ايك آدمی نے دو لا کھ روپے کسی کو قرض دیا ایک سال کے لیے ، کیا اب وہ اس سے ایک ماہ یا دو ماہ بعد مطالبہ کر سکتا ہے ؟ جبکہ مقروض نے ان پیسوں سے کوئی چیز خرید لی ہو جسے اس نے سال کے اندر بیچ کر قرض ادا کرنا تھا یا اس سے کچھ اور رقم اپنے پاس سے ملا کر گاڑی خرید لی جسے کرائے پر چلاتا ہو اب اس کو بیچے تو خاصہ نقصان ہوگا۔

الجواب باسم ملھم الصواب

اخلاقاً اس شخص کو سال سے پہلے قرض واپسی کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے ،البتہ شرعاً اسے یہ مطالبہ کرنے حق حاصل ہے۔

لما فی جامع الترمذی :(1/377، رحمانیہ)
” عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ من انظر معسرا او وضع لہ اظلہ اللہ یوم القیامۃ تحت ظل عرشہ یوم لا ظل الا ظلہ.”
وفی اعلاء السنن :(41/522، ادارةالقرآن)
قال ابن بطال: اختلف العلماءفی تاخیر الدین فی القرض الی اجل ،فقال ابو حنیفۃ و اصحابہ:سواء کان القرض الی اجل اوالی غیر اجل لہ ان یاخذہ متی احب.
وکذا فی الموسوعة:(33/128،علوم اسلامیہ)
وکذا فی تنویر الابصار مع شرحہ : (7/402،سعید)
وکذا فی البحرالرائق:( 6/202،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3788،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(4/215، طارق)
وکذا فی الھندية:(3/202، رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانية:(9/387،فاروقیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(6/484، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440،2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :179

نماز کی حالت میں تھوک یا بلغم پھینک سکتے ہیں؟ (آدمی گھر میں ہو یا مسجد میں) ۔

الجواب باسم ملھم الصواب

دوران نماز بلا ضرورت تھوکنا مکروہ ہے، اگر تھوکنے کی ضرورت پیش آجائے اور مسجد میں ہوں تو بغیر عمل کثیر کے کسی کپڑے میں تھوک سکتے ہیں اور اگر مسجد کے علاوہ کسی جگہ ہوں تو بائیں جانب تھوک سکتے ہیں ۔

لما فی المرقاۃ:(2/453،، التجاریہ)
“(ولكن) ، أي: ليبصق (عن يساره، أو تحت قدمه) ، أي: اليسار، قال النووي: الأمر بالبصاق عن يساره وتحت قدمه فيما إذا كان في غير المسجد، وأما في المسجد فلا يبصق إلا في ثوبه، قال ابن حجر: فيه نظر لأنه إذا كان في المسجد على شيء له مفروش فيه، فله البزاق عليه في جنبه الأيسر، أو تحت قدمه ; لأن الغرض أن البزاق إنما ينزل على فراشه، ولا يصيب أجزاء المسجد منه شيء.”
وفی البحر الرائق :(2/61،رشیدیہ)
” ولکون المسجد یصان عن القازورات ولو کانت طاھرة یکرہ البصاق فیہ ولا یلقی ولا فوق البواری ولا تحتھا …. ویاخذ النخامة بکمہ او بشیء من ثیابہ.”
وكذا فی الصحیح لمسلم:(1/207،قدیمی)
وکذا فی سنن ابی داود:(1/80،رحمانیہ)
وکذا فی التاتارخانية:(2/209،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/143،بیروت)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/507،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/967،رشیدیہ)
وکذا فی الخانية علی ھامش الھندية:(1/118،رشیدیہ)
وکذا فی الھندية:(1/105،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440،2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :178

امام نےجوتا پہن کرنمازجنازہ پڑھادی تو اس کا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر جوتا پاک تھا تو نما ز جنازہ ہو گئی ورنہ نہیں ہوئی۔

لما فی البحر الرائق:(2/315،رشیدیہ)
“وقد قدمنا في باب شروط الصلاة أنه لو قام على النجاسة، وفي رجليه نعلان لم يجز، ولو افترش نعليه وقام عليهما جازت، وبهذا يعلم ما يفعل في زماننا من القيام على النعلين في صلاة الجنازة لكن لا بد من طهارة النعلين.”
وفی حاشية الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(582،قديمی)
“ولو افترش نعلیہ وقام علیھما جاز،فلا یضر نجاسة ما تحتھما لکن لابد من طھارۃ نعلیہ مما یلی الرجل لا مما یلی الارض.”
وكذا فی سنن ابی داود:(1/104،رحمانیہ)
وکذا فی فیض الباری:(2/35،الرشیدیہ)
وکذا فی عون المعبود:(2/212،قدیمی)
وکذا فی تنویر الابصار مع شرحہ:(1/402،سعید)
وکذا فی النھر الفائق:(1/182،قدیمی)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/54،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(2/1526،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440،2019/4/8
جلد نمبر 18 فتوی نمبر :177

كيا مہر کے بغیر نکاح ہو جاتا ہے؟اگر ہو جاتا ہے تو پھر مہرکیوں ضروری ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مہر کے بغیر نکاح ہو جاتاہے،البتہ شرعا اس لیےضروری ہے تاکہ شوہر کے دل میں بیوی کی عزت وشرافت باقی رہے،کیوں کہ جب وہ قابل قدر مالیت خرچ کرکے اس کو حاصل کرے گاتو یقینااس کےہاں معززو محترم ہوگی۔

لما فی الموسوعةالفقھیة:(39/152.53،علوم اسلامیة)
وامااذا شرط نفی المھر فی النکاح کان تزوجھا بشرط ان لا مھر لھا اختلف الفقھاء فی حکم ھذا النکاح:فذھب الحنٖفیۃوالشافعیۃ والحنابلۃ الی صحۃالنکاح…..حکمۃ وجوب المھر فی عقد النکاح:قال الکاسانی لو لم یجب المھر بنفس العقد لا یبالی الزوج عن ازالتہ ھذاالملک بادنی خشونۃ تحدث بینھما… ولان مصالح النکاح ومقاصدہ لا تحصل الا بالموافقۃ ولاتحصل الموافقۃ الااذا کانت المراۃ عزیزۃ مکرمۃ عند الزوج،ولاعزۃ الابانسداد طریق الوصول الیھا الا بمال لہ خطرعندہ.
وفي البناية فی شرح الھدایة:(4/647،رشیدیہ)
وخلو النکاح عن تسمیۃ لا یمنع صحۃ کما اذا تزوجھا ولم یسم لھا مھرا،او تزوجھا علی ان لا مھر لھا…فالنکاح جائز…(ثم المھر واجب شرعا) ھذا جواب عمایقال المھر واجب شرعا، فکیف یصح النکاح مع السکوت،فاجاب بقولہ المھر واجب شرعا،یعنی وجوبہ لیس لصحۃ النکاح وانماوجب(ابانۃ)ای اظھارالشرف المحل.
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/559،رشیدیہ) وکذا فی النھر الفائق:(2/229،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(9/6570،رشیدیہ) وکذا فی البحر الرائق:(3/249،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(3/304،رشیدیہ) وکذا فی التاتارخانیة:(4/160،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/7/1440، 2019/3/24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :111

مباشرت كے فورا بعد غسل كرنا افضل ہے یا اگلی صبح نماز سے پہلے غسل کر لے؟(2)ایک شخص نے بالکل صحیح طریقے سے غسل کیا اور کپڑے پہنتے ہوئے اپنی شرمگاہ پر نظر پڑگئی یا ہاتھ لگ گیا تو کیا وہ شخص غسل کے فورا بعد وضو کر کے نماز پڑھے یا ویسے ہی نماز اداکرلے(3)جب کہ میں نے سنا ہے کہ اگر غسل مکمل صحیح کیا ہے تو وضو کی ضرورت نہیں۔اگر دوبارہ وضو کر لیا تو کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مباشرت کے فورا بعد غسل کر لینا اچھا ہے،ورنہ استنجا اور وضو کر کے سو جائےاور صبح نماز سے پہلے غسل کر لےتو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔(2)غسل کرنے کے بعد نیا وضو کیے بغیر نماز ادا کر سکتا ہے،شرمگاہ کو ہاتھ لگ جانے سے یا اس پر نظر پڑ جانے سےوضو نہیں ٹوٹے گا،البتہ مستحب یہ ہے کہ ہاتھ دھولے۔(3) اگر غسل میں مسنون طریقے سے وضو نہیں کیا اور نہ ہی وضو کی نیت کی تو غسل کے بعد سنت کا ثواب حاصل کرنے کے لیےوضو کر لے تو اس کی اجازت ہے،لیکن اگر غسل میں وضو یاوضو کی نیت کر لی ہو تو پھر غسل کے فورا بعد وضو کرنا مکروہ ہے جب تک کہ اس غسل سےایسی عبادت ادا نہ کر لے جس کے لیے وضو ضروری ہے۔

لما فی صحیح البخاری:(1/106،رحمانیہ)
عن عبد الله، قال: استفتى عمر النبي صلى الله عليه وسلم أينام أحدنا وهو جنب؟ قال: نعم إذا توضأ…ذكر عمر بن الخطاب لرسول الله صلى الله عليه وسلم أنه تصيبه الجنابة من الليل، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم توضأ واغسل ذكرك، ثم نم
وفي سنن ابي داود:(1/36،رشيدیہ)
عن قيس بن طلق، عن أبيه، قال: قدمنا على نبي الله صلى الله عليه وسلم فجاء رجل كأنه بدوي، فقال: يا نبي الله، ما ترى في مس الرجل ذكره بعد ما يتوضأ؟ فقال: هل هو إلا مضغة منه، أو قال: بضعة منه.
وفی سنن النسائی:(1/65،رحمانیہ)
“عن عائشة رضی اللہ عنھا قالت کان رسول اللہﷺ لا یتوضا بعد الغسل.”
وفی الموسوعة الفقھية:(43/379،علوم اسلامیہ)
“اختلف الفقہاء فی حکم تجدید الوضوء…..ای التوضؤ علی وضوء قائم لم ینقض،فذھب بعضھم الی انہ سنہ وقال بعضھم انہ مستحب وذھب بعضھم الی انہ ممنوع قبل ان تفعل بہ عبادۃ.”
وفی تنویر الابصار مع شرحہ:(1/147،سعید)
“(لا) ینقضہ(مس الذکر) لکن یغسل یدہ ندبا.”
وکذا فی عون المعبود : (1/221،قدیمی)
وکذا فی الموسوعة الفقھية:(43/379،علوم اسلامیہ)
وکذا فی رد المحتار:(1/119،سعید)
وكذا في كنز العمال:(9/167،رحمانيہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/14،15،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/14،13،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الاصل:(1/70، عالم الکتب)
وکذا فی التاتارخانیة:(1/266،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/215،داراحیاء)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/132،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1440،2019/2/25
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :175

میت کے زیر ناف بال کاٹنا اورسر کے بال اور ناخن وغیرہ کاٹنا کیسا ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

میت کے بال اور ناخن وغیرہ کاٹنایہ مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے۔

لما فی تنویر الابصار مع شرحہ:(3/104،رشیدیہ)

(ولا یسرح شعرہ)ای یکرہ تحریما(ولایقص ظفرہ)الا المکسور(ولاشعرہ) ولا یختن،وفی رد المحتار:ان التزیین بعد موتھا والامتشاط وقطع الشعر لا یجوز

وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1494،رشیدیہ)

قال الحنفیۃ والمالکیۃ:لا یسرح ولایحلق شعرہ ولا یقص ظفرہ الاالمکسور ولا شعرہ من راسہ ولحیتہ ولا یختن،اذ لا حاجۃ الیہ،لانہ للزینۃ،وقداستغنی عنھا فھذا مکروہ،والکراھۃ عند الحنفیۃ تحریميۃ.

وکذا فی بدائع الصنائع:(2/26،رشیدیہ)
وکذا فی الھندية:(1/158،رشیدیہ)
وکزا فی الھدایة:(1/161،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/237،امدادیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر:(1/266،المنار)
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/49،داراحیاء)
وکذا فی التاتار خانیة:(3/8،فاروقیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(2/59،دارالمعرفة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/6/1440، 2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :89

ايك بچہ(زید) نےایک عورت (خالدہ) کا دودھ پیا،اب اس عورت (خالدہ) کے خاوند(مدثر)کی بہن(شاکرہ) کے ساتھ اس بچہ(زید) کے والد(ندیم) کا نکاح ہو سکتا ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

جی ہو سکتا ہے۔

لما فی البناية فی شرح الھدایة:(4/814،رشیدیہ)
“واعلم ان کل مالا یحرم من النسب لا یحرم بالرضاع، کما ذکرنا من الصورتین،وھاھناصور اخری من الرضاع دون النسب…..الثالثہ:یجوز لہ ان یتزوج بعمۃابنہ من الرضاع دون النسب.”
وکذا فی الدرالمختار:(3/216،سعید)
وکذا فی البحر الرائق:(3/390،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:3/400(،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/343،رشیدیہ)
وکذا فی شرح العینی:(1/229،اداراۃالقرآن)
وکذا فی تبیین الحقائق:(2/183،امدادیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(2/95،رشیدیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر:( 1/553،المنار)
وكذا فی فتح القدیر:(3/429،رشيدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1440، 2019/3/25
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :90

گنے كی فصل جو پک چکی گئی ہو اس کو اسی طرح کھڑی حالت میں بیچ سکتے ہیں یا اس کو کاٹ کر بیچنا ضروری ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

گنے کی فصل کو کھڑی حالت میں بیچنا یا خریدنا جائز ہے بشرطیکہ فوری کاٹ لیا جائے،ہاں اگر فروخت کنندہ بغیر کسی شرط کےچھوڑنے پر راضی ہو جاتا ہے تو یہ بھی درست ہے،لیکن زمین پر چھوڑنے کی شرط کے ساتھ خریدو فروخت ناجائز ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3474،رشیدیہ)
فان کان البیع قبل بدو صلاح الذرع اوالثمر،فھناك حالات:ان کان البیع بشرط القطع جاز ویجب القطع للحال الا باذن البائع، وان کان البیع مطلقا عن الشرط جاز……وان کان بشرط الترک فالعقد فاسد باتفاق علماء الحنفیۃ لانہ شرط لا یقتضیہ العقد.
وفی المحیط البرھانی:(5/502،داراحیاء تراث)
واما بیع الزرع والرطبۃ والحشیش اذا باع الزرع وھو بقل،ان باعہ ان یقطعہ المشتری او علی ان یرسل دابتہ فیھا لیاکل جاز،لانہ شرط ما یقتضیہ العقد ،وان باعہ علی ان یترکہ حتی یدرک لا یجوز،لانہ شرط ما لا یقتضیہ العقد.
وکذا فی التاتارخانیة:(8/323،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(5/502،رشیدیہ)
وکذا فی رد المحتار:(7/85،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(4/12،قدیمی)
وکذا فی الجوھرۃ النیرۃ:(1/440،قدیمی)
وکذا فی الھدایة:(3/31،رشیدیہ)
وکذا فی اللباب:(/201،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/6/1440، 2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :91

ايك شخص سے جمعہ کی ایک رکعت رہ گئی ،اس نے وہ رکعت (اس خوف سے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اس سے جمعہ کی نماز کی رکعت رہ گئی ) بیٹھ کر ادا کی ،اب اس شخص کے لیے کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اس شخص کی نماز جمعہ نہیں ہوئی،لہذا ظہر کی نماز ادا کرے گاَ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/821،رشیدیہ)
” قال الحنفیۃ: یشترط للقادر الاستقلال فی الفرض فمن اتکا علی عصاہ او علی حائط ونحوہ ،بحیث یسقط لو زال لم تصح صلاتہ ،فان کان لعذر صحت.”
وفیہ ایضا:(2/1331،رشیدیہ)
” فان فسدت الجمعۃ بسبب خروج الوقت او بفوت الجماعۃ، تصلی ظھرا.”
وکذا فی بدائع الصنائع :(1/604،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/69،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/51،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/130، المنار)
وکذا فی التاتار خانية:(2/48،فروقیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/104،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(1/509،رشیدیہ)
وکذا فی مراقی الفلاح :(224،قدیمی)

والله اعلم بالصواب
محمد عابد عفی الله عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :155

جنازہ اٹھاتے وقت کلمہ شہادت،”اشھد ان لا الہ الا اللہ” زور سے پڑھنا کیسا ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مکروہ ہے،دل ہی دل میں ذکر وغیرہ کرنا چاہیے۔

لما فی الھندية:(1/162،رشیدیہ)
وعلی متبعی الجنازۃ الصمت ویکرہ لھم رفع الصوت بالذکر وقراءۃ القرآن،کذا فی شرح الطحاوی،فان اراد ان یذکراللہ یذکر فی نفسہ.
وفی حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح:(606،قدیمی)
(ویکرہ رفع الصوت)قیل:یکرہ تحریما کما فی القھستانی عن القنیۃ وفی الشرح عن الظھیریۃ فان اراد ان یذکر اللہ تعالی ففی نفسہ ای سرا بحیث یسمع نفسہ،وفی السراج ویستحب لمن تبع الجنازۃ ان یکون مشغولا بذکراللہ تعالی……فان لم یذکراللہ تعالی فلیلزم الصمت ولایرفع صوتہ بالقراءۃ ولا بالذکر.
وكذا فی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/190،رشیدیہ)
وکذا فی البزازیةعلی ھامش الھندیة:(4/80،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(1/225،رشیدیہ)
وکذا فی النھر الفائق: (1/401،قدیمی)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/245،امدادیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1545،رشیدیہ)
وکذا فی الجوھرة النیرة:(131،حقانیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی :(606،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
16/7/1440، 2019/3/24
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :88