گھر میں والدہ کو قرآن سنانے کے لیے نفل کی جماعت کروانا کیسا ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

گھر میں والدہ کو قرآن سنانے کے لیے نفل کی جماعت کی گنجائش تو ہے ،لیکن اگر یہ خدشہ ہوکہ دوسرے لوگ اس کو دیکھ کر نوافل کی عمومی جماعت شروع کر دیں گےتو ناجائز ہے ۔

لما فی الشامیة: (2/49،سعید)
“(قولہ اربعة بواحد ة)اما اقتداء واحد بواحد او اثنین بواحد فلا یکرہ وثلاثة بواحدۃ فیہ خلاف.”
وفیہ ایضا:(2/48،سعید)
وفی المحیط البرھانی: (2/264،دار احیاء)
وحكي من الشيخ الإمام الأجل شمس الأئمة السرخسي رحمه الله أن التطوع بالجماعة إذا صلوا التطوع…… سبيل التداعي أما إذا اقتدى واحد بواحد لا يكره، وإذا اقتدى ثلاثة بواحدة، ذكر هو رحمه الله: أن فيه اختلاف المشايخ، قال بعضهم: يكره وقال بعضهم: لا يكره. وإذا اقتدى أربعة بواحد يكره بلا خلاف
وکذافی التاتارخانیة: ( 2/292،فاروقیہ )
وکذافی اللباب: (1/124،قدیمی)
وکذافی البنایة: (2/401،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر: (1/365 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیةالطحطاوی: (1/412 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
9-9-1440،2019-05-15
جلد نمبر :19 فتوی نمبر:61

اگر کوئی امام یا منفرد سری نماز میں جہری اور جہری نماز میں سری قراءت شروع کردے تو کتنی مقدار قراءت کرنے سے اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا اور کیا یہ شخص یاد آنے پر وہیں سے آگے پڑھے گا یا دوبارہ صحیح طریقے (یعنی سری میں سری اور جہری میں جہری ) سے قراءت شروع کرے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر امام ہو تو تین چھوٹی آیتیں یا ایک لمبی آیت کے بقدر سری نماز میں جہری اور جہری نماز میں سری قراءت کرنے سے سجدہ سہو واجب ہوگا اور اگر منفرد ہوتو دونوں صورتوں میں سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا اور یاد آنے پرآگے صحیح طریقے سے پڑھے گا۔

لما فی الھندیة: (1 /128 ، رشیدیہ)
 ومنها الجهر والإخفاء) .حتى لو جهر فيما يخافت أو خافت فيما يجهر وجب عليه سجود السهو واختلفوا في مقدار ما يجب به السهو منهما قيل: يعتبر في الفصلين بقدر ما تجوز به الصلاة وهو الأصح ولا فرق بين الفاتحة وغيرها، والمنفرد لا يجب عليه السهو بالجهر والإخفاء؛ لأنهما من خصائص الجماعة
وفی المبسوط: (1 /222 ،دارالمعرفہ )
وإن جهر الإمام فيما يخافت فيه أو خافت فيما يجهر به يسجد للسهو؛ لأن مراعاة صفة القراءة في كل صلاة بالجهر والمخافتة واجب على الإمام، فإذا ترك فقد تمكن النقصان والتغير في صلاته فعليه السهو، وذكر في نوادر أبي سليمان – رحمه الله تعالى – إن جهر فيما يخافت فعليه السهو قل أو كثر ذلك، وإن خافت فيما يجهر، فإن كان في أكثر الفاتحة أو في ثلاث آيات من غير الفاتحة فعليه السهو وإلا فلا—قال: (وإن كان منفردا فليس عليه سجود السهو بهذا) أما في صلاة الجهر هو مخير بين الجهر والمخافتة فلا يتمكن النقصان في صلاته جهر أو خافت، وأما في صلاة المخافتة فجهر المنفرد بقدر إسماعه نفسه وهو غير منهي عن ذلك، فلهذا لا يلزمه السهو.
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (2 /396 ،فاروقیہ )
وفیہ ایضا:(2/396،فاروقیة )
وکذا فی الشامیة: ( 2/ 81 ،سعید )
وکذا فی بدائع الصنائع : (1 /405 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی: ( 1/283 ،الطارق )
وکذا فی خلاصة الفتاوی( 1/194 ،امدادیہ )
وکذا فی الشامیة : (1 /533 ،سعید )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440،2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :77

ایک شخص تنہا فرض پڑھ رہا تھا چار رکعت ادا کرنی تھیں کہ اس نے دو رکعت پر بھول کر ایک طرف سلام پھیرا تواس کو یاد آگیا ،اس نے فورا کھڑے ہو کر تیسری رکعت اور چوتھی رکعت ادا کی اور آخر میں سجدہ سہو کر لیا تو اب کی نماز کا کیا حکم ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اس شخص کی نماز درست ہے۔

لما فی بدائع الصنائع : (1 /402 ،رشیدیہ )
“ولو سلم مصلی الظھر علی رأس الرکعتین علی ظن انہ قد أتمھا ثم علم انہ صلی رکعتین وھوعلی مکانہ فانہ یتمھاویسجد للسھو .
وفی المبسوط : (1 /232 ،دارالمعرفہ )
واذا توھم مصلی الظھر انہ قدأتمھا فسلم ثم علم انہ صلی رکعتین وھوعلی مکانہ فانہ یتمھا ثم یسجد للسھو لان سلامہ کان سھوافلم یصر بہ خارجا من الصلاۃ
وکذا فی الصحیح لمسلم : ( 1/ 257 ،رحمانیہ )
وکذافی المحیط البرھانی: ( 2/325 ،دار احیاء )
وکذا فی الشامیة : (2 /92 ،سعید )
وکذا فی البحر الرائق : (2 /196 ،رشیدیہ )
وکذا فی تبیین الحقائق : (1 /199 ،رشیدیہ )
وکذا فی النھرالفائق: (1 /333 ،قدیمی )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (2 /1109 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440،2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :87

امام جب رکوع کی حالت میں ہو اور مسبوق نماز میں شریک ہوا تو تکبیر تحریمہ کے لئے قیام ضروری ہے یا رکوع میں جاتے ہوئےتکبیر تحریمہ کہہ لے تو کافی ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

تکبیر تحریمہ کے لیےقیام شرط ہے لہذا رکوع میں جاتے ہوئے اس طرح تکبیر تحریمہ کہنا کہ لفظ”اللہ “قیام میں اورلفظ “اکبر” رکوع میں جا کر ادا ہو،یہ درست نہیں اور نہ آدمی اس طرح نماز میں شریک ہو سکتا ہے البتہ اگر تھوڑی سی کمر جھکائی کہ جس میں اس کے ہاتھ گھٹنوں نہ پہنچتے ہوں اس حالت میں تکبیر تحریمہ کہہ لی اور پھر رکوع میں چلا گیا تو یہ تکبیر تحریمہ کافی ہے ۔

لما فی الھندیة : ( 1/68 ،رشیدیہ )
” ولا يصير شارعا بالتكبير إلا في حالة القيام أو فيما هو أقرب إليه من الركوع هكذا في الزاهدي “
وفی بدائع الصنائع: ( 1/ 337 ،رشیدیہ )
ثم شرط صحة التكبير أن يوجد في حالة القيام في حق القادر على القيام، سواء كان إماما أو منفردا أو مقتديا، حتى لو كبر قاعدا ثم قام لا يصير شارعا، ولو وجد الإمام في الركوع أو السجود أو القعود ينبغي أن يكبر قائما ثم يتبعه في الركن الذي هو فيه، ولو كبر للافتتاح في الركن الذي هو فيه لا يصير شارعا لعدم التكبير قائما مع القدرة عليه
وکذافی المحیط البرھانی : (2 /37 ،دار احیاء )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (1 /202 ،الطارق )
وکذا فی البحر الرائق : (1 /508 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة : (2 /53 ،فاروقیہ )
وکذا فی النھر الفائق : (1 /194 ،قدیمی )
وکذا فی الشامیة: ( 2/158 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح : (1 /218 ،قدیمی )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440،2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :85

احادیث میں جمعہ نہ پڑھنے پر بہت سی وعیدیں ہیں پوچھنا یہ ہے کہ ایک بستی شہر سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اس بستی کے لوگ شہر میں جمعہ پڑھنے جاتے ہیں بعض دفعہ وہ نہیں جاتے تو کیا وہ جو جمعہ نہیں پڑھنے جاتے وہ وعید میں داخل ہوں گے یا نہیں جبکہ بستی میں پچیس یا تیس گھر ہیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

بظاہر اس بستی میں جمعہ فرض نہیں ہے لہذا جو لوگ جمعہ پڑھنے نہیں جاتےوہ احادیث کی وعیدوں میں داخل نہیں ہیں ۔

لما فی بدائع الصنائع: (1 / 583 ، قدیمی)
أما المصر الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها
وفی الھندیة: ( 1/ 145 ،رشیدیہ )
وكما يجوز أداء الجمعة في المصر يجوز أداؤها في فناء المصر وهو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر ومن كان مقيما بموضع بينه وبين المصر فرجة من المزارع والمراعي نحو القلع ببخارى لا جمعة على أهل ذلك الموضع وإن كان النداء يبلغهم والغلوة والميل والأميال ليس بشيء هكذا في الخلاصة.
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة : (1 /554 ،فاروقیہ )وکذا فی الشامیة : (2 /153 ،سعید )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 2/1286 ،رشیدیہ )وکذا فی المحیط البرھانی : (2 /442 ،داراحیاء )
وکذا فی النھرالفائق : (1 / 352 ،قدیمی )وکذا فی البحر الرائق : (2 /245 ،رشیدیہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی : (1 /504 ،قدیمی )وکذا فی فتح القدیر: (2 /49 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-7-1440،2019-3-24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:86

عورت کسی ایسےمقام پرنماز اداکرے کہ جہاں اجنبی مردوں کی آمدورفت ہومثلا ٹرین،ہسپتال،وغیرہ تو وہاں پر وہ چہرہ چھپاکر نمازپڑھے گی یا کھول کر ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ مقام پرعورت چہرہ چھپاکر نمازپڑھے گی۔

لما فی البحر الرائق: ( 1/470 ،رشیدیہ )
” قال مشایخنا:تمنع المراۃ الشابۃ(من کشف وجھھا بین الرجال)فی زماننا للفتنۃ . “
وفی غنیة المستملی: (1 /212 ،رشیدیہ )
(وقال فی )الفتاوی(الخاقانیۃ المعتبر فی افساد الصلوۃ انکشاف مافوق الاذنین)من الشعر— واما النظر الیہ من الاجنبی فلایحل بالاتفاق قال فی الکفایۃلا لانہ عورۃ —بل لان النظر الی شعورھن فتنۃ کالنظرالی وجہ المراۃ الشابۃ
وکذافی الشامیة: (1 /406 ،سعید )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (1 /745 ،رشیدیہ )
وکذا فی النھر الفائق : (1 / 183 ،قدیمی )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدرالمختار: ( 1/ 191 ،رشیدیہ )
وکذا فی الشامیة: (1 /406 ،سعید )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (4 /2652 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440،2019-2-23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :18

ایک آدمی نے تشہد میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی “ایاک نعبد” پر پہنچا تو یاد آیا کہ میں تو حالت تشہد میں ہوں پھر اس نے “اشھد ان محمدا “سے آخر تک پڑھا، التحیات کا پہلا حصہ چھوڑ دیا اب اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر اس آ دمی نے سجدہ سہو کر لیا تھا تو اس کی نماز درست ہو گئی ورنہ دوبارہ پڑھے۔

لما فی تنویر الابصار مع شرحہ :(2/197،دار المعرفہ)
(والتشھدان )ویسجد للسہو بترک بعضہ ککلہ، وکذا فی کل قعدۃفی الاصح۔ قال فی الشامیۃ قال فی البحر :من باب سجود السہو فانہ یجب سجود السہو بترکہ ولو قلیلا فی ظاھر الروایۃ،لانہ ذکر واحدمنظوم ،فترک بعضہ کترک کلہ اھ
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/283،الطارق)
“ولو ترک التشہد او بعضہ——- فعلیہ سجود السہو “
وکذا فی خلاصۃ الفتاوی :(1/177،رشیدیۃ)
وکذا فی الھندیۃ:(1/127،رشیدیۃ)
وکذا الفتاوی التاتار خانیۃ:(2/132،فاروقیۃ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/406،رشیدیۃ)
وکذا فی المبسوط :(1/220،دار المعرفۃ)
وکذا فی مجمع الانھر :(1/130 ،المنار )
وکذا فی فتح القدیر :(1/520،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق :(1/524،رشیدیۃ)
وکذا فی تبیین الحقائق :(1/193،امدادیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26 /5/1440،2019 /02/ 02
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :134

سفر میں اطمینان کی حالت میں ہو تو سنت اور نفل کا کیا حکم ہےیہ پڑھنے ضروری ہیں یا اگر نہ پڑھیں تو کوئی گناہ تو نہیں ہوتا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورت میں سنت اور نوافل پڑھنا افضل ہےاور بلاوجہ وبلاعذر چھوڑنا بہت نا مناسب اور اجر سے محرومی ہے۔

لما فی العالمکیریة: (1 / 139 ،رشیدیہ)
وبعضھم جوزوا للمسافر ترک السنن والمختار انہ لایاتی بھا فی حال الخوف ویاتی بھا فی حال القرار والامن ھکذا فی الوجیز للکردری
وفی: الفقہ الاسلامی وادلتہ (2 /1372 ،رشیدیہ )
وقال الحنفیۃ :ویاتی المسا فر السنن الرواتب ان کان فی حال امن وقرار ای نازلا مستقرا والا بان کان فی حال خوف وفرار،ای فی السیرلا یاتی بھا
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : (1 /115 ،الطارق )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (2 /489 ،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی : (2 /384 ،دار احیاء )
وکذا فی تنویر الابصار مع شرشہ: (2 / 737 ،دارالمعرفہ)
وکذا فی البحر الرائق : (2 /230 ،رشیدیہ )
وکذا فی مجمع الانھر: (1 /230 ،منار )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار: (1 /335 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440،2019-2-23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :16

ایک شخص کو نزلہ بہت ہوا ہو،وہ حالت نماز میں اپنی جیب سے رومال نکال کر ناک صاف کرتا رہے،ایک سے زیادہ بار تو اس کی نماز ہوگئی یا نہں ؟

الجواب ومنہ الصدق والصواب

صورت مسئو لہ میں اگر ایک ہی رکعت میں جیب سےرومال نکال کرمسلسل اور بار بار ناک صاف کیا تو عمل کثیر پائے جانے کی وجہ سے نماز نہں ہوئی دوبارہ پڑھے ۔ایسی مجبوری میں رومال وغیرہ ہاتھ میں رکھا جائے اور بوقت ضرورت ناک صاف کر لیا جائےتو نماز ہو جاتی ہے۔

لما فی خلاصۃ الفتاوی:(1/57،رشیدیہ)
“والحک بید واحد فی رکن ثلاث مرات یفسد صلاتہ—ولو کان الحک مرۃ واحدا یکرہ0”
وفی البحر الرائق:(2/20،رشیدیہ)
“وان حک ثلاثا فی رکن واحد تفسد صلاتہ ھذا اذا رفع یدہ فی کل مرہ، اما اذا لم یرفع فی کل مرۃ فلا تفسد لانہحک واحد”
وکذافی الفتاوی الھند یة:(1/104،رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار :(1/652 ،سعید)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/235،فاروقیہ)
وکذافی الفتح القدیر:(1/413،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/165،رشیدیہ)
وکذافی تنویر الابصار مع الدرالمختار:(1/624،سعید)
وکذافی الشامیة:(1/640،سعید)
وکذافی الھند یة:(1/101،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اکرام عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019 /02/17
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :167

ایک بات سنی ہے کہ جماعت میں سب سے پہلے امام پر رحمت برستی ہے پھرامام کے بالکل پیچھے والے پرپھر دائیں طرف والوں پر پھر بائیں طرف والوں اسی طرح پچھلی صف والوں پر یہ بات کسی حدیث سے ثابت ہے یا نہیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں !یہ بات حدیث مبارک سے ثابت ہےچنانچہ ایک حدیث پاک میں ہےکہ مسجد میں زمین کاسب سے بہتر حصہ وہ ہے جو امام کے پیچھے ہو ،اور جب رحمت نازل ہوتی ہے تو وہ امام سے شروع ہوتی ہےپھر اس پر جو اس کے پیچھے ہو ،پھر دائیں طرف والوں پر پھر بائیں طرف والوں پر پھروہ تمام مسجد والوں کو گھیر لیتی ہے۔

لما فی کنزالعمال: ( 7/250 ،رحمانیہ )
” خیر بقعۃ فی المسجد خلف الامام،وان الرحمۃاذا نزلت بدات بالامام ،ثم الذی خلفہ،ثم یمنۃ،ثم یسرۃ ،ثم تتغاص المسجدباھلہ .
وفی مسند الفردوس: (2 /182 ،دارالکتب )
” خیر بقعۃ فی المسجد خلف الامام،وان الرحمۃاذا نزلت بدات بالامام ،ثم الذی خلفہ،ثم یمنۃ،ثم یسرۃ ،ثم تتغاص المسجدباھلہ .
وکذافی جامع الاحادیث : (12 /366 ،الشا ملہ )
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (1 /307 ،قدیمی )
وکذا فی الشامیة : (2 /372 ،رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق : ( 1/619 ،رشیدیہ )
وکذا فی دررالاحکام شرح غررالاحکام : (1 /90 ،الشاملہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمداکرام غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17-6-1440ھ2019-2-23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :17