خطبہ جمعہ کے دوران خطیب کے چہرے کو دیکھنے کا کیاحکم ہے ؟اگر اس کے فضائل مستند احادیث میں ہوں تو وہ بھی بتا دیں ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

خطیب کا چہرہ دیکھنے کی فضیلت سے متعلق تو کوئی روایت نہ مل سکی ۔البتہ دوران خطبہ خطیب کی طرف اپنا چہرہ کر کے بیٹھنے کو فقہاء کرام نے مستحب لکھا ہے ۔

لمافی البحر الرائق:(2/259،رشیدیۃ)
“وأما المستمع فيستقبل الإمام إذا بدأ بالخطبة وينصت، ولا يتكلم۔۔۔۔ثم قولهم إن السنة في المستمع استقبال الإمام مخالف لما عليه عمل الناس من استقبال المستمع للقبلة۔۔۔۔ وجزم في الخلاصة بأنه يستحب استقباله إن كان أمام الإمام، وإن كان عن يمين الإمام أو عن يساره قريبا من الإمام ينحرف إلى الإمام مستعدا للسماع.”
و فی خلاصۃ الفتاوی :(1/207،رشیدیۃ)
“و یستحب للرجل ان یستقبل الخطیب بوجہہ ھذا اذاکان الامام فان کان عن یمین الامام او عن یسارہ قریبا من الامام ینحرف الی الامام مستعدا للسماع .”
وکذافی المنتقی شرح الموطا:(1/203،شاملہ)
وکذافی فتح الباری:(2/511،قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
10/9/1440،2019/5/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:47

کہ ایک خاتون فوت ہوئی ہے ،اس کی ایک بیٹی اور چار بھتیجے ہیں ، اس کی 9کنال ،9 مرلے زمین ہے ،شرعی ورثہ کا حصہ میراث بتا دیں ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

مرحومہ نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(سونا،چاندی،زیور،اور کپڑےوغیرہ)اورغیرمنقولہ (جیسے مکان،دوکان ،فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جوبھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحومہ کا قرض اورایسے واجبات جوکسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہوں یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا۔اس کےبعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں بالترتیب اداکرنا ضروری ہے ۔

سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔

 

اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوے مال سے وہ ادا کیا جائے گا ،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے۔

 

اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لئےجائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصت پوری کی جائے گی ۔

 

ان تمام حقوق کی ادئیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے ،خواہ زمین ہو یا زیوریافصل وغیرہ ہو، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائےگا۔

کل ترکہ کے 8برابر حصے بنائے جائیں گے،ان میں سے 4حصے(%50)بیٹی کواور1حصہ(12․50%) ہر ایک بھتیجے کو دیا جائے گا ۔
سوال میں مذکور زمین (9کنال 9مرلے )میں سے بیٹی کو چار (4)کنال اورساڑھے چودہ (½14 )مرلے اور ہر
ایک بھتیجے کو ایک کنال اور625․3مرلے ملیں گے ۔
ترکہ: 9کنال9مرلے

عصبہ

مزید تفصیل کے لیے نقشہ ملاحظہ فرمائیں :
نمبرشمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ ترکہ سے ملنےوالا حصہ
1 بیٹی 4 %50 4کنال، ½14 مرلے
2 بھتیجا 1 %50․12 1کنال، 625․3مرلے
3 بھتیجا 1 %50․12 1کنال، 625․3مرلے
4 بھتیجا 1 %50․12 1کنال، 625․3مرلے
5 بھتیجا 1 %50․12 1کنال، 625․3مرلے
میزان 5 8 %100 9کنال، 9مرلے

لما فی التاتار خانیۃ : ( 20/ 224 ، فاروقیۃ)
” بنات الصلب لھن حالان :سھم و تعصیب اذا لم یکن للمیت ابن فھو صاحب سھم ،وسھم الواحدۃ منھن النصف. “
وفی البحر الرائق: ( 9/373 ، رشیدیۃ)
“(وللبنت النصف)لقولہ تعالی (وان کانت واحدۃ فلھا النصف )۔۔۔۔۔النصف للواحدۃ والثلثان للا ثنین فصاعدا والتعصیب عند الاختلاط بالذکور . “
وکذافی البحر الرائق: (9 / 371، رشیدیۃ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی: (29 / 139،دارالمعرفۃ )
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ : ( 6/ 347، رشیدیۃ)
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ : ( 6/ 348، رشیدیۃ)
وکذا فی الفتاوی الھندیۃ : ( 6/ 351، رشیدیۃ)
وکذا فی السراجی : ( 8 ، شرکت علمیۃ)
وکذا فی السراجی : ( 14 ، شرکت علمیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1440،2019/2/25
جلدنمبر:17 فتوی نمبر:173

انگلیوں پر تسبیحات کو شمار کرنے کی فضیلت سے متعلق کوئی صحیح حدیث بتا دیں ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

ایک صحابیہ حضرت یسیرۃ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم تسبیح (سبحان اللہ ) تہلیل (لا الہ الااللہ ) تقدیس (سبحان الملک القدوس یا سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح)پڑھا کرو اور اسے انگلیوں پر شمار کیا کرو اس لیے کہ ان سے سوال کیا جائے گا ان کو بلوایا جائے گا (یہ اپنے پڑھنے والے کی گواہی دیں گی )۔

لما فی جامع الترمذی :(2/675،رحمانیۃ )
“حدثنا محمد بن بشر قال: سمعت هانئ بن عثمان عن أمه حميضة بنت ياسرعن جدتها يسيرة وكانت من المهاجرات قالت: قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: (عليكن بالتسبيح والتهليل والتقديس، واعقدن بالأنامل فإنهن مسئولات مستنطقات، ولا تغفلن فتنسين الرحمة)۔”
وفی سنن ابی داؤد:(1/220،رحمانیۃ )
“عن حميضة بنت ياسر، عن يسيرة، أخبرتها، (أن النبي صلى الله عليه وسلم أمرهن أن يراعين بالتكبيروالتقديس والتهليل، وأن يعقدن بالأنامل، فإنهن مسئولات، مستنطقات)۔”
وکذافی تحفۃ الاحوذی :(10/42،قدیمی )
وکذافی بذل الجہود :(7/220،قدیمی )
وکذا فی صحیح ابن حبان :(1/402،دار ابن حزم)
وکذا فی مسند الامام احمد :(7/514،دار احیاء)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
13/7/1440،2019/3/21
جلدنمبر : 18 فتوی نمبر60

پانچ ہزار کانوٹ پیشاب میں لت پت ہو گیا اوراس حالت میں ہو گیا کہ اگرمزید اس پر پانی بہایا جائے تو نوٹ خراب ہو جائے گا اور اسکی ثمنیت ختم ہوجائے گی ،اب اس صور ت حال میں اس نوٹ کے پاک کرنے کا کیاطریقہ ہے اور اس کو کیسے استعمال میں لایا جا سکتاہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ نوٹ کو کسی پاک لیکوڈ(liquid)چیز مثلاپٹرول یا سپرٹ وغیرہ سے دھولیا جائے ،جس سے نجاست زائل ہو جائے ،اگر کوئی صورت ممکن نہ ہو تو اسی طرح استعمال میں لایا جاسکتا ہے، لیکن نماز کی حالت میں جیب میں نہ رکھا جائے ۔

لمافی التنویر وشرحہ:1/560(،رشیدیۃ)
“(یجوز رفع نجاسۃ حقیقۃ عن محلھا )
۔۔۔۔۔(وبکل مائع طاھر قالع )للنجاسۃ ینعصر با لعصر (کخل وماءورد)”۔
و فی الھندیۃ:( /141،رشیدیۃ)
یجوز تطھیر النجاسۃ بالماءوبکل مائع طاھر یمکن ازالتھا بہ کالخل وماءالورد ونحوہ
وکذافی بدائع الصنائع:( 1/240، رشیدیۃ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1 /69،امدادیۃ)
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ: (1/429،فاروقیۃ)
وکذا فی الشامیۃ:( 1/579،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(1/384،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
23/7/1440،2019/4/1
جلد نمبر:18فتوی نمبر:105

مسبوق امام کے قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد آخر تک پڑھے گا یا صرف تشہد ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

بہتر یہ ہے کہ مسبوق آہستہ آہستہ پڑھے، تاکہ اس کے تشہد ختم کرنے تک امام سلام پھیر دے ۔اگر یہ پہلے فارغ ہو جائے تو ”اشہد ان لا الہ الااللہ“ کو باربار پڑھتا رہے ۔ایک قول کے مطابق درود اور دعا بھی پڑھ سکتا ہے ۔

لمافی خلاصۃ الفتاوی :(1/165،رشیدیۃ)
“المسبوق اذا قعد مع الامام الصحیح انہ یترسل فی التشھد حتی یفرغ عن التشھد عند سلا م الامام وقال شمس الائمۃ السرخسی الاصح انہ یقرأ التشھد والدعوات لانہ یلزم المتابعۃ فیما لیس بمفسد ۔”
وفی غنیۃ المستملی :(469،رشیدیۃ)
“اذا فرغ من التشہد قبل سلام الامام یکرر ہ من اولہ وقیل یکرر کلمۃ الشھادۃ وقیل یسکت وقیل یأتی بالصلاۃ والدعا ء والصحیح انہ یترسل لیفر غ من التشھد عند سلام الامام ۔”
وفی المبسوط للسرخسی :(1/35،دارالمعرفۃ)
“ثم لا خلاف أن المسبوق يتابع الإمام في التشهد ولا يقوم للقضاء حتى يسلم الإمام وتكلموا أن بعد الفراغ من التشهد ماذا يصنع؟فكان ابن شجاع – رحمه الله – يقول يكرر التشهد وابو بكر الرازي يقول يسكت:لأن الدعاء مؤخر إلى آخر الصلاة والأصح أنه يأتي بالدعاء متابعة للإمام۔”
وکذا فی الھندیۃ:(1 191/،رشیدیۃ) وکذا فی البحر الرائق:(1/662،رشیدیۃ)
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:(2 /197،فاروقیۃ)وکذا فی فتح القدیر:( 1/401،رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1 /171،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1440،2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:61

اذان ثانی امام کے سامنےدینے کے بعد امام کے لیے جگہ تبدیل کرنے کا کیا حکم ہے ؟یعنی اذان ثانی کے وقت اما م مسجد کے ہال میں ہو ،اذان کے بعد مسجد کے صحن میں جاکر خطبہ دے سکتا ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

بہتر تو یہ ہے کہ جہاں خطبہ پڑھنا ہے وہیں اذان دی جائے ،لیکن سوال میں مذکور صورت بوقت ضرورت جائز ہے۔

لما فی الدر المختار مع رد المحتار :(3/143،رشیدیۃ)
“(ویؤذن )ثانیۃ (بین یدیہ ) ۔۔۔۔(اذا جلس علی المنبر ) فاذا اتم اقیمت،ویکرہ الفصل بامر الدنیا۔”
“قال ابن عابدین :قولہ :(بامرالدنیا )اما بنھی عن منکر او امر بمعروف فلا وکذا بوضوء او غسل لو ظھر انہ محدث او جنب کما مر۔”
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(2/1316و1320 ،رشیدیۃ)
وکذا فی الھندیۃ:(1 146/،رشیدیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:( 1/592، رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/256،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:( 2/273،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1440،2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:32

نفاس کے تمام احکام نماز روزہ اور جماع وغیرہ حیض کے احکام کی طرح ہیں یا بعض میں فرق ہے ؟فرق واضح فرمائیں۔

الجواب باسم ملہم الصواب

نماز روزہ جماع وغیرہ میں حیض ونفاس کا ایک ہی حکم ہے ۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(1/624 ،رشیدیۃ)
“الحیض ومثلہ النفاس یوجب الغسل بعد انقطاعہ ۔۔۔۔یحرم بالحیض والنفاس مایحرم بالجنابۃ وھی سبعۃ امورالصلوات کلھا،وسجود التلاوۃ،ومص المصحف ،ودخول المسجد ،والطواف ،والاعتکاف ،وقراءت القرآن .”
و فی المبسوط للسرخسی:(2/141،دارالمعرفہ)
“فان النفاس اخو الحیض.”
وکذا فی الشامیۃ:(1 /532،رشیدیۃ)
وکذا فی المحیط البرھانی:( 1/399،دار احیاء)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح :(426،قدیمی)
وکذافی العنایۃ مع فتح القدیر :(1/163،رشیدیۃ)
وکذا فی خلاصۃ الفتاوی :(1/330،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
29/7/1440،2019/4/6
جلد نمبر :18 فتوی نمبر151

اگر کوئی شخص قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد بھول جائے ،تووہ گناہ گارہوتاہے اور اس پر سخت وعیدیں ہیں ،دریافت یہ کرنا ہے کہ اس بھولنے سے کیا مراد ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سستی اور غفلت کی وجہ سے قرآن پاک کو بھلا دینا ایک عظیم الشان نعمت کی نا قدری اور ناشکری ہے ،جو یقیناً قابل افسوس ومذمت ہے ،لیکن وعید کا مستحق اس وقت ہو گا جب آدمی اوپر دیکھ کر بھی نہ پڑھ سکتا ہو ۔

لما فی سسنن ابی داؤد:(1/78 ،ر:حمانیۃ )
” عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ ﷺ۔۔۔۔وعرضت علی ذنوب امتی فلم ار ذنبا اعظم من سورۃ من القرآن او آیۃ اوتیھا رجل ثم نسیھا. “
وفی بذل الجہود: (3 /203 ،رحمانیۃ )
” والنسیان عندنا ان لا یقدر ان یقر أبالنظر،کذا فی شرعۃ الاسلام. “
وفی الھندیۃ: (5 /317 ،رشیدیۃ )
“قراءۃالقرآن فی المصحف اولی من القراءۃ عن ظھر القلب اذا حفظ الانسان القرآن ثم نسیہ فانہ یاثم وتفسیر النسیان ان لا یمکنہ القراءۃ من المصحف۔”
وکذا فی موسوعۃ الفقہیۃ : ( 40/ 167 ، علوم اسلامیۃ)
وکذافی فتح الباری :(9/105،قدیمی)
وکذافی فیض القدیر:(4/414،دارالکتب)
وکذافی عون المعبود:(2/79،قدیمی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
11/6/1440،2019/2/17
جلد نمبر: 17 فتوی نمبر :165

ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ بیوی کے ساتھ بوس کنار کیا اور اس وقت محسوس ہوا کہ مذی نکلی ہے،اس کے کافی دیر بعد جب نمازکا وقت ہو اتو وضو کرنے لگا تو یاد آیا کہ شلوار کسی جگہ سے ناپاک ہے ،مگر یہ معلوم نہیں کہ کس جگہ سے ناپاک ہے ،کیونکہ اس وقت شلوار خشک ہو چکی تھی ،پوچھنا یہ ہے کہ نماز کے لیے کپڑے تبدیل کرنا ہوں گے یا اسی طرح پڑھ سکتے ہیں ؟(2)اگر یہ جانتے ہوئے کہ شلوار کسی جگہ سے ناپاک ہے مگر وہ بقدر درہم ہے جوکہ معاف ہے ،کیا اسی حالت میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟اگر نہیں پڑھ سکتے مگر پھر بھی پڑھ لی تو کیا حکم ہے ؟(3)اور اگر یہ سب نماز پڑھ لینے کے بعد یا د آیا تو کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

(1)بہتر یہ ہے کہ کپڑے بدل لیے جائیں یا جہاں مذی لگنے کا گمان ہے وہ جگہ دھو لی جائے ،اگر اس بات کا غالب گمان ہو کہ مذی ایک درہم (ایک روپے والے بڑے سکے )سے زیادہ لگی ہے ،تو پھر کپڑے بدلنا یا دھونا ضروری ہے ۔
(2)نماز مکروہ ہو گی۔

(3)نماز پڑھ لینے کے بعد یاد آیا تو اگر نجاست ایک درہم سے زیادہ ہے تو نماز نہیں ہوئی ،ورنہ ہو گئی۔

لما فی الفتاوی الھندیۃ:(1/43،رشیدیۃ)
“اذا تنجس طرفا من اطراف الثوب و نسیہ فغسل طرفا من اطراف الثوب من غیر تحر حکم بطھارۃ الثوب ھو المختار ۔فلو صلی مع ھذا الثوب صلوات ثم ظھر ان النجاسۃ فی طرف آخر یجب علیہ اعادۃ صلوات التی صلی مع ھذاالثوب ۔”
وفی العنایۃ مع فتح القدیر :(1/203،رشیدیۃ )
“اذا کانت قدر الدرھم (جازت الصلاۃ معہ )وقولہ ومادونہ مستغنی عنہ (وان زاد لم تجز ۔۔الخ)۔”
وکذا فی الھندیۃ:(43 /1،رشیدیۃ) وکذا فی المحیط البرھانی:(1 /371،دار احیاء(
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:)1/428،فاروقیۃ) وکذافی بدائع الصنائع:(1 /193، رشیدیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1 /232و236، رشیدیۃ) وکذا فی فتح القدیر:(1 /192،رشیدیۃ)
وکذا فی الشامیۃ:(1 /571،رشیدیۃ) وکذافی تبیین الحقائق:(1 /73،امدادیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1440،2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:31

ایک آدمی نے دو بھینسیں فروخت کیں ،جن کی مالیت سوا تین لاکھ روپے ہے ،اس کے بعد اس نے وہ رقم اپنی بیٹی کی شادی میں صرف کر دی ،تو اب اس پر حج فرض ہو ا یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حج فرض نہیں ہوا ۔کیونکہ آج کل مذکورہ رقم حج کےتمام اخراجات اوراہل وعیال کے نفقہ کے لیے ناکافی ہے ۔

لما فی بدائع الصنائع: ( 2/ 297، رشیدیۃ)
“وأما تفسير الزاد والراحلة فهو أن يملك من المال مقدارمايبلغه إلى مكة ذاهباوجائياراكبالاماشيابنفقةوسط لا إسراف فيها ولا تقتير،فاضلاعن مسكنه وخادمه وفرسه وسلاحه وثيابه وأثاثه ونفقةعياله وخدمه وكسوتهم، وقضاء ديونه.”
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: ( 3/ 2082، رشیدیۃ)
“قال الحنفية: الاستطاعة أنواع ثلاثة: بدنية ومالية وأمنية، أما الاستطاعة البدنية: فهي صحة البدن۔۔۔۔۔۔ وأما الاستطاعة المالية: فهي ملك الزاد والراحلة، بأن يقدر على الزاد ذهاباً وإياباً، وعلى الراحلة ۔۔۔۔۔۔وزائداً أيضاً عن نفقة عياله الذين تلزمه نفقاتهم إلى حين عودته.”
وکذافی البحر الرائق : ( 2/ 546،رشیدیۃ ) وکذا فی تبیین الحقائق: ( 2/4 ،امدادیۃ )
وکذا فی الفتا وی التاتارخانیۃ:)3 /472،فاروقیۃ) وکذا فی فتح القدیر:(2 /415، رشیدیۃ)
وفی کتاب التجنیس والمزید:(2/463،ادارۃ القرآن) وکذا فی الھندیۃ:(1 /218،رشیدیۃ)
وکذافی الشامیۃ:(3/524تا529، رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1440،2019/3/5
جلد نمبر :18 فتوی نمبر 56