،دار المعرفہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (2 /370 ،فاروقیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019-02-06
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :156

امام کے ثناء پڑھ لینے کے بعد مقتدی (چاہے مدرک ہو یا مسبوق اور نماز سری ہو یا جہری) کے ثناء پڑھنےکاکیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جب امام قراءت شروع کردے تو مقتدی ثناء نہیں پڑھے گا،چاہے نماز سری ہو یا جہری ۔ البتہ مسبوق جب اپنی بقیہ رکعات کی قضاء کے لیے کھڑا ہوگا تب ثناء پڑھے گا۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (259،قدیمی )
” ثم أعلم إن الثناء يأتي به كل مصل فالمقتدي يأتي به ما لم يشرع الإمام في القراءة مطلقا سواء كان مسبوقا أو مدركا في حالة الجهر أو السر. “
وفی الموسوعہ الفقہیہ: ( 4/ 53، علوم اسلامیہ)
” قال الحنفية: لا يأتي المأموم بدعاء الاستفتاح إذا شرع الإمام في القراءة، سواء أكان الإمام يجهر بقراءته أم يخافت. “
وکذافی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار : ( 1/ 218 ، رشیدیہ)
وکذا فی قولہ تعالی فی سورۃ الاعراف:الآیۃ (204 )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019-02-17
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:155

ایک شخص گھر سے وضو کر کے نماز یا کسی بھی نیک کام کی نیت کر کے چلا گیا،بازار سے گزرتے ہوئے اس کی نگاہ کسی بے پردہ عورت پر پڑگئی تو کیا وہ دوبارہ وضو کرے؟(2)(ا)زوال کے وقت کی کیا حقیقت ہے؟(ب)اور اس ٹائم کون سی عبادت کر سکتے ہیں؟(ج)اور یہ ٹائم دن میں کب ہوتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بے پردہ عورت پر نظر پڑ جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ (2)(ا)جب سورج آسمان پر سفر کرتے ہوئے اس کے بالکل درمیان میں پہنچ جاتا ہے (عام طور پر کہتے ہیں ،سورج بالکل سر پر پہنچ گیا) تو اسے “استواء” یا ” نصف النہار” کہتے ہیں۔اس کے بعد جب سورج مغرب کی طرف ڈھلنا شروع کردے تو حقیقت میں “زوال” اس وقت کو کہتے ہیں ۔ لیکن عموما “نصف النہار ” کو ہی زوال کہہ دیا جا تا ہے ۔(ب) اس وقت میں نماز پڑھنا منع ہے ،اس کے علاوہ دیگر عبادات ذکر وتلاوت وغیرہ کر سکتے ہیں۔(ج)زوال کا وقت دوپہر کو ہوتا ہے لیکن گھڑی کے حساب سے اس کی کوئی خاص تعیین نہیں کی جا سکتی ،کیونکہ یہ ہر علاقے میں روزانہ کے حساب سے بدلتارہتا ہے ۔اوقات نماز کے نقشوں میں یہ وقت دیکھا جا سکتا ہے ۔ہماری تحقیق کے مطابق ساہیوال شہر میں زوال کا وقت پورا سال تقریبا 11:50 سے 12:30 کے درمیان کسی وقت ہوتا ہے ۔

لما فی الفتاوی الھندیہ: ( 1/ 13، رشیدیہ)
“مس الرجل المرأۃ والمرأۃ الرجل لاینقض الوضوء کذا فی المحیط . “
وفی فتح القدیر: (1 /56 ،رشیدیہ )
” ولا یجب من مجرد مسھا ولو بشھوۃ ولو فرجھا،ولا من مس الذکر . “
وفی الدر المختار مع رد المحتار: (2 / 44 ،دار المعرفہ )
الصلاة فيها على النبي – صلى الله عليه وسلم – أفضل من قراءة القرآن وكأنه لأنها من أركان الصلاة، فالأولى ترك ما كان ركنا لها. وفی الشامیہ: (قوله: الصلاة فيها) أي في الأوقات الثلاثة وكالصلاة الدعاء والتسبيح كما هو في البحر۔۔۔ فإن مفاده أنه لا كراهة أصلا؛ لأن ترك الفاضل لا كراهة فيه.
وفی الشامیہ:(2 /38،37 ،دار المعرفہ )
(قوله: واستواء) التعبير به أولى من التعبير بوقت الزوال؛ لأن وقت الزوال لا تكره فيه الصلاة إجماعا بحر عن الحلية: أي لأنه يدخل به وقت الظهر كما مر. وفي شرح النقاية للبرجندي: وقد وقع في عبارات الفقهاء أن الوقت المكروه هو عند انتصاف النهار إلى أن تزول الشمس ولا يخفى أن زوال الشمس إنما هو عقيب انتصاف النهار بلا فصل، وفي هذا القدر من الزمان لا يمكن أداء صلاة فيه
وکذافی المحیط البرھانی: (2 / 10،دار احیاء التراث )
وکذا فی الصحیح للامام مسلم رحمہ اللہ: ( 1/276 ، قدیمی)
وکذافی اعلاء السنن: ( 1/176،ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ )
وکذا فی التاتر خانیہ: (1 /268 ، فاروقیہ-کوئٹہ)
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: (24 /54 ،علوم اسلامیہ)
وکذا فی البحر الرائق: (1 /434،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلدنمبر:17 فتوی نمبر :154

نماز کے بعد جو قرآنی آیات پڑھتے ہیں، مثلا آیت الکرسی اور چاروں قل وغیرہ ان کا ثواب تلاوت والا ملے گا یا ذکر والا؟ نیز یہ جو کہتے ہیں کہ روز قرآن کریم کی کچھ تلاوت کرنی چاہیے ، کیا مذکورہ ذکر اسکے قائم مقام ہو جائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ذکر والا ثواب ملے گا، لیکن مقررہ مسنون اذکار کو وقت پر پڑھنا تلاوت قرآن پاک سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔لہذا تلاوت قرآن پاک الگ سے کرنا چاہیے یہ اذکار تلاوت کے قائم مقام نہ ہوں گے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (2 /992و1098 ،رشیدیہ-کوئٹہ )
يسن ذكر الله والدعاء المأثورعقب الصلاة [وعلی الصفحۃ التالیۃ] يقرأ آية الكرسي، وسورة الإخلاص: {قل هو الله أحد} [الإخلاص:1/ 112]، والمعوذتين {قل أعوذ برب الفلق} [الفلق:1/ 113]، {قل أعوذ برب الناس} [الناس:1/ 114]
.
وفیہ فی موضع آخر
القرآن أفضل من سائر الذكر . . . . لكن الاشتغال بالمأثور من الذكر في محله كأدبار الصلوات أفضل من الاشتغال بتلاوة القرآن في ذلك المحل.
وکذافی الفتاوی التاترخانیہ: ( 2/118 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ: ( 21/ 317، علوم اسلامیہ)
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ: (33 /58 ،علوم اسلامیہ )
وکذافی الفتاوی الھندیہ: ( 5/317 ،رشیدیہ )
وکذافی الاذکار للنووی: ( 105 ،دار البشائر الاسلامیہ )
وکذافی عمل الیوم واللیلہ للنسائی : ( 49 ،دار الباز )
وکذا فی صحیح البخاری: (1 /56 ،رحمانیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23-07-1440، 2019-03-31
جلدنمبر :18 فتوی نمبر:120

ایک آدمی نے چار رکعت نفل کی نیت باندھی، اب دوران نماز کیا وہ ان رکعات کو فرض کی نیت سے پڑھ سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح فرض کی نیت کرنا معتبر نہیں، یہ نفل ہوں گے۔

لما فی الدر المختار مع الشامیہ: ( 2/156 ،دار العرفہ )
ولا تبطل بنية القطع ما لم يكبر بنية مغايرة[وفی الشامیہ](قوله ولا تبطل بنية القطع) وكذا بنية الانتقال إلى غيرها ط . (قوله ما لم يكبر بنية مغايرة) بأن يكبر ناويا النفل بعد شروع الفرض وعكسه، أو الفائتة بعد الوقتية وعكسه، أو الاقتداء بعد الانفراد وعكسه
وفی البحر الرائق: (1 /491 ،رشیدیہ )
” لأن النية المعتبرة إنما يشترط قرانها بالجزء الأول ومثله إذا شرع بنية التطوع فأتمها على ظن المكتوبة فهي تطوع. “
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /333 ،رشیدیہ )
وکذا فی المحیط البرھانی : (2 /25 ،دار احیاء التراث )
وکذافی غنیہ المستملی : (249 ،قدیمی )
وکذا فی الھندیہ: (1 /66 ،رشیدیہ )
وکذافی التاترخانیہ: (2 /45 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
وکذا فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ: (1 /86 ،رشیدیہ )
وکذافی فتح القدیر: (1 /275 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15-07-1440، 23-06-2019
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:117