اسلام میں ڈاڑھی کی حد کیا ہے ؟یعنی کتنی ہونی چاہیے ،اور منڈوانے والے کا کیا حکم ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ڈاڑھی کم ازکم مٹھی بھر لمبی ہونی چاہیے ،ڈاڑھی منڈوانے والا فاسق ہے ۔

لمافی التنویر وشرحہ:) 6/407،رشیدیۃ)
“واخذ اطراف اللحیۃ والسنۃ فیھا القبضۃ۔۔۔۔۔ولذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ.”
وفی الشامیۃ:( 2/418،رشیدیۃ)
“(قوله: وأما الأخذ منها إلخ) بهذا وفق في الفتح بين ما مر وبين ما في الصحيحين عن ابن عمر عنه – صلى الله عليه وسلم – «أحفوا الشوارب واعفوا اللحية» قال: لأنه صح عن ابن عمر راوي هذا الحديث أنه كان يأخذ الفاضل عن القبضة۔۔۔۔۔وعن النبي – صلى الله عليه وسلم – يحمل الإعفاء على إعفائها عن أن يأخذ غالبها أو كلها كما هو فعل مجوس الأعاجم من حلق لحاهم، ويؤيده ما في مسلم عن أبي هريرة عنه – صلى الله عليه وسلم – «جزوا الشوارب واعفوا اللحى خالفوا المجوس» فهذه الجملة واقعة موقع التعليل، وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد اهـ ملخصا.”
وکذا فی صحیح البخاری :(2 /399،رحمانیۃ) وکذافی سنن ابی داود :(2 /224رحمانیۃ)
وکذا فی فیض الباری :(6/100،قدیمی) وکذافی تحفۃ الاحوذی :(8/49،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:) 8/375،رشیدیۃ( وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ:( 35/225،اسلامیۃ)
وکذا فی فتح الملہم:(2/708،دارالعلوم) وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:( 18/211،فاروقیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
29/7/1440،2019/4/6
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :152

ایک ہاتھ پر ٹیک لگا کر سو نے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ؟کس ٹیک سے وضوٹوٹ جاتا ہے کوئی قاعدہ کلیہ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ٹیک لگا کر سونے کی متعدد صورتیں ہیں،بعض صورتوں میں وضو ٹوٹ جاتا ہے اور بعض میں نہیں ،ان کی مکمل تفصیل” عمدۃ الفقہ “میں اس طرح ہے ۔
”سونے والے کی تیرہ حالتیں ہیں ان میں سے تین حالتیں وضوکو توڑنے والی ہیں وہ یہ ہیں :1۔کروٹ یا چت یا پٹ سونا ،2۔ایک سرین پر سونا ،3۔دیوار یا ستون یاآدمی وغیرہ کے سہارے سونا کہ اگر سہارا ہٹا لیا جائے تو سونے والا گر پڑے ۔اور دس صورتوں میں وضونہیں ٹوٹتا وہ یہ ہیں :1۔دو زانوں بیٹھے ہوئے ، 2۔چار زانوں یعنی چوکڑی مار کر بیٹھے ہوئے ،3۔دونوں پاؤں ایک طرف نکال کر دونوں سرین زمین پر رکھے ہوئے ،4۔دونو ں گھٹنے کھڑے کیے ہوئے اور دونوں سرین زمین پر رکھے ہوئے،5۔دونوں ایڑیو ں پر دونوں سرین رکھے ہوئے ،6۔جانور کی ننگی پیٹھ پر سوار ہو کر (سوائے ننگی پیٹھ پر سوار ہو کر اترائی کی طرف جانے کے کہ اس صورت میں وضوٹوٹ جائے گا)،7۔پید ل چلتے ہوئے ،8۔قیام ،9۔رکوع ، 10۔سجدے کی حالت میں “۔(عمدۃ الفقہ :1/155،زوار اکیڈمی )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1440،2019/3/25
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:95

عمامہ باندھ کر نماز پڑھنے سے اجر میں اضافہ والی روایت کے ثبوت و صحت کی وضاحت فرما دیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

عمامہ باندھ کر نماز پڑھنے کی فضیلت والی روایات یا تو موضوع ہیں یا نہایت ضعیف ہیں۔

لما فی الموضوعات الکبری:(136،قدیمی)
“حدیث:(صلاۃ بخاتم تعدل سبعین بغیر خاتم )ھو موضوع ۔کما قالہ العسقلانی وکذا ۔(صلاۃ بعمامۃ تعدل خمسا و عشرین صلاۃ ،وجمعۃ بعمامۃ تعدل سبعین جمعۃ ۔والصلاۃ فی العمامۃ بعشرۃ اٰلاف حسنۃ ) قال المنوفی : فذالک کلہ باطل ۔وقال السخاوی :حدیث(صلاۃ بخاتم تعدل سبعین بغیر خاتم )ھو موضوع کما قال شیخنا عن شیخہ ۔وکذا ما اوردہ الدیلمی من حدیث بن عمر مرفوعا :(صلاۃ بعمامۃ تعدل خمسا و عشرین ، وجمعۃ بعمامۃ تعدل سبعین جمعۃ )ومن حدیث انس مرفوعا :(الصلاۃ فی العمامۃ بعشر ۃ اٰلاف حسنۃ )قلت :مرو ی ابن عمر نقلہ السیوطی عن ابن عساکر فی (جامعہ الصغیر )مع التزامہ بانہ لم یذکر فیہ الموضوع”۔
وفی تحفۃ الاحوذی :(5/415،قدیمی )
“فائد ۃ اخری :لم اجد فی فضل العمامۃ حدیثا مرفوعا صحیحا ،کل ماجاء فیہ ،اما ضعیفۃ او موضوعۃ “۔
وکذافی جامع الترمذی :(1/439،رحمانیۃ) وکذافی بذل الجہود:(16/221،قدیمی)
وکذا فی سنن ابی داؤد :(2/208،رحمانیۃ) وکذافی مرقاۃ المفاتیح:(2/478،المکتبۃ التجاریۃ)
وکذافی المقاصد الحسنۃ :(298،النوریۃ) وکذافی فیض القدیر :(4/297،دارالکتب)
وکذافی کشف الخفاء ومزیل الالباس :(2/25،الغزالی )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
13/7/1440ھ،2019ء/3/21
جلد نمبر :18 فتوی نمبر : 59

چھوٹے بچے کے کان میں فجر والی اذان دی جائے یا دوسری اور کیسے دی جائے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

بچے کے کان میں عام اذان دی جائے ،نہ کہ فجر والی ۔طریقہ یہ ہےکہ بچے کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا کر قبلہ رُو کھڑا ہو اجائے اوردائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہی جائے ۔”حی علی الصلاۃ“کہتے ہوئے دائیں طرف اور ”حی علی الفلاح “کہتے ہوئے بائیں طرف اپنا چہرہ پھیرا جائے ۔

لما فی جامع الترمذی :(1/410،رحمانیۃ)
“عن عبیداللہ ابن ابی رافع عن ابیہ قال رایت رسول اللہ ﷺاذن فی اذن الحسن بن علی حین ولدتہ فاطمۃبالصلاۃھذا حدیث صحیح والعمل علیہ ۔”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(4/2750،رشیدیۃ )
“یستحب للولد ان یؤذن فی اذن المولود الیمنی ،وتقام الصلاۃ فی الیسری حین یولد لما روی ابو رافع ان النبی ﷺ اذن فی اذن الحسن ،حین ولدتہ فاطمۃ۔”
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ :(2/373،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(1/446،رشیدیۃ)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح :(197،قدیمی)
وکذافی الدرالمختار مع رد المحتار:(2/67،رشیدیۃ)
وکذافی التنویر وشرحہ:(1/387،رشیدیۃ)
وکذا فی تحفۃ الاحوذی:(5/90،قدیمی)
وکذا فی تقریرات رافعی علی ھامش شامیۃ:(2/66،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11/6/1440،2019/2/17
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :150

ایک آدمی نے گاڑی لی دو ہزار ایک دن کی اجرت پر ایک دن کے بعد گاڑی واپس کر دی اور اجرت نہیں دی اب مستاجر اسے دو ہزار کے بدلے کوئی اور چیز دے ،مثلاسائیکل یا گندم قیمت کے اعتبار سے دو ہزار سے کم ہو یا زیادہ اور موجراس پر راضی ہو جائےتوکیا یہ معاملہ درست ہے۔

الجواب باسم ملہم الصواب

سوال میں مذکور معاملہ درست ہے۔

وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(6/4344،رشیدیۃ)
“ان کان بدل الصلح عین مال معلوم جاز الصلح ،ویکون العقد بمنزلۃ العقد بیع الدین بالعین ۔”
وفی الفتاوی الھندیۃ:(4/231،رشیدیۃ)
“اذا وقع الصلح علی دین فحکمہ حکم الثمن فی البیع وان وقع علی عین فحکمہ حکم المبیع فما یصلح ثمنا فی البیع او مبیعا یصلح بدلا فی الصلح۔”
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:3/184،الطارق
وکذا فی مجمع الانہر:3/434،مکتبۃ المنار
وکذافی بدائع الصنائع:(5/57، رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:7/436،رشیدیۃ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1440،2019/2/4
جلد نمبر :18 فتوی نمبر 129

ایک شخص کی منگنی ہوئی وہ تنہائی میں اپنی منگیتر سے ملا پھر اس نے کچھ دنوں کے بعد اپنی منگیتر کی بہن سے زنا کر لیا تو اب اس کا اپنی منگیتر سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

منگیتر سے تنہائی میں ملنا اور سالی سے زنا کرنا دونوں سنگین گناہ ہیں، اس پر خوب خوب توبہ و استغفار کرے البتہ منگیتر کی بہن (جس سے زنا کیا ہے )کو ایک حیض آنے کے بعد منگیتر سے نکاح کر سکتا ہے ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(9/6666،رشیدیۃ )
وان زنی الرجل بامراۃ فلیس لہ ان یتزوج باختھا حتی تنقضی عدتھا
وفی البحر الرائق:(3/180،رشیدیۃ)
لو زنی باحد الاختین لا یقرب باخری حتی تحیض الاخری حیضۃ
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:) 2/74،الطارق(
وکذا فی محیط البرھانی:(4 /86،دار احیاء(
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:)4 /49،فاروقیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:( 2/536، رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:) 3/163،رشیدیۃ(
وکذافی اعلا ء السنن :11/132،ادارۃ القرآن
وکذافی التنویر وشرحہ:) 4/113،رشیدیۃ)

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
13/7/1440،2019/3/21
جلد نمبر : 18فتوی :58

کتنا مہر طےہوا ہے ؟اس کا علم ہونا عورت کے لیے ضروری ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ضروری نہیں ۔

لمافی فتح القدیر :(3/304،رشیدیۃ)
“(قولہ ویصح النکاح وان لم یسم فیہ مھرا)لا خلاف فی ذالک ۔”
وفی تبیین الحقائق :(2/136،امدادیۃ)
“(صح النکاح بلا ذکرہ )ای بلاذکر المھر ۔۔۔۔۔ولنا ان النکاح عقد انضمام وازدواج وذالک یتم با لزوجین ولا ن المقصود فیہ التوالد والازدواج دون المال فلا یشترط فی ذکرہ ۔”
وکذا فی التنویر مع شرحہ :(4/77،دارلمعرفۃ)
وکذا فی الھندیۃ:(1/267،رشیدیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع :(2/485،رشیدیۃ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/120،الطارق)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی :(2/8،رشیدیۃ)
وکذافی اللباب:(1/149،قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11/6/1440،2019/2/17
جلد نمبر :17 فتوی نمبر: 149

نماز جنازہ کے لیے کوئی مستقل درود ہے یا نماز والا ہی پڑھا جائے ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

نماز جنازہ کے لیے کوئی خاص یا مستقل درود حدیث سے ثابت نہیں،لہذا ماثور درودوں میں سے کوئی بھی درود پڑھا جا سکتا ہے۔

وفی بدائع الصنائع : (2/51،رشیدیہ)
واذا کبر الثانیۃ یاتی بالصلاۃ علی النبی ﷺوھی الصلاۃ المعروفۃ،وھی ان یقول :(اللہم صلی علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابرہیم وعلی آل ابرہیم انک حمید مجید، اللہم بارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابرہیم وعلی آل ابرہیم انک حمید مجید)۔

 

لما فی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار:(1/373،رشیدیۃ)
(قولہ کمافی التشہد)بان یذکر الصلاۃ والبرکۃ والرحمۃ مع زیادۃ السیادۃ ندبا وتکرار انک حمید مجید وفی القھستانی عن الجلالی یصلی بما یحضرہ ۔۔۔ واتباع المسنون اولی ۔
وکذافی الشامیۃ :(3/128،رشیدیۃ)
وکذافی فتح القدیر :(2/125،رشیدیۃ)
وکذافی الموسوعۃ الفقھیۃ :(16/21،علوم اسلامیۃ)
وکذافی السنن الکبری للبیھقی:(2/529،دارالکتب)
وکذا فی المستدرک علی الصحیحین:(1/377،قدیمی)
وکذا فی فتح الباری:(11/191،قدیمی)
وکذا فی الھندیۃ:(1/76،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/321،رشیدیۃ)
وکذافی غنیۃ المستملی :(575،رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/34،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1440،2019/2/4
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :128

عصر کے بعد اور مغرب و عشاء کے درمیان سونا کیسا ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

عشاء سے پہلے سونے کو حضور ﷺنے نا پسند فرمایا ہے ۔اگر کوئی مجبوری ہو مثلاً نیند کا غلبہ یا تھکاوٹ وغیرہ تو نماز کے وقت میں جاگنے کا بندو بست کر کے سو سکتا ہے ،مثلاً الارم وغیرہ لگا لے ۔عشاء کا وقت داخل ہونے کے بعد سونا مکروہ ہے ،ایک روایت کے مطابق عصر کے بعد بھی سونا درست نہیں ۔

لما فی موسوعۃ الفقہیۃ :(42/17،علوم اسلامیۃ )
یکون النوم مکروھا فی مو اطن منھا :النوم بعد صلاۃ العصر ۔۔۔۔۔۔ومنہ النوم قبل صلاۃ العشاء بعد دخول وقتھا ان ظن تیقظہ فی الوقت
وفی جامع الترمذی :(1/139،رحمانیۃ )
عن ابی برزۃ قال کان النبی ﷺیکرہ النوم قبل العشاء ۔۔۔۔۔قال ابو عیسی حدیث ابی برزۃ حدیث حسن صحیح
وکذا فی فتح الباری :(2/62،قدیمی )
وکذا فی تحفۃ الاحوذی :(1/534،قدیمی )
وکذا فی معارف السنن: (2/81،سعید)
وکذا فی المستدرک علی الصحیحین :5/215،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/499،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
13/7/1440،2019/3/21
جلد نمبر : 18 فتوی نمبر : 57

ایک شخص بحری جہاز میں ملازم ہے، سال کے نو مہینے اسی جہاز میں ملازم کی حیثیت سے سفر کرتا رہتا ہے ،یہ شخص جہاز میں دوگانہ پڑھے یا پوری نما ز پڑھے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ شخص اگر اپنے شہر سے شرعی سفر( 396،بحری میل )کے ارادے سے نکلے تو مسلسل قصر کرے گا ،اگرچہ اس طرح اسے سال گذر جائے، ہاں اگر کسی بندر گاہ میں پندرہ دن یا اس سے زائد قیام کا ارادہ ہو یا یہ ملازم اس شہر کا رہائشی ہو اوروہ بندر گاہ شہر کا حصہ بھی سمجھی جاتی ہو ،تو وہا ں پوری نماز پڑھے ۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیۃ: (2 /491و498 ،فاروقیۃ )
“وان کان السفرسفربحر،فقداختلف المشایخ ایضاوالمختارللفتوی ان ینظر الی السفینۃ کم تسیر فی ثلاثۃ ایام ولیالیھا حال استواء الریح فیجعل ذالک اصلا۔۔۔۔۔۔۔(قال بعد صفحۃ )ونیۃ الاقامۃ فی البحر والمفازۃ لا تصح. “
وفی الفتاوی الھندیۃ : (1 /139 ،رشیدیۃ )
” ونیۃ الاقامۃ انما تؤثر بخمس شرائط ۔۔۔۔۔۔۔وصلاحیۃ الموضع حتی لو نوی الاقامۃ فی بر او بحر او جزیرۃ لم یصح . “
وکذافی الدر المختار مع ردالمحتار: ( 2/729 ،رشیدیۃ )
وکذا فی البحر الرائق:(2/225و232،رشیدیۃ(
وکذافی بدائع الصنائع:(1/271، رشیدیۃ)
وکذا فی الموسوعۃ الفقھیۃ :(27/285 ،علوم اسلامیۃ)
وکذا فی الھندیۃ:(1/139 ،رشیدیۃ)
وکذافی فتاوی قاضی خاں علی ھامش الفتاوی الھندیۃ :(1/164،رشدیدیۃ)
وکذافی ملتقی الابحر مع شرحہ مجمع الانھر:(1/239،المنار )
وکذافی خلاصۃ الفتاوی :(1/199،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11/6/1440،2019/2/17
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر :164