عیسائی خا تون مسلمان ہونا چاہتی ہے، اس کا ایک عیسائی سے نکاح ہوچکا ہے ، لیکن رخصتی نہیں ہوئی اس خاتون کے مسلمان ہونے سے ہی اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا ،یا کچھ اور حکم ہے ؟ اور مسلمان ہونے کے بعد یہ عورت نکاح کرنے چاہے تو عدت گزارنا ضروری ہے یا نہیں۔

الجوب باسم ملھم الصواب

قاضی یا علماء کرام کی مجلس اس کے شوہر پر اسلام پیش کرے ،اگر وہ اسلام قبول کر لے تو نکاح برقرار رہے گا ،ورنہ ان کے درمیان تفریق کر دی جائے اور یہ تفریق طلاق کے حکم میں ہو گی ،اور یہ عو رت بغیر عد ت کے نکاح کر سکتی ہے۔

لما فی تنویر الابصار مع شرحہ :(3/188،89،سعید)
(واذااسلم احدالزوجین المجوسین او امراۃ الکتابی عرض الاسلام علی الآخر فان اسلم )فبھا(والا)بان ابی او سکت(فرق بینھما، ولو کان )الزوج(صبیا ممیزا)اتفاقا علی الاصح.
وفی المحیط البرھانی:(4/200، بیروت۔لبنان)
اذا اسلم احدالزوجین فی دارالاسلام،فان کان الذی اسلم ھی المراۃ یعرض الاسلام علی الزوج،فان اسلم بقیا علی النکاح، والا فرق بینھما
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1/338، رشیدیۃ) وکذا فی البحر الرائق :(3/368، رشیدیۃ)
وکذا فی المدونۃ الکبری:(2/212، دارالکتب) وکذا فی الہدایۃ:(2/325، رشیدیۃ)
وکذا فی التاتار خانیۃ:(4/272، فاروقیۃ) وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/83،الطارق)
وکذا فی التاتار خانیۃ:(4/272، فاروقیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/6/1440، 2019/2/20
جلدنمبر :18 فتوی نمبر :9

ایک شخص نے نذر مانی کہ اگر فلاں دو خاندانوں میں صلح ہوگئی تو میں10 روزے رکھوں گا،کیا یہ نذر درست ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

یہ نذر ماننا درست ہے اور اگر صلح ہو گئی تو اس پر دس روزے لازم ہو ں گے۔

لما فی تنویر الابصارمع شرحہ: (3/735،سعید)
(ومن نذر نذرا مطلقا او معلقا بشرط وکان من جنسہ واجب )ای فرض کما سیصرح بہ تبعا للبحر والدرر(وھو عبادۃ مقصودۃ)….(ووجد الشرط) المعلق بہ(لزم الناذر لحدیث [من نذر وسمی فعلیہ الوفاء بما سمی]( کصوم وصلاۃ وصدقۃ).
وفی الھندية:(2/65،رشیدیہ)
من نذر نذرا مطلقا فعلیہ الوفاء بہ كذا في الهداية.ولو جعل عليه حجة او عمرة او صوما او صلاة أو صدقة أو ما أشبه ذلك مما هو طاعة إن فعل كذا ففعل لزمه ذلك الذي جعله على نفسه ولم تجب كفارة اليمين فيه في ظاهر الرواية عندنا.وقد روي عن محمد – رحمه الله تعالى قال: إن علق النذر بشرط يريد كونه كقوله إن شفى الله مريضي أو رد غائبي لا يخرج عنه بالكفارة كذا في المبسوط ويلزمه عين ما سمى.
وكذا فی الصحیح لمسلم:(2/44،قدیمی) وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/352،الطارق)
وکذا فی المدونةالکبری:(1/585،دارالکتب) وکذا فی المبسوط للسرخسی:(8/140،دارالمعرفة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(6/351،داراحیاء) وکذا فی البحر الرائق:(4/496،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(4/2559،رشیدیہ) وکذا فی التاتارخانیة:(6 /281،82،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1440، 2019/3/25
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :92

جانور کو ذبح کرتے ہوئے تکبیر کے الفاظ کیا ہونے چاہیيں؟اور کتنی مرتبہ تکبیر پڑھنی چاہیے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

جانور کو ذبح کرتے ہوئے ایک مرتبہ”بسم اللہ واللہ اکبر”یا”بسم اللہ اللہ اکبر”پڑھنا شرط ہےاور تین مرتبہ پڑھنا مستحب ہے۔

لما فی تنویر الابصار مع شرحہ:(6/301،،سعید)
(والشرط فی التسمیۃ ھوالذکر الخالص عن شوب الدعاء)وغیرہ(فلایحل بقولہ اللہم اغفرلی) لانہ دعاء وسوال(بخلاف الحمدللہ او سبحان اللہ مریدا بہ التسمیۃ) فانہ یحل۔۔۔(والمستحب ان یقول بسم اللہ اللہ اکبر بلا واو۔۔۔والمتداول المنقول عن النبیﷺ بالواو۔
وفی المستدرک:(5/158، قدیمی)
عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھماانہ قال:یقول اللہ تبارک وتعالی:{فاذکروا اسم اللہ علیھا صواف}قال((قیاما علی ثلاث قوائم معقولۃ،بسم اللہ واللہ اکبر، اللہم منک والیک))۔ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ولم یخرجاہ۔
وکذا فی الھندیۃ:(5/285،رشیدیۃ) وکذا فی الھدایۃ :(4/435،رحمانیۃ)
وکذا فی المبسوط: (12/4، دارالمعرفۃ) وکذا فی بدائع الصنائع : (4/169،رشیدیۃ)
وکذا فی الجوھرۃ النیرۃ : (276،حقانیۃ) وکذا فی التاتارخانیۃ:(17/398،فاروقیۃ)
وکذافی تکملۃالبحرالرائق : (8/309،رشیدیۃ) وکذا فی الولوالجیۃ : (3/72،73،الحرمین شریفین)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/06/1440- 2019/2/18
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :170

طلاق نامہ بنام مریم عاشق بنت محمد عاشق میں مسمی محمد زاہد ولد لیاقت علی زاہد بقائمی ہوش وحواس بغیر کسی دباؤ کے اپنی بیوی کے مطالبہ ، ٹیلی فون اور message پر بار بار اصرار کرنے، خاندان کے تمام افراد کے سامنے طلاق کامطالبہ کرنے اور اپنی بیوی کے والدین اور بھائی کی طرف سے ہمارے گھر آکر اصرار کرنے کے بعد اپنی بیوی مریم عاشق بنت محمد عاشق کو طلاق دیتا ہوں ۔ میں یہاں واضح کر دوں کہ نکاح کے وقت معجّل حق مہر اداکردیا گیاتھا اور غیر معجّل حق مہر 50000 روپےنصف جن کا 25000 روپے بنتے ہیں معاف کر دیا جاوے تاکہ طلاق مؤثر ہو سکے۔ یہ سب کچھ میں اپنی منکوحہ کی طرف سے مسلسل ذہنی دباؤ اور مطالبے پر کر رہا ہوں جس میں منگنی 3سال کاعرصہ شامل ہے۔ جس کے بعد 13دسمبر2014 کو باقاعدہ ہمارا نکاح ہوا، اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ذہنی ہم آہنگی نہ ہو سکی اور عین بارات والے دن 7دسمبر 2018کو شادی سے انکار کر دیا اور بارات اور ولیمہ کے لیے کی گئی تما مbookingsبھی منسوخ کروانا پڑیں اور تمام مہمانوں کو فون کر کے شادی منسوخ ہونے کی اطلاع دی گئی جس سے گھر اور خاندان کے افراد کو سخت صدمہ ،ذہنی کوفت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ۔ لہذا ان تمام حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں یہ فیصلہ کر رہا ہوں ۔ آپ سے درخواست ہے کہ اسلام کی رُو سے اور شریعت کے مطابق میرے اس فیصلے کو تحریری شکل دی جاوے تاکہ کسی قسم کا شرعی عذر نہ رہے ۔میں فون پر یا messageیا نوٹس کے ذریعے طلاق دینےکا کو ئی مناسب طریقہ کروں ۔مناسب رہنمائی فرما کر ہدایات جاری کریں تاکہ بندہ وہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنی بیوی کو طلاق دے سکے ۔ صحیح ہدایت نامہ جاری کرکے مجھے شکریہ کاموقع دیں میں آپ کا مشکور ہوں گا۔

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ میں جب مسمی محمد زاہد نے نصف حق مہر مبلغ پچیس ہزار 25000کے عوض اپنی منکوحہ کو میسج پر طلاق لکھ کر بھیجی تو طلاق بائنہ واقع ہو گئی ہے۔لہذا اب دونوں کے درمیان کسی قسم کا ازدواجی تعلق باقی نہیں رہا۔

لما فی بدائع الصنائع:(3/239،رشیدیہ)
“وأما الطلاق على مال فهو في أحكامه كالخلع؛ لأن كل واحد طلاق بعوض فيعتبر في أحدهما ما يعتبر في الآخر”
وفی فتح القدیر:(4/211و213، رشیدیہ)
وفي الخلاصة: امرأة اختلعت من زوجها على مهرها ونفقة عدتها وعلى أن تمسك ولدها منه ثلاث سنين أو عشرا بنفقته صح الخلع ويجب ذلك، ۔۔۔۔۔والاصح ان الخلع علی مھرھا کالخلع علی مال آخر
وکذافی الفتاوی الھندیة:( 1/378، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (4/528، فاروقیہ)
وکذ افی البحر الرائق :(4/120، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلة:(9/6904،، رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(4/442،دار المعرفة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(5/58و79،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (2/200و229، الطارق)
وکذا فی الموسوعةالفقہیة:(29/24،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/4/1440
18/12/2018
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:61

ایک شخص کسی وجہ سے مسجد کی جماعت میں شامل نہ ہو سکا، اب وہ گھر میں نماز پڑھے یا مسجد میں اگر وہ مسجد جاتا ہے تو اس میں اس بات کا اظہار ہوگا کہ اس نے جماعت چھوڑ دی اور جماعت چھوڑنا ایک گناہ ہے ۔تو کیا اسے مسجد کی بجائے گھر میں نماز پڑھ لینی چاہیے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس مسجد کے بجائے اگر ممکن ہو تو کسی اور مسجد کی جماعت میں شریک ہو جائے ،ورنہ گھر کے افراد کو ملا کر جماعت کروالے ،یہ اس سے بہتر ہے کہ مسجد میں جا کر اکیلا نماز پڑھے۔

لما فی فتح القدیر: (1 / 353 ، رشیدیہ)
وإذا فاتته لا يجب عليه الطلب في المساجد بلا خلاف بين أصحابنا، بل إن أتى مسجدا آخر للجماعة فحسن، وإن صلى في مسجد حيه منفردا فحسن. وذكر القدوري يجمع بأهله ويصلي بهم، يعني وينال ثواب الجماعة
وفی بدائع الصنائع: ( 1/385 ، رشیدیہ)
ذكر في الأصل أنه إذا فاتته الجماعة في مسجد حيه فإن أتى مسجدا آخر يرجو إدراك الجماعة فيه – فحسن، وإن صلى في مسجد حيه فحسن،۔۔۔وذكر القدوري أنه إذا فاتته الجماعة جمع بأهله في منزله، وإن صلى وحده جاز
وکذافی الھندیہ: ( 1/ 83،82، رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق: ( 1/ 606، رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (1 /261 ،الطارق )
وکذا فی البحر الرائق:(1 /606 ،رشیدیہ )
وکذافی المحیط البرھانی:(2 /210 ، دار احیاء التراث)
وکذا فی التاتارخانیہ: (2 /280 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
وکذافی التبیین الحقائق: (1 /133 ،امدادیہ )
وکذا فی الترغیب والترھیب : ( 1/ 25 ، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:185

رسول بچے کا اور رسولاں بی بی بچی کا نا م رکھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

رسول اور رسولاں دونوں نام ایسے ہیں جو نہ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے رکھنا ثابت ہے اور نہ ہی تابعین اور صلحاء کرام سے رکھنا ثابت ہے ،لہذا ایسے ناموں سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔

لما فی الشامیہ: (9 / 689،دار المعرفہ )
التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عبادہ ولا ذكره رسوله – صلى الله عليه وسلم – ولا يستعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا يفعل۔۔۔اقول: ويؤخذ من قوله ولا عبد فلان منع التسمية بعبد النبي ونقل المناوي عن الدميري أنه قيل بالجواز بقصد التشريف بالنسبة، والأكثر على المنع خشية اعتقاد حقيقة العبودية كما لا يجوز عبد الدار اهـ.
وفی الھندیہ: ( 1/ 362 ،رشیدیہ )
وفی الفتاوی التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله – صلى الله عليه وسلم – ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 4/ 2753، رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی: ( 8/ 96،دار احیاء التراث )
وکذافی التاتار خانیہ: (18 / 229 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ: (11 /331و333 ،علوم اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر :184

ہم نے ایک جانور خریدا تھا عقیقہ کرنے کے لیے، اب ایک ضرورت کی وجہ سے اس کو بیچنا چاہتے ہیں، تو کیا اس جانور کو بیچ سکتے ہیں؟ بعد میں دوسرا جانور خرید کر عقیقہ کر لیں گے۔ اور کیا دوسرے جانور کی قیمت، پہلے جانور کی قیمت کے برابر ہونا ضروری ہے ؟یا کم زیادہ بھی ہو تو ٹھیک ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں، اس جانور کو بیچ کر دوسرے جانور سے بھی عقیقہ کیا جاسکتاہے،دوسرے کی قیمت پہلے کے برابر ہونا کوئی ضروری نہیں۔البتہ اس کے اوصاف قربانی کے جانور کے ہونے چاہیں۔

لما فی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ : (30 / 277، علوم اسلامیہ)
وعند الحنفية تباح العقيقة في سابع الولادة بعد التسمية والحلق والتصدق، وقيل: يعق تطوعا بنية الشكر لله تعالى
وفی بدائع الصنائع: ( 4/204 ،رشیدیہ )
ذكر محمد – رحمه الله – في العقيقة فمن شاء فعل ومن شاء لم يفعل، وهذا يشير إلى الإباحة فيمنع كونه سنة
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 5/ 227 ،الطارق )
وکذا فی اعلاء السنن: ( 17/ 127 ، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ)
وکذافی الشامیہ: (9 /540 ،دار المعرفہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (4 /2747 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر :183

ہم نے تو سنا ہے کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا جا ئز نہیں ۔ہمارا ایک عزیز سعودیہ سے واپس آیا ہے تو وہ کہتا ہے کہ مکہ مکرمہ میں اور مدینہ منورہ میں مسجد کے اندر نماز جنازہ پڑھا جاتا ہے ۔جب وہاں جائز ہے تو یہاں کیوں ناجائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مسجد میں نماز جنازہ عام حالات میں احناف کے نزدیک مکروہ ہے۔کیونکہ ابو داؤد شریف کی روایت میں ہے: “جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی تو اس کے لیے کوئی اجر نہیں ۔”اور حرمین شریفین میں اتنے بڑے مجمع کے ، ہرجنازے کے لیے مسجد سے باہر آنے میں شدید حرج ہے اور دائیں بائیں اب اتنے بڑے میدان وغیرہ بھی نہیں جن میں وہ مجمع سماسکے اس ضرورت کی بناء پر مسجد کے اندر بھی وہاں نماز جنازہ جائز ہے۔

لما فی سنن ابی داود: ( 2/ 101 ،رحمانیہ )
” حدثنا مسدد۔۔۔عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((من صلى على جنازة في المسجد، فلا شيء له )). “
لما فی شرح النقایہ للقاری : (1 / 448، ایچ -ایم-سعید)
(ولو وضع المیت خارجہ) ای خارج المسجد،وقام الامام خارجہ ومعہ صف، والباقی فی المسجد(اختلف المشایخ)فقیل:لایکرہ، لانہ لیس فیہ احتمال تلویث المسجد ۔ وقیل:یکرہ ،لان المسجد اعدّ لاداء المکتوبات،فلایقام فیہ غیرھاالا لعذر۔ و الاول اظہر ،لانہ لایکرہ النوافل و غیرھا من انواع الطاعات و اصناف الدعاء۔واما المسجد الحرام فمستثنی ،کماصرح بہ ابن الضیاء اذ ھو موضوع لاداء المکتوبات، والجمعۃ، والعیدین وصلاۃ الکسوف والخسوف،وصلاۃ الجنازۃ والاستسقاء،ولعلہ بھذا لمعنی جمع فی قولہ تعالی:}انما یعمر مساجد اللہ }او لکبر وسعۃ قدرہ،او لتعظیم امرہ، او لاشتمالہ علی جھات، کل جھۃ بمنزلۃ مسجد، او لانہ قبلۃ المساجد کلھا.
وفی الھدایہ مع فتح القدیر:(2 /133،132 ،رشیدیہ )
” (ولا يصلى على ميت في مسجد جماعة) لقوله – عليه الصلاة والسلام -: من صلى على جنازة في المسجد فلا أجر له .”
وتحتہ فی فتح القدیر:
لقوله – عليه الصلاة والسلام – :(من صلى على جنازة ) أخرج أبو داود وابن ماجه عن ابن أبي ذئب عن صالح مولى التوأمة عن أبي هريرة قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – :من صلى على ميت في المسجد فلا أجر له
وکذافی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (595،قدیمی )
وکذا فی اوجز المسالک الی مؤطا مالک: (4 / 352، دار الکتب العلمیہ)
وکذافی سنن ابن ماجہ: ( 221 ، رحمانیہ)
وکذا فی البحر الرائق : ( 2/ 327 ، رشیدیہ)
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ:(16 /35 ،علوم اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:177

آخری رکعت کے دو سجدے کرتے ہوئے ایک صاحب ایک سجدہ کرنے کے بعد بیٹھ گئے، دوسرا سجدہ نہیں کیا اور التحیات شروع کردی،آدھی یا آدھی سے زیادہ التحیات پڑھنے کے بعد یاد آیا کہ دوسرا سجدہ نہیں کیا، تو اب اس نے التحیات ترک کر کے دوسرا سجدہ کرلیا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس پر سجدہ سہو واجب ہو گا جبکہ دو سجدوں کے درمیان آپﷺ سے دعائیہ کلمات پڑھنا منقول ہیں۔ براہ مہربانی وضاحت کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ شخص سجدہ سہو کرے گا ۔ کیونکہ دو سجدوں کے درمیان ذکر اگر ارادۃ ًہو تو اس کی اگرچہ اجازت ہے مگر نسیان اور بھول سے اگر ہو تو اس پر سجدہ سہو آتا ہے۔

لما فی الشامیہ : (2 /202 ،دار المعرفہ )
لو أطال قيام الركوع أو الرفع بين السجدتين أكثر من تسبيحة بقدر تسبيحة ساهيا يلزمه سجود السهو۔۔۔ من شك في صلاته فأطال تفكره۔۔۔إن في جلوسه بين السجدتين فعليه السهو؛لأن له أن يطيل اللبث في جميع ما وصفنا إلا فيما بين السجدتين۔۔۔.
وفیہ ایضا: (2/260 ، دار المعرفہ)
وقدمنا في الواجبات عن ط أنه لو أطال هذه الجلسة أو قومة الركوع أكثر من تسبيحة بقدر تسبيحة ساهيا يلزمه سجود السهو.
وکذافی شرح النقایہ لعلی القاری رحمہ اللہ: (1 /262 ، ایچ-ایم-سعید)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار : (1 /211 ،رشیدیہ )
وکذافی غنیۃالمستملی : ( 460 ، رشیدیہ)
وکذا فی اعلاء السنن: ( 3/44،43 ،ادارۃ القرآن )
وکذا فی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح : ( 268 ،قدیمی )
وکذا فی المحیط البرھانی: (2 /313 ،دار احیاء التراث )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ : (2 /397 ،فاروقیہ-کوئٹہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29-07-1440، 2019-04-6
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:166

نابالغ بچے کے مال کو اس کا ولی نفلی صدقات میں خرچ کرسکتا ہے یا نہیں؟ اور کیا اس سے نا با لغ کے مہمانوں کا اکرام کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نا بالغ بچے کے مال سے نہ تو نفلی صدقہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی مہمانوں کا اکرام کیا جا سکتا ہے۔

لما فی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: ( 26/326 ،علوم اسلامیہ )
أن يكون المتصدق من أهل التبرع، أي: عاقلا بالغا رشيدا، ذا ولاية في التصرف.وعلى ذلك فلا تصح صدقة التطوع من الصغير.
وفی التنویر وشرحہ مع الشامیہ: (9 / 526،دارالمعرفہ )
قال ولیس للاب ان یفعلہ من مال طفلہ، ورجحہ ابن الشحنۃ۔۔۔فمال الصبی لا یحتمل صدقۃ التطوع، وعزاہ للمبسوط فلیحفظ
وکذافی درر الحکام شرح مجلۃالاحکام: (2 /452و676 ،المکتبۃ العربیۃ )
وکذا فی شرح المجلۃ : (3 /375 ، رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ: (14 /502 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
وکذا فی بدائع الصنائع: (5 /168،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29-07-1440، 2019-04-6
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:165