ایک لڑکی جو کہ بالغ تھی اس کو اس کی رضا مندی کے بغیر اغواء کر کے اوکاڑہ میں لے جا کر زبردستی ڈرا دھمکا کر گن پوائنٹ پر نکاح کیا گیا۔ لڑکی سے دستخط بھی کروائے گئے اور منہ سے اقراربھی کروایا گیا، زبردستی اس کے پیٹ پر گن رکھ کے۔کیا اس صورت میں نکاح ہو گیا ہے یا نہیں ہوا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر لڑکے والے مالداری، دینداری، برادری اور پیشے وغیرہ میں لڑکی والوں کے ہم پلہ ہیں پھر تو یہ نکاح منعقد ہو گیا ہے اور اگر ان چیزوں میں وہ ہم پلہ نہیں تو پھر یہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا۔

لما فی الفتاوی الھندیہ: ( 5/53 ،ر شیدیہ)
” والمرأة إذا أكرهت على النكاح ففعلت صح النكاح ولا ترجع على المكره . “
وفی التنویر و شرحہ مع الشامیہ: (3 /56 ، ایچ -ایم-سعید)
(ويفتى) في غير الكفء(بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان)۔وفی “الشامیہ “(قوله بعدم جوازه أصلا) هذه رواية الحسن عن أبي حنيفة، وهذا إذا كان لها ولي لم يرض به قبل العقد، فلا يفيد الرضا بعده بحر
وفی الموسوعہ الفقیہ الکویتیہ: (41 / 249 ،علوم اسلامیہ )
والرواية الثانية: عن أبي حنيفة هي رواية الحسن عنه أنه إن عقدت مع كفء جاز ومع غيره لا يصح، واختيرت للفتوى.
وکذا فی البحرا لرائق : (8 /136 ،رشیدیہ )
وکذا فی الجوھرۃ النیرۃ: (2 / 355، قدیمی)
وکذا فی المبسوط: (24 / 64، دار المعرفہ)
وکذا فی الھدایہ مع فتح القدیر: (3 / 283 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6573،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15-0-1440، 2019-03-23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :51

نفاس میں اگر کوئی تین طلاق دے دے تو یہ طلاق بدعت شمار ہوگی یا نہیں

الجواب حامداً ومصلیاً

جی یہ طلاق بدعت ہوگی۔

لما فی الشامیہ: (4 / 426 ،دار المعرفہ )
” (قوله والنفاس كالحيض) قال في البحر، ولما كان المنع من الطلاق في الحيض لتطويل العدة عليها كان النفاس مثله كما في الجوهرة. “
وفی الموسوعہ الفقھیہ: (29 / 34،علوم اسلامیہ )
وما سوی ذلک فبدعی عندھم، کان یطلقھا مرتین او ثلاثا فی طھر واحد معا او متفرقات، او یطلقھا فی الحیض او النفاس .
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (9 / 6951، رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر: (3 /449 ،رشیدیہ )
وکذافی الجوھرۃ النیرۃ: (2 /100 ،حقانیہ)
وکذافی بدائع الصنائع : ( 3/153 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی الھندیہ: ( 1/349 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5-09-1440، 2019-05-11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :44

ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپے سے زائد رقم رکھوانے پرجو فری منٹ ملتے ہیں وہ تو سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ہیں۔ لیکن اگر کسی نے اپنی سہولت کے لیے اس غرض سے اکاؤنٹ کھلوایا ہے کہ بوقت ضروررت ایزی لوڈ اور بل وغیرہ ادا کر سکوں اور ایک ہزار روپے سے کم رقم رکھتا ہے تاکہ فری منٹ نہ ملیں۔ اب ایک شخص امانت کے طور پر اس شخص کے اکاؤنٹ میں ایک ہزار سے زائد رقم رکھوا دیتاہے یا اکاؤنٹ ہولڈر نے کسی سے رقم لینی تھی اور وہ رقم اکاؤنٹ میں بھیج دیتا ہے ۔ تو اب اس کے لیے وہ دیے جانے والے منٹ استعمال کرنا کیسا ہے؟ جبکہ اس نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی ہوئی ہے کہ میری رقم ایک ہزار سے زائد نہ ہو نے پائے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اکاؤنٹ میں رقم ہونے پر ملنے والے منٹس سود ہیں، ان کا استعمال بہر حال حرام ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (6 / 4429 ، رشیدیہ)
اتفق الأئمة على تحريم ما فيه شبهة الربا، فكل قرض جر نفعاً فهو ربا حرام، وعملاً بمبدأ سد الذرائع المتفق عليه بين الأئمة، وإن اختلفوا في مداه وتطبيقاته.
وکذا فی الشامیہ: (7 /413 ،دار المعرفہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (4 /229 ،الطارق )
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ : (22 /57 ،علوم اسلامیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع : (4 /400 ،رشیدیہ )
وکذا فی الصحیح للامام مسلم : ( 2/27 ،قدیمی )
وکذا فی تبیین الحقائق: (4 /85 ، امدادیہ-،ملتان)
وکذا فی الفتاوی الھندیہ: ( 3/117 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3-09-1440، 2019-05-9
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :43

روزے کی حالت میں کان یا آنکھ میں دوا ڈالنے کا کیا حکم ہے؟ یعنی اس سے روزہ باقی رہتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جبکہ کان میں دوا ڈالنے سے جدید تحقیق کے مطابق روزہ نہیں ٹوٹتا جیسا کہ درج ذیل عبارت سے معلوم ہوتا ہے۔

”جدید طبی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ کان سے حلق یا دماغ تک کوئی کھلا سوراخ نہیں کہ جس سے کان میں ڈالی گئی دوا یا تیل دماغ یا حلق میں پہنچ جائے اور قدیم فقہ کی کتابوں میں روزہ فاسد ہونے کی بنیاد یہی سمجھی گئی تھی، مگر اب جبکہ یہ معلوم ہوگیا کہ راستہ نہیں تو فسادِ صوم کا حکم بھی نہ ہوگا۔ ھکذا حقق الشیخ رشید احمد رحمہ اللہ تعالیٰ ومشایخ دارالعلوم کراتشی وبہ أفتوا، واﷲ اعلم۔

حاشیہ تسھیل بہشتی زیور:1/436، الحجاز

وفی الفتاوی الھندیہ: (1 /203 ،رشیدیہ )
ولو أقطر شيئا من الدواء في عينه لا يفطر صومه عندنا، وإن وجد طعمه في حلقه، وإذا بزق فرأى أثر الكحل، ولونه في بزاقه عامة المشايخ على أنه لا يفسد صومه كذا في الذخيرة، وهو الأصح هكذا في التبيين
وفی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: ( 28/71 ،علوم اسلامیہ )
الاكتحال غير مكروه عند الحنفية والشافعية، بل أجازوه، ونصوا على أنه لا يفطر به الصائم ولو وجد طعمه في حلقه، قال النووي: لأن العين ليست بجوف، ولا منفذ منها إلى الحلق
وکذافی سنن ابی داؤد: ( 1/344 ،رحمانیہ ) وکذا فی تبیین االحقائق : (1 /323 ،امدادیہ-ملتان )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (3 /1710 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
یا دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10-08-1440، 2019-04-16
جلد نمبر :19 فتوی نمبر:32

کفار سے محبت بھی نہیں کرنی چاہیے جیسا کہ قرآن مجید میں ان سے دوستی کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور نفرت بھی انسانیت کے ناطے نہیں کرنی چاہیے۔ اب درمیان والی کونسی کیفیت ہو جس کو اپنایا جائے؟ اس کیفیت کی وضا حت کر دیں ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

کافروں سے ان کے کفر پر ہوتے ہوئے نہ تو دلی محبت و الفت ہونا چاہیے اور نہ ہی آدمی کے افعال ومعاملات سے ان کافروں کے ساتھ بغض و عداوت ظاہرہونا چاہیے بلکہ دل میں اس لیے رحم ہونا چاہیے کہ یہ بھی اللہ کی مخلوق ہے ، یہ جہنم کی آگ سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ اس وجہ سے ان کے ساتھ معاملات کو نرم رکھنا چاہیے، اس سلسلہ کی بہترین تقریر و تحریر حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ “معارف القرآن” میں فرماتے ہیں:
”دو شخصوں یا دو جماعتوں میں تعلقات کے مختلف درجات ہوتے ہیں، ایک درجہ تعلق کا قلبی موالات یا دلی مودّت و محبت ہے، یہ صرف مومنین کے ساتھ مخصوص ہے غیر مومن کے ساتھ مومن کا یہ تعلق کسی حال میں قطعا جائز نہیں۔ دوسرا درجہ مواسات کا ہے جس کے معنی ہیں ہمدردی و خیر خواہی اور نفع رسانی کے، یہ بجز کفار اہل حرب کے جو مسلمانوں سے برسر پیکار ہیں باقی سب غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے۔۔۔ تیسرا درجہ مدارات کا ہے جس کے معنی ہیں ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتاؤ کے، یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے، جبکہ اس سے مقصود ان کو دینی نفع پہنچانا ہو یا وہ اپنے مہمان ہوں، یا ان کے شر اور ضرر رسانی سے اپنے آپ کو بچانا مقصود ہو۔۔۔چوتھا درجہ معاملات کا ہے کہ ان سے تجارت یا اجرت و ملازمت اور صنعت و حرفت کے معاملات کئے جائیں، یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے۔

(معارف القرآن : 2/51،50 ، ادارۃ المعارف،کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10-08-1440، 2019-04-16
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :31

ایک آدمی کی منگنی ہوئی، اس کی منگیتر نے اس(لڑکے ) کے دوست کو اپنے نکاح کا وکیل بنایا کہ آپ میرا نکاح میرے منگیتر سے کر دیں، اس وکیل نے دو گواہوں کی موجودگی میں ان کا نکاح کر دیا، لیکن اس نکاح کا لڑکے اور لڑکی کے گھر والوں کو پتا نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ خفیہ نکاح منعقد ہوا یا نہیں؟ اگر نکاح صحیح ہوا تو اب یہ لڑکا اس لڑکی کو خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دینا چاہے تو کون سی ایسی طلاق دے جس سے وہ لڑکی بائنہ ہو جائے اور اگر دوبارہ اس سے نکاح کرنا چاہے تو نکاح کی بھی گنجائش رہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر یہ لڑکا ، لڑکی کا کفوء(مالداری، دینداری اور پیشے وغیرہ میں برابر ) نہیں ہے پھر تو یہ نکاح ہوا ہی نہیں۔ اور اگر کفوء ہے تو پھر یہ نکاح تو ہو گیا ہے لیکن اس طرح کا خفیہ معاملہ بہت نا مناسب حرکت ہے، خاص طور پر معزز گھرانوں کے لیے بہت عار کا سبب ہے۔ شریف لوگوں کو ایسی حرکت کسی صورت زیبا نہیں۔

نکاح منعقد ہونے کی صورت میں یہ لڑکا اسے طلاق کی نیت سے ان میں سے کو ئی جملہ ایک مرتبہ کہہ دے، “میں تمہیں چھوڑتا ہوں” یا”تم مجھ سے فارغ ہو ” یا “تمہیں آزاد کرتا ہوں” تو طلاق بائنہ ہو جائے گی اور دوبارہ نکاح کی بھی گنجائش رہے گی۔

لما فی فتح القدیر: (3 /246 ،رشیدیہ )
 ورواية الحسن عنه إن عقدت مع كفء جاز ومع غيره لا يصح، واختيرت للفتوى لما ذكر أن كم من واقع لا يرفع وليس كل ولي يحسن المرافعة والخصومة ولا كل قاض يعدل، ولو أحسن الولي وعدل القاضي فقد يترك أنفة للتردد على أبواب الحكام
وفی بدائع الصنائع: ( 3/ 140 ،رشیدیہ )
أحسن الطلاق في ذوات القرء أن يطلقها طلقة واحدة رجعية في طهر لا جماع فيه۔۔۔ والأصل فيه ما روي عن إبراهيم النخعي – رحمه الله – أنه قال كان أصحاب رسول الله – صلى الله عليه وسلم – يستحسنون أن لا يطلقوا للسنة إلا واحدة ثم لا يطلقوا غير ذلك حتى تنقضي العدة
وفی النھر الفائق: (2 /202 ،قدیمی )
(نفذ نكاح حرة مكلفة بلا ولي) سواء تزوجت نفسها من كفؤ أو لا في ظاهر الرواية عن الإمام وصاحبيه، لأنها تصرفت في غالب حقها فصار كما إذا تصرفت في مالها وروى الحسن عن الإمام أنه إن كان كفؤًا نفذ وإلا لا وهو المختار في زماننا.
وکذافی الفتاوی الھندیہ: (1 /287 ،رشیدیہ )
وکذا فی الشامیہ: (3 /56،55 ،دارالمعرفہ )
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ: (29 /28 ،علوم اسلامیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (9 /6962 ،رشیدیہ )
وکذافی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار: (2 /112 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11-08-1440، 2019-04-17
جلد نمبر : 19 فتوی نمبر :29

ایک آدمی نے درزی کو سوٹ دیا سینے کے لیے، چند دن بعد وہ لینے گیا تو درزی سوٹ کا ہی منکر ہو گیا اور پھر بعد میں اس نے وہی سوٹ سلا سلایا لا کر اس شخص کو دے دیا ۔آیا اب وہ شرعا اس بات کا حق رکھتا ہے یا نہیں کہ اسے اس کی مزدوری دی جائے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر درزی نے انکار سے پہلے سوٹ سی دیا تھا تو وہ اجرت کا حق دار ہے ورنہ نہیں۔

لما فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ : ( 2/338 ،رشیدیہ )
القصار اذا انکر ان یکون عندہ ثوب ھذاالرجل ثم اقر وقد قصرہ قالوا ان قصرہ قبل الجحود کان لہ الاجر وان قصرہ بعد الجحود لا اجر لہ لانہ لما جحد صار غاصبا فتبطل الاجارۃ فاذا قصر بعد ذلک فقد قصر بغیر عقد فلا یستوجب الاجر
وفی الاشباہ والنظائر مع شرح الحموی: (3 /366،365 ،ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ )
الأولى: قصار جحد الثوب وجاء به مقصورا، هل يستحق الأجر أم لا؟ فأجاب أبو يوسف رحمه الله: يستحق الأجر.فقال له الرجل: أخطأت ،فقال: لا يستحق ،فقال: أخطأت، ثم قال له الرجل: إن كانت القصارة قبل الجحود استحق، وإلا لا
وکذافی درر الحکام: (1 /708 ،المکتبہ العربیہ )
وکذا فی التنویر و شرحہ مع ر د المحتار : (9 /299،298 ،دار المعرفہ )
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ : ( 1/298 ،علوم اسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3-08-1440، 2019-04-9
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :21

گر کسی نے سفر شروع کرنا ہے اور اپنی سواری ہے، تو کیا وہ مثل ثانی میں نماز عصر ادا کرسکتا ہے؟اگر ادا کرلی تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عصر کی نماز دو مثل کے بعد ادا کی جائے، عام حالات میں اسی پر عمل کر نے میں احتیاط ہے اور یہی مفتی بہ قول ہے۔ لیکن دوسرا قول یہ بھی ہے کہ عصر کا وقت ایک مثل کے بعد شروع ہوجا تا ہے۔ اگر کوئی شخص سفر یا مرض کی وجہ سے یا باجماعت نماز کے حصول کے لیے اس قول پر عمل کر لے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

لما فی الفتاوی الھندیہ : ( 1/51 ،رشیدیہ )
“قالوا الاحتياط أن يصلي الظهر قبل صيرورة الظل مثله ويصلي العصر حين يصير مثليه ليكون الصلاتان في وقتيهما بيقين . “
وفی فیض الباری: (2 /132 ،رشیدیہ )
“فتحصل أنه صلى الظهر تارة في المثل وهو وقتها المختص وتارة في المثل الثاني وهو الوقت الصالح لها، وكذلك صلى العصر تارة بعد المثل الأول، وهو وقت صالح لها أيضا، وصلاها تارة بعد المثل الثاني قبل نهاية المثل الثالث، وهو الوقت المختص بها مع إبقاء الفاصلة بين الصلاتين في اليومين، وهذا عين مذهبنا ولله الحمد أولا وآخرا
وکذافی الشامیہ: ( 2/19 ،دار المعرفہ )
وکذا فی البحر الرائق: (1 /425 ،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: (1 /317 ،رشیدیہ )
وکذا فی شرح النقایہ لعلی القاری رحمہ اللہ: (1 /177 ،ایچ-ایم-سعید )
وکذافی ملتقی الابحر: (1 /104 ،المنار-کوئٹہ )
وکذا فی المبسوط : (1 /143 ،دار المعرفہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8-08-1440، 2019-04-14
جلد نمبر : 19 فتوی نمبر :20

 

بعض لوگ نظر بد سے بچنے کے لیے مکان پر کالا برتن رکھ دیتے ہیں، اسی طرح ٹریکٹر وغیرہ پر پرانا جوتا لٹکا دیتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟ نظر بد سے بچنے کی کوئی تدبیر حدیث میں مذکور ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح کا ٹوٹکا لوگ عموما ایسی چیزوں کو نظر بد سے بچانے میں واقعی مؤثر سمجھ کر اختیار کرتے ہیں، جو کہ سراسر بد اعتقادی اور ناجائز ہے۔ البتہ اس کو محض تدبیر سمجھ کر اور اللہ تعالی کی ذات کو مؤثر حقیقی جانتے ہوئے اختیار کیا جا سکتا ہے ، جس طرح بیماری کے لیے دوا استعمال کی جاتی ہے۔ جیسےآپﷺ نے کھیتی کو نظر بد سے بچانے کے لیے اس میں جا نوروں کی کھوپڑیاں لٹکانے کا حکم دیا۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نظر بد کے علاج کے طور پر ایک بچے کی ٹھوڑی پر کالک لگانے کا حکم دیا ، لیکن لوگوں کو بد اعتقادی سے بچانے کے لیے احتیاط بہتر ہے۔

البتہ نظر بد سے بچنے کے لیے احادیث مبارکہ میں اذکار بھی مو جود ہیں مثلا: اس دعا کا پڑھنا ” أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ.” اور صبح وشام تین تین مرتبہ سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کا اہتمام کرنا اور کسی اچھی چیز کو دیکھ کر برکت کی دعا دینا ۔

لما فی السنن الکبری للبیھقی: ( 6/ 228، دار الکتب العلمیہ)
” أخبرنا أبو حازم الحافظ ۔۔۔عن عمر بن علي بن حسين , أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر بتلك الجماجم تجعل في الزرع من أجل العين . “
وفی کنزالعمال: ( 4/ 15 ،رحمانیہ )
“احرثوا فان الحرث مبارک واکثروافیہ من الجماجم۔(د فی مراسیلہ عن علی بن الحسین). “
وفی مرقاۃ المفاتیح: (8 /305 ،المکتبہ التجاریہ )
 وفي شرح السنة: روي أن عثمان – رضي الله عنه – رأى صبيا مليحا فقال: دسموا نونته كيلا تصيبه العين، ومعنى دسموا: سودوا، والنونة النقرة التي تكون في ذقن الصبي الصغير
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 5/370 ،الطارق )
” ولھذا قال الفقہاء: لا باس بوضع الجماجم بالزرع والمبطخۃ-الارض التی زرع فیھا البطیخ- لدفع ضرر العین
وکذافی الشامیہ: (9 /601 ،دار المعرفہ )
وکذا فی عمل الیوم واللیلۃ للنسائی : (291 ،دار الباز )
وکذافی روح المعانی : (30 /279 ،دار احیاءالتراث )
وکذا فی تفسیر ابن کثیر : (4 /613 ،دار المعرفہ )
وکذافی سنن ابن ماجہ : ( 385 ،رحمانیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2-08-1440، 2019-04-8
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :2

اگر امام نماز میں( ح )کو (خ )پڑھتا ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ایسا امام اگر صحیح پڑھنے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کی نماز درست نہیں اور اگر انتہائی کوشش کے باوجود صحیح نہیں پڑھ سکتا (قریب سے سننے والے کو بھی صحیح سمجھ نہیں آتی )تو اس کی اپنی نماز تو درست ہو گی ،لیکن امام نہیں بن سکتا۔

لما فی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح:(289،قدیمی)
“(واللثغ)۔۔۔۔۔لا یکون اماما لغیرہ واذالم یجد فی القرآن شیئا خالیا عن لثغۃ عجز عن اصلا ح لسانہ آناء الیل واطراف النھار فصلاتہ جائز لنفسہ واذاترک الصحیح والجہد فصلاتہ فاسدۃ
وفی المحیط البرھانی:(2/66،65،دار احیاء)
لا ينبغي له أن يؤم إلا لمن كان حاله مثل حاله، لأنه إذا كان لا يقدر على التكلم ببعض الحروف كان في حق تلك الحروف…..، ولا تجوز إمامة الأمي للقارىء، ويجوز لمن كان بمثل حاله۔۔۔۔والمختار للفتوى في جنس هذه المسائل: أن هذا الرجل إن كان يجهد آناء الليل والنهار في تصحيح هذه الحروف، ولا يقدر على تصحيحها، فصلاته جائزة؛ لأنه جاهد، وإن ترك جهده، فصلاته فاسدة
وکذا فی المبسوط :(1 181/،دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:( 2/93،فاروقیۃ)
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1 79/،رشیدیۃ)
وکذافی الدرالمختار مع رد المحتار:( 1/396،رشیدیۃ)
وکذافی التجنیس والمزید :(1/480،ادارۃ القرآن)
وکذا فی خلاصۃ الفتاوی :(1/110،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
10/9/1440،2019/5/16
جلد نمبر :19 فتوی نمبر:45