سفر میں جمع بین الصلاتین کے حوالے سے ظہر و عصر کا وقت معلوم کرنا تو مثل اول و ثانی کے اعتبار سے آسان ہے۔ لیکن مغرب میں وہ مشترک وقت (جو کہ احناف کے ہاں مختلف فیہ ہے) کب ہوتا ہے جس میں مغرب و عشاء دونوں پڑھ سکیں؟ میں نے کسی سے سنا ہے کہ مغرب کا وقت داخل ہونے کے پونے گھنٹہ (45 منٹ) کے بعد مغرب و عشاء اکٹھی پڑھ سکتے ہیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

محتاط قول کے مطابق آغازِ وقتِ عشاء سے تقریبا 10 منٹ پہلے معذور اور مسافر، مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھ سکتے ہیں۔

لما فی فیض الباری: ( 2/133، رشیدیہ)
وهكذا أقول بالاشتراك بين المغرب والعشاء، ففي المغرب أيضا روايتان عن الإمام. الأولى: أنها إلى الشفق الأبيض، قالوا: إنه ظاهر الرواية. والثانية: أنها إلى الأحمر.
قلت: الأحمر، وقت مختص بالمغرب، وما بعد الأبيض وقت مختص بالعشاء، والأبيض يصلح لهما، والمطلوب هو الفاصلة، وترتفع تلك المطلوبية في السفر والمرض، فيجوز الجمع فيه كالجمع بين الظهرين في المثل الثاني،… وإليه تومىء الأحاديث لتعرضها إلى التأخير والتعجيل، وهما أصدق وأفيد على نظر الحنفية، وإن صدقا على نظرهم أيضا، لكن ليس فيه لطف.
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 1/668، رشیدیہ)
و بین الشفقین تفاوت یقدر بثلاث درجات، و الدرجۃ أربع دقائق.
وکذافی اللباب علی المختصر: ( 1/72، قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی اعلاء السنن: ( 2/14، ادارة القرآن)
وکذافی فتح الملھم: ( 4/77، مکتبہ دارالعلوم)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: ( 2/7، فاروقیہ)

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/9/1440، 2019/5/26
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :69

اگر ظہر کی جماعت کا وقت ہو جائے اور امام اور مقتدی کسی نے بھی سنتیں نہ پڑھی ہوں تو کیا پہلے جماعت کروائی جائے یا سنتیں پڑھی جائیں؟ (2) اگر کسی ایک مقتدی نے سنتیں پڑھ لی ہوں تو جماعت امام کروائے یا مقتدی جس نے سنتیں پڑھ لی ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر کوئی حرج نہ ہو تو پہلے سنتیں ادا کرنا بہتر ہے، وگرنہ وقتِ مقررہ پر جماعت کرا لی جائے اور سنتیں بعد میں ادا کر لی جائیں۔(2) سنتیں پڑھے بغیر بھی امامت درست ہے، لہذا مقررہ امام ہی جماعت کروائے گا، البتہ امام کو اس کی عادت نہیں بنانی چاہیے۔

لما فی السنن ابن ماجة: ( 187، دار الکتب العلمیہ )
“عن عائشۃ قالت: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اذا فاتتہ الأربع قبل الظھر، صلاھا بعد الرکعتین بعد الظھر.”
وکذافی التنویر و الدر مع رد المحتار: ( 2/254، رشیدیہ )
“( و الأحق بالامامۃ ) تقدیما بل نصبا… و مثلہ امام المسجد الراتب ( أولی بالامامۃ من غیرہ ) مطلقا.”
وکذا فی البحر الرائق: ( 2/132، رشیدیہ )
و کذا فی إعلاء السنن: ( 7/137، ادارة القرآن )
وکذافی الشامیة: ( 2/546، رشیدیہ)
وکذا فی سنن ابن ماجة: ( 187، دار الکتب العلمیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440، 2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :188

کسی شخص پر سجدہ سہو واجب ہونے کی صورت میں صرف ایک سجدہ ادا کیا، تو کیا نماز ہو جائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سہو کے دو سجدے کرنا واجب ہیں، لہذا نماز لوٹانا واجب ہے۔

لما فی تنویر الأبصار مع رد المحتار: ( 2/252، رشیدیہ )
“(و یجب لہ بعد سلام واحد سجدتان ).”
وفی الھدایة: ( 1/164، المیزان )
“یسجد للسھو فی الزیادۃ و النقصان سجدتین بعد السلام ثم یتشھد ثم یسلم…… و لنا قولہ علیہ السلام لکل سھو سجدتان بعد السلام.”
وکذافی مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوی: ( 460، قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی النھر الفائق: ( 1/321، قدیمی کتب خانہ )
وکذافی غنیة المستملی: ( 455، رشیدیہ )
وکذا فی الھندیة: ( 1/125، رشیدیہ )
وکذافی کتاب الفقہ: ( 1/384، حقانیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 2/1123، رشیدیہ )
وکذا فی الدر المنتقی مع مجمع الأنھر: ( 1/219، )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: ( 2/385، فاروقیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :136

مسبوق جس نے امام کے ساتھ ایک رکعت پائی ہے، وہ اپنی بقیہ نماز کیسے پوری کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جو شخص مغرب کی تیسری رکعت میں شریک ہوا وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو جائے اور پہلی رکعت میں ثناء، تعوذ، تسمیہ، فاتحہ اور سورت پڑھے اور رکعت پوری کر کے قعدہ میں تشہد پڑھ کر کھڑا ہو جائے اور دوسری رکعت فاتحہ اور سورت کے ساتھ پڑھے، پھر قعدہ میں تشہد، درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے۔
اورجو شخص ظہر، عصر اور عشاء کی آخری رکعت میں شریک ہوا وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو جائے اور پہلی رکعت میں ثناء، تعوذ، تسمیہ، فاتحہ اور سورت پڑھے اور رکوع و سجدے کے بعد التحیات پڑھ کر کھڑا ہو جائے اور دوسری رکعت میں فاتحہ اور سورت پڑھے، اور تیسری رکعت میں صرف فاتحہ پڑھے اور قعدہ اخیرہ میں تشہد، درود اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے۔

لما فی خلاصة الفتاوی: ( 1/165، رشیدیہ )
و المسبوق فیما یقضی أول صلوتہ فی حق القراءۃ و آخر صلوتہ فی حق التشھد حتی لو أدرک مع الامام رکعۃ من المغرب ثم قام الی قضائہ بعد تسلیم الامام فانہ یقضی رکعتین و یقرأ فی کل رکعۃ بالفاتحۃ و السورۃ و لو ترک القراءۃ فی احدیھما تفسد صلوتہ و علیہ أن یقضی رکعۃ و یتشھد ثم رکعۃ أخری و یتشھد و یسلم لانہ یقضی اخر صلوتہ فی حق التشھد و لو أدرک رکعۃ مع الامام فی صلوۃ الظھر و العصر و العشاء و قام الی القضاء فعلیہ أن یقضی رکعۃ و یقرأ فیھا بالفاتحۃ و سورۃ و یتشھد لانہ یقضی آخر الصلوۃ فی حق التشھد و یقضی رکعۃ أخری و یقرأ فیھا بالفاتحۃ و سورۃ و لا یتشھد و فی الثانیۃ بالخیار و القراءۃ أفضل
وفی الدر المختار: ( 2/418، رشیدیہ )
ويقضي أول صلاته في حق قراءة، وآخرها في حق تشهد؛ فمدرك ركعة من غير فجر يأتي بركعتين بفاتحة وسورة وتشهد بينهما، وبرابعة الرباعي بفاتحة فقط، ولا يقعد قبلها
وکذافی کتاب الآثار: ( 1/192، دار السلام )
وکذا فی إعلاء السنن: ( 4/394، إدارةالقرآن )
وکذافی غنیة المستملی: ( 469، رشیدیہ )
وکذا فی الأشباہ و النظائر: ( 165، قدیمی کتب خانہ )
وکذافی شرح الحموی علی الأشباہ و النظائر: ( 1/422، إدارة القرآن )
وکذا فی فتح القدیر: ( 1/401، رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: ( 409، رشیدیہ )
و کذا فی البزازیة مع الفتاوی العالمگیریة: ( 4/60، رشیدیہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :107

جمعہ کا خطبہ سننے کے لئے کس ہیئت میں بیٹھنا چاہیئے؟ تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

جمعہ کا خطبہ سننے کے لئے جس ہیئت میں بیٹھنا آسان ہو بیٹھ سکتے ہیں۔ البتہ مستحب یہ ہے کہ دو زانو ہو کر جس طرح التحیات میں بیٹھا جاتا ہے بیٹھنا چاہیئے۔

لما فی الھندیة: ( 1/148، رشیدیہ)
إذا شھد الرجل عند الخطبۃ إن شاء جلس محتبیا أو متربعا أو کما تیسر لأنہ لیس بصلاۃ عملا و حقیقۃ کذا فی المضمرات. ویستحب أن یقعد فیھا کما یقعد فی الصلاۃ کذا فی معراج الدرایۃ
وکذافی مجموعة رسائل اللکنوی: ( 4/142، ادارة القرآن)
وکذا فی الصحیح البخاری: ( 1/197، رحمانیہ)
وکذا فی جامع الترمذی مع ھامشہ: ( 1/227، رحمانیہ)
وکذافی معارف السنن شرح جامع الترمذی: ( 4/364، ایچ ایم سعید)
وکذا فی إعلاء السنن: ( 8/84، إدارة القرآن)
وکذافی البحر الرائق: ( 2/259، رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاویدعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/6/1440، 2019/2/21
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :181

اگر ایک آدمی نے ظہر کے فرضوں کے بعد دو رکعات سنتیں پڑھنا شروع کیں، تشہد کے بعد تیسری رکعت شروع کر دی بعد میں یاد آیا کہ میں تو دو رکعت سنت ادا کر رہا تھا، تو کیا واپس بیٹھ جائے یا چار رکعت مکمل کرے، اگر چار رکعت مکمل کر لے تو چار سنتیں ادا ہو جائیں گی، جبکہ اس نے فرضوں سے پہلے چار رکعات سنتیں ادانہ کی ہوں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں وہ آدمی اگر واپس بیٹھ کر سجدہ سہو کر لے تو یہ بھی ٹھیک ہے اور اگر چار رکعات مکمل کر لے تو یہ ظہر سے پہلے کی چار سنتیں ادا ہو جائیں گی، کیونکہ سنت اور نفل میں مطلق نماز کی نیت کر لینا کافی ہے رکعات کی تعیین ضروری نہیں۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیة: ( 2/297، فاروقیہ )
“و إذا شرع فی التطوع و أراد أن یصلی الرکعتین، ثم بدا لہ أن یصلی أربعا بتسلیمۃ واحدۃ، جاز لہ ذلک.”
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/282، الطارق )
و ان قام الی الرکعۃ الزائدۃ ساھیا، بعد ان قعد القعود الأخیر، عاد للجلوس عند ما یتذکر، ما لم یسجد للرکعۃ الزائدۃ،… و یسجد للسہو فی الصورتین؛ لتأخیر السلام فی الصورۃ الأولی
وکذافی ردالمحتار علی الدر المختار : ( 2/117، 116، رشیدیہ )
وکذا فی الھندیة: ( 11/66، رشیدیہ )
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح: ( 224، قدیمی کتب خانہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 1/484، رشیدیہ )
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب: ( 1/78، قدیمی کتب خانہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440، 2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :65

! ايك بستی جس کی آبادی تقریبادوسوسےتین سوکےدرمیان ہےاس کےقریب سےایک بڑی سڑک گزرتی ہےاوراس بستی کےبس سٹاپ پرتقریباپندرہ دکانیں ہیں کچھ کریانہ کی، کچھ سبزی کی، ایک مٹھائی کی اوردرزی کی،اس بستی کی مسجدمیں گزشتہ8سال سےجمعہ پڑھاجارہاہے اب اس مسجدمیں ایک تبلیغی جماعت آئی ہےجن میں ایک مفتی صاحب تھےانہوں نےبتایا ہےکہ یہاں جمعہ جائز نہیں آپ ظہرکی نمازاداکیاکریں آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ہم جمعہ جاری رکھیں یاظہرشروع کردیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جمعہ کی ادائیگی کےلئےفقہاءکرام نےشہریابڑی بستی ہونالازم قراردیاہےکہ جس میں اکثر ضروریات زندگی میسرہوںمثلا بازارہو،کوئی با ا ثر شخص یاادارہ ہوجولوگوں کے آپس کےمعاملات حل کرواسکے،مفتی ہو جولوگوں کومسائل بتائے،الغرض انسان کی دینی ودنیوی ضروریات کا حل موجود ہومذکورہ بستی میں چونکہ شرائط موجودنہیں ہیں لہذاجمہورکےنزدیک یہاں جمعہ اداکرناجائزنہیں،اگرفتنہ فسادکاخطرہ نہیں ہےتوجمعہ روک دیاجائے،ورنہ بعض فقہاءکرام جن میں حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی صاحب بھی ہیں ان کےنزدیک جہاں جمعہ شروع ہوچکاہو وہاں جمعہ جاری رکھنےکی بھی اجازت ہے۔

لما فی ردالمحتار : (2/137،سعید)
عن ابي حنيفةانه بلدة كبيرة فيهاسكك واسواق ولهارساتيق وفيهاوال يقدر علي انصاف المظلوم من الظالم بحشمته وعلمه اواعلم غيره يرجع الناس اليه فيمايقع من الحوادث وهذاهوالاصح
وفی بدائع الصنائع : (1 /583،584،رشیدیہ)
اما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة ادئهاعند اصحابنا حتي لاتجب الجمعة الاعلي اهل المصرومن كان ساكنافي توا بعه وكذا لايصح اداءالجمعة الافي المصروتوابعه فلاتجب علي اهل القري التي ليست من توابع المصر،ولايصح اداءالجمعةفيها
وفيه ايضا : “وعن ابی عبداللہ ا لبلخي انہ قال احسن ماقیل فیہ اذاکانوابحال لواجتمعوفی اکبرمساجدھم لم یسمعھم ذلک حتی احتاجواالی بناءمسجد الجمعة فهذامصرتقام فيه الجمعة”
وکذا فی شرح الوقاية : ( 1/240،امدادیہ)
وکذا فی الہدا ية:(1/177،رحمانیہ)
وکذا فی الہندية:(1/145،رشیدیہ)
وکذا فی الدرالمختار :(2/137،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/7/1440۔2019 /4/2
جلد نمبر : 18 فتوی نمبر :101

ايك صاحب کہہ رہے تھےکہ سنت مؤکدہ کی آخری دورکعتوںمیں سورت نہیں ملائی جاتی،یہ مسئلہ درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ مسئلہ درست نہیں ،بلکہ سنتوں کی تمام رکعتوںمیں سورت ملاناضرری ہے۔

لما فی البحرالرائق: ( 2/99،رشیدیہ)
“(وکل النفل والوتر)ای القراءۃفرض فی جمیع رکعات النفل والوتر.”
وفی المحیط البرھانی: ( 2/220،داراحیاء)
امافی السنن مثل الاربع قبل الظہروالاربع قبل العشاءالاخیرفانہ یلزمہ اربع رکعات،ویلزم اکثرمن ذلک ویلزمہ فی کل رکعتین من القراءۃ
وکذافی التاتارخانیہ: (2 /56،فاروقیہ)
وکذا فی الدرالمختار: (2/573،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی: ( 1/210،الطارق )
وکذا فی الہندیہ: ( 1/113،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی: (2/1067،رشیدیہ)
وکذا فی النھرالفائق: ( 1/299،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر : 19 فتوی نمبر :11

مقتدی امام کےسلام کےبعدبھول کرکھڑاہوگیااوررکعت پوری کرنےکےبعدساتھ والےسےگفتگوکی تواس نےبتایاکہ آپ کی رکعت تونہیں رہتی تھی،اب وہ کیاکرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نمازدوبارہ پڑھےگا۔

لما فی حاشية الطحطاوی علی مراقی الفلاح: ( 247/،قدیمی)
“قولہ واعادتھابترکہ عمداای مادام الوقت باقیاوکذافی السہوان لم یسجدلہ وان لم یعدھاحتی خرج الوقت۔۔۔۔ویکون فاسقاآثما.”
وفی الدرالمختارمع حاشية الطحطحاوی: ( 1/207،رشیدیہ)
“(ولھاواجبات)لاتفسدبترکھاوتعادوجوبافی العمدوالسہوان لم یسجدلہ وان لم یعدھا یکون فاسقاآثما.”
وکذافی کتاب الفقہ: ( 1/209،حقانیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی: (1/209،الطارق)
وکذافی البحرالرائق: ( 1/515، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی: ( 2/808،رشیدیہ)
وکذافی الدرالمختارمع ردالمحتار: ( 1/456،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :7

اگر مسجد میں تاخیر سے پہنچنے پر کچھ رکعتیں جماعت سے رہ جائیں تو وہ بعد میں کس تر تیب سے ادا کی جا تی ہیں ؟تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فر مائیں۔

الجواب باسم ملھم الصواب

جو رکعتیں جماعت سے رہ جائیں ان کو اس ترتیب سے ادا کیا جائے:(1) اگر کسی کی ایک رکعت رہ جائے تو وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو کر سبحانک اللھم آخر تک پڑھے پھر اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے پھر سورت فاتحہ پڑھے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر کوئی سورت ملائے اور معمول کے مطابق نماز مکمل کرلے۔(2) اور اگر مغرب کے علاوہ نماز میں دو رکعتیں رہ جائیں تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو کر نماز کی پہلی دو رکعتوں کی طرح پڑھے،یعنی پہلی رکعت میں سبحانک اللھم سے شروع کرے،اعوذ باللہ ،بسم اللہ ،سورت فاتحہ اور سورت پڑھ کر رکوع وسجدے کرے اور دو سری رکعت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر سورت فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے اوررکوع وغیرہ کر کے نماز مکمل کرلے۔
اور اگر مغرب کی نماز میں دو رکعتیں رہ جائیں تو اپنی نماز پڑھتے ہوئے پہلی رکعت میں سبحانک اللھم،اعوذ باللہ ،بسم اللہ ،سورت فاتحہ اور کوئی سورت پڑھ کر رکوع وسجدے کرکے التحیات پڑھے پھر کھڑا ہو جائے اور دوسری رکعت میں بسم اللہ پڑھ کرسورت فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے اور رکوع وغیرہ کر کے نماز مکمل کر لے۔(3)اور اگر تین رکعتیں رہ جائیں تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑاہو کر سبحانک اللھم،اعوذ باللہ، بسم اللہ ،فاتحہ ،اور کوئی سورت پڑھ کر رکوع وسجدے کرے پھر التحیات پڑھے اور دوسری رکعت میں بسم اللہ،فاتحہ،اور کوئی پڑھ کر رکوع وسجدے کرکے تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے اور بسم اللہ اور فاتحہ پڑھے، سورت نہ پڑھے اور رکوع وغیرہ کرکے نماز مکمل کرلے۔اوراگر مغرب میں تینوں رکعتیں رہ جائیں تو وہ عام طریقے کے مطابق پڑھی جائیں۔(4)اوراگر چار رکعتیں رہ جائیں تو وہ عام طریقے کے مطابق ادا کی جائیں، جیسے ابتداء سے نماز پڑھی جاتی ہے۔

لما فی الھندية:(1/91،رشیدیہ)
(ومنھا) انہ یقضی اول صلاتہ فی حق القراءۃ وآخرھا فی حق التشھد حتی لو ادرک رکعۃ من المغرب قضی رکعتین وفصل بقعدۃ فیکون بثلاث قعدات وقرا فی کل فاتحہ وسورۃ ولو ترک القراۃ فی احداھما تفسد .ولو ادرک رکعۃ من الرباعیۃ فعلیہ ان یقضی رکعۃ یقرا فیھا الفاتحۃ والسورۃ ویتشھدویقضی رکعۃ اخری کذلک ولا یتشھدوفی الثالثۃ بالخیار والقراءۃ افضل،ھکذا فی الخلاصۃ،ولوادرک رکعتین قضی رکعتیں بقراءۃ ولوترک فی احداھما فسدت
وفی المحیط البرھانی:(2/112،داراحیاء)
“ومن حکم المسبوق انہ یصلی اولا ما ادرک مع الامام فاذا فرغ الامام من صلاتہ یقضی ماسبق بہ…ولمسبوق فی الحکم کانہ منفرد،ولھذا کان علیہ القراءۃ فیما یقضی
وکذا فی التاتارخانیة:(2/198،فاروقیہ)
وکذا فی البزازية:(4/60،رشیدیہ)
وکذا فی النھرالفائق:(1/198،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(1/664،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(1/597،سعید)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/166،165،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ايثارالقاسمی عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
30/5/1440،2019/2/6
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :130