جب ماں کے پیٹ میں بچے پر چالیس دن گزر جائیں تو کیا بغیر عذر کے اس کو ضائع کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اور کب تک ضائع کر سکتے ہیں؟ اس کی تمام صورتوں کی وضاحت کر دیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بغیر عذر حمل ضائع کروانا جائز نہیں۔ اگر کو ئی حقیقی عذر ہو تو ماہر اور دین دار ڈاکٹر کے مشورہ سے چار ماہ سے قبل ضائع کروانے کی گنجائش ہے، چار ماہ کے بعد ضائع نہیں کرواسکتے۔

لما فی الفتاوی التاترخانیہ: ( 18/ 202،فارقیہ )
 فنقول اختلف اصحاب رسول اللہﷺ فی العزل۔۔۔الا ان علمائنا قالوا فی المراۃ المنکوحۃ: یشترط رضاھا بالعزل۔۔۔ وفی فتاوی سمر قند: انہ اذا عزل خوفا من الولد السوء لفساد ھذا الزمان فھو جائز من غیر رضی المراۃ(وبعد صفحۃ)وفی الذخیرۃ: و مدۃ استبانۃ الخلق ونفخ الروح مقدرۃ بمائۃ وعشرین یوما، وفی الیتیمۃ: سالت علی بن احمد عن اسقاط الولد قبل ان یصور،فقال: اما الحرۃ فلا یجوز قولا واحدا، وامافی الامۃ فقد اختلفوا فیہ، والصحیح ھوالمنع
وفی روح المعانی : ( 15/66 ،دار احیاء التراث )
{وَلا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلاقٍ} وظاهر اللفظ النهي عن جميع أنواع قتل الأولاد ذكورا كانوا أو إناثا مخافة الفقر والفاقة
وکذا فی صحیح البخاری: (2 /265و292،291 ،رحمانیہ )
وکذافی الشامیہ: ( 4/335 ،دار المعرفہ )
وکذا فی فتح الملہم: ( 6/ 452 ،دارالعلوم کراچی )
وکذافی الخانیہ علی ھامش الھندیہ: ( 3/410و446 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتا وی الھندیہ: (5 /357،356 ،رشیدیہ )
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ: (19 /121،120 ،علوم اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29-07-1440، 2019-04-6
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:164

ایک بستی ہے وہ بڑے قصبے سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ پوچھنا یہ تھا کہ قصر نماز بستی سے نکل کر ہو گی یا بڑے قصبے سے نکل کر؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر تو قصبہ اور بستی کی آبادی آپس میں ملی ہوئی ہے پھر تو قصبہ سے نکل کر قصر کرے گا، ورنہ بستی کی آبادی سے نکل کر۔

لما فی الفتاوی الھندیہ: ( 1/139 ،رشیدیہ )
الصحيح ما ذكر أنه يعتبر مجاوزة عمران المصر لا غير إلا إذا كان ثمة قرية أو قرى متصلة بربض المصر فحينئذ تعتبر مجاوزة القرى
وفی الشامیہ: ( 2/722 ،دار المعرفہ )
قال في الإمداد: فيشترط مفارقتها ولو متفرقة وإن نزلوا على ماء أو محتطب يعتبر مفارقته كذا في مجمع الروايات، ولعله ما لم يكن محتطبا واسعا جدا اهـ وكذا ما لم يكن الماء نهرا بعيد المنبع وأشار إلى أنه يشترط مفارقة ما كان من توابع موضع الإقامة كربض المصر ۔۔۔وكذا القرى المتصلة بالربض في الصحيح،{وقال الرافعی}قول المصنف: (من خرج من عمارۃ الخ) قال الرحمتی: العمارۃ مایعمر بہ المکان .قاموس، فیشتمل بیوت المصر والقریۃ وبیوت الشعر
وکذافی غنیۃ المستملی: ( 536، رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ: (33 /164 ،علوم اسلامیہ )
وکذافی مجمع الانھر: (1 /238 ،المنار-کوئٹہ )
وکذا فی الجوھرۃ النیرۃ : (1 /217 ،قدیمی )
وکذافی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعہ: ( 1/ 405 ،حقانیہ-پشاور )
وکذا فی البحر الرائق: (2 /226 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25-07-1440، 2019-04-02
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:163

سسر نے اپنے بیٹے کی طرف سے اپنی بہو کو طلاق دی پھر اس عورت نے جا کر دوسری شادی کر لی جب اس کا پہلا شوہر آیا تو اس نے کہا میں نے تجھے طلاق نہیں دی، تو نے دوسری شادی کیسے کی ہے؟ لڑکی نے کہا تمہارے والد نے تمہاری طرف سے طلاق دی ہے۔ کیا اس لڑکی کا دوسرا نکاح ہوگیا یا نہیں؟ اگر نہیں ہوا ہے تو جب یہ دوسرے شوہر کے پاس آئے گی تو جس مرد کے ساتھ نکاح درست نہیں تھا اس نے ہم بستری کی ہے، اس کی عدت گزارے گی یا نہیں؟ براہ مہربانی تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ مسئلہ میں اگر لڑکا اپنی بات میں سچا ہے تو اس لڑکی کا دوسرا نکاح جائز نہیں ہے۔ لہذا لڑکی فورا دوسرے شوہر سے الگ ہو جائےاور اس کا پہلا شوہر تین حیض گزر جا نے سے پہلے اس کے پاس نہیں جا سکتا۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 9/6883و6602الی6604 ، رشیدیہ)
طلاق غير الزوج: لا يصح طلاق غير الزوج، لحديث «لا طلاق قبل النكاح، ولا عتق قبل
ملك»
وفیہ ایضا:
والزواج الفاسد عند الحنفية: هو مافقد شرطاً من شروط الصحة، وأنواعه:۔۔۔ وزواج امرأة الغير بلا علم بأنها متزوجة، (وعلی الصفحۃ التالیۃ)وبالرغم من كون الدخول في الزواج الفاسد معصية، فإنه عند الحنفية تترتب عليه ـ أي بالوطء في القبل لا بغيره كالخلوة ـ الأحكام التالية:(وعلی الصفحۃالآتیۃ)وجوب العدة على المرأة من حين التفريق بينهما عند جمهور الحنفية وهو الصواب في المذهب
وفی الفتاوی الھندیہ: ( 1/ 526،رشیدیہ )
لو كان النكاح فاسدا ففرق القاضي۔۔۔ إن فرق بعد الدخول كان عليها الاعتداد من وقت التفريق، وكذا لو كانت الفرقة بغير قضاء كذا في الظهيرية.
وکذافی المستدرک علی الصحیحین: ( 2/874 ،قدیمی ) وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ : ( 41/318 ،علوم اسلامیہ )
وکذافی الھدایہ مع فتح القدیر : ( 4/ 288 ،رشیدیہ ) وکذا فی التاتار خانیہ: (4 /377 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
وکذافی کنز الدقائق مع النھر الفائق: (2 /474 ،475،قدیمی )،وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ: ( 29/ 14 ،علوم اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26-07-1440، 3-04-2019
جلدنمبر:18 فتوی نمبر :162

 

ہمارا درزی کا پیشہ ہے، جو لوگ ہم سے سوٹ سلواتے ہیں عموما ان کے دیے ہوئے کپڑوں میں سے کم وبیش کچھ نہ کچھ مقدار بچ جاتی ہے۔ کبھی ہمیں دینا بھول جا تا ہے اور وہ بھی نہیں پوچھتے اور کبھی وہ شاگردوں سے سوٹ لے کر چلے جاتے ہیں اور بچے ہوئے کپڑے کا میرے علم میں بھی نہیں ہوتا ہے؟ لہذا کپڑے کی وہ کتنی مقدار ہوگی کہ اگر ہم وہ رکھنا چاہیں تو بلا اجازت رکھ لیں؟ اور اگر ہم اپنے “وزٹنگ کارڈ” وغیرہ پر لکھ دیں کہ “اپنا بچا ہوا کپڑا واپس لے سکتے ہیں ۔” اس صورت میں بھی وہ واپس نہ لیں تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ناقابل استعمال کپڑے کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں اور قابل استعمال کپڑا آپ گاہک کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کرسکتے، البتہ اجازت کے لیے یہ بھی کافی ہے جو آپ نے وزٹنگ کارڈ وغیرہ کی صورت تحریر کی ہے۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیہ: (15 /298 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
23133-:-م: اذا دفع الی خیاط کرباسا، فخاطہ قمیصا وبقی منہ قطعۃ، فسرقت القطعۃ فھو ضامن.
وفی شرح المجلہ: (1/264 ، رشیدیہ)
لا یجوز لاحد ان یاخذ مال احد بلا سبب شرعی۔ ای لا یحل فی کل الاحوال عمدا او خطا او نسیانا، جدا او لعبا، ان یاخذ احد مال احد بوجہ لم یشرعہ اللہ تعالی ولم یبحہ، لان حقوق العباد محترمۃ لا تسقط بعذر الخطا والنسیان والھزل وغیرہ
وکذافی المحیط البرھانی: (11 /365 ،دار احیاء التراث )
وکذا فی سنن ابی داؤد : (2 /146 ،رحمانیہ )
وکذافی عون المعبود: ( 9/238 ،قدیمی )
وکذا فی الفتاوی الھندیہ: ( 4/ 455 ،رشیدیہ )
وکذافی الشامیہ : ( 9/305 ،دار المعرفہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24-07-1440، 2019-04-1
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :161

نبوت ملنے سے پہلے آپﷺ کس طرف کو رخ کرکے نماز پڑھتے تھے ۔باحوالہ جواب عنایت فرمائیں؟

الجواب باسم القادر الغفار

نبوت ملنے سے پہلے آپﷺ کی عبادت غارِ حرا میں صرف تدبّر و تفکّر کی صورت میں ہوتی تھی ۔نماز کی مشروعیت تو حضور اکرمﷺ کو نبوت ملنے کے بعد ہوئی ہے۔

لما فی عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری:(1/61،60،دار احیاء التراث)
ما قيل لم حبب إليه الخلوة أجيب بأن معها فراغ القلب وهي معينة على التفكر۔۔۔ ويقال كان ذلك اعتبار أو فكرة كاعتبار إبراهيم عليه الصلاة والسلام لمناجاة ربه والضراعة إليه ليريه السبيل إلى عبادته على صحة إرادته
وفی الشامیہ للعلامہ ابن عابدین رحمہ اللہ:(2/18،دار المعرفہ)
قال: وعندي أن هذا التعبد يشتمل على أنواع من الانعزال عن الناس و الانقطاع إلى الله والأفكار. وعن بعض: كانت عبادته – عليه الصلاة والسلام – في حراء التفكر، اهـ ملخصا
وکذا فی سبل الھدی والرشاد:(2/233،نعمانی)
وکذا فی النھر الفائق:(1/157،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019-2-9
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:158

سورت ’’النصر ‘‘ میں ’’افواجا ‘‘ پر وقف کرنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ مقام پر وقف کرنا بہتر ہے۔اور نہ کرنا بھی جائز ہے۔کیونکہ اس مقام پر آیت کے نشان پر جو “(لا)” لکھا ہوا ہے ،اس کے بارے میں حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہ “معارف القرآن” کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:”لا : یہ لَاتَقِفْ کا مخفف ہے اس کا مطلب یہ ہے یہاں نہ ٹھہرو لیکن اس کا منشاء یہ نہیں کہ یہاں وقف کرنا ناجائز ہے، بلکہ اس میں بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں وقف کرنے میں کوئی حرج نہیں، اور اس کے بعد والے لفظ سے ابتداء کرنا بھی جائز ہے۔

لما فی البرھان فی علوم القرآن: ( 1/505 ، دار المعرفہ)
فان النبی ﷺ کان یقف عند کل آیۃ فیقول:(الحمد للہ رب العالمین) ویقف [ثم یقول] (الرحمن الرحیم) وھکذا ۔۔۔قال:وھذا ھو الافضل؛ اعنی الوقف علی رؤوس الآی.
وکذافی سنن ابی داؤد: (2 / 200،199، رحمانیہ)
وکذا فی سنن الترمذی: ( 2/ 586، رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019-02-17
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:157

جب امام امامت کروا رہا ہو اور اس کو حدث لا حق ہو جائے تو وہ اپنا خلیفہ کیسےمتعین کرےگا؟ اشارہ سے یا ہاتھ وغیرہ سے پکڑ کر اپنی جگہ کھڑا کر دے گا؟

الجواب باسم المنعم الدیان

دونوں طرح سے درست ہے۔

لما فی التنویر وشرحہ للحصکفی رحمہ اللہ مع رد المحتار: (4 /425 ، رشیدیہ )
” (استخلف)ای جاز لہ ذلک ولو فی جنازۃ باشارۃ او جرّ لمحراب . “
وفی شرح النقایہ للبرجندی رحمہ اللہ: (1 /123 ،حقانیہ )
“الامام اذا سبقہ الحدث یستخلف آخر من المقتدی بان یجرہ الی مکانہ وان اشار الیہ من غیر جرّ کفی . “
وکذافی المبسوط: ( 2/116 ،دار المعرفہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (2 /370 ،فاروقیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019-02-06
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :156

امام کے ثناء پڑھ لینے کے بعد مقتدی (چاہے مدرک ہو یا مسبوق اور نماز سری ہو یا جہری) کے ثناء پڑھنےکاکیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جب امام قراءت شروع کردے تو مقتدی ثناء نہیں پڑھے گا،چاہے نماز سری ہو یا جہری ۔ البتہ مسبوق جب اپنی بقیہ رکعات کی قضاء کے لیے کھڑا ہوگا تب ثناء پڑھے گا۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (259،قدیمی )
” ثم أعلم إن الثناء يأتي به كل مصل فالمقتدي يأتي به ما لم يشرع الإمام في القراءة مطلقا سواء كان مسبوقا أو مدركا في حالة الجهر أو السر. “
وفی الموسوعہ الفقہیہ: ( 4/ 53، علوم اسلامیہ)
” قال الحنفية: لا يأتي المأموم بدعاء الاستفتاح إذا شرع الإمام في القراءة، سواء أكان الإمام يجهر بقراءته أم يخافت. “
وکذافی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار : ( 1/ 218 ، رشیدیہ)
وکذا فی قولہ تعالی فی سورۃ الاعراف:الآیۃ (204 )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019-02-17
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:155

ایک شخص گھر سے وضو کر کے نماز یا کسی بھی نیک کام کی نیت کر کے چلا گیا،بازار سے گزرتے ہوئے اس کی نگاہ کسی بے پردہ عورت پر پڑگئی تو کیا وہ دوبارہ وضو کرے؟(2)(ا)زوال کے وقت کی کیا حقیقت ہے؟(ب)اور اس ٹائم کون سی عبادت کر سکتے ہیں؟(ج)اور یہ ٹائم دن میں کب ہوتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بے پردہ عورت پر نظر پڑ جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ (2)(ا)جب سورج آسمان پر سفر کرتے ہوئے اس کے بالکل درمیان میں پہنچ جاتا ہے (عام طور پر کہتے ہیں ،سورج بالکل سر پر پہنچ گیا) تو اسے “استواء” یا ” نصف النہار” کہتے ہیں۔اس کے بعد جب سورج مغرب کی طرف ڈھلنا شروع کردے تو حقیقت میں “زوال” اس وقت کو کہتے ہیں ۔ لیکن عموما “نصف النہار ” کو ہی زوال کہہ دیا جا تا ہے ۔(ب) اس وقت میں نماز پڑھنا منع ہے ،اس کے علاوہ دیگر عبادات ذکر وتلاوت وغیرہ کر سکتے ہیں۔(ج)زوال کا وقت دوپہر کو ہوتا ہے لیکن گھڑی کے حساب سے اس کی کوئی خاص تعیین نہیں کی جا سکتی ،کیونکہ یہ ہر علاقے میں روزانہ کے حساب سے بدلتارہتا ہے ۔اوقات نماز کے نقشوں میں یہ وقت دیکھا جا سکتا ہے ۔ہماری تحقیق کے مطابق ساہیوال شہر میں زوال کا وقت پورا سال تقریبا 11:50 سے 12:30 کے درمیان کسی وقت ہوتا ہے ۔

لما فی الفتاوی الھندیہ: ( 1/ 13، رشیدیہ)
“مس الرجل المرأۃ والمرأۃ الرجل لاینقض الوضوء کذا فی المحیط . “
وفی فتح القدیر: (1 /56 ،رشیدیہ )
” ولا یجب من مجرد مسھا ولو بشھوۃ ولو فرجھا،ولا من مس الذکر . “
وفی الدر المختار مع رد المحتار: (2 / 44 ،دار المعرفہ )
الصلاة فيها على النبي – صلى الله عليه وسلم – أفضل من قراءة القرآن وكأنه لأنها من أركان الصلاة، فالأولى ترك ما كان ركنا لها. وفی الشامیہ: (قوله: الصلاة فيها) أي في الأوقات الثلاثة وكالصلاة الدعاء والتسبيح كما هو في البحر۔۔۔ فإن مفاده أنه لا كراهة أصلا؛ لأن ترك الفاضل لا كراهة فيه.
وفی الشامیہ:(2 /38،37 ،دار المعرفہ )
(قوله: واستواء) التعبير به أولى من التعبير بوقت الزوال؛ لأن وقت الزوال لا تكره فيه الصلاة إجماعا بحر عن الحلية: أي لأنه يدخل به وقت الظهر كما مر. وفي شرح النقاية للبرجندي: وقد وقع في عبارات الفقهاء أن الوقت المكروه هو عند انتصاف النهار إلى أن تزول الشمس ولا يخفى أن زوال الشمس إنما هو عقيب انتصاف النهار بلا فصل، وفي هذا القدر من الزمان لا يمكن أداء صلاة فيه
وکذافی المحیط البرھانی: (2 / 10،دار احیاء التراث )
وکذا فی الصحیح للامام مسلم رحمہ اللہ: ( 1/276 ، قدیمی)
وکذافی اعلاء السنن: ( 1/176،ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ )
وکذا فی التاتر خانیہ: (1 /268 ، فاروقیہ-کوئٹہ)
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: (24 /54 ،علوم اسلامیہ)
وکذا فی البحر الرائق: (1 /434،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلدنمبر:17 فتوی نمبر :154

شوہر (‎مسّمی ظفر عباس)نے اپنی بیوی کو طلاق کا نوٹس بنام ’’نوٹس طلاق اول ‘‘ بھیجا ہے، جس میں یہ الفاظ تحریر ہیں: ’’ مسمّاۃ مذکوریہ کو نوٹس طلاق اول دے کر اپنی زوجیت سے فارغ کر دیا ہے، آج سے ہمارے درمیان میاں بیوی کا رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے ۔‘‘ اب ان میاں بیوی کے لیے کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سوال میں مذکورہ صورت حال میں، بعض علماءکرام کے ہاں ’’طلاق اول دے کر‘‘سے ایک طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ اور’’اپنی زوجیت سے فارغ کردیاہے‘‘ سے دوسری طلاق واقع ہوجائے گی۔ اس طرح ان کے نزدیک دو طلاق بائنہ واقع ہو جائیں گی۔
جبکہ بعض دیگر علماء کرام کے نزدیک اس سے ایک ہی طلاق ہوگی ۔اور باقی دونوں جملے’’اپنی زوجیت سے فارغ کردیاہے، آج سے ہمارے درمیان میاں بیوی کا رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے ۔‘‘ پہلی طلاق ہی کا ثمرہ اور نتیجہ بیان کرنے اور اسی کو پختہ کرنے کے لیے ہیں۔ہمارا رجحان بھی اسی طرف ہے ،کہ اس صورت میں ایک طلاق ہوگی، لیکن ’’ اپنی زوجیت سے فارغ کردیاہے، آج سے ہمارے درمیان میاں بیوی کا رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے ۔‘‘ کی وجہ سے یہ بائنہ ہو جائے گی۔ اب اگر میاں، بیوی چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔

لما فی الدر المختار مع الشامیہ: (4 / 509، دار المعرفہ)
“[فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين ۔وقال الرافعی:قول الشارح:(کرر لفظ الطلاق وقع الکل الخ ) قال سعدی افندی:اقول لک ان تقول:لم لا یجوز ان یکون من قبیل قولہ علیہ الصلاۃ والسلام :(فنکاحھا باطل باطل) واحتمال کونھا جملا لا یجدی نفعا اذ الطلاق لایثبت بالشک مع ان الحذف خلاف الاصل، واللائق بحال المسلم ان لا یجمع الثلاث فی وقت . ”
وکذافی الھندیہ: (1 / 355،رشیدیہ )
وکذا فی الھدایہ مع فتح القدیر: ( 4/ 157، رشیدیہ)
وکذا فی الشامیہ: ( 4/447 ، دار المعرفہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار: (2 /130 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15-06-1440
21-02-2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :153