میرا نام عطاءاللہ ہے ،اور میں ہڑپہ کا رہائشی ہوں ۔میری بہن کی شادی 1994میں عبداللہ نامی شخص سے ہوئی جوکہ عارف والا کے قریب چک 39/E.Bمیں کارہائشی تھا اور ہمارا دور کا رشتہ دار تھا ۔میری بہن کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے جوکہ پیدائش کے چند ماہ بعد یکے بعد دیگرے فوت ہوگئے اس کے بعد ایک بیٹی 1997 میں پیدا ہوئی ابھی وہ چارماہ کی تھی کہ اس کی والدہ یعنی میری بہن فوت ہوگئی۔میرے بہنوئی کااور کوئی بھائی بہن یا قریبی رشتہ دار نہ تھا وہ اکیلا39/E.Bمیں میں رہتا تھا ۔ اس کی کوئی جائیداد نہ تھی حتی کہ رہائش کی جگہ بھی کسی زمیندار کی ملکیت تھی وہ ٹھیکہ وغیرہ پر زمین لیتاتھا اور بھینس وغیرہ رکھتا تھا جس سے اس کی گزر بسر ہوتی تھی ۔میری بہن کی وفات کے بعد اس کی بیٹی ہمارے پاس رہی ہم نے اس کی پرورش کی ، میری ایک چھوٹی بہن ہے وہ اس کی دیکھ بھال کرتی رہی ذرا بڑی ہونے پر اسے اسکول داخل کروادیااور اس نےF.Aتک تعلیم حاصل کی ۔اس دوران اس کا باپ یعنی میرا بہنوئی عبداللہ نےبیٹی کا کوئی خیال نہ کیا اور نہ ہی خرچہ وغیرہ دیا ۔صرف ایک دفعہ اس نے دوہزار روپے دیا۔ میری بہن کی وفات کے بعد عبداللہ کی خواہش تھی کہ میں اپنی چھوٹی بہن کا رشتہ ا س سے کردوں ، مگر ہم نے انکار کیا ۔اس بات کا بھی اسے رنج تھا اور اس نے ہم سے یا اپنی بیٹی سے کوئی رابطہ نہ رکھا اور کبھی ہماری غمی خوشی پر بھی نہ آیا البتہ ہمیں اس کا پتہ چلتا رہتا تھا اور ہم کئی بار اس کے پاس بھی گئے۔ جب اس کی بیٹی جوان ہوئی اور کالج میں داخلہ لینا تھا تو اس کے باپ کے شناختی کارڈ کی ضرورت تھی تو ہم اس کے پاس گئے اور گاؤں والوں کے کہنے پر بڑی مشکل سے اس نے اپنے شناختی کارڈ کی کاپی دی ۔بنیادی طور پر عبد اللہ ضدی،کنجوس طبع کا مالک تھا ۔وہ ان پڑھ تھا اور دین سے کوسوں دور تھا ۔ اس کے گھر کے بالکل ساتھ مسجد تھی ،جو کہ بڑی جامع مسجد تھی ۔اس کی شکل وشباہت بھی دین کے بر عکس تھی یعنی داڑھی وغیرہ نہ تھی ۔اور اس نے کبھی مسجد کی خدمت نہ کی تھی ۔اس نے کبھی دس روپے بھی مسجد کو نہ دیے تھے۔ ہم نے اپنی حیثیت کے مطابق اپنی بہن کو جہیز دیا تھا اور کچھ سونا ہم نے ڈالا تھا البتہ زیادہ زیور اس نے شادی کے موقع پر ڈالا تھا۔ ہماری بہن کی وفات کے بعد ہم نے جہیز کا سامان اور سونا واپس نہیں لیا تھا کیونکہ وہ جہیز کا سامان پر ماسوائے سونا کے واپس کرنے پر تیار تھا مگر میرا مطالبہ سونے کا بھی تھا کہ واپس کرے ۔ہمارا خیال تھا کہ جب بچی کی شادی ہوگی تو یہ سب اس کو مل جائے گا ،تقریبا بیس سال میں وہ ایک دو دفعہ ہمارے پاس ہڑپہ آیا۔اور ہم کئی بار گئے ،اس کی بیٹی کو بھی ساتھ لے گئے تھے ۔ دو چار سال پہلے پتا چلا کہ وہ بیمار ہے تو ہم اس کے پاس گئے تھے، دو چار ماہ قبل پتہ چلا کہ وہ سخت بیمار ہے، ہم اس کے پاس گئے اس کی بیٹی بھی ساتھ تھی اور اسے کار میں ڈال کر ہڑپہ لے آئے ،دس بارہ دن وہ ہمارے پاس ٹھہرا وہ بالکل لاغر تھا کیونکہ اسےT.Bتھی ۔اس دوران اس کے گاؤں کےبھی کچھ لوگ اس کا پتہ کرنے ہمارے پاس ہڑپہ آئے ،اس سے ہم نے پوچھا کہ تمہارے پاس کیا کچھ ہے ؟تو وہ صحیح نہیں بتاتا تھا ۔البتہ اس نے کہا کہ آپ کو مل جائے گا لیکن دینے پر رضا مند نہیں ہوتا تھا کہ میری باقی زندگی کیسے گزرے گی؟ جب میں ٹھیک ہو جاؤں گا تو یہ استعمال کروں گا اور یہ بھی کہتا تھا کہ میرے بعد سب کچھ بچی کو مل جائے گا۔ لیکن موقع پر دینے سے گریز تھا ۔اسے مرنے کا یقین نہ تھا ، اور مال سے پیارتھا ۔ جب ہم اسے 39/E.Bمیں سے لے کر آئے تو اس کا یہاں دل نہ لگتا تھا اور ہمیں کہا کہ مجھے واپس چھوڑ آؤ۔ ہم اسے واپس اس کے گاؤں چھوڑ آئے ۔ وہ کبھی کسی کے گھر اور کبھی کسی کے گھر رہتا تھا ۔ کیونکہ اس کا کوئی بھی قریبی رشتہ دار نہ تھا البتہ گاؤں کے لوگ اچھے تھے اور کوئی نہ کوئی اسے اپنے پاس رکھ لیتاتھا۔ جن کے پاس ہم اسے چھوڑکر آئے تھے وہ بھی اس سے تنگ تھے کیونکہ وہ مریض ہونے کے ساتھ ساتھ بدمزاج بھی تھا۔ وہ کب تک برداشت کرتے بالآخر وہ اسے ساہیوال چیک کرانے کے بہانے کار میں ڈال کر ہمارے پاس ہڑپہ چھوڑنے آئے مگر وہ واپس جانے پر اصرار کرتا رہا ۔ تو انہوں نے کہاکہ ہم آج رات ہڑپہ کے علاقے میں کسی دوست کے پاس ہیں کل صبح آپ کو لے جائیں گے ۔وہ یہ بہانہ کرکے چلے گئے اور اگلی صبح واپس نہ آئے ۔ تو پھر دو تین دن کے بعد اس نے کہا کہ خرچہ میں کرتا ہوں اور مجھے واپس چھوڑآؤتو ہم اسے پھر واپس 39/E.Bمیں کسی اور کے گھر جہاں اس نے کہا چھوڑ آئے اب تقریبا دوماہ بعد اس نے کئی گھر تبدیل کیے اسی دوران تقریبا بیس روز قبل گاؤں کےخالد نامی شخص نےجس کے پاس اس کا مال تھا فون کیا کہ اب عبداللہ راضی ہوگیا ہے آپ آئیں مال لے جائیں مگر ہم نہیں گئے کیونکہ وہ پہلے بھی کہتاتھا مگر مال نہیں دیتا تھا ۔ آج سے تقریبا پندرہ دن قبل خالد وغیرہ نے اس کا مال اور روپے گن کر واپس کردیے تو وہ مال مشتاق نامی شخص کے پاس لے گیا ۔ اس سے قبل مسجد کے امام اور زمان نامی شخص کے پاس بھی مال رکھنا چاہا مگر انہوں نے نہ رکھا تو عبداللہ نے مشتاق کے پوتے اسامہ کو ساتھ لیا موٹر سائیکل پر دو کلومیٹر دور گاؤں 31/E.Bکے حاجی سرور ارائیں کے حوالے کردیا۔ بقول اسامہ کے عبداللہ نے سرور کو کہا کہ یہ مال آپ رکھیں، حاجی سرور جس کا گاؤں میں مدرسہ ہے ۔ اب مال رکھنے کے تقریبا دس دن بعد فون آیا کہ عبداللہ فوت ہوگیا ہے ۔ اب کیا کرنا ہے؟ ہم نے پوچھا کہ اس نے کیا وصیت کی تھی ؟ تو انہوں نے کہا کہ اس نے کہا تھا کہ مجھے وہاں نہ بھیجنا اور یہیں دفن کردینا ۔ پھر ہم گئے اور جنازہ کروایا اور دفن کردیا۔ تو اس وقت لوگوں نے کہاکہ اس کا مال سرور کے پاس ہے، کچھ مال غلام فرید کے پاس ہے جس کے گھر وفات ہوئی ۔ اور کچھ مال یوسف جھجھے کے پاس ہے۔ جو انہوں نے دے دیا ہے۔گاؤں کے کسی شخص نے یہ نہیں کہا کہ اس نے کہا ہو کہ میرا مال مسجد یا مدرسے کو دے دینا۔ تین دن کے بعد ہم حاجی سرور کے پاس گاؤں کے معززین اور نمبر دار کو لے کر گئے۔ اسامہ بھی ساتھ تھا۔ گاؤں والوں نے حاجی سرور کو کہا کہ عبداللہ کی بیٹی ، اس کا ماموں اور خالو آئے ہیں، یہ مال اب بیٹی کا ہے کہ آپ کی بیوی کے پاس اپنی خالہ کے ساتھ بیٹھی ہے ۔آپ یہ واپس کردیں تو حاجی سرور نے کہا کہ میں یہ مال واپس نہیں کرتا کیونکہ عبداللہ نے کہا تھا کہ میرے بعد مال مدرسے کو دے دینا۔ تو ہم نے حاجی سرور سے پوچھا کہ اس بات کا کوئی گواہ آپ کے پاس ہے؟ تو اس نے کہا کہ کوئی گواہ نہیں ہے۔ ہم نے کہا کہ اسامہ ہے جو عبداللہ کے ساتھ آیا تھا ۔ وہ تھا؟ اس نے کہا وہ ساتھ تھا۔ تو اسامہ سے پوچھا کہ جب آپ مال رکھنے آئے تھے تو کیا بات ہوئی ؟ تو اسامہ نے بتایا کہ عبداللہ نے کہا تھا کہ آپ یہ مال رکھیں اور آپ نے ہی کرنا ہے جو کریں۔ تو حاجی سرور نے کہا کہ اگر یہ مال مدرسے کو دے دیں؟ تو عبداللہ نے کہا کہ آپ نے ہی کرنا ہے جیسے چاہیں۔ عبداللہ کا مدرسے کو مال دینے کا ہرگز ارادہ، نہ تھابلکہ اسے حاجی سرور پر یہ اعتماد تھا کہ میرا مال ضائع نہیں ہوگا اور اگر میں بچ گیا تو مجھے یہ مل جائے گا۔ عبداللہ نے اپنی بیٹی کا ذکر حاجی سرور کو نہیں کیا تھا۔ اب حاجی سرور سے یہ بات طے ہوئی ہے کہ جیسے مفتی صاحب فتوی دیں ویسے کریں گے۔ اب کیا کرنا ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

مذکورہ صورت حال سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مرحوم عبد اللہ نے حاجی سرور کو اپنے مال کا وکیل بنا کر اسے ہر قسم کے تصرف کا حق دے رکھا تھا اور حاجی سرور کے مدرسے ،سے متعلق بات کرنے پر اس کا یہ کہنا “آپ نے ہی کرنا ہے جو کرنا چاہیں ” یہ اس مال سے متعلق وصیت ہے اور یہ وصیت ایک تہائی مال تک نافذ ہوگی ۔ لہذا بندے اور اللہ کے درمیان جو معاملہ ہے اس کے لحاظ سے ورثاء اس مال کا دوتہائی(3/2) اپنے پاس رکھ لیں اور ایک تہائی(3/1)حاجی سرور کے حوالے کردیں ۔
فتوی کی رو سے جو حکم تھا وہ تحریر کر دیا گیا ۔ اب اگریہ معاملہ عدالت میں جائے تو گواہی پوری نہ ہونے کی وجہ سے قاضی اس اعتبار سے فیصلہ تبدیل بھی کرسکتا ہے۔

لما فی سورۃ النساء:(58)
“إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا۔۔۔۔۔”
و فی شرح المجلۃ:(3/294،رشیدیۃ)
“المادۃ802۔]اذا مات المودع تسلم الودیعۃ لوارثہ[“
وفی التاتار خانیۃ:(19/381،فاروقیۃ)
“رجل اوصی بجمیع مالہ للفقراء ، او لرجل بعینہ لا تجوز الا من الثلث۔۔۔”
وکذا فی الفتاوی العالمکیریة:(4 /354، رشیدیة)
وکذافی تنویر الابصار وشرحہ مع رد المحتار:(8 /526 ،دارا لمعرفۃ)
وکذا فی درر الحکام :(2/330،المکتبۃ العربیۃ)
وکذا فی مجلۃ الاحکام العدلیۃ:(154،قدیمی)
وکذا فی المبسوط:(11/131،130، دار المعرفة)
وکذا فی الموسوعۃ الفقہیۃ:(43/33، علو م اسلامیۃ)
وکذافی کذا فی التاتار خانیۃ:(16/ 51،فاروقیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/5/1440
9/1/2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر :82

عورت نماز پڑھتے ہوئے،تکبیر کہنے کے لیے جب ہاتھ اٹھائے گی تو ہاتھ ڈوپٹہ سے باہر نکالے گی یانہیں؟

الجواب باسم ملہم الصواب

عورت کو ہاتھ ڈوپٹے سےباہر نہیں نکالنے چاہییں۔

لما فی بدائع الصنائع:(1/466،رشیدیہ)
فأما المرأة فلم يذكر حكمها في ظاهر الرواية.وروى الحسن عن أبي حنيفة أنها ترفع يديها حذاء أذنيها كالرجل سواء؛ لأن كفيها ليسا بعورة، وروى محمد بن مقاتل الرازي عن أصحابنا أنها ترفع يديها حذو منكبيها لأن ذلك أستر لها وبناء أمرهن على الستر ۔۔۔۔۔۔والمرأة تفعل كأستر ما يكون لها۔
وفی مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی:(276،قدیمی)
“(إخراج الرجل كفيه من كميه عند التكبير) للإحرام لقربه من التواضع إلا لضرورة كبرد. والمرأة تستر كفيها حذرا من كشف ذراعيها۔”
وکذافی المحیط البرھانی:(2/31،دار احیاءتراث) ،وکذافی تنویر الابصارمع رد المحتار:(2/222،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة مع فتح القدیر(1/287، رشیدیہ)،و کذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/215،الطارق)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/73، رشیدیہ )،وکذ افی البحر الرائق :(1/532،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (2/49، فاروقیہ)،وکذا فی تبیین الحقائق:(1/109،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1440
6/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :72

رمضان کے روزے چل رہے تھے کہ اس حالت میں شوہر نے بیوی سے جماع کر لیا پھر اسی روز شوہر شرعی سفر پر چلا گیا اور بیوی کو حیض شروع ہو گیا تو اب دونوں کے لیے قضا اور کفارے کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملہم ا لصواب

صورت مسئولہ میں شوہر تو قضا اور کفارہ دونوں ادا کرے گا ،جبکہ بیوی کےذمہ صرف قضا ہے۔

لما فی التاتارخانیة:(3/423،فاروقیة)
“إذا جامع امرأته في نهار رمضان، ثم حاضت امرأته، اومرضت في ذلك اليوم سقطت عنھاالکفارة عندنا.۔۔۔۔ م :وإذا جامع أو أكل أو شرب، ثم سافر في ذلك اليوم لا تسقط عنه الكفارة

 

ولمافی المحیط البرھانی:(3/366،دار احیاءتراث العربی)
“إذا جامع امرأته في نهار رمضان، ثم حاضت امرأته، اومرضت في ذلك اليوم لا كفارة عليها عندنا.۔۔۔۔ وإذا جامع أو أكل أو شرب، ثم سافر في ذلك اليوم لا یسقط عنه الكفارة”
وفی بدائع الصنائع:(2/258، رشیدیة)
“ولو أفطر وهو مقيم فوجبت عليه الكفارة ثم سافر في يومه ذلك لم تسقط عنه الكفارة،۔۔۔۔۔۔۔وكذلك إذا أفطرت المرأة ثم حاضت في ذلك اليوم أو نفست سقطت عنها الكفارة۔”
وکذا فی فتح القدیر:(2/342، رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/421،الطارق)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریة:(1/207،206، رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(2/484، رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار مع رد المحتار:(3/448،دار المعرفة)
وکذا فی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار:(1/458، رشیدیة)
وکذا فی الجوھرۃالنیرۃ:(1/339،قدیمی)
وکذا فی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار:(2 /136، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1440
6/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :71

 

 

میری بہن کا مسئلہ ہے۔ لڑائی کے دوران شوہر نے بیوی سے کہا: جا میں نے تجھے طلاق دی ،تین مرتبہ کہا۔میری بہن گھر سے باہر جانے لگی تو اس کا ، میاں واپس لے آیا۔اب بھی میری بہن اس کے پاس رہتی ہے، پانچ بچے ہیں ، مگر اب وہ کہتا ہے کہ میں چھوڑنا نہیں چاہتا۔اب وہ لوگ کیا کریں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جب اس کے شوہر نے اس کو تین طلاق دے دی تو اب وہ اپنے شوہر پر حرام ہو گئی ہے، اب ان دونوں کا اکٹھا رہنا حرام اور سخت گناہ ہے۔ دونوں میں فورا علیحدگی کروائی جائے اور وہ اپنے سابقہ گناہ پر توبہ و استغفار بھی کریں۔
احادیث صحیحہ کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاق تین ہی واقع ہوتی ہیں۔ اس پر متعدد مرفوع احادیث موجود ہیں:(1)چنانچہ صحاح ستہ میں سے”ابو داؤد شریف”میں حضرت عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے حضورﷺ کے سامنے تین طلاق دی تھیں تو حضورﷺ نےانہیں نافذ فرمادیا تھا۔

” عن سهل بن سعد، في هذا الخبر، قال: فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأنفذه رسول الله صلى الله عليه وسلم. ”

(سنن ابی داؤد: 2/140،دار الکتب)
ترجمہ:حضرت سہل بن سعد سے اس خبر(حضرت عویمر عجلانی کے واقعہ لعان) کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت عویمر نے حضورﷺ کے سامنے تین طلاقیں دیں تو حضورﷺ نے ان کو نافذ کر دیا۔(2)”سنن دارقطنی ” میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی نے اپنی بیوی کو فرمادیا تھا “اذھبی فانت طالق ثلاثا”(جا تجھے تین طلاق ) عدت گزارنے کے بعد آپ نے اپنی مطلقہ کو کچھ ہدیہ وغیرہ بھیجا تو اس خاتون نے کہا”متاع قلیل من حبیب مفارق”(آپ سے جدائی کے بدلے میں یہ بہت تھوڑا ہے)اور وہ چیز قبول کرنے سے انکار کردیا۔جب یہ بات حضرت حسن کو معلوم ہوئی تو آپ رونے لگے اور فرمایا:

“لولا أني سمعت جدي أو حدثني أبي أنه سمع جدي يقول: أيما رجل طلق امرأته ثلاثا مبهمة أو ثلاثا عند الاقراء لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره لراجعتها. ”
(سنن الدار قطنی: 4/20، دارالکتب)
ترجمہ: اگر میں نے اپنے نا نا (حضورﷺ)سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ”جس شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دے دی ہوں یا تین طہروں میں تین طلاقیں دے دی ہوں تو وہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے” تو میں اس سے رجوع کر لیتا ۔(3)حضرت عبد اللہ بن عمر نے حالت حیض میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی، حضورﷺ کو معلوم ہوا تو آپﷺ نے رجوع کا حکم دیا اس موقع پر حضرت عبد اللہ بن عمر نے دریافت کیا:
“يا رسول الله أفرأيت لو أني طلقتها ثلاثا كان يحل لي أن أراجعها؟ قال: “لا كانت تبين منك وتكون معصية. ”
(السنن الکبری للبیھقی:7/546، دار الکتب)
ترجمہ: اے اللہ کے رسول!آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں تین طلاقیں دے دیتا، تو میرے لیے رجوع حلال ہوتا؟آپﷺ نے فرمایا : نہیں، وہ تجھ سے جدا ہوجاتی اور گناہ بھی ہوتا۔
(4)”سنن دار قطنی”میں ہے:
” أن حفص بن المغيرة طلق امرأته فاطمة بنت قيس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث تطليقات في كلمة واحدة , فأبانها منه النبي صلى الله عليه وسلم. ”
(سنن الدارقطنی: 4/10، دار الکتب)
ترجمہ: حضرت حفص بن مغیرہ نے حضورﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو ایک کلمہ سے تین طلاقیں دیں تو آپﷺ نے ان کی بیوی کو ان سے جدا کر دیا۔
(5)”بیہقی”اور “مصنف ابن ابی شیبہ”میں حضرت علی کا فیصلہ موجود ہے:
“جاء رجل إلى علي فقال: إني طلقت امرأتي ألفا قال: بانت منك بثلاث، واقسم سائرها بين نسائك. ”
(السنن الکبری للبیھقی: 7/548، دار الکتب، ومصنف ابن ابی شیبہ: 4/63، دار الکتب)
ترجمہ: ایک آدمی حضرت علی کے پاس آکر کہنے لگا میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دی ہیں۔آپ نے فرمایا تین طلاق سے تیری بیوی تجھ پر حرام ہو گئی اور باقی طلاقیں عورتوں میں تقسیم کر دے۔
(6)ایک ہی مجلس کی تین طلاق کے بارے میں حضرت عمران بن حصین کا فیصلہ ملاحظہ فرمائیں:
“سئل عمران بن حصين عن رجل طلق امرأته ثلاثا في مجلس، قال: أثم بربه، وحرمت عليه امرأته. ”
(مصنف ابن ابی شیبہ: 4/ 62، دارالکتب)
ترجمہ: حضرت عمران بن حصین سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے ایک ہی مجلس میں تین طلاق دیں، فرمایا: اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اس کی بیوی اس پر حرام ہو گئی۔
آیت”الطلاق مرتان”سے استدلال اس لیے درست نہیں کہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ رجوع کا حق دو طلاق تک ہے تیسری کے بعد رجوع کا کوئی اختیار نہیں اور قرآن کریم میں ایک مجلس یا ایک جملہ کی کوئی قید وغیرہ نہیں، لہذا جو آدمی بھی دو سے زیادہ یعنی تین طلاق دے، اس آیت کی رو سے اس کے لیے رجوع کا اختیار نہیں، جب تک یہ عورت آگے دوسرا نکاح نہ کر لے، جیساکہ اگلی آیت میں اس کا ذکر ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ(البقرۃ:30)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19-07-1440، 2019-03-27
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :70

ایک بیوہ کا حصہ عدالت نے ان کے نام کر دیا ہے جبکہ وہ حصہ مسلسل ان کے کچھ رشتہ داروں کے استعمال میں ہے اور وہ ادا کرنے کو تیار نہیں تو اس کا کیا حل کیا جائے ۔اور وہ جو استعمال کررہے ہیں ان کا استعمال کرنا کیسا ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

کسی مسلمان کا مال نا حق استعمال کرنا یا اس پر قبضہ جما لینا نہایت ہی سنگین جرم ہے اور جبکہ یہ مال کسی بیوہ کا ہو تو اس کی قباحت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ جو شخص ایسا کام کررہا ہے تو مناسب انداز میں اسے اللہ کا خوف دلا کراور اس کے اندر فکر آخرت پیدا کر کے اس سے اس بیوہ کے حصہ کا مطالبہ کیا جا ئے ، کسی مؤثر شخصیت کے ذریعے جا ئز طریقے سے ان پر دباؤ بھی ڈالا جا سکتا ہے ۔
اور وہ لوگ جو جائیداد ناحق استعمال کر رہے ہیں ان کے لیے یہ استعما ل بالکل نا جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی ان کے لیے حلال نہیں ۔لہذا جتنی جلدی ہو سکے ان کو چاہیے کہ یہ مغصوبہ جائیداد واپس کر دیں ۔

لما فی مصنف ابن ابی شیبہ:(4/453،دار الکتب)
“حدثنا أبو بكر ۔۔۔۔۔۔۔عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((من أخذ شبرا من الأرض طوق يوم القيامة من سبع أرضين))”
وفی الشامیہ :(9/305،دار المعرفہ)
“قوله (ويجب رد عين المغصوب) ۔۔۔۔لقوله عليه الصلاة والسلام ((لا يحل لأحدكم أن يأخذ مال أخيه لاعبا ولا جادا، وإن أخذه فليرده عليه)) زيلعي۔”
و فی التفسیر المظہری:(6/263، رشیدیہ)
والذين إذا أصابهم البغي اى الظلم والعدوان هم ينتصرون اى ينتقمون ممن ظلمهم من غير ان يعتدوا قال ابن زيد جعل الله المؤمنين صنفين صنفا يعفون عن ظالميهم وصنفا ينتقمون منهم وهم الذين ذكروا فى هذه الاية۔
وکذا فی سنن ابی داؤد:(2/146، رحمانیہ)
وکذا فی روح المعانی:(25/48،دار احیاء التراث العربی)
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/139،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/209،الطارق)
وکذا فی الھدایہ مع فتح القدیر:(9/321الی 323،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(16/426،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(8/208،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29 /4/1440
6/1/2019

   جلد نمبر :17 فتوی نمبر :69

اگر جانور ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملہم الصواب

بھول کر بسم اللہ چھوٹنے سے وہ جانور حلال ہوجاتا ہے مگر جان بوجھ کر چھوڑ دینے سے حرام ہو جاتا ہے

لما فی رد المحتار:( 9/499، دار المعرفہ)
(قوله فإن تركها ناسيا حل) قدمنا عن الحقائق والبزازية
أن في معنى الناسي من تركها جهلا بشرطيتها۔
وفی الفتاوی الھندیة:( 5/288، رشیدیہ)
“ولا تحل ذبيحة تارك التسمية عمدا، وإن تركها ناسيا تحل۔”
وکذا فی المبسوط :(11/236، دار المعرفہ)
وکذا فی فتح القدیر: (9/500، رشیدیہ)
وکذا فی اعلاء السنن: (17/66، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ)
وکذ افی تکملة البحر الرائق :(8/308، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (17/401، فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: (5/182،الطارق)
وکذا فی تبیین الحقائق :(5/288، امدادیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع: (4/168،167، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/4/1440،19/12/2018
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:63

عشر کی ادائیگی میں فصل اور زمین پر ہونے والے اخراجات کو منہا کرنے کا کیا حکم ہے؟جیسا کے آج کل کے حالات میں زمیندار کی آمدن بہت کم اور اخراجات حد سے بڑھے ہوئے ہیں، حتی کہ فصل کی کل یا اکثر آمدن ، باردانہ، مزدوری، کھاد، سپرے اور کرائے پر لیےگئے زرعی آلات کی نذر ہونے کی صورتیں بھی پیش آتی ہیں۔ متوسط اور چھوٹے درجے کے زمیندار اکثر مقروض رہتے ہیں ،ایک فصل کے اخراجات کا قرض ابھی پورا نہیں ہوتا کہ نئی فصل کی تیاری کاقرض چڑھ جاتاہے؟ تو کیا ان جیسے حالات میں ہمارے فقہی مآخذ میں کوئی ایسی صورت ہے کہ جس میں اخراجات منہا کر کے عشر ادا کیا جائے؟مفصل جواب مطلوب ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

فصل کی تیاری پر آنے والے اخراجات منہا کیےبغیر عشر ادا کیا جائے،جب کسان عشر ادا کرکے اللہ تعالی کا حکم پورا کرے گا تو اللہ کریم بھی رزق میں اضافہ و برکت دے گا۔انشاءاللہ ۔ البتہ جہاں تک مقروض کا تعلق ہے تو اگر زمیندارمستحق زکاۃ ہو تو اپنی پیداوار کا عشر خود بھی استعمال کرسکتا ہے۔

لما فی بدائع الصنائع: (2 /185 ،رشیدیہ )
“ولا يحتسب لصاحب الأرض ما أنفق على الغلة من سقي، أو عمارة، أو أجر الحافظ، أو أجر العمال، أو نفقة البقر. “
وفی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: ( 23/289 ،علوم اسلامیہ )
ذهب الحنفية إلى أن العشر أو نصفه على التفصيل المتقدم يؤخذ من كل الخارج، فلا يطرح منه البذر الذي بذره ولا أجرة العمال أو كري الأنهار أو أجرة الحافظ ونحو ذلك بل يجب العشر في الكل. “
وفی التاتارخانیہ : (3 /292 ،فاروقیہ-کوئٹہ )
” وان کان من علیہ العشر فقیرا محتاجا الی العشر فترک ذلک علیہ جائز، وکان صدقۃ علیہ. “
وکذا فی البحرالرائق : (2 /416 ،رشیدیہ ) وکذافی المحیط البرھانی: (3 /290 ،دار احیاء التراث )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (3 / 1894، رشیدیہ) وکذا فی الھندیہ: (1 /187 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14-09-1440، 2019-05-20
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :62

درج ذیل مسائل کے بارے میں راہنمائی چاہیے :۔1) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے با رے میں عمومی طور پر علماء سے سنا ہے کہ یکم محرم الحرام میں ہوئی تھی جبکہ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ یہ بات تحقیقی نہیں ہے بلکہ عربی کتب تاریخ میں کہیں بھی یکم محرم کو وفات ثابت نہیں ،البتہ اکثر کتب تاریخ میں ذوالحجہ کے آخری ہفتہ میں وفات ثابت ہے ۔اب صحیح بات کیاہے ؟اور اگر عربی کتب سے کوئی حوالہ جات بھی مل جا ئیں تو بہت مہر بانی ہو گی۔2)عورتوں کا قبرستان جانا جائز ہے یا نہیں ؟جبکہ ایسے اوقات میں جائیں جب وہاں کوئی اجنبی مرد نہ ہوں اور کسی قسم کی بدعات اور شرکیہ افعال نہ کیے جائیں ۔کتاب وسنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں ۔

الجواب باسم ملہم الصواب

تمام کتب تاریخ اس بات پر متفق نظر آتی ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ذوالحج کے آخری دنوں میں ہوا ، بعض کے نزدیک ذوالحج ختم ہونے سے تین دن پہلے اور بعض کے نزدیک چار دن پہلے(یعنی26،25یا27 ذوالحج) اور متعدد تاریخ دانوں نے اسی تاریخ کو یوم وفات قرار دیاہے۔ اور بعض نے یکم محرم کو تدفین کا دن قرار دیا ہے ،مؤخر الذکر قول زبان زد عام ہے اور اسی کو قبولیت و شہرت حا صل ہوئی ہے۔

اور یہ بات اس لیے بھی دل کو لگتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حملہ کے فورا ًبعد شہید نہیں ہوئے بلکہ تقریبا 3دن مرض الموت میں رہنے کے بعد فوت ہوئے ،لیکن حملہ چونکہ ذوالحج کے آخرکی کسی تاریخ میں ہوا تھا اس لیے اسی کو تاریخ وفات قرار دے دیا ہے۔2)اس مسئلہ میں فقہاء کرام کا اختلاف ہے اکثر فقہاء عورتوں کو قبرستان جانے سے مطلقا ًمنع کرتے ہیں جبکہ بعض اس کی اجازت بھی دیتے ہیں ۔
ہماری رائے اس مسئلہ میں یہ ہے کہ عورتوں کو مطلقا ًتو جانے کی اجازت نہیں البتہ کبھی کبھارمحرم کے ساتھ یا ایک ،دو عورتیں مل کر کسی محرم یا قریبی رشتہ دارکی قبر کی زیارت کے لیے جائیں تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے ، اس میں یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ عورتیں گروہ بنا کر ،ٹولیوں کی شکل میں نہ جائیں ۔

 

لما فی البدایۃ و النھایۃ:(7/111،دار الکتب العلمیۃ)
“وأوصى من يستخلف بعده بالناس خيرا على طبقاتهم ومراتبهم، ومات رضي اللّٰه عنه بعد ثلاث، ودفن في يوم الأحد مستهل المحرم من سنة أربع وعشرين۔”
وفی سیر اعلام النبلاء:(2/531،دار الفکر)
 وقال معدان بن أبي طلحة: أصيب عمر يوم الأربعاء لأربع بقين من ذي الحجة. وكذا قال زيد بن أسلم وغير واحد. وقال إسماعيل بن محمد بن سعد بن أبي وقاص: إنه دفن يوم الأحد مستهل المحرم.
وکذا فی المستدرک علی الصحیحین:(3/306،قدیمی)
وکذا فی اسد الغابۃ:(2/914،الوحیدة)
وکذا فی الطبقات الکبری:195/2(عمریۃ)
وفی الفتاوی الھندیة:( 5/350، رشیدیہ)
” واختلف المشايخ رحمهم اللّٰه تعالى في زيارة القبور للنساء قال شمس الأئمة السرخسي – رحمه اللّٰه تعالى – الأصح أنه لا بأس بها “
وفی البحر الرائق:(2/342، رشیدیہ)
“قال في البدائع، ولا بأس بزيارة القبور ۔۔۔۔۔وقيل تحرم على النساء والأصح أن الرخصة ثابتة لهما “
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/65، رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (18/160،فاروقیہ)
وکذا فی المبسوط :(24/10، دار المعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/4/1440
19/12/2018

جلد نمبر :17
فتوی نمبر :62

پوچھنا یہ ہے کہ بعض علاقوں میں یہ مروج ہے کہ سینگ والی بکری کے سینگ جلاتے ہیں اور بعض کاٹتے ہیں جس سے قیمت میں بھی اور جانور کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اورمقصود بھی یہی ہوتاہے۔ آیا اس طرح کرنا درست ہے یا نہیں؟2)ایک آدمی دوسرے سے بکرے کا گوشت خریدتا ہے گائے کے گوشت کے بدلے مثلا ایک کلو گوشت بکرے کا لے کر دو کلو گوشت گائے کا دیتا ہے تو کیا یہ طریقہ درست ہے؟اگر بکرے کے گوشت کا تبادلہ بکرے کے گوشت کے ساتھ کیا جائے کمی بیشی کے ساتھ تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

محض قیمت میں اضافے کے لیے جانور کے ساتھ اس طرح کا ظلم درست نہیں۔2)گائے کے گوشت کا بکرے کے گوشت کے ساتھ کمی بیشی سے تبادلہ نقد کی صورت میں جائز ہے، ادھار جائز نہیں۔ جبکہ بکرے کے گوشت کا بکرے کے گوشت سے کمی بیشی کے ساتھ تبادلہ جائز نہیں۔

لما فی الصحیح للامام مسلم رحمہ اللہ: ( 2/ 161 ، رحمانیہ)
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، ۔۔۔عن شداد بن أوس، قال: ثنتان حفظتهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «إن الله كتب الإحسان على كل شيء، فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، وليحد أحدكم شفرته، فليرح ذبيحته»
وفی بدائع الصنائع : ( 4/ 410 ،رشیدیہ )
وإن اختلف الأصلان اختلف اللحمان فيجوز بيع أحدهما بالآخر متساويا، ومتفاضلا بعد أن يكون يدا بيد، ولا يجوز نسيئة لوجود أحدوصفي علة ربا الفضل وهو الوزن .
وکذافی العنایہ علی ھامش فتح القدیر: ( 7/ 25، رشیدیہ) وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیہ: (2 / 568،قدیمی )
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ: (3/120 ،رشیدیہ ) وکذافی التنویر و شرحہ مع ھاشیہ الطحطاوی: (4 /361 ،رشیدیہ )
وکذا فی الشامیہ: (9 /640 ،دار المعرفہ ) وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ: (22 /69 ،علوم اسلامیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15-07-1440، 23-06-2019
جلد نمبر:18 فتوی نمبر :53

اسلام قبول کرنے سے متعلق آداب و احکام اور مسائل تحریر فرمادیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اسلام قبول کرنے کے آداب
جو شخص اسلام قبول کرے تو وہ مندرجہ ذیل تین کام کرے۔(1)سب سے پہلے غسل کرکے صاف ستھرے کپڑے پہن لے۔(2)پھر کسی اللہ والے کی مجلس میں حاضر ہو کر کلمہ شہادت پڑھے ۔(3)اسلام کے علاوہ باقی تمام ادیان سے برائت کا اعلان کرے،اور اسے ”صفت ایمان مُفَصَّل“ و”مُجمَل“ کی بھی تلقین کرائی جائے۔
جب اسلام قبول کرچکے تو درج ذیل تین باتوں کا اہتمام کرے۔(1)کسی متبع شریعت اللہ والے کے ہاتھ پر بیعت کرلے۔(2)جتنا جلد ہو سکے روزمرہ زندگی کے تمام احکام دین بالخصوص نماز و قرآن سیکھنے کا اہتمام کرے۔(3)اگر اس کے نام کے معنی میں شرک یا ناپسندیدگی پائی جاتی ہو تو اسے تبدیل کر کے اچھا نام تجویز کردیا جائے۔

لما فی صحیح البخاری: (1 / 384 ، رحمانیہ)
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن إسماعيل، عن قيس، سمعت جريرا رضي الله عنه، يقول: بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والسمع والطاعة، والنصح لكل مسلم .
وفی فتح القدیر: ( 6/ 66،رشیدیہ )
وفي شرح الطحاوي: سئل أبو يوسف عن الرجل كيف يسلم؟ فقال: يقول أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله، ويقر بما جاء به من عند الله، ويتبرأ من الدين الذي انتحله.
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (4 / 2753، رشیدیہ)
ويسن أن تغير الأسماء القبيحة، وما يتطير بنفيه لخبر مسلم:((أنه صلّى الله عليه وسلم غيَّر اسم عاصية، وقال: أنت جميلة)). وفي الصحيحين أنه غير اسم بَرّة إلى زينب، وهي زينب بنت جحش.
وفی فتح الباری: ( 8/ 109و111 ، قدیمی)
فقال: ((أطلقوا ثمامة)) فانطلق إلى نخل قريب من المسجد، فاغتسل ثم دخل المسجد، فقال: أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا رسول الله، يا محمد، والله ما كان على الأرض وجه أبغض إلي من وجهك، فقد أصبح وجهك أحب الوجوه إلي، والله ما كان من دين أبغض إلي من دينك، فأصبح دينك أحب الدين إلي، والله ما كان من بلد أبغض إلي من بلدك، فأصبح بلدك أحب البلاد إلي، وإن خيلك أخذتني وأنا أريد العمرة، فماذا ترى؟ فبشره رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمره أن يعتمر[وبعد صفحہ]وفی قصة ثمامة من الفوائد ۔۔۔ وفيه الاغتسال عند الإسلام .
وکذا فی حیاۃ الصحابہ: ( 1/141و 144و157، دار المعرفہ)
وکذافی البحر الرائق : (5 / 216، رشیدیہ)
وکذا فی التنویر وشرحہ مع الشامیہ: (1 / 339، دار المعرفہ)
وکذافی الموسوعہ الفقہیہ: (4 / 263 ، علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
دار الافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
28-02-2019 ,1440-06-22
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :52