میں ایک سرکاری ملازم ہو ں ۔میں نے پہلی شادی 1991میں کی جس میں سے میری تین بیٹیاں ہیں،جبکہ دوسری شادی 2007میں کی جس میں سے ایک بیٹا ہے ۔میری تینوں بیٹیوں میں سے دو بیٹیاں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں ،تیسری بیٹی کی شادی تقریبا 4سال قبل کر دی لیکن اسے طلاق ہو گئی ۔اس کے پاس ایک بیٹا ہے ۔میری پہلی بیوی ٹیچر تھی ،وہ پنشن تقریبا 75500وصول کر رہی ہے ۔دوسری بیوی بھی پرائیویٹ سکول میں ٹیچر ہے ۔تنخواہ کا پتا نہیں ۔بیٹےکی عمر 10سال ہے ،جبکہ بیٹیوں کی عمر 20،25،27سال ہے ۔میری تنخواہ تقریبا 91500ماہوارہے دیگر ذرائع آمدنی نہیں ہے ۔دوسری بیوی سے صلح بذریعہ عدالت مورخہ 2014۔06۔02کو ہوئی ۔عدالت نے 7000ماہوار خرچ مقرر کیا تھا ۔میری پہلی بیوی، بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں لاہور میں رہائش پذیر ہے ،جبکہ دوسری بیوی اپنے میکےپاک پتن میں رہتی ہے اور دیپالپور نہیں آتی ۔میں اکیلا دیپالپور میں رہتا ہوں ،کیونکہ میری نوکری دیپالپورمیں ہے ۔آپ سے گذارش ہے کہ مجھے آپ کی رہنمائی چاہیے کہ میں اپنی دونوں ازواج کو کیا خرچہ دوں ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

پہلی بیوی کو اتنا خرچ دیں جس سے وہ اپنی جائز ذاتی ضروریات پوری کر سکے ۔ بیٹے اور کنواری بیٹیو ں کا تعلیمی،علاج و معالجہ اور خوراک وغیرہ کا خرچ آپ پر ہے ۔اور طلاق یافتہ بیٹی کا کوئی ذریعہ آمدن نہ ہو تو اس کا خرچ بھی آپ پر ہے ۔
دوسری بیوی کو عدالت کا مقررکیا ہو اخرچ دیں ۔وہ اگر کسی عذر یا آپ کی رضا مندی سے میکے رہ رہی ہے تو اس کا خرچ بھی آپ پر ہے، ورنہ نہیں ۔

لما فی الفتا وی التاتارخانیۃ:(13/358،فاروقیۃ)
تجب علی الرجل نفقۃ امراتہ المسلۃ والذمیۃ والفقیرۃ والغنیۃ دخل بھااو لم یدخل بھا ۔والنقۃ الواجبۃ :الماکول والملبوس، والسکنی ۔۔۔۔۔وفی جامع الجوامع :والنفقۃ الواجبۃ :الاکل والشرب، واللبس ،والسکنی والرضاع وکذا خادم تحتاج الیہ.
و فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/237،الطارق)
“و تقدر النفقۃ بحال الزوج والزوجۃ ، فان کان موسرین فتجب نفقۃ الیسار .”
وفیہ ایضاً:
ان للمراۃ ان تنفق من مال زوجھا علی نفسھا وعیالہ بدون اذنہ بالمعروف ، ففی الحدیث عن عائشۃ رضی اللہ عنھا ان ھذا بنت عتبۃ قالت :یا رسول اللہ ان ابا سفیان رجل شحیح ۔۔۔۔فقال رسول اللہ ﷺ خذی ما یکفیک وولدک بالمعروف.”
و فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/238،الطارق)
وھل تسقط نفقتھا اذا عملت خارج منزل زوجھا؟الظاھر انھا اذاعملت
باذن زوجھالاتسقط نفقتھا.
وکذافی بدائع الصنائع:( 3/431، رشیدیۃ)
وکذافی التنویر وشرحہ:(5/286،رشیدیۃ)
وکذا فی الشامیۃ:(5/314،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(4/297،رشیدیۃ)
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ :(41/50،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1 545/،رشیدیۃ)
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1 565/،رشیدیۃ)
وکذافی الدرالمختار مع رد المحتار:( 3/627،سعید)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
12/8/1440،2019/4/18
جلد نمبر : 19فتوی نمبر :39

موجودہ دور میں کوئی کوئی آدمی خاندان میں اللہ پاک کے سب احکام پر عمل کی کوشش کرتا ہے ورنہ سب خاندان والےاللہ کے احکام پر عمل کرنے والے کو انتہا پسند ،دقیانوس ،پاگل وغیرہ کے القابات سے نوازتے ہیں۔ آپ سے سوال ہے کہ اللہ پاک کے احکام پر عمل کرنے کے لیے ایسے قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلق ہو جائےتو کیا درست ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

قرآن وحدیث میں صلہ رحمی کی بہت تاکید ہے ،لہذا قطع تعلق درست نہیں ۔البتہ ایسے رشتہ داروں کو پیار محبت سے سمجھایا جائے ،اگر باز نہ آئیں تو میل جول کم کر دیا جائے ۔اور احکام اسلام پر اس طرح عمل کیا جائے کہ آپ کے عمل کو دیکھ کر دوسرے لوگوں میں نیکی کا شوق اور رغبت پید اہو ۔

لما فی جامع الترمذی :(2/456،رحمانیۃ)
“عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم: ”الراحمون يرحمهم الرحمن،ارحموا من في الأرض يرحمكم من في السماء، الرحم شجنة من الرحمن،فمن وصلها وصله الله ومن قطعها قطعه الله“ “هذا حديث حسن صحيح.”
وفی سنن ابی داؤد :(2/331،رحمانیۃ)
“عن ابی ھریرۃ قال قال رسولﷺ لا یحل لمسلم ان یھجر اخاہ فوق ثلث فمن ھجر فوق ثلث فمات دخل النار .”
وفی ھامش علی سنن ابی داؤد :(2/331،رحمانیۃ)
“ومن خاف من مکالمہ احد واصلہ ما یفسد علیہ واللہ او یدخل مضرۃ فی دنیاہ یجوز لہ مجانبتہ والبعدعنہ .”
وکذافی الجامع البیان فی تفسیرالقرآن للطبری:(14/109،دارالمعرفۃ)
وکذافی جامع الترمذی :(2/455،رحمانیۃ)
وکذافی روح المعانی :(14/254،دار احیاء)
وکذافی تفسیر المظھری :(4/210،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
10/8/1440،2019/4/16
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :197

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد مستند مفتی سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا اس نے بتایا کہ آپ کی بیوی آپ پر حرام ہو چکی ہے ،پھر اس کے بعد ایک غیر مقلد مولوی سےمسئلہ پوچھ کر اپنے ساتھ بسا رہا ہے ، اب اس آدمی کے ساتھ معاملات کرنے کا کیا حکم ہے ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

یہ آدمی احکام شریعت کی خلاف ورزی کرنے والا ہے اور سخت گناہ گار ہے۔ ایسے شخص کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے، اگر بازنہ آئے تو اس سے قطع تعلق کیا جائے جب تک اس برے فعل سے توبہ نہ کرلے ۔

لمافی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:(3/147 ،دار احیاء)
“المراد بقولہ تعالی :(فان طلقھا )الطلقۃ الثالثۃ (فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ )۔وھذا مجمع علیہ لا خلاف فیہ.”
وفی بدائع الصنائع:( 3/155، رشیدیۃ)
أما الكتاب فقوله تعالى: {الطلاق مرتان} إلى قوله عز وجل: {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} والنص ورد في الحرة أخبر الله تعالى أن حل الحرة يزول بالثلاث من غير فصل بين ما إذا كانت تحت حر أو تحت عبد فيجب العمل بإطلاقه.”
وفی مرقات المفاتیح:(8/158،التجاریۃ)
“ولا یجوز فوقھا الااذا کان الھجران فی حق من حقوق اللہ ،فیجوز فوق ذالک ۔۔۔۔۔فان ھجرۃ اھل الھواء والبدع واجبۃ علی مر الاوقات مالم یظھر منہ التوبۃ والرجوع الی الحق.”
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ:( 32/145،علوم اسلامیۃ)
وکذافی فتح الباری:(10/609،قدیمی)
وکذافی بذل الجہود :(19/79،قدیمی)
وکذافی شرح الطیبی:(9/243،دارالکتب)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
29/7/1440،2019/4/6
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :150

ایک شخص نے ایک مولانا صاحب کو دس مرلے جگہ دی اس میں(4) چار مرلے اس کے گھر کےلیے اور(6) چھ مرلے مسجد کے لیے تھی اور جگہ مولانا صاحب کے نام کرادی۔ عرصہ پچیس سال گزرگئے لیکن وہ وہاں مسجد تعمیر نہ کر سکے اب وہاں بالکل قریب دوسری مسجد بن چکی ہے ،اس جگہ پر مزید مسجد کی ضرورت نہیں ہے ۔مولانا صاحب اس جگہ کو اپنے پاس رکھ لیں اور اس کی قیمت دوسری مسجد یا مدرسہ میں لگا دیں تو کیسا ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

چند سمجھدار، دین دار افراد کواعتماد میں لے کر مذکورہ جگہ کو بیچ دیا جائے اور جہاں ضرور ت ہو وہاں جگہ خرید لی جائے،اگر یہ ممکن نہ ہو تو حاصل شدہ قیمت کو کسی قریبی مسجد میں لگایا جا سکتا ہے ۔

لمافی الفتاوی الھندیۃ:(2 401/،رشیدیۃ)
“وقد اختلف كلام قاضي خان ففي موضع جوزه للقاضي بلا شرط الواقف حيث رأى المصلحة فيه، وفي موضع منعه منه ولو صارت الأرض بحال لا ينتفع بها والمعتمد أنه يجوزللقاضي بشرط أن يخرج عن الانتفاع بالكلية وأن لا يكون هناك ريع للوقف يعمر به وأن لا يكون البيع بغبن فاحش كذا في البحر الرائق.”
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:( 2/372،الطارق)
الاصل ان استبدال الوقف بغیرہ لا یجوز ۔۔۔۔۔لکن العلماء افتو ا بجوازہ لما فی من المصلحۃ بشروط : ان یخر ج الوقف عن الانتفاع بالکلیۃ ۔۔۔۔۔۔وان یستبدل بعقار لا بدراھم ودنانیر کی لا یاکلھا النظار المشرفون علی الوقف.”
وکذافی بدائع الصنائع:( 5/328، رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:( 5/345،رشیدیۃ)
وکذا فی الشامیۃ:( 1/592،رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(10/7675 ،رشیدیۃ)
وکذافی تبیین الحقائق:( 3/330،امدادیۃ)
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:8/156(،فاروقیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1440،2019/4/14
جلد نمبر :19فتوی نمبر:28

ایک آدمی نے عشاء کی دو سنتوں کی نیت کی اور تشہد پڑھ کر کھڑا ہو گیا اب اس کے لیے کیا حکم ہے ؟کہ واپس لوٹے یا چار مکمل کرے ،سجدہ سہو ایک صورت میں ہو گا یا دونوں صورتوں میں تفصیل مطلوب ہے ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ کے متعلق پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سنت مؤکدہ ہیں جو بحکم فرض ہوتی ہیں ۔دوسری بات یہ ہے کہ نمازی سہواتیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو اہے لہذا اس شخص کے لیے بہتر یہ تھا کہ تیسری رکعت کے سجدہ سے پہلے پہلے قعدہ کی طرف لوٹ آتا اور آخر میں سجدہ سہو کر لیتا ،لیکن اگر اس نے نماز جاری رکھی اور چار رکعت مکمل کرلیں تو بھی آخر میں سجدہ سہو لازم تھا، دونوں صورتوں میں اگر سجدہ سہو نہ کیا تو نماز واجب الاعادہ ہو گی۔

لما فی الفتاوی الھندیۃ:(1/126،رشیدیۃ)
“وحکم السہو فی الفرض والنفل سواء.”
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:( 1/282،الطارق)
وان قام الی الرکعۃ الزائدۃ ساھیا ،بعد ان قعد القعود الاخیر ،عاد للجلوس عند ما یتذکر ،مالم یسجد للرکعۃ الزائدۃ ،فان سجد لھا لم یبطل فرضہ ، لوجود الجلوس الاخیر ،ویضم للزائدۃ رکعۃ اخری ان شاء لتصیر الزائدتان لہ نافلۃ ،ویسجد للسہو فی الصورتین لتاخیر السلام فی الصورۃ الاولی ،ولترکہ فی الثانیۃ.
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:) 2/297،فاروقیۃ)
وکذافی تبیین الحقائق:( 1/174،امدادیۃ)
وکذا فی المحیط البرھانی:( 2/308،دار احیاء)
وکذافی ردالمحتار علی الدرالمختار:(1/664،دارالمعرفۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
10/9/1440،2019/5/16

جلد نمبر:18 فتوی نمبر :149

میں اور میری امی آپس میں جھگڑ رہے تھے زمین کے سلسلے میں ،اتنے میں میری بیوی آئی اور اس نے کوئی بات کی تو میں نے اس کو کہا کہ تم بھی چلی جاؤ اور امی بھی چلی جائے ،تو اس نے کہا کہ تم مجھے طلاق دے دو میں چلی جاؤں گی ،میں نےاسے ایک بار کہا کہ” تمہیں طلاق دی ،دفعہ ہو جاؤ “،میں نے ایک بار ہی کہا اس سے زیادہ نہیں کہا ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

سوال میں مذکورہ صورت حال میں بعض علماء کرام کے ہاں ”تمہیں طلاق دی “سے ایک طلاق واقع ہو جاتی ہے اور” دفعہ ہو جاؤ “سے دوسری طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس طرح ان کے نزدیک دو طلاق بائنہ واقع ہو جائیں گی ،جبکہ بعض دیگر علماء کرام کے نزدیک ایک ہی طلاق ہو گی اور دوسرا جملہ” دفعہ ہو جاؤ “پہلی طلا ق ہی کا ثمرہ اور نتیجہ بیان کرنے اور اس کو پختہ کرنے کے لیے ہے ۔ہمارا رجحان بھی اسی طرف ہے کہ اس صورت میں ایک طلاق ہو گی ،لیکن ”دفعہ ہوجاؤ “کی وجہ سے یہ بائنہ ہو جائے گی ۔اب اگر میاں بیوی چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں ۔

لمافی الدرالمختار مع رد المحتار:(4 /509،رشیدیۃ)
“فروع : کرر لفظ الطلاق وقع الکل ،وان نو ی التاکید دین ۔””قال الرافعی : قول الشارع : ( کرر لفظ الطلاق وقع الکل الخ ) قال افندی :اقول لک ان تقول :لم لا یجوز ان یکون من قبیل قولہ علیہ الصلاۃ والسلام: (فنکاحھا باطل باطل ) واحتمال کونھا جملا لا یجدی نفعا اذاالطلاق لا یثبت بالشک مع ان الحذف خلاف الاصل ،واللائق بحال المسلم ان لا یجمع الثلاث فی وقت ۔”
و فی الشامیۃ:(4 /447،رشیدیۃ)
“ففي البدائع أن الصريح نوعان: صريح رجعي، وصريح بائن ۔۔۔۔۔وأما الثاني فبخلافه، وهو أن يكون بحروف الإبانة بحروف الطلاق، لكن قبل الدخول حقيقة أو بعده، لكن مقرونا بعدد الثلاث نصا أو إشارة أو موصوفا بصفة تنبئ عن البينونة أو تدل عليها من غير حرف العطف، أو مشبها بعدد أو صفة تدل عليها۔”
وکذا فی الھندیۃ:(1 355/،رشیدیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:( 3/163، رشیدیۃ)
وکذا فی الھدایۃ مع فتح القدیر:(4/157،رشیدیۃ)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار :(2/130،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
3/7/1440،2019/3/11
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :38

بچہ کے کان میں اذان کس وقت دینی چاہیے ؟(2)اور اذان دیتے وقت بچہ کا رخ کس طرف کرنا چاہیے ؟(3)اور کیا بچہ کا نام اس کے کان میں بتانا چاہیے ؟(4)اور کیا اذان دیتے وقت بچے کی چھوٹی انگلی کو پکڑنا چاہیے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ولادت کےبعد جتنی جلدی ممکن ہو اذان دینی چاہیے ۔(2)اذان دینے والا جب قبلہ رخ کھڑا ہوکر بچہ کے دائیں کان میں اذان دے گا تو لازمی طور پر بچہ کا سر شمال کی جانب ،پاؤں جنوب کی جانب اور چہرہ آسمان کی جانب ہو گا ۔اور جب بائیں کان میں اقامت کہے گا تو بچہ کا سر جنوب کی جانب اورپاؤں شمال کی جانب ہوں گے ۔(3،4)ان کی کوئی اصل نہیں ۔

لما فی تقریرات الرافعی علی ھامش شامیۃ :(2/66،دارالمعرفۃ)
“قال الرافعی :قولہ :(حتی قالو ا فی الذی یؤذن للمولود ینبغی ان یحول )قال السندی:فیرفع المولود عند الولادۃ علی یدیہ مستقبل القبلۃ.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(4/2750 ،رشیدیۃ)
“يستحب للوالد أن يؤذِّن في أذن المولود اليمنى، وتقام الصلاة في اليسرى حين يولد، لما روى أبو رافع أن النبي صلّى الله عليه وسلم أذن في أذن الحسن، حين ولدته فاطمة ، ولخبر ابن السني عن الحسن بن علي مرفوعاً: «من ولد له مولود فأذن في أذنه اليمنى، وأقام في اليسرى۔۔۔۔ أول ما يقرع سمعه عند قدومه إلى الدنيا، كما يلقن عند خروجه منها، ولما فيه من طرد الشيطان عنه، فإنه يدبر عند سماع الأذان.”
وکذافی تحفۃ الاحوذی :(5/91،قدیمی)
وکذافی جامع الترمذی:(1/410،رحمانیۃ)
وکذا فی صحیح البخاری :(ٓ 2/336،رحمانیۃ)
وکذافی بذل الجہود :(13/50،قدیمی)
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ :(2/373،علوم اسلامیۃ)
وکذافی فتح الباری:(9/740،قدیمی)
وکذافی سنن ابی داود :(2 /44،رحمانیۃ)
وکذافی مجمع الزوائد :(4/65،دار الکتب )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
10/9/1440،2019/5/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:40

بعض لوگ کولڈ سٹور میں آلو رکھواتے ہیں اس شرط پر کہ فی بوری 400روپے ہم دیں گے ،لیکن اگر ریٹ کم ہو گیا مثلا 300یا200فی بوری تو پھر ہم کرایہ نہیں دیں گے بلکہ جو آپ سے آلو اٹھائے یا جس کو آپ دیں اس سے کرایہ لے لیں آپ کو اختیار ہے کرایہ کم لیں یا زیادہ کیایہ معاملہ درست ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ معاملہ درست نہیں ۔

لمافی بدائع الصنائع:(4 /48، رشیدیۃ)
“ولو استأجر دارا بأجرة معلومة وشرط الآجر تطيين الدار ومرمتها أو تعليق باب عليها أو إدخال جذع في سقفها على المستأجر فالإجارة فاسدة؛ لأن المشروط يصير أجرة وهو مجهول فتصير الأجرة مجهولة”۔
و فی الھدایۃ:(3 /303،رحمانیۃ)
الاجارۃ تفسد ھا الشروط کما تفسد البیع لانہ بمنزلتہ ۔۔۔۔۔۔والواجب فی الاجارۃ الفاسدۃ اجر المثل لا یجاوز بہ المسمی
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:( 3/384،الطارق)
وکذا فی البحر الرائق:7/530(رشیدیۃ)
وکذا فی الھندیۃ:(4 442/،رشیدیۃ)
وکذافی الدرالمختار مع رد المحتار:(9 /77،رشیدیۃ)
وکذافی دررالحکام :(1/503،العربیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
23/7/1440،2019/4/1
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:103

مادہ منویہ کو ٹیسٹ کرانے کے لیے اس کے اخراج کی صورتوں میں سے ایک جلق لگانا (مشت زنی )بھی ہے تو کیا اس صورت میں جلق لگایا جا سکتاہے ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

مشت زنی حرام فعل ہے ،لہذا بیوی سے جماع کے وقت منی کو محفوظ کر لیا جائے لیکن اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو اور جلق ہی ضروری ہو تو اس کی گنجائش ہے ۔

لمافی الشامیۃ:( 1/27،رشیدیۃ)
” (قولہ الاستمناء حرام )ای با لکف اذاکان لاستجلاب الشہوۃ.”
و فی الفتاوی الھندیۃ:(5 355/،رشیدیۃ)
“یجوز للعلیل شرب الدم والبول واکل المیتۃ للتداوی اذا اخبرہ طبیب مسلم ان شفاءہ فیہ ولم یجد من المباح مایقوم مقامہ .”
وکذافی التنویر وشرحہ:(4 /27،رشیدیۃ)
وکذا فی المحیط البرھانی:( 8/82،دار احیاء)
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ: (18/200،فاروقیۃ)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:(12/105 ،دار احیاء)
وکذا فی تفسیر المظھری :(5/93،رشیدۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1440،2019/4/14
جلدنمبر:19 فتوی نمبر:3

ایک شخص کا پیدائشی ایک ہاتھ کلائی تک ہے یعنی ہتھیلی اور انگلیاں نہیں ہیں کیایہ امام بن سکتا ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ شخص کاامام بننا مکروہ ہے ،لیکن اگر یہ شخص شرائط امامت کے اعتبار سے دوسروں سے بہتر ہو تو مکروہ نہیں ۔

لمافی الدرالمختار مع رد المحتار :(1/562،سعید)
وكذا تكره خلف أمرد وسفيه ومفلوج، وأبرص شاع برصه
“(قوله ومفلوج وأبرص شاع برصه)
وكذلك أعرج يقوم ببعض قدمه،
فالاقتداء بغيره أولى تتارخانية وكذا أجذم برجندي، ومجبوب وحاقن، ومن له يد واحدة فتاوى الصوفية عن التحفة. والظاهر أن العلة النفرة، ولذا قيد الأبرص بالشيوع ليكون ظاهرا ولعدم إمكان إكمال الطهارة أيضا في المفلوج والأقطع والمجبوب”۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(2/1206،رشیدیۃ )
الاعمی :تکرہ امامتہ تنزیھا عندالحنفیۃ ۔۔۔۔۔۔۔واستثنی الحنفیۃ حالۃ کونہ اعلم القوم فھو اولی
وکذا فی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعۃ :(1/369،حقانیۃ)
وکذافی الموسوعۃ الفقہیۃ:(6/211،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(303 ،قدیمی)
وفی الفتاوی التاتار خانیۃ :(2/250،فاروقیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
20/7/1440،2019/3/28
جلد نمبر :18 فتوی نمبر : 104