کیا مچھلی کی کٹائی وصفائی کے دوران کپڑوں پر پڑنے والے چھینٹوں کے ساتھ نمازہو جائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!ہوجائے گی۔

لما فی الھندیہ:(1/46،رشیدیہ)
“ودم السمك ومایعیش فی الماءلا یفسد الثوب فی قول أبی حنیفۃ ومحمد رحمہما اللہ.”
وفی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(1/19، رشیدیہ)
“ودم السمك ومایعیش فی الماءلا یفسد الثوب فی قول أبی حنیفۃ ومحمد رحمہما اللہ.”
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/53،الطارق) وکذافی بدائع الصنائع:(1/195، رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/303، رشیدیہ) وکذا فی التنویرمع شرحہ:(1/209،سعید)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیۃ:(1/432،فاروقیہ) وکذافی المبسوط:(1/57،داراحیاء)
وکذافی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(155،قدیمی)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15شوال المکرم1441، 7جون2020

کیا حفظ کرنے والی بچیاں ایام مخصوص میں تعلیم کی ضرورت سے قرآن پڑھ سکتی ہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حفظ کی طالبہ حالت حیض میں سبق یاد کرنے کےلیے قرآن کریم نہیں پڑھ سکتی، کیونکہ یہ مجبوری نہیں ہے ، البتہ اگر سابقہ کو یاد رکھنا پڑھے بغیر ممکن نہ ہو تو ایک ایک لفظ کر کے پڑھ سکتی ہے، اس لیے کہ سابقہ کو یاد رکھنا مجبوری ہے۔

لما فی الشامیہ:(1/293،سعید)
“انہ جوز للحائض المعلمہ تعلیمہ کلمۃ کلمۃ .”
وفی الھندیہ:(1/38،رشیدیہ)
“واذا حائضۃ المعلمۃ فینبغی لھا ان تعلم کلمۃ کلمۃ و تقطع بین الکلمتین .”
وکذافی جامع الترمذی :(1 /129،رحمانیہ) وکذا فی القدوری:(14،الخلیل)
وکذافی التاتار خانیہ:(1 /480،فاروقیہ) وکذا فی سنن ابن ماجہ:(144،رحمانیہ)
وکذا فی الھدایہ:(1/62،رشیدیہ) وکذافی بدائع الصنائع:(1/136،رشیدیہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
یکم ربیع الثانی1441، 28نومبر2019

ایک آدمی کسی کے بہکاوے میں آکر قادیانی ہوگیا پھر سمجھانے سےواپس اسلام کی طرف لوٹ آیا تو اس کے سابقہ اعمال کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس کے سابقہ اعمال (نماز،روزہ،حج،زکوۃ ،وغیرہ)باطل ہوگئے اوراگرفرض حج کرچکا تھا توبشرط استطاعت حج کی قضاءلازم ہوگی ،اسی طرح اگرمثلاً ظہر کی نماز کے بعد مرتد ہواپھر ظہر کے وقت میں ہی اسلام لیےآیا تو اس پر ظہر کی قضاء لازم ہوگی۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیہ :(7/380،فاروقیہ)
” والرجل اذا حج حجۃ الاسلام ثم ارتد والعیاذباللہ ثم اسلم کان علیہ حجۃ الاسلام وما ادی من الصلاۃ والصیامات فی اسلامہ ثم ارتد تبطل طاعاتہ،ولکن لایجب علیہ قضائھا بعد الاسلام.”
وفیالفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/97،الطارق)
” وتبطل عبادتہ وعلیہ قضاءماترک من عبادۃ فی الاسلام کالصلاۃ والصیام لان ترکھا معصیۃ والمعصیۃ تبقی بعد الردۃ وعلیہ قضاء الحج لانہ بالردۃ صار کالکافر الاصلی فان اسلم وہو غنی فعلیہ الحج لان سببہ البیت الحرام وھو باق بخلاف غیرہ من العبادات التی اداھا بخروج سببھا،ولھذا لوصلی الظہر مثلاً ثم ارتد ثم تاب فی وقت الظہر فعلیہ ان یعید صلاۃ الظہر ببقاء سببہ وھو الوقت .”
وکذا فی تنقیح الفتاوی :(1/194،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی الاشباہ والنظائر:(188،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی:(4/383،رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع:(6/120،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(5/214،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(6/383،دارالمعرفہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/490،المنار )

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
یکم ربیع الثانی1441، 28نومبر2019

کسی شخص کو کھڑے ہوکر نماز پڑھ نے سے قطرے نکلنے کا خطرہ ہو تو کیا ایسا شخص بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے؟اگر بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوے سجدہ وغیرہ کرنے سے قطرے نکلیں تو اشاروں سے نماز پڑھ سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!اگر کسی آدمی کے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے یا رکوع،سجدہ وغیرہ کرنے سے قطرے نکلتے ہوں تو بیٹھ کر یا رکوع وسجود کااشارہ کرکے نماز پڑھ سکتاہے۔

لما فی المحیط البرھانی :(3/39،داراحیاء)
“وکذالک اذا کان بہ جرا حۃ اذا قام سال جرحہ واذا قعد لایسیل اوکان شیخا کبیرا اذاقام سلس بولہ او اذا قعدا ستمسک صلی قاعدا برکوع وسجود وان کان لوسجد سال ایضاقاعد ایؤمی ایماء.”
وفی الفتاوی الولوالجیہ:(1/105،الحرمین شریفین)
“رجل بہ جرح ان صلی قائما لایسیل جرحہ واذا رکع وسجد یسیل جرحہ صلی قائما ویؤمی للرکوع ثم یجلس ویؤمی للسجود لیکون اداء الصلاۃ مع الطھارۃ.”
وکذا فی کتاب المبسوط:(1/277،دار احیاء)
وکذافی المختصر للقدوری:( 33،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع :(1/284،رشدیہ)
وکذافی الدرالمختار :(1 588/،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(1 /136،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/198،)
وکذافی الھدایہ:(1 /136،رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی النوازل:(108،الحقانیہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
یکم ربیع الثانی1441، 28نومبر2019

اگر کسی سے عمرے کی سعی بھول کر یا کسی عذر سے رہ جائے تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بھول کر چھوڑی تو دم ہے،،عذر کی بنا پر چھوڑی تو کوئی چیز نہیں۔

لمافی ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری:(393،509،فاروقیہ)
“ولو ترک السعی کلہ او اکثرہ فعلیہ دم ای لترکہ الواجب وحجہ تام وان ترکہ لعذرفلاشیئ علیہ”
وفی غنیۃ الناسک:(277،ادارۃالقرآن)
” ولو ترک السعی کلہ او اکثرہ فعلیہ دم وحجہ تام عندنا ولو ترکہ لعذر کالزمن اذا لم یجد من یحملہ لا شیئ علیہ.”
وکذافی التنویر مع شرحہ:(2/472،553،سعید) وکذا فی الفتاوی الھندیۃ:(1/247،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیۃ ابن عابدین:(2/543،سعید) وکذافی القدوری:(65،الخلیل)
وکذافی الخانیۃ علی ھامش الھندیۃ:(1/298،301،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالخالق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،17، 9جون 2020

قبرمیں کھجورکےپتوں کی چٹائی بچھاناکیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مکروہ تحریمی ہے۔

لمافی ردالمحتار:(2/234،سعید)
“ویکرہ ان یوضع تحت المیت فی القبرمضربۃاومخدۃاوحصیراونحوذالک۔۔۔۔۔۔۔ فالکراھۃ تحریمۃ.”
وفی حاشیۃالطحطاوی علی مراقی الفلاح:(608،قدیمی)
” ویکرہ ان یوضع تحت المیت فی القبرمضربۃ،اومخدۃ،اوحصیر،اونحوذالک.”
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1536،رشیدیہ) وکذا فی النھرالفائق :(1/401،قدیمی)
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/92،داراحیاء) وکذا فی التاتارخانیہ:(3/68،فاروقیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(6/338،رشیدیہ) وکذا فی مراقی الفلاح :(610،قدیمی)
وکذا فی کتاب الفقہ علی مذاھب الاربعۃ:(1/453،حقانیہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،15، 7جون2020

فقہائے کرام نے قضاء نمازوں کے اداء کرنے کی ترتیب ذکر کی ہے کہ ہر نماز کے بعد ایک نماز کی قضاء کی جائے کیا اسی جگہ قضاء کر سکتے ہیں جہاں فرض نمازیں و سنتیں پڑھی ہیں یا الگ جگہ میں پرپڑھی جائیں گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نمازوں کو قضاء کرنا گناہ ہے اور اس کا اظہار بھی گناہ ہے، لہذا اس طرح قضاء نہ کرے کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ قضاء کر رہا ہے، مثلا فجر اور عصر کے بعد لوگوں کے سامنے قضاء نماز نہ پڑھے کیونکہ اس وقت سنن و نوافل نہیں پڑھے جاتے۔

لمافی العالمکیریہ:(1/192،رشیدیہ)
“ولا یقضی الفوائت فی المسجد وانما یقضیھا فی بیتہ کذا فی الوجیز للکردری.”
وفی الفتاوی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(4/69،رشیدیہ)
“ولایقضی الفوائت فی المسجد وانما یقضیھا فی بیتہ لان التاخیر معصیۃ فلا یظھرھا.”
وکذافی تنویر الابصار مع شرحہ:(1/391،سعید)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/562،رشیدیہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
یکم ربیع الثانی1441، 28نومبر2019

ایک روایت مشہورہےکہ عاجزی کی ایک علامت یہ بھی ہےکہ آدمی اپنےمسلمان بھائی کاجوٹھا پانی پی لے،اورجواپنےبھائی کاجوٹھاپانی پیئےاس کےستردرجات بلند،سترگناہ معاف اورسترنیکیاں لکھی جاتی ہیں۔اس روایت کی تحقیق مطلوب ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ روایت موضوع ہے۔اسمیں “نوح بن ابی مریم”پرشدیدجرح کی گئی ہے۔

لمافی کنزالعمال:(3/115،رحمانیہ)
“من التواضع أن یشرب الرجل من سؤر أخیہ، ومن شرب من سؤر أخیہ رفعت لہ سبعون درجۃ، ومحیت عنہ سبعون خطیئۃ وكتبت لہ سبعون حسنۃ. “الخطیب عن ابن عباس” وفیہ نوح بن أبی مریم وأوردہ ابن الجوزي فی الموضوعات.”
وفی الآلی المصنوعۃفی الاحادیث الموضوعۃ:(2/219،دارالکتب)
” من التواضع أن یشرب الرجل من سؤر أخیہ، ومن شرب من سؤر أخیہ ابتغاءوجہ اللہ تعالٰی رفعت لہ سبعون درجۃ، ومحیت عنہ سبعون خطیئۃ وكتبت لہ سبعون حسنۃ. تفردبہ نوح وہومتروک.”
و فی کشف الخفاءومزیل الالباس:(1/436،الغزالی)
” وأما ما یدور على الألسنۃ من قولھم سؤر المؤمن شفاء فیصدق بہ ما رواہ الدارقطنی فی الأفراد عن ابن عباس رفعہ من التواضع أن یشرب الرجل من سؤر أخیہ، كذا فی المقاصد فما فی موضوعات القاری من أنہما لا أصل لہما فی المرفوع، لعلہ یرید بلفظہ.”
وکذا فی مقاصدالحسنۃ:(239،النوریہ الرضویہ)
وکذا فی مسندالفردوس:(3/636،DKI)
وکذا فی الموضوعات الکبریٰ:(129،قدیمی)
وکذا فی تھذیب الکمال فی اسماءالرجال:(10/366،دارالکتب)
وکذا فی تقریب التھذیب:(2/253،قدیمی)
وکذا فی اکمال تھذیب الکمال:(6/452،DKI)
وکذا فی حاشیۃ مسندالفردوس:(3/636، DKI)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،15، 7جون2020

سلام پھیرتےوقت نظرکہاں ہونی چاہیے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دائیں طرف سلام پھیرتےہوئےدائیں کندھےپراوربائیں طرف سلام پھیرتےہوئےبائیں کندھےپرنظرہونی چاہیے۔

لمافی التنویرمع شرحہ:(1/477،سعید)
“ولھاآداب…..نظرہ…..الیٰ منکبہ الایمن ولایسرعندالتسلیمۃالاولیٰ والثانیۃ لتحصیل الخشوع.”
وفی الفتاویٰ التارخانیۃ:(2/186،فاروقیہ)
“ینبغی ان یکون منتہی بصرہ فی قیامہ الی موضع سجودہ،……..،وعندالتسلیمۃ الاولیٰ الیٰ کتفہ الایمن،وعندالتسلیمۃالثانیۃالیٰ کتفہ الایسر.”
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/503،رشیدیہ) وکذا فی النہرالفائق:(1/202، قدیمی)
وکذا فی الفتایٰ الھندیۃ:(1/72،رشیدیہ) وکذا فی فتاویٰ النوازل:(87،حقانیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/530، رشیدیہ) وکذا فی نورالایضاح:(72،قدیمی)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/127،داراحیاء)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،15، 7جون2020

زید اور عمرو دو بھائی ہیں اور عمرو نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے اس کی لڑکی عمروکی رضاعی بہن ہوئی اب زید کی اس کے ساتھ شادی ہو سکتی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ہوسکتی ہے۔

و فی المختصرالقدوری:( 169،دار احیاء)
“ویجوز ان یتزوج الرجل باخت اخیہ من الرضاع.”
وفی الھندیۃ:(1/343/،رشیدیہ)
“وتحل اخت اخیہ رضاعا.”
وکذا فی صحیح البخاری :(2/272،رحمانیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(4/364/،فاروقیہ)
وکذا فی الفتاوی السراجیہ:(207،زم زم)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،15، 7جون2020