اگر کسی حلال جانور کو باؤلا کتا کاٹے اور اس پر بھی اثر ہوجائےاور وہ جانور پاگل ہوجائے تو اس وقت وہ حلال رہے گا یا نہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ جانور اگرچہ حلال ہے ،لیکن اس کے گوشت میں زہریلے اثرات ہونے کی وجہ سے اس کا کھانا نہ صرف مضر صحت بلکہ حرام بھی ہے۔

لمافی الموسوعۃ الفقھیۃ:(5/125،علوم اسلامیۃ)
ما يحرم أكله لأسباب مختلفة: ۔۔۔۔السبب الأول: الضرر اللاحق بالبدن أو العقل: ولهذا أمثلة كثيرة8: – (منها) الأشياء السامة ،سواء أكانت حيوانية كالسمك السام، وكالوزغ والعقارب والحيات السامة والزنبور والنحل،۔۔۔۔۔(ومنها) الأشياء الضارة وإن لم تكن سامة، وقد ذكر منها في كتب الفقه: الطين، والتراب، والحجر، والفحم على سبيل التمثيل، وإنما تحرم على من تضره
وکذافی المحیط البرھانی:(8/466،دار احیاء التراث)
وکذافی تنویر الابصار وشرحہ مع رد المحتار:(9 /535، دار المعرفة)
و کذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5 /211،210،الطارق)
و کذافی الجوھرۃ النیرۃ:(2/455،قدیمی)
و کذافی اللباب فی شرح الکتاب:(3/100،قدیمی)
و کذافی البحر المحیط:(1/653،دار الکتب العلمیۃ)
و کذافی تفسیر القرطبی:(2/208،مؤسسۃ التاریخ)
و کذافی بدائع الصنائع:(4/216،رشیدیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/5/1440
9/1/2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:110

ایک شخص نے دارا لامان سے ایک بچی لی ہے ۔اس کے والدین کے بارے میں کوئی پتا نہیں ہے تو”نادرا”وغیرہ میں بچی کے نام کے ندراج میں یہ شخص والد کی جگہ اپنا نام لکھوا سکتا ہے یا نہیں ؟

الجواب بعون القادر الغفار

کسی بچے کو والد کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کرنا بالکل جائز نہیں ہے ۔البتہ مذکورہ صورت میں چونکہ بچی کے حقیقی والد کا علم ہی نہیں ہے اور اگر مذکورہ شخص اپنا نام اس بچی کے ساتھ لکھوا دیتا ہے تو اسے سرپرستی اور ایک طرح نسبت حاصل ہو جائے گی اور وہ آئندہ ہمیشہ کے لیے عار سے بچ جائےگی۔لہذا نام وغیرہ کے اندراج کی حد تک اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
لیکن وراثت اور پردے کے معاملے میں یہ لڑکی اجنبی شمار ہوگی ،لہذا اس شخص سے اور اس کے رشتہ داروں سے پردہ کرے گی اور اس کی وراثت کی حق دار بھی نہ ہوگی ۔اگر اس بچی کی عمر 2سال سے کم ہے تو اس شخص کی کوئی محرم خاتون مثلا بیوی ،بہن یا بیٹی اسے اپنا دودھ پلا دے تو ثبوت رضاعت کی وجہ سے پردے کے احکام میں تخفیف ہوجائے گی۔

لما فی سورۃ الاحزاب:(الآیۃ:5،4 )
مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ اللَّائِي تُظَاهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ (4) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ ۔۔۔۔۔۔۔
و فی البحر الرائق:(5/243،رشیدیہ)
(قوله ويثبت نسبه من واحد) استحسانا لاحتياجه إليه أطلقه فشمل الملتقط وغيره۔۔۔۔۔۔ وجه الاستحسان أنه إقرار للصبي بما ينفعه لأنه يتشرف بالنسب ويعير بعدمه۔
وفی المحیط البرھانی:(8/159،دار احیاء التراث)
إذا ادعى الملتقط نسب اللقيط فالقياس أن لا تصح دعوته۔۔۔۔۔وفي الاستحسان: تصح دعوته؛ لأن هذا إقرار على نفسه من وجه من حيث أنه تلزمه نفقته، ويجب عليه أن يحفظه، ثم إن كان ھذا إقراراً على اللقيط فهو إقرار عليه بما ينفعه من كل وجه، وبالالتقاط ثبت لہ هذه الولاية۔
وکذافی فتح القدیر(6/105، رشیدیہ)
و کذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2 /277،الطارق)
وکذ افی البحر الرائق :(3 /388،رشیدیہ)
و کذافی التفسیر المنیر:(11/257،امیر حمزہ)
و کذافی الصحیح للامام مسلم:(2/326،رحمانیہ)
و کذافی فتح الباری:(6/670،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
9/5/1440
6/1/2019
جلدنمبر :17 فتوی نمبر :109

عورتوں کے لیے خطبہ جمعہ سننے کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

عورتوں پر نماز جمعہ فرض نہیں ہے لہذا ان پر جمعہ کا خطبہ سننا بھی واجب نہیں۔ البتہ اگر لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے ان تک آواز پہنچ رہی ہو تو بہتر اور افضل یہی ہے کہ خطبہ کے احترام میں خاموش رہیں۔

لما فی البحر الرائق:(2/264،رشیدیۃ)
“قولہ:(وشرط وجوبھا الاقامۃ والذکورۃ والصحۃوالحریۃ وسلامۃالعینین والرجلین)فلاتجب علی مسافر ولا امرءاۃ ولا مریض۔”
وکذا فی الفتاوی العالمکیریة:(1 /144و146، رشیدیة)
وکذافی تنویر الابصار وشرحہ مع رد المحتار:(3 / 32،31،30 ،دارا لمعرفۃ)
وکذافی کذا فی التاتار خانیۃ:(16/ 51،فاروقیۃ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1 /317،الطارق)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2 /1285، رشیدیة)
وکذا فی فتح القدیر:(2 /59، رشیدیة)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/221،امدادیۃ)
وکذا فی اعلاء السنن:(8/77،ادارۃ القرآن)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/465،دار احیاء التراث)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1440
20/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:108

ایک عورت فوت ہوئی اس نے ایک شیر خوار بچہ چھوڑا اس بچے کو ایک ایکڑ زمین میراث میں ملی عورت کے بھائیوں نے وہ زمین اپنے اپنے پاس رکھ لی اس کے چار بھائی تھے ۔ بیس سال گزرنے کے بعد اس بچے نے جبکہ وہ عاقل بالغ ہو چکا تھا مطالبہ کیا۔ اب عورت کے بھائیوں نے کہا کہ تم ایک ایکڑ کاٹھیکہ جو کہ 48000ہے لے لیا کرو اس کے ماموؤں کی زمین مختلف جگہ پر ہے کسی کا ٹھیکہ 48000ہزار، کسی کا 50000ہزار اور کسی کا 55000ہزار ہے ،اور اس لڑکے کی زمین سب میں مشترک ہے متعین نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح ٹھیکہ لینا درست ہے یاوہ لڑکا اپنی زمین لے کر پھر کسی کو ٹھیکہ پر دے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ صورت میں فریقین یعنی بچہ اور اس کے ماموں زمین کے ٹھیکہ کی جس متعینہ رقم پر متفق ہو جا ئیں تو معاملہ درست ہو جائے گا۔

لما فی الفتاوی الھندیۃ:(4/448،رشیدیۃ)
“وأجمعوا أنه لو آجر من شريكه يجوز سواء كان مشاعا يحتمل القسمة أو لا يحتمل وسواء آجر كل نصيبه منه أو بعضه كذا في الخلاصة.”
وک‍ذا فی بدائع الصنائع:(4 /25، رشیدیة)
وکذا فی الھدایۃ مع فتح القدیر:(9 /100، رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4 /386،الطارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(11 /342،دار احیاءالتراث)
وکذافی تنویر الابصاروشرحہ مع رد المحتار:(9 /80،79 ،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(8 / 36،رشیدیة)
وکذا فی التجرید :(7/3655،محمودیۃ)
وکذا فی الموسوعۃ الفقیۃ:(1/277،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی المبسوط:(16/32ِدار المعرفۃ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1440
15/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :107

آج کل نکاح میں شرائط لگائی جاتی ہیں مثلا دوسری شادی کرنا،جھگڑا وغیرہ کرنا اس بارے میں کچھ قیمت بھی لگائی جاتی ہے کہ یہ کام کرے گا تو اتنی رقم دے گا وغیرہ، مزید اور شرائط ہوتی ہیں۔لڑکی والوں کی طرف سے یہ کہناہے کہ ہم تو تحفظ چاہتے ہیں ۔معلوم یہ کرنا تھاکہ ایسی شرائط کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ نکاح میں ایسی شرائط سے نکاح پر کچھ اثر تو نہیں پڑتا؟

الجواب باسم ملہم الصواب

نکاح میں عام طور پر تین طرح کی شرائط ہو سکتی ہیں ۔1)اگر ایسی شرائط لگائی جائیں جو نکاح سے واجب ہونے والی ذمہ داریوں اور حقوق ہی کو پختہ کرتی ہوں جیسے شوہر کے ذمہ بیوی کا نفقہ اور اس کو بھلے طریقے سے بسانا اور اس سے اچھے طریقے سے معاملہ وغیرہ کرنے کی شرط ،تو وہ معتبر ہیں اور شوہر پر ان کو پورا کرنا واجب ہے۔2)نکاح میں ایسی شرائط عائد کرنا جو عقد نکاح کے تقاضوں کے خلاف ہیں یا شریعت نے ان سے منع کیا ہو،غیر معتبر ہیں ،جیسے شوہر کا نفقہ نہ دینے کی شرط لگانا یا جہیزوغیرہ کی شرط لگانا ۔3)اگر نکاح کے وقت ایسی شرائط لگائی جا ئیں کہ شریعت نے ان کو نہ تو لازم و واجب قرار دیا ہے اور نہ ہی ان سے منع کیا ہے۔تو ایسی شرائط کے بارے میں بھی حکم یہ ہے کہ ان کو اخلاقًا و شرعًا پورا کرنا لازم ہوگا کیونکہ وہ شرائط عورت کے ساتھ وعدہ و عہد ہے اور عہد کو پورا کرنے کی شریعت نے بہت تاکید کی ہے ۔البتہ قضاءً ا ن کا پورا کرنا لازم نہ ہوگا۔

لما فی سورۃ الاسراء:
“وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا(34)”
وفی الموسوعۃ الفقہیۃ:(41/305،علوم اسلامیۃ)
يرى الحنفية أن النكاح لا يبطل بالشروط الفاسدة فيصح النكاح ويلغو الشرط ۔ومن أمثلة ذلك: أن يتزوج الرجل المرأة على ألف بشرط أن لا يتزوج عليها، فإن وفى بما شرط فلها المسمى ۔۔۔وإن لم يوف فلها مهر مثلها و إن قال: علي ألف إن أقام بها وألفين إن أخرجها، فإن أقام فلها الألف، وإن أخرجها فمهر مثلها لا يزاد على ألفين ولا ينقص عن ألف، وهذا عند أبي حنيفة.
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/93،الطارق)
یختلف حکم الشروط فی عقد الزواج :منھا ما یجب الوفاء بہ اتفاقا،وھو ما امر اللہ بہ من امساک بمعروف او تسریح باحسان والنفقۃ۔۔۔ ومنھا مالا یوفی بہ اتفاقا،کسؤال طلاق اختھا۔۔۔ومنھا مااختلف فیہ کاشتراط الا یتزوج علیھا۔۔۔
وکذافی صحیح البخاری:(1/479،رحمانیہ)
وفیہ ایضا:(2/774،قدیمی)
وکذافی عمد ۃ القاری:(13/299،دار احیاء التراث)
وکذافی التنویر وشرحہ مع رد المحتار:(4/146،دار المعرفۃ)
وکذافی القدوری مع اللباب:(2/153،قدیمی)
وکذافی القول الراجح:(1/276)
وکذافی الجوھرۃ النیرۃ:(2/85،قدیمی)
وکذافی الفتاوی البزازیۃ علی ھامش الھندیۃ:(4/134،رشیدیۃ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/5/1440
22/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :99

 

شریعت مطہرہ کی روشنی میں ہمیں بتلائیں کہ کراچی سے ساہیوال تک سامان بحفاظت پہنچانے کی ذمہ داری ہماری ہے یا کمپنی والوں کی؟ یہ بات بھی واضح رہے کہ ہم قیمت کی ادائیگی سامان وصول ہونے کے بعد کرتےہیں ۔ اور ان کا نمائندہ ہر ماہ ہمارے پاس آڈر لینے بھی آتا ہے

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ صورتحال میں آپ تک سامان بحفاظت پہنچانا کمپنی والوں کی ذمہ داری ہے، شرعا وعرفا وہ اس بات کے پابند ہیں ۔اور اگر سامان آپ تک بحفاظت نہ پہنچے تو اس کی ذمہ دار کمپنی ہے، آپ نہیں ۔ لہذا یہ سارا نقصان کمپنی برداشت کرے گی۔

لما فی سنن ابی داؤد: ( 2/ 139 ،رحمانیہ )
“حدثنا زهير بن حرب۔۔۔حتى ذكر عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحل سلف وبيع، ولا شرطان في بيع، ولا ربح ما لم تضمن، ولا بيع ما ليس عندك». “
وفی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: (9 /34 ،علوم اسلامیہ )
” فإذا هلك المبيع كله قبل التسليم بآفة سماوية، فإنه يهلك على ضمان البائع، لحديث: نهى عن ربح ما لم يضمن . “
وفی د رر الحکام شرح مجلۃ الاحکام: (1 /275 ،المکتبہ العربیہ-کوئٹہ )
(المادة 293) المبيع إذا هلك في يد البائع قبل أن يقبضه المشتري يكون من مال البائع ولا شيء على المشتري. وكذلك إذا تلف المبيع في يد من سلم إليه المبيع باتفاق الطرفين ليحفظه إلى أداء الثمن فلا يترتب شيء على المشتري بل ينفسخ البيع ويعود الضرر والخسارة على البائع ۔۔۔ لان المبیع مالم یسلم الی المشتری فھو فی ضمان البائع .

 

وکذافی شرح المجلۃ: ( 1/223الی 225 ،رشیدیہ-کوئٹہ )
وکذا فی الشامیہ: (7 /103 ،دارالمعرفہ )
وکذافی فقہ البیوع: (2 /1202 ،مکتبہ معارف القرآن )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : ( 4/102 ،الطارق )
وکذافی الخانیہ علی ھامش الھندیہ: (2 /157 ،رشیدیہ-کوئٹہ )
وکذا فی الفتا وی الھندیہ: (3 /19 ،رشیدیہ-کوئٹہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24-07-1440، 2019-04-1
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :97

عید الاضحی سےتقریبا آٹھ، نو مہینے پہلے جانور کو خرید لیا جاتا ہے، اس نیت سے کہ عید الاضحی کے موقع پر اس کو بیچ دوں گا اور اس شخص کی ہر سال یہی ترتیب ہے، یا اسی طرح اپنے گھر کی بکریوں میں یہ نیت کی جاتی ہے کہ جب ضرورت پڑے گی ان کو بیچ دوں گا، چناچہ ان میں کچھ بکرے یا بکریاں، عید الاضحی کے موقع پر بیچی بھی جاتی ہیں۔ان کے بارے میں زکاۃ کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

گھر کی پالتو بکریوں میں تو زکاۃ نہیں۔البتہ جو بکریاں بیچنے کے لیے خریدی جاتی ہیں، اگر ان کا مالک صاحب نصاب ہو (خواہ پہلے سے یا بکریاں خریدنے کے بعد)تو ان پر زکاۃ آئے گی ورنہ نہیں۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار: (1 / 397،رشیدیہ )
” (قولہ ولو للتجارۃ)ای لو اسامھا بقصد التجارۃ ففیھا زکاۃ التجارۃ ای الذھب والفضۃ ولایعتبر عددھا بل تجب زکاتھا وان کانت علوفۃ کما یاتی . “
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 1/ 361، الطارق)
فلو اشتری مواشی للتجارۃ ثم جعلھا سائمۃ اعتبر اول الحول من وقت جعلھا للسوم، ولو باعھا قبل انتھاء الحول بدراھم او ماشیۃ ضم الثمن الی جنسہ، فیضم الدراھم الی الدراھم، والماشیۃ الی الماشیۃ
وکذافی الشامیہ: (3 /235و245 ، دار المعرفہ)
وکذا فی الھدایہ مع فتح القدیر: (2 / 225الی 230، رشیدیہ)
وکذافی مراقی الفلاح مع حاشیہ الطحطاوی: ( 717 ، قدیمی)
وکذا فی الھندیہ: (1 / 179،رشیدیہ )
وکذافی المحیط البرھانی: (3 / 165، دار احیاء التراث)
وکذا فی المبسوط: ( 2/190 ،دار المعرفہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27-06-1440، 2019-03-05
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :94

ایک روایت ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنھم جب آپس میں ملتے تھے تو اس وقت تک جدا نہیں ہوتے تھے جب تک سورۃ العصر ایک دوسرے کو نہ سنالیں۔کیا یہ کہیں ثابت ہے،اگر ہے تو صحیح ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ روایت صحیح اور ثابت ہے۔

لما فی مجمع الزوائد للھیثمی: (10 / 289،دار الکتب العلمیہ )
– عن أبي مدينة الدارمي – وكانت له صحبة – قال: كان الرجلان من أصحاب النبي – صلى الله عليه وسلم – إذا التقيا لم يتفرقا حتى يقرأ أحدهما على الآخر: {والعصر – إن الإنسان لفي خسر}
رواه الطبراني في الأوسط، ورجاله رجال الصحيح .
وفی المعجم الاوسط للطبرانی: ( 6/58 ، مکتبہ المعارف،الریاض)
حدثنا محمد بن هشام المستملي ۔۔۔عن أبي مدينة الدارمي، وكانت له صحبة قال: كان الرجلان من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إذا التقيا لم يفترقا حتى يقرأ أحدهما على الآخر: {والعصر إن الإنسان لفي خسر} ثم يسلم أحدهما على الآخر
وفی شعب الایمان: (6 / 501،دار الکتب العلمیہ )
أخبرنا أبو طاهر الفقيه، قال: أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان، قال: نا إبراهيم بن الحارث البغدادي، قال: نا يحيى بن أبي بكير، قال: نا حماد بن سلمة، قال: أنا ثابت البناني، عن الدارمي، قال:  كان الرجلان من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إذا التقيا، وأرادا أن يتفرقا، قرأ أحدهم سورة: والعصر إن الإنسان لفي خسر، ثم سلم أحدهما على الآخر أو على صاحبه ثم تفرقا
وکذافی روح المعانی: (30 / 227،دار احیاء التراث ) وکذافی تھذیب التھذیب: ( 2/ 198، دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی تفسیر القرآن العظیم: ( 4/ 585،دار المعرفہ ) وکذا فی مقدمہ اعلاء السنن:(1/33،ادارۃ القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23-06-1440، 2019-03-01
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:93

میں کہ ایک شخص نے سحری کی اور پھر نسوار منہ میں رکھ کر سو گیا اور اذان کے بعد اس کو جاگ آئی اور نسوار نکال دی تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

نسوار کے ذرات پیٹ میں جانے کا ظن غالب ہو تو قضاء واجب ہو گی ورنہ نہیں ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3 /1720، رشیدیہ)
“ويفطر بتناول الدخان المعروف ونحوه كالتمباك والنشوق، وبوصول شيء إلى باطن الدماغ، والبطن، والأمعاء، والمثانة۔”
وکذافی المحیط البرھانی:(3 /349،دار احیاءالتراث)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/203، رشیدیہ )
وکذ افی البحر الرائق :(2 /477،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (3/382، فاروقیہ)
وکذا فی حا شیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق:(1/325،امدادیہ)
وکذا فی المبسوط:(3/93،دار المعرفہ)
وکذا فی الشامیہ:(3/422، دار المعرفہ)
وکذا فی کتاب التجنیس و المزید:(2/378،ادارۃ القرآن)
وکذا فی التنویر وشرحہ مع رد المحتار:(2/401و406،ایچ ۔ ایم ۔سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
6/5/1440
13/1/2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر :89

بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا کہ “میں نے تجھے چھوڑ دیا تجھے طلاق ہے” اور اب وہ شخص کہتا ہے کہ میں نے صرف یہ کہا تھا ” تجھے طلاق ہے ” اور بیوی کہتی ہے کہ تو نے دونوں الفاظ کہے تھے کہ ” میں نے تجھے چھوڑ دیا ہے تجھے طلاق ہے” ۔اب سوال یہ ہے کہ میاں اور بیوی میں سے کس کا قول معتبر ہے ؟ اور اگر بیوی کا قول معتبر ہے تو کون سی طلاق واقع ہو گی ۔جواب جلد عنایت فرمائیں ،نوازش ہو گی ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ میں اگر بیوی اپنے دعوے پر گواہ پیش کردے تو اس پر دو بائنہ طلاقیں واقع ہو ں گی اور اگر وہ گواہ پیش نہ کر سکے تو شوہر کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہوگا اور اس صورت میں ایک طلاق رجعی ہو گی ، اور اگر شوہر قسم کھانے سے انکار کرے تو پھر بیوی ہی کی بات معتبر ہو گی۔

لما فی سنن دار قطنی:(المجلد الثانی-4/34،دار الکتب العلمیہ)
نا أبو بكر النيسابوري ۔۔۔۔۔ عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((إذا ادعت المرأة طلاق زوجها فجاءت على ذلك بشاهد عدل،استحلف زوجها،فإن حلف بطلت شهادة الشاهد , وإن نكل فنكوله بمنزلة شاهد آخر،وجاز طلاقه))”۔
وکذا فی الفتاوی العالمکیریة:(4 /3، رشیدیة)
وکذا فی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار:(2 /136رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2 /170و190،الطارق)
وکذا فی الجوھرۃالنیرۃ:(2 /498،497و499،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(3 /524، رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9 /6985، رشیدیة)
وک‍ذا فی بدائع الصنائع:(5 /336و345،344، رشیدیة)
وکذا فی الھدایۃ مع فتح القدیر:(8 /159و163،162، رشیدیة)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
6/5/1440
13/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :88