ایک شخص نے رخصتی سے پہلے اپنی منکوحہ کو طلاق دے دی، اور نکاح کے وقت اس نے مکمل مہر ادا کر دیا تھا،اب اس کو آدھا مہر واپس لینے کا اختیار اور حق ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

جی !یہ شخص آدھا مہر واپس لے سکتا ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(4/164،داراحیاءتراث)
ولو قبضت الصداق ووھبتہ من اجنبی ثم الاجنبی وھبہ من الزوج، ثم طلقھا قبل الدخول بھا، یرجع علیھا بنصف المھر.
وفی بدائع الصنائع:(2/594،رشیدية)
وان کان قبضتہ، فان کان دراھم او دنانیر معینۃ او غیر معینۃ او کان مکیلا او موزونا فی الذمۃ فقبضتہ وہو قائم فی یدھا فطلقھا فعلیھا رد نصف المقبوض.
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(6/66،دارالمعرفة)
وکذا فی تفسیر القر طبی:(3/205،داراحیاءتراث)
وکذا فی تنویر الابصار مع شرحہ:(3/104،سعید)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6804،رشیدیة)
وکذا فی الھدایة:(3/304،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(3/253،رشیدیة)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/509،المنار)
وکذا فی شرح العینی:(1/212،ادارۃالقرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :5

اکثر ناموں کےساتھ “محمد”ہوتا ہے مثلا:محمد عمر ،محمد عادل وغیرہ،جب کہ ہم انہیں پکارتے وقت پورا نام نہیں لیتے، صرف نام کا آخری حصہ پکارتے ہیں کیا یہ درست ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

کسی کا نام لینے کا مذکورہ طریقہ، نام بگاڑنے کے لیے نہیں اختیار کیا جاتا، بلکہ آسانی اور اختصار کے پیش نظر ایسا کیا جاتا ہے ،اور ہمارے ہاں اس طرح نام لینے کا عرف ہے، اس لیے اس انداز کو کوئی برا اور ناگوار نہیں سمجھتا، لہذا اس طرح نام لینا جائز اور درست ہے۔

لما فی تفسیر القرطبی:(16/329،30،داراحیاء تراث)
وقع من ذلک مستثنی من غلب علیہ الاستعمال کالاعرج والاحدب ولم یکن لہ فیہ کسب یجد فی نفسہ منہ علیہ،فجوزتہ الامۃواتفق علی قولہ اھل الملۃ۔۔۔۔۔وقد سئل عبداللہ بن المبارک عن الرجل یقول: حمید الطویل،وسلیمان الاعمش،وحمید الاعرج،ومروان الاصفر،فقال:اذا اردت صفتہ ولم ترد عیبہ ،فلا باس بہ۔
وفی تفسیر البحر المحیط:(8/112،دارا لکتب العلمية)
{ولا تنابزوا بالالقاب}اللقب ان دل علی ما یکرہہ المدعو بہ کان منھیا، وامااذا کان حسنا فلا ینھی عنہ،
وکذا فی تفسیرالخازن:(4/182،رشیدیة)
وکذا فی روح المعانی:(26/155،داراحیاءتراث)
وکذافی تفسیر الکشاف:(4/359،منشورات البلاغة)
وکذا فی احکام القرآن :(3/603،قدیمی)
وکذا فی فتح الباری:(10/574، قدیمی)
وکذا فی فیض الباری:(6/137،الرشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/6/1440،2019/2/18
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :12

دوران طواف حطیم میں دو رکعت پڑھ لئے اور پھر طواف پورا کیا،تو طواف کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

طواف تو پورا ہو جائے گا،لیکن یہ عمل مکروہ ہے۔

لما فی ردالمحتار:(2/ 497 ، سعید)
ولو خرج منہااومن السعی الی جنازۃ او مکتوبۃ او تجدید الوضوء ثم عاد بنی…. [تنبیہ]اذا خرج لغیر حاجۃ کرہ ولا یبطل،فقد قال فی اللباب ولا مفسد للطواف وعد من مکروھاتہ تفریقہ ای الفصل بین اشواطہ تفریقا کثیرا۔
وکذا فی المبسوط:(4/48،دارالمعرفة )
وکذا فی الولوالجیة :(1/293 ، الحرمین شریفین)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3 / 2213، رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(1/ 498 ،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقہیة :(29 / 132، علوم اسلامیة)
وکذا فی اعلاءالسنن:(1 / 85،87، ادارۃ القرآن)
وکذا فی ارشاد الساری:(176، فاروقیة)
وکذا فی غنیة الناسک:(128، ادارۃ القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر : 18 فتوی نمبر :13

: مردوں کے لیے چاندی کی تسبیح استعمال کرنا کیسا ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مردوں اورعورتوں دونوں کے لیے چاندی کی تسبیح استعمال کرنا جائز نہیں۔

لما فی الفتاوی الھندیۃ:(5/334،الرشید)
وکذا لا یجوز الاکتحال بمیل الذھب والفضۃ وکذا المکحلۃ وکل ماکان یعودالانتفاع بہ الی البدن کذا فی السراج الوھاج ….. یکرہ الجلوس علی کرسی الذھب والفضۃ والرجال والمراۃ فی ذلک سواء یکرہ النظر فی المرآۃ المتخذ ۃمن الذھب او الفضۃ و ٰیکرہ ان یکتب بالقلم المتخذ من الذھب اوالفضۃ او من دواۃ کذلک ویستوی فیہ الذکروالانثی۔
وکذا فی تنویرالابصار مع شرحہ:(6/341 ، سعید)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/327 ، الطارق)
وکذا فی التاتارخانیہ:(18/121 ، 120 ، فاروقیۃ)
وکذا فی خلاصۃ الفتاوی:(4/371 ، رشیدیۃ)
وکذافی تکملۃ البحر الرائق:(8/ 350 ، 349 ، رشیدیۃ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(4/ 2632 ، رشیدیۃ)
وکذا فی شرح العینی:(2/373 ، ادارۃالقرآن)
وکذافی الھدایۃ:(4/453 ، رحمانیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
17/6/1440 ، 2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :11

جمعہ کی اذان ثانی جو خطبہ کے لیے دی جاتی ہے،اس کا جواب دینا چاہیے؟

الجواب باسم ملھم الصوب

“جمعہ کی اذان ثانی کا جواب دینے میں علماء متقدمین ومتاخرین کا اختلاف ہے،کچھ علماء کی رائےیہ ہےکہ اذان ثانی کا زبان سےجواب دینا درست نہیں،ان کا استدلال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان”اذا خرج الامام فلاصلاۃولاکلام”کےعموم سےہےکہ امام خطبہ دینے کے لیے آجائے تو اب ہر طرح کی نمازاور بات چیت منع ہے۔
جبکہ متعددعلماءکرام کی رائےیہ ہے کہ جمعہ کی اذان ثانی کا جواب دینا جائزہے،اسے ناجائز نہیں کہا جا سکتا،ان کی دليل یہ ہے کہ بخاری شریف میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اثر موجود ہے،کہ خوداس اذان کا جواب دیتے تھے۔
خلاصہ یہ ہےکہ جمعہ کی اذان ثانی کا جواب دینا جائز ہےاور دینے میں بھی کوئی حرج نہیں،چونکہ دونوں طرف فقہاءکرام ہیں ،اور دونو ں کے پاس دلائل موجود ہیں،مگردوسرے فریق کا موقف اس لیے مضبوط اور راجح ہے کہ اس کی تائید صحابی رسول کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے عمل سے ہوتی ہے جبکہ دوسرے فریق کا اپنے نقطہ نظر پر استدلال نص سے نہیں بلکہ عموم نص سے ہے ۔

(ماخوذ از تبوب جامعۃالحسن ساہیوال:8 /100)

واللہ اعلم بالصوب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14/6/1440، 2019-2-20
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :114

نماز میں سجدہ سہو کیا، لیکن سجدے کے بعد تشہد پڑھنا یاد نہ رہا، بلکہ سلام پھیر دیا ،نماز ہو گئی یا لو ٹائی جائے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں اس نماز کا اعادہ واجب ہے۔

لما فی شرح فتح القدیر:(1/515،رشیدیہ)
“وعلی ھذا لو سلم بمجرد رفعہ من سجدۃ السہو یکون تارکا للواجب فلا تفسد.”
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/280،الطارق)
ویجب اعادۃ قراءۃ التشھدبعد سجدتی السھو ،لان التشھدیرتفع بسجود السھو۔۔۔۔۔لو سلم بمجرد رفعہ من سجود السھو کان تارکا للواجب فلا تفسد صلاتہ،ولاکن تکرہ تحریما
وکذا فی المبسوط للسرخسی :(1/223،دارالمعرفۃ)
وکذا فی رد المحتار:(2/78،سعید)
وکذا فی الفتاوی ا لھندیہ:(1/126،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:(2/386ِ،فاروقیہ)
وکذا فی البحرالرائق :(2/165، رشیدیہ)
وکذا فی کتاب التجنیس والمزید : (2/148، ادارۃالقرآن)
وکذا فی خلاصۃالفتاوی:(1/174،رشیدیہ)

والله اعلم بالصواب
محمد عابد عفی الله عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1440، 2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :6

ميری آڑهت كی دكان ہے۔ ایک صاحب مجھ سے قرض لیتے رہتے ہیں،اور بسا اوقات کوئی سامان مثلا:راشن یا کھاد وغیرہ بھی میں خرید کر ان کو دیتا ہوں،پھر فصل آنے پر حساب کر لیتے ہے،اب ان صاحب کو پٹرول کی ضرورت ہے۔ایک پٹرول پمپ والے سے میرے معاملات پہلے ہی چل رہے ہیں،اگر میں یوں کروں کہ جب ان صاحب کو پٹرول کی ضرورت ہو تو میں پمپ والے کو پرچی لکھ دوںکہ ان صاحب کو مطلوبہ مقدار میں پٹرول دے دیں اور جو موجودہ ریٹ ہو اس پر فی لٹر 2روپے نفع ان صاحب سے لے لیا کروں، یہ صورت درست ہے یا نہیں،اگر نہیں تو کوئی اور آسان صورت بتلا دیں جس میں ان صاحب سے پٹرول پر نفع لے سکوں،کیونکہ انہوں نے ادھار خریدنا ہے اور میں نے نقد ادائیگی کرنی ہے۔

الجواب باسم ملھم الصواب

یہ صورت درست نہیں ہے،اس لیے کہ پٹرول آپ کے قبضے میں نہیں آیا اور کسی چیز کا قبضہ کرنے سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہے،اس کی آسان صورت یہ ہے کہ آپ فروخت کرنے سے پہلے یا تو بذات خود آپ اس پر قبضہ کر لیں،یا اپنے وکیل کے ذریعے اس پر قبضہ کرائیں،یا آپ اس صاحب کو جو کہ خرید ار ہے قبضہ کرنے کا وکیل بنائیں وہ آپ کی طرف سےقبضہ کرے اور پھرآپ کو کسی ذریعے سے اطلاع کرے اس کے بعد آپ اس کو فروخت کریں۔

لما فی جامع الترمذی : (1/364،رحمانیہ)
عن حکیم بن حزام قال سالت رسولﷺ فقلت یاتینی الرجل، فیسئلنی من البیع ما لیس عندی ابتاع لہ من السوق ،ثم ابیعہ قال لا تبع ما لیس عندک
وفی الصحیح لمسلم:(2/5،قدیمی)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال قال رسولﷺ من ابتاع طعاما فلا یبعہ حتی یقبضہ،قال ابن عباس واحسب کل شیئ بمنزلۃ الطعام
وفی تنویر الابصار مع شرحہ: (5/147،سعید)
“(فلا یصح) اتفاقا ککتابۃ واجارۃو (بیع منقول) قبل قبضہ ولو من بائعہ۔”
وكذا في سنن ابي داود: (2/138،رحمانیہ) وکذا فی فتح القدیر:(6/471،رشیدیہ)
وکذا فی المستدرک:(2/171،قدیمی) وکذا فی البحر الرائق:(6/194،رشیدیہ)
وکذا فی فقہ البیوع:(1/333،معارف القرآن) وکذا فی مجمع الانھر:(3/113،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/6/1440،2019/2/18
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :7

ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا تجھے دوسری طلاق ہے،حالانکہ اس نے پہلے طلاق نہیں دی،تو ایک طلاق واقع ہوگی یا دو؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں ایک طلاق واقع ہوگی،البتہ اگر معاملہ عدالت یا پنچايت تک چلا جائے،تو فیصلہ میں دو طلاقیں ہی شمار کی جائیں گی۔

لما فی ردالمحتار:(3/238،سعید)
کما اقر بالطلاق ھازلا او کاذبا ،فقال فی البحر،ان مرادہ لعدم الوقوع فی المشبہ بہ عدمہ دیانۃ،ثم نقل عن البزازیۃوالقنیۃ لو اراد بہ الخبر عن الماضی کذبا لایقع دیانۃ.
وکذا فی البحر الرائق:(3/428،رشیدیۃ)
وکذا فی الھدایۃ:(2/373،رشیدیۃ)
وکذا فی الولوالجیۃ:(2/89،الحرمین)
وکذا فی ملتقی الابحر:(2/79،80،81،المنار)
وکذا فی المبسوط:(5/19،دارالمعرفۃ)
وکذا فی التاتار خانیۃ:(4/401،فاروقیۃ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(9/6987،رشیدیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
12/6/1440، 2019/2/17
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :8

حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت عزرائیل علیہ السلام کو مُکا یا تھپٹر مارا تھا، جس سے ان کی آنکھ باہر نکل آئی تھی،یہ واقعہ ٹھیک ہے یا نہیں؟ مکمل واقعہ با حوالہ اور اس کی تشریح بتلائیں۔

الجواب باسم ملھم الصواب

یہ واقعہ درست ہے، واقعہ اصل یوں ہے،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ موت کا فرشتہ،حضرت موسی علیہ السلام کے پاس بھیجا گیاتو حضرت موسی علیہ السلام نےطمانچہ مارا جس سے اس کی آنکھ پھوٹ گئی،وہ اللہ تعالی کےپاس گیا اور كہاکہ آپ نے مجھ کو ایسے بندےکے پاس بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا،اللہ نے اس کی آنکھ درست فرما دی اور فرمايا موسی علیہ السلام کے پاس پھر جاؤ اور ان سے عرض کرو کہ بیل کی پیٹھ پر ہاتھ رکھیں،جتنے بال ان کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے ہر با ل کے عوض ایک سال زندگی ملے گی،حضرت موسی علیہ السلام نے عرض کیا اے پرورد گار!پھر اس کے بعدکیا ہو گا؟حکم ہوا “موت” ۔موسی علیہ السلام نے عرض کیا پھر ابھی موت دے دیں۔

اس حدیث پرہونے والے اشکالات کےازالے کے لیے ملاحظہ فرمائیں امدادالفتاوی جلد5،صفحہ135تا138۔

لما فی الصحیح لمسلم:(2/267،رشیدیہ)
عن أبي هريرة، قال: أرسل ملك الموت إلى موسى عليه السلام، فلما جاءه صكه ففقأ عينه، فرجع إلى ربه فقال: أرسلتني إلى عبد لا يريد الموت، قال فرد الله إليه عينه وقال: ارجع إليه، فقل له: يضع يده على متن ثور، فله، بما غطت يده بكل شعرة، سنة، قال: أي رب ثم مه؟ قال: ثم الموت، قال: فالآن، فسأل الله أن يدنيه من الأرض المقدسة رمية بحجر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «فلو كنت ثم، لأريتكم قبره إلى جانب الطريق، تحت الكثيب الأحمر»
وکذا فی صحیح البخاری:(1/604،5، رحمانیہ)
عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: ” أرسل ملك الموت إلى موسى عليهما السلام، فلما جاءه صكه، فرجع إلى ربه، فقال: أرسلتني إلى عبد لا يريد الموت، فرد الله عليه عينه وقال: ارجع، فقل له: يضع يده على متن ثور فله بكل ما غطت به يده بكل شعرة سنة، قال: أي رب، ثم ماذا؟ قال: ثم الموت، قال: فالآن، فسأل الله أن يدنيه من الأرض المقدسة رمية بحجر
وکذا فی البدایۃ والنھایۃ:(1/277،دارالکتب العلمیۃ)
وکذا فی فتح الباری:(6/546،قدیمی)
وکذا فی تاریخ الطبری:(1/434،بیروت)
وکذا فی مشکوۃ المصابیح:(509،الحسن)
وکذا فی المصنف لعبدالرزاق :(11/273،المکتب الاسلامی)

والله اعلم بالصواب
محمد عابد عفی الله عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/6/1440، 2019/2/17
جلد نمبر: 17 فتوی نمبر :169

میرےشوہر نےشادی کے ایک سال بعد ایک جھگڑ ے کے دوران یہ کہا کہ اگر تم نے اپنے معاملات گھر کو لے کر نہ درست کیے تو تم میری طرف سے فارغ ہو ، مطلب اگر گھر کی صفائیاں وغیرہ نہ ہوئیں تو تم فارغ ہو ، اور میں صفائیوں وغیرہ کے معاملات پر پورا اتر بھی نہ سکی ۔ پھر پانچ ، چھ ماہ بعد یوں کہا ” تم دو کشتیوں میں سوار نہیں ہو سکتی ، اگر تمہار ی خوشی ہے کہ تم نے اپنے گھر جانا ہے ، گھر والے بہت عزیز ہیں ، نہیں چھوڑ سکتی، تو تم جا سکتی ہو ، میری طرف سے تم پر کوئی پابندی نہیں ، تم آزاد ہو ” اور اس کے بعد بھی متعدد مرتبہ تم میری طرف سے فارغ ہو متعدد بار کہا ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ میں شوہر کے ان الفاظ ” کہ اگر تم نے اپنے معاملات گھر کو لے کر نہ درست کیے تو تم میری طرف سے فارغ ہو ” سے ایک طلاق بائنہ واقع ہو گئی ، اور پانچ ، چھ ماہ بعد جتنے بھی الفاظ کہے ان سے کچھ بھی واقع نہیں ہو گا ، کیونکہ پانچ ، چھ ماہ میں عموما عورت کی عدت ( تین حیض ) گزر جاتی ہے اور عدت گزرنے کے بعد مزید طلاق واقع نہیں ہو گی ، لہذا باہمی رضا مندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ۔

لما فی الھدایة : ( 2 / 364 ، رشیدیہ )
و اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط مثل ان یقول لامراتہ ان دخلت الدار فانت طالق و ھذا بالاتفاق لان الملک قائم فی الحال الظاھر بقاءہ الی وقت وجود الشرط ، فیصح یمینا او ایقاعا.
و فی الھندیة: ( 1 / 420 ، رشیدیہ )
و اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا ، مثل ان یقول لامراتہ ان دخلت الدار فانت طالق
و کذا فی البحر الرائق للنسفی : ( 4 / 5 ، رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/3/1440، 2018/11/15
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :54