زید نامی شخص کو اپنے باپ کی وراثت میں سے زمین ملی زید نے اسی وراثت والی زمین میں سےہر ایک بیٹے کو اس کا حصہ دے دیا اور بیٹیوں میں سے ہرایک بیٹی کو بھی حصہ دینا چاہتا تھا لیکن بیٹیوں نے اپنا حصہ لینے سے انکار کر دیاہے کہ ہمیں زمین نہیں چاہیے۔زید نے کچھ زمین اپنے قبضہ میں رکھی ہوئی ہے اب وہ چاہتا ہے کہ اپنی قبضہ شدہ زمین کوبیچ کرحج کرونگا یا غریبوں کی امداد کروں، لیکن جیسے ہی اس کی ساری اولاد بیٹے بیٹیوں کو پتہ چلا تو انہوں نے اپنے باپ زید کو روکا کہ ہم آپ کو یہ زمین نہیں بیچنے دیں گے ، کیونکہ یہ زمین آپ کوہمارے دادا جی کی طرف سے وراثت میں ملی تھی ،لہذا یہ زمین وراثت در وراثت چلے گی ،یہاں تک کہ اولاد نے باپ پر کیس کر دیا ،کہ ہمارا باپ زمین بیچ رہا ہے ،اب پوچھنا یہ ہے کہ باپ اپنی قبضہ شدہ زمین بیچ سکتا ہے یا نہیں ؟قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

 

الجواب باسم ملھم الصواب

زید اپنی قبضہ شدہ زمین بیچ سکتا ہے ،اگر زید پر حج فرض ہے تو اسے حج ضرور کرنا چاہیے،اگر اس پر حج فرض نہیں ہے اور بچے ضرورت مند ہوں تو ان کو دے ،ورنہ کسی بھی کار خیر میں صرف کر سکتا ہے۔

لمافی العنایۃ مع فتح القدیر:(6/230،رشیدیۃ)
و شرطہ من جھۃالعاقدین العقد والتمییز ،ومن جھۃ المحل کونہ مالا متقوما مقدور التسلیم ۔وحکمہ افادۃ الملک وھو القدرۃ علی التصرف فی المحل شرعا ۔
وفی بدائع الصنائع :(5/281،رشیدیۃ)
اما الاراضی المملوکۃ العامرۃ فلیس لاحد ان یتصرف فیھامن غیر اذن صاحبھا لان عصمۃ الملک تمنع من ذالک ۔۔۔۔۔حتی یجوز بیعھا وھبتھاواجارتھا وتصیر میراثا اذا مات صاحبھا۔
وکذا فی القرآن المجید:(سورۃ البقرۃ :275)
وکذافی الشامیۃ:(7/14،13،رشیدیۃ)
وکذافی البحر الرائق:(5/433،رشیدیۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/326،رشیدیۃ)
وکذافی التاتار خانیۃ:(8/212،فاروقیۃ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(5/3320،م:رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الحنفی :(4/16،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/5/1440،2019/1/19
جلد نمبر :17 فتوی نمبر 94

مجھے دائمی نزلے اوردمے کا مرض ہے ،اگر غسل کے دوران ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچاؤں تو مجھے کافی تکلیف ہوتی ہےاور بعد میں کافی پریشانی ہوتی ہے ،تو کیا میں ایسا کر لوں کہ ناک میں اچھی طرح پانی پہنچا لیا کروں لیکن نرم ہڈی تک پانی نہ پہنچاؤں کیا اس طرح غسل ہو جائےگا؟

الجواب باسم ملہم الصواب

اگر بہت زیادہ تکلیف ہوتی ہو تو مذکورہ صورت میں آپ کا غسل ہو جائے گا۔

لمافی الدر المختار مع ردالمحتار:(1/312،رشیدیۃ)
“(غسل)کل(فمہ)۔۔۔۔۔(وانفہ)حتی ماتحت الدرن۔۔۔۔۔۔(ویجب)ای: یفرض (غسل)کل مایمکن من الدرن بلا حرج مرۃ کاذن ۔”
وفی المحیط البرہانی:(1/225،دار احیاءتراث)
“والمضمضۃ والاستنشاق فرضان فی الغسل،نقلان فی الوضوء والاصل فیہ قولہ علیہ الصلاۃ والسلام :((تحت کل شعرۃ جنابۃ فبلوا الشعر و انقوا البشرۃ))وفی الانف شعرۃ ۔۔۔۔۔۔فاذا امکن ایصال الماء الی ھذین العضوین من غیر حرج۔”
وکذا فی “الموسوعۃ الفقھیۃ المقارنۃ:(1/108 ،محمودیۃ)”
وکذا فی الھندیۃ:(1/6،رشیدیۃ)
وکذا فی البحر الرائق:)1/87،رشیدیۃ(
وکذافی بدائع الصنائع:(1/142، رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:)1/106،الطارق(
وکذافی مجمع الانھر:(1/36،المنار)
وکذافی البنایۃ:(1/255،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1440،2019/2/4
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر 123

ایک گاڑی والا اڈے سے سواری بٹھاتا ہے اور اڈے سے باہر گاڑی والے کو وہ سواریاں دے دیتا ہے اور اس سے کمیشن لیتاہے پھر واپس اڈے ہی میں آکر دوبارہ اپنا نام لکھوا دیتاہے اور اس طرح اس کی باری جلدی آجاتی ہے اور جو گاڑیاں باہر گئی ہوتی ہیں ان کی باری دیر سے آتی ہے آیا اس طرح دوسری گاڑی والے سے کمیشن لے کر سواریاں اس کو دینا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

سواریاں دوسری گاڑی کو دے کر کمیشن لینا مجبوری کے وقت اور سواریوں کی رضامندی کی صورت میں جائز ہے۔اس کو مستقل کاروبار نہیں بنایا جاسکتا ۔اڈے میں آکر نام لکھوانے میں اگر دوسروں کا حق متا ثرنہ ہوتا ہو اور اڈے کے قوانین کے خلاف نہ ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں ۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:4/423،(الطارق)
“تفسخ الاجارۃ بالقضاء او الرضا بخیار شرط قبل القضاء الایام الثلاثۃ “.
وفی الھندیۃ:(4 458/،رشیدیۃ)
“وإذا تحقق العذر ومست الحاجة إلى النقض هل يتفرد صاحب العذر بالنقض أو يحتاج إلى القضاء أو الرضاء اختلفت الروايات فيه والصحيح أن العذر إذا كان ظاهرا يتفرد، وإن كان مشتبها لا يتفرد”.
وکذا فی المبسوط : 13/83(،دارالمعرفۃ)
وکذافی بدائع الصنائع:( 4/58، رشیدیۃ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(4/3161 ،رشیدیۃ)
وکذافی اعلا ء السنن :(16 /208،ادارۃ القرآن)
وکذا فی الشامیۃ:(9 /107و129،رشیدیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1440،2019/3/25
جلد نمبر :18 فتوی نمبر : 96

ایک شخص دکان کرایہ پر لیتا ہے ،اس میں چارپائیوں کا کاروبار کرتا ہے اور کرایہ یہ طے کرتا ہے کہ ایک چارپائی بکنے پر دس پرسنٹ مالک دکان کو دوں گا۔یہ معاملہ جائز ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

یہ معاملہ درست نہیں کیونکہ اس طرح کرایہ پوری طرح متعین نہیں ہوتا اور اس میں جھگڑے کے امکانات موجود ہیں۔

لما فی الدرالمختار مع رد المحتار:(9/9،رشیدیۃ)
“وشرطھا :کون الاجرۃ والمنفعۃ معلومتین لان جھالتھما تفضی الی المنازعۃ ۔”
ولما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/342،طارق)
“یشترط فی الاجارۃ ان تکون الاجرۃ والمنفعۃ معلومتین لان جھالتھما تفضی الی المنازعۃ ۔”
وکذافی المصنف لابن ابی شیبۃ:(4/371،دارالکتب)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیۃ:(15/7،فاروقیۃ)
وکذافی المحیط البرھانی :(11/217،دار احیاء)
وکذافی مجمع الانھر:(3/512،المنار)
وکذافی البحرالرائق:(7/507،رشیدیۃ)
وکذافی الھدایۃ:(3/296،رحمانیۃ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3822،رشیدیۃ)
وکذا فی المبسوط:(15/75،دارالمعرفۃ)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1440،2019/1/10
جلد نمبر : 17 فتوی نمبر 77

ایک شخص کا موبائل گم ہو گیا اس نے منت مانی کہ جس نے بھی مجھے میرا موبائل لا کر دیا ،میں اس کو دس ہزار روپے دوں گا،دوسرے دن کسی نے موبائل لا کر دے دیا ۔ سائل کا سوال یہ ہے کہ میں پانچ ہزار اس کو اور پانچ ہزار کسی مسجد میں دے سکتا ہوں یا پورا دس ہزار اسی کو دوں ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں آپ کی یہ گفتگو منت نہیں بلکہ اللہ تعالی سے ایک وعدہ ہے اور ایسے وعدہ کو جلد پورا کرنا چاہیے ،مسجد میں اگر کچھ دینا ہو تو الگ سے دیں۔

لما فی “القرآن المجید”: سورۃالمائدۃ :
1
“یایھاالذین آمنو ا اوفوا بالعقود۔۔۔۔۔الخ”
ولما فی “الفتاوی التاتار خانیۃ”:(6/281،فاروقیۃ)
“والاصل فی ذالک ان کل ما کان لہ اصل فی الفروض لزمہ النذر بنذرہ ،وکل مالم یکن لہ اصل فی الفروض لا یلزم الناذر بنذرہ۔”
وکذافی التنویر مع شرحہ:(5/537،رشیدیۃ)
وکذافی الشامیۃ:(5/544،رشیدۃ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2555،رشیدیۃ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(2/350،طارق)
وکذافی بدائع الصنائع :(228،227،رشیدیۃ)
وکذافی المبسوط:(8/138،دارالمعرفۃ)
وکذافی المحیط البرھانی:(6/352،دار احیاء)
وکذا فی البحر الرائق:(4/499،رشیدیۃ)
وکذافی البرجندی المسمی بالنقایا:(2/117،رشیدیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال

3/5/1440،2019/1/10
جلد نمبر :17 فتوی نمبر 78

آپ ﷺ کا زریعہ معاش کیا تھا ؟صدقہ آپﷺلیتے نہیں تھے اور ہدایا عموما اپنے اصحاب میں تقسیم فرمادیا کرتے تھے تو گذر بسر کیسے ہوتا تھا؟

 

الجواب باسم ملہم الصواب

حضور ﷺبوقت ضرورت قرض لے لیتے تھے پھر جب ہدایا وغیرہ آتے تو قرض ادا کر دیتے تھے اور صحابہ کرام بھی اپنا مال حضور ﷺکی خدمت میں پیش کردیتے تھے مثلا حضرت خدیجہ ،حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عثمان وغیرہ ، پھر اللہ تعالی نے مال غنیمت میں آپﷺکا حصہ مقرر فرمادیا ۔ابتداء میں آپ ﷺنے تجارت بھی کی ہے ۔

لمافی السیرۃ النبویۃ :(1/224،دار احیاء)
“قال ابن إسحاق: وكانت خديجة بنت خويلد امرأة تاجرة ذات شرف ومال۔۔۔۔فلما بلغها عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بلغها، من صدق حديثه، وعظم أمانته، وكرم أخلاقه، بعثت إليه فعرضت عليه أن يخرج في مال لها إلى الشام تاجرا، وتعطيه أفضل ما كانت تعطي غيره من التجار، مع غلام لها يقال له ميسرة، فقبله رسول الله صلى الله عليه وسلم منها، وخرج في مالها ذلك، وخرج معه غلامها ميسرة حتى قدم الشام”.
وفی الصحیح البخاری :(1/113،رحمانیۃ)
“حدثنا إبراهيم بن المنذر، حدثنا معن، قال: حدثني إبراهيم بن طهمان، عن محمد بن زياد، عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أتي بطعام سأل عنه: «أهدية أم صدقة؟»، فإن قيل صدقة، قال لأصحابه: «كلوا»، ولم يأكل، وإن قيل هدية، ضرب بيده صلى الله عليه وسلم، فأكل معهم”۔
وفی جامع الترمذی:( 2/685،رحمانیۃ)
“حدثنا علي بن الحسن الكوفي قال: حدثنا محبوب بن محرز القواريري، عن داود بن يزيد الأودي، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما لأحد عندنا يد إلا وقد كافيناه ما خلا أبا بكر فإن له عندنا يدا يكافئه الله به يوم القيامة، وما نفعني مال أحد قط ما نفعني مال أبي بكر۔۔۔۔الخ”۔
وکذافی سنن ابی داود :(2 /143،رحمانیۃ)
وکذافی الصحیح لمسلم :(1/403،رحمانیۃ)
وکذا فی تحفۃ الاحوذی :(10/349،قدیمی)
وکذافی الرحیق المختوم:(60،دار السلام )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ ووالدیہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
23/7/1440،2019/4/1
جلد نمبر :18 فتوی نمبر 106

بخاری شریف کی ایک حدیث سنی ہے اگر کوئی شخص کسی جگہ 19دن ٹھہرنےکی نیت کرے،تو وہ وہاں قصر کرے گا ،اگر 19دن سےزیادہ ٹھہرنےکی نیت کرےگاتو پوری نماز پڑھے گا جبکہ ہم نے سنا تھا کہ15دن کی نیت سے پوری نماز پڑھے گااگر اس سے کم کی نیت کی ہے تو قصر کرے گا حدیث کے حوالہ کے ساتھ درست بات کی نشاندہی فرمائیں۔

الجواب باسم ملھم الصواب

احناف کے نزدیک مسافر کسی جگہ پندرہ یا زیادہ دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو وہ پوری نماز پڑھے گا اور اگر پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت کرےتو قصر کرے گا ،یہی مسلک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کاہے اورحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بھی ایک قول یہی ہے۔ انیس دن والی روایت کو فقہاءکرام اس بات پر محمول کرتے ہیں کہ آپ ﷺطائف کے محاصرے یاہوازن کے ساتھ جنگ کی حالت میں تھے تو آپﷺفتح کے منتظر تھے کہ جیسے ہی مکہ مکرمہ فتح ہو ہم یہاں سے کوچ کر جائیں گے، وہاں آپﷺ نے مستقل پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت نہیں کی تھی اس انتظار کی وجہ سے آپﷺکو وہاں انیس دن ہو گئے اورآپﷺ قصر کرتے رہے۔اورحالت انتظار میں اگر سال بھی گزر جائے تو نماز قصر پڑھنے ہی کا حکم ہے ۔

لما فی فتح الباری:(2/716،قدیمی)
“فالمدة التی فی حدیث ا بن عباس یسوغ الاستدلال بہ على من لم ینو الإقامۃ بل كان مترددا متى یتہیأ لہ فراغ حاجتہ یرحل والمدة التی فی حد یث أنس یستدل بہ على من نوى الإقامۃ لأنہ صلى اللہ علیہ وسلم فی ایام الحج كان جازما بالإقامۃ تلك المدة۔”
وفی فیض الباری:(2/530،رشیدیۃ)
“قلتُ: وحالُھم فی فتح مكۃكان بین أن یفْتَحَ لھم فیقروا، وبین أن یكونَ غیرَ ذلك فیقروا، وكذلك لم یکن لھم نیۃ بعد الفتح أیضًا، لأنہ لم یکن لھم بعد الفَتْح فی المقام بھا غَرَضٌ، إلا أنھم أقاموا بھا قَدْر ما یفْرُغُون عن حوائجھم، بخلاف حالھم فی حجۃالوداع، فإنھم كانوا جازمین بتلك المدۃ، لأنھم وَرَدُوا بھا للحج وسافروا لہ، فقد عزموا لھا مِنْ قبل. وقد سمعت بعضہ من الشیخ رحمہ اللہ فی درس الترمذی.”
وفی مصنف ابن ابی شیبۃ:(2/211،دارالکتب)
“حدثنا وکیع قال ثنا عمر بن ذر عن مجاھد قال :کان عمر اذا اجمع علی اقامۃ خمس عشرۃ سرح ظھرہ وصلی اربعا۔”
وفی بذل الجہود فی حل ابی داود:(6/222، قدیمی)
“عن عمران ابن حصین ۔۔۔۔۔۔ فاقام بمکۃ ثمانی عشرۃ لیلۃ لا یصلی الا رکعتین ۔۔۔۔۔ وھذا الحدیث عند الجمہور محمول علی انہ ﷺلم ینو الاقامۃ فا متد سفرہ الی ھذہ الایام۔”
وکذافی عمدۃ القاری :(7/116،بیروت)
وکذا فی کتاب الاصل:(1/248،عالم الکتب)
وکذافی جامع الترمذی:(1/236،رحمانیۃ)
وکذافی الھندیۃ:(1/139،رشیدیۃ)
وکذافی حاشیۃ الطحطاوی :(426،قدیمی)
وکذافی الموسوعۃ الفقھیۃ المقارنۃ:(2/881،محمودیۃ)
وکذافی سنن ابی داود :(1/181،رحمانیۃ)
وکذا فی صحیح البخاری :(ٓ1/221،رحمانیۃ)
وکذافی اعلا ء السنن :(7/314،ادارۃ القرآن)
وفی سنن ابن ماجۃ:(182،رحمانیۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1440،2019/2/4
جلدنمبر:17 فتوی نمبر 122

خثیمہ اور عاتکہ صحابیات کے نام ہیں یانہیں؟اور ان کے معنی کیا ہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

“عاتکہ” کئی صحابیات کا نام ہے اور اس کا معنی ہے صاف،سرخ چمڑی والی ۔”خثیمہ” کسی صحابیہ اور صحابی کانام نہ مل سکاالبتہ “خیثمہ “ایک صحابی کا نام ہے اس کا معنی ہے چوڑائی ،موٹائی۔

لما فی “موطاالامام مالک”:(232،قدیمی)
“عن یحی بن سعید ان عاتکۃ بنت زید بن عمر و بن نفیل امراۃ عمر بن الخطاب کانت تقبل راس عمر بن الخطاب وھو صائم فلا ینھاھا۔”
وفی” المعجم الوسیط”:(1/583،دارالدعوۃ)
“(العاتکۃ ):مونث العاتک ۔ و۔ التی تکثر من الطیب حتی تحمر بشرتھا، ج: عواتک۔”
وفی” الاستیعاب”:(2/41،دارالکتب)
“خیثمۃ بن الحارث بن مالک بن کعب بن النحاط بن غنم الانصاری الاوسی، ھو والد سعد بن خیثمۃ قتل یوم احد شہیدا۔”
وفی” لسان العرب “:(4/28،دار احیا)
“وخیثم وخیثمۃوخثامۃ واخثم وخثیم ،کلھا:اسماء ۔وقد خثم المعول :صار مفرطحا۔”
وکذافی” اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ” (3/1547،الوحیدیۃ)
وکذافی” الاستیعاب” (4/431،دارالکتب)
وکذافی” لسان العرب” (9/39،دار احیاء)
وکذافی” اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ” (1/357،الوحیدیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ

متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال

29/4/1440،2019/1/6
جلد نمبر :17 فتوی نمبر 67

اگر پرانے برتن دکان دار کو بیچے پھر اس کے ثمن پر قبضہ کیے بغیر اس ثمن سے نئے برتن خرید لیے ،تو یہ بیع جائز ہے یا نہیں؟جبکہ بیع اول میں بیع ثانی کی کوئی شرط نہیں لگائی گئی تھی۔

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں یہ بیع جائز ہے۔

لما فی”الھدایۃ”:(3/80،رحمانیۃ)
“والتصرف فی الثمن قبل القبض جائز لقیام المطلق وھوالملک ولیس فیہ غرر الا نفساخ با لھلاک لعدم تعیینھا بالتعیین بخلاف المبیع۔”
وفی”الھندیۃ”:(3/13،رشیدیۃ)
“والتصرف فی الاثمان قبل القبض والدیون استبدالا سوی الصرف والسلم جائز عندنا۔”
وکذافی”ردالمحتار علی الدرالمختار”(7/392،رشیدیۃ)
وکذافی”المبسوط”(14/2،دارالمعرفۃ)
وکذافی”اعلاءالسنن”(14/255،ادارۃ القرآن)
وکذافی”فتح القدیر”(6/479،رشیدیۃ)
وکذافی”بدائع الصنائع”(4/484،483،رشیدیۃ)
وکذافی”مجمع الانھر”(3/115،المنار)
وکذافی”فقہ الحنفی”(4/204،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال

29/4/1440،2019/1/6
جلدنمبر :17 فتوی نمبر 75

ہم جس کمپنی سے زرعی ادویات لیتے ہیں انہوں نے ایک سکیم نکالی ہے جس میں انہوں نے تیس ہزار مالیت کا ایک کوپن رکھا ہے ،جوشخص تیس ہزار دے کر وہ کوپن خریدے گا اس کو چند منتخب ادویات میں سے کوئی ایک دوائی جو وہ چاہے گا فری دیں گے ،اس کے علاوہ کوپن کی ایک مقررہ تاریخ پر قرعہ اندازی ہو گی ،جس میں مختلف قسم کے انعامات نکلیں گے جس کی تفصیل منسلکہ ورق پر موجود ہے ،جن کوپن ہولڈرز کا کوئی انعام نہیں نکلے گا ان کو بھی کمپنی والے کوئی نہ کوئی انعام ضرور دیں گے۔آیا اس طرح کی انعامی سکیم میں حصہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

خریدار اگر کوپن خرید کر سکیم میں حصہ لیتا ہے اوراسے ان ادویات کی ضرورت ہے ،بیچنے کے لیے یا اپنے استعمال کے لیے اور کوپن میں جو ادویات دی جاتی ہیں، انعام کی وجہ سے ادویات کی قیمت میں اضافہ بھی نہیں کیا جاتااور خریدار اپنی ضرورت کی وجہ سے ادویات خریدتا ہے تو اس سکیم میں حصہ لینا جائز ہے اور اگر صرف انعام کی غرض سے کوپن خریدتا ہے ،ادویات کی ضرورت نہیں ہے تو سکیم میں حصہ لینا درست نہیں،اس میں جوے کا شبہ ہے ۔اگر انعام کی وجہ سے ادویات کی قیمت میں اضافہ کیا جاتا ہے تو سکیم میں حصہ لینا حرام ہے یہ قمار (جوے ) میں داخل ہے۔نوٹ:واضح رہے کہ اس طرح کی سکیمیں بعض کمپنیاںسود اور جوے میں الجھانے کے لیے نکالتی ہیں ، لہذا حتی الوسع ان سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

لمافی” بحوث فی قضایا فقھیۃ معاصرۃ “:(2/159،معارف القرآن)
“الشرط الاول : ان یقع شراءالبضاعۃ بثمن مثلہ ،ولا یزاد فی ثمن البضاعۃ من اجل احتمال الحصول علی الجوائز وھذا لانہ ان زاد البائع علی ثمن المثل ،فالمقدار الزائد انما یدفع من قبل المشتری مقابل الجائز ۃ المحتملۃ فصارت الجائز ۃ بمقابل مالی فلم تبق تبرعا وان ھذا المقابل المالی انما وقع بہ المخاطرۃ فصارت عملیۃ قمارا۔۔۔۔۔ان یکون المشتری یقصد شراءالمنتج للانتفاع بہ ، ولا یشتریہ لمجرد ما یتوقع من الحصول علی الجائزۃ ، لانہ ان لم یکن یقصد شراءالمنتج ،فان ما یبذلہ من الثمن ،انما یبذلہ من اجل الجائزۃ فکان فیہ شبھۃ المخاطرۃ ،فلا یخلو من شبہ القمار۔”
وکذافی القرآن المجید:(سورۃ المائدۃ :90)
وکذافی تفسیر المظہری:(1/266،رشیدیۃ)
وکذافی درالمختار مع رد المحتار:(7/255،256،رشیدیۃ)
وکذافی احکام القرآن :(2/653،قدیمی )
وکذافی جامع البیان:(2/208،دارالمعرفۃ)
وکذافی صفوۃالتفاسیر :(1/366،دار احیاء)
وکذافی الھدایۃ:(3/55،رحمانیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
حافظ عبدالرحیم عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/5/1440،2019/1/9
جلد نمبر :17 فتوی نمبر 81