جمعہ سے پہلے والی سنتیں اگر رہ جائیں،تو کیا ان کو بعد میں ادا کرنا ضروری ہے؟نوافل سے پہلے ادا کریں گے یا بعد میں؟

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں!یہ سنتیں بعد میں ضرور ادا کرنا چاہیے،ان سنتوں کی حدیث میں بہت فضیلت بیان کی گئی ہے اور نوافل کو ان سے مؤخر کرنا چاہیے۔

لمافی الفتاوی الھندیة:(1/112،رشیدیة)
وأماالأربع قبل الظھر إذافاتتہ وحدہابان شرع فی صلوۃ الإمام ولم یشتغل بالأربع فعامتھم علی أنہ یقضیھابعدالفراغ من الظھر ما دام الوقت باقیا وھوالصحیح وعلیہ الفتوی
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(2/302،رشیدیة)
وأمالأربع قبل الظھر إذافاتتہ وحدھا،بأن شرع فی صلوۃ الإمام ولم یشتغل بالأربع ،ھل یقضیھا بعد الفراغ من الظھر ما دامت الوقت باقیا؟فقد اختلف المشایخ فیہ،بعضھم قالوالا یقضیھا ،وعامتھم علی أنہ یقضیھا وھکذا روی عن أبی حنیفۃ
وفی الفتاوی الھندیة:(1/112،رشیدیة)
وفی الحقائق یقدّم الرکعتین عندھماوقال محمدرحمھم اللہ تعالیٰ یقد الأربع وعلیہ الفتوی
وفی المحیط البرھانی:(2/235،داراحیاتراث)
وفی الفتاوی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(2/1058،رشیدیة)
وفی ردالمحتارعلی الدرالمختار:(2/525،رشیدیة)
وفی الفتاوی السراجیة:(118،زمزم کراچی)
وفی جوھرۃ النیرۃ:(1/188،قدیمی)
وفی غنیة المتملی :399،رشیدیة)
وفی الفقہ الحنفی:(1/298،الطارق)
وفی بدائع الصنائع:(1/643،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/8/1443/2022/3/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:37

ایک شخص جماعت میں گیا ہوا تھا وہیں فوت ہوگیا،بعض حضرات اس کو شہید کہہ رہے ہیں ،کیا یہ شخص شہید ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جماعت میں فوت ہونے والے شخص کو حکماًشہید کہہ سکتے ہیں۔

لمافی المعجم الکبیر للطبرانی:(5/364،بیروت)
قال:ان شہداءامتی اذن لقلیل:المقتول فی سبیل اللہ شہید،والمرءیموت علی فراشہ فی سبیل اللہ شہید۔۔۔۔۔۔۔
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1589،رشیدیة)
شہید فی حکم الآخرۃفقط۔۔۔۔۔۔۔طالب العلم اذا مات علی طلبہ۔۔۔۔۔۔قال الحنابلۃ:ومن مات فی سبیل اللہ کمن مات فی الحج ومن مات فی طلب العلم
وکذافی ردالمحتار:(3/195،رشیدیة)
وکذافی تفسیر القرطبی:(3/364،موسسته التاریخ)
وکذافی تحفة الاحوذی:(5/292،قدیمی)
وکذافی شرح الطیبی:(7/359،دارالکتب العلمیة)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/447،حقانیة)
وکذافی المرقاۃ(7/359، التجاریة)
وکذافی تفسیر المظہری:(1/578،رشیدیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ ایضاً:(2/1590،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27/3/1443/2021/11/3
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:112

کسی آدمی کی ٹانگوں میں درد ہے،اس حالت میں وہ آدمی چل کر کام کاج کرتا ہے،لیکن نمازبیٹھ کر پڑھتاہے،تو ایسے آدمی کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر وہ شخص کھڑے ہونے اور رکوع اور سجدے پر قادر ہےتو بیٹھ کر پڑھنے سے اس کی نماز نہیں ہوگی اور اگر وہ کھڑا تو ہوسکتاہے،لیکن رکوع اور سجدہ پر قادر نہیں تو ایسے شخص کو ضرور قیام کرنا چاہیےاور رکوع کا اشارہ کھڑے ہو کربھی کر سکتا ہے،بیٹھ کر بھی،سجدہ کا اشارہ بیٹھ کر کرلےاور اگر کسی مشقت کے بغیروہ دوسری رکعت کے لیےکھڑا ہو سکتا ہےتو دوسری رکعت بھی پہلی رکعت کی طرح پڑھےاور اگر بیٹھ کر اٹھنے میں زیادہ مشقت ہوتو باقی نمازبیٹھ کر اشارہ ہی سے پوری کرلے۔
البتہ اگر اس شخص نے پوری نماز بیٹھ کرپڑھ لی تو حنفیہ کے مشہور مذہب کے مطابق اس کی نماز ہو جائیگی۔

لما فی فتح القدیر:(2/7،رشیدیة)
وإن قدر)أی المریض علی القیام دون الرکوع والسجودبأن کان مرضہ یقتضی ذلک قولہ:(لم یلزمہ)المنفی اللزوم فأفاداأنہ لو أوماقائماًجاز،الّاأن الایماءقاعداًأفضل لأنہ أأقرب الی السجود،وقال خواہر زادہ:یومئ للرکوع قائماًوللسجودقاعداً،ثم ھذامبنی علی صحۃ المقدمۃ القائلۃرکنیۃالقیام لیس الا للتوسل الی السجود،وقداثبتہابقولہلما فیھامن زیادۃ التعظیم:أی السجدۃعلی وجہ الانحطاط من القیام فیھا نھایۃ التعظیم وھو المطلوب،فکان طلب القیام لتحقیقہ،فإذا سقط سقط ما وجب لہ،وقد یمنعأن شریعتہ لھذا علی وجہ الحصربل لہ ولما فیہ نفسہ من التعظیم کما یشاھد فی الشاھدمن اعتبارہ کذلک حتی یحبہ أھل التجبرلذلک،فإذافات احد التعظمین صارمطلوباًبما فیہ نفسہ ۔ویدل علی نفی ھذہ الدعوی أن من قدر علی القعود والرکوع والسجودلا القیام وجب القعودمع أنہ لیس فی السجود عقیبہ تلک النہایہ لعدم مسبوقیۃ بالقیام۔
وفی الفتاوی الھندیة:(1/136،رشیدیة)
لو عجزعن الرکوع والسجودوقدر علی القیام فالمستحب أن یصلی قاعداًبایماءوان یصلی قائمابایماءجاز عندنا
وفی البنایة:(2/774،رشیدیة)
وأن قدرعلی القیام ولم یقدر علی الرکوع والسجودلم یلزمہ القیام ویصلی قاعداًیومئ إیماء)وقال زفر والشافعی لم یسقط عنہ القیام فی ھذہ الحالۃ،لأنہ رکن فلا یسقط بالعجزعن ادراك رکن
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(434،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/27،دار احیاتراث)
وکذافی المبسوط للسّرخسی:1/213،رشیدیة)
وکذا فی اعلاء السنن:(7/202،ادارةالقرآن)
وکذافی اعلاءالسنن:(7/201،ادارۃ القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1443/2021/12/8
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:25

بیت الخلاء اور غسل خانہ میں تھوکنا کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ان جگہوں پر بلاضرورت تھوکنا منع ہے۔

لمافی ردالمحتار علی الدرالمختار:(1/616،رشیدیة)
ولا ینظر الی عورتہ ولاالی ما یخرج منہ،ولا یبزق فی البول
وفی فتح القدیر:(1/213،رشیدیة)
ولایمتخط ولا یبزق ولا یذکراللہ تعالی حال جلوسہ ولا فی ذلک المحل
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(1/616،رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(1/422،رشیدیة)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/166،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(1/231،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(1/50،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1443/2021/12/5
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:156

آیت کریمہ کا وظیفہ عورت ناپاکی کے ایام میں زبان سے کرسکتی ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں!کرسکتی ہے۔

لمافی الفتاوی التاتارخانیة:(1/480،فاروقیة)
ومنھا :أن تقرأالقرآن عندنا۔۔۔۔۔۔وھذا إذاقصدت القرأۃ،فإن لم تقصدنحو أن تقرأالحمدللہ شکراللنعمۃفلابأس بہ
وفی الفقہ الحنفی:(1/120،الطارق)
یحرم علی الحائض قرأۃ القرآن الکریم ولو بعض آیۃ منہ حتی تطھر من الحیض وتغتسل۔۔۔۔۔۔ھذاأذا قصدت القرأۃ ،أما إذا لم تقصدھا ،فإن کانت الآیۃ طویلۃ تحرم،قصدت أو لم تقصد ،وإن کانت قصیرۃ یجوزإن لم تقصدقراءۃ القرآن
وفی المحیط البرھانی :(1/402،دارإحیا تراث)
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/150،رشیدیة)
وفی الفتاوی الھندیة:(1/38،رشیدیة)
وفی بدائع الصنائع:(1/150،رشیدیة)
وفی الفتاوی السراجیة:(51،زمزم کراچی)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(1/626،رشیدیة)
وفی البحرالرائق:(1/346،رشیدیة)
وفی النھرالفائق:(1/132،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24/8/1443/2022/3/28
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:86

ایک شخص ان پڑھ ہونے کی وجہ سے قرأت پر قادر نہیں اور دوسرا شخص عذر کی وجہ سجدہ نہیں کرسکتا تو ان دونوں میں سے امام کون ہوگا؟یا اکیلے اکیلے نماز پڑھ لیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں دونوں میں سے کوئی بھی امام نہیں بن سکتا،اس لیے اکیلے اکیلے نماز پڑھ لیں۔

لمافی الفتاوی الھندیة:(1/84،رشیدیة)
ویجوز اقتداء المعذور بالمعذوران اتحدعذرھما وان اختلف فلایجوز
وفی ردالمحتارعلی الدرالمختار:(1/578،رشیدیة)
قولہ ومعذوربمثلہ الخ)أی إن اتحد عذرھما،وإن اختلف لایجوز
وفی البحرالرائق:(1/241،رشیدیة)
وفی مجمع الأنھر:(1/167،المنار)
وفی فتح القدیر:(1/377،رشیدیة)
وفی تبیین الحقائق:(1/141،امدادیة)
وفی الفتاوی السراجیة:(98،زمزم کراچی)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(2/1245،رشیدیة)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(2/254،فاروقیة)
وفی کتاب الفقہ:(353،360،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
16/9/1443/2022/4/18
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:164

اگرامام رکوع میں ہو،تونیاشامل ہونےوالامقتدی،تکبیرکہتےہوئےہاتھ اٹھائےیانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!یہ مقتدی تکبیرکہتےہوئےہاتھ اٹھائےگا۔

لما فی المبسوط للسرخسی:(1/10،دارالمعرفة)
قال اذاارادالرجل الدخول فی الصلوۃکبّرورفع یدیہ حذاءاذنیہ
وفی الھندیة:(1/73،رشیدیہ)
اذاارادالدخول فی الصلوۃکبّرورفع یدیہ حذاءاذنیہ
وکذافی التاتارخانیة:(2/48،فاروقیہ)
وکذافی الخانیة:(1/85،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(1/465،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الاصل:(1/28،عالم الکتب)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/30،ادارةالقرآن)
وکذافی تنویرالابصار:(1/479،سعید)
وکذافی الھدایة:(1/97،المیزان)
وکذافی کنزالدقائق:(24،حقانیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(61،زمزم)
وکذا فی القدوری:(24،الخلیل)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/3/1443/2021/10/26

نیندکےبعداُٹھ کرہاتھ دھونےکےبارےکیاحکم ہے؟کیاسنت ہے،چاہےیقین ہوکہ ہاتھ پاک اورصاف ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرہاتھ پاک ہونےکایقین ہوتوبیدارہونےکےبعدہاتھ دھونامستحب ہے۔

لما فی صحیح البخاری:(1/89،رحمانیہ)
عن أبی ھریرۃان رسول اللہﷺ قال:اذاتوضأاحدکم فلیجعل فی انفہ مآءثم لینتثرومن استجمرفلیوترواذااستیقظ احدکم من نومہ فلیغسل یدہ قبل ان یدخلہافی وضوئہ فان احدکم لایدری این باتت یدہ
وفی فتح الباری:(1/350،قدیمی)
قولہ:(واذااستیقظ..من نومہ)أخذبعمومہ الشافعی،والجمھورفاستحبوہ عقب کل نوم…ثم الأمرعندالجمھورعلی الندب
وکذافی فتح القدیر:(1/17،رشیدیہ)
وکذافی تحفةالأحوذی:(1/116،قدیمی)
وکذافی فتح الملھم:(2/296،دارالعلوم کراچی)
وکذافی البحرالرائق:(1/37،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/9/1443/2022/4/3
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:114

اگرکسی نےنذرکاروزہ رکھنےکےبعدفاسدکردیاتواس پرقضاءاورکفارہ دونوں لازم ہیں یاصرف قضاء؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں صرف قضاءلازم ہے۔

لما فی البدائع:(2/260،رشیدیہ)
وﺃماصیام غیررمضان فلایتعلق بإفسادشیٔ منہ وجوب الکفارۃ.لأن وجوب الکفارۃبإفسادصوم رمضان عرف بالتوقیف،وأنہ صوم شریف فی وقت شریف لایوازیھماغیرھمامن الصیام والأوقات فی الشرف والحرمۃ .فلایلحق بہ فی وجوب الکفارۃ،…وفی المنذورفی وقت بعینہ علیہ قضاءمافسد
وفی الھندیة:(1/215،رشیدیہ)
ولاکفارۃبإفسادصوم غیررمضان
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1705،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(3/435،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/486،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الأ نھر:(1/355،المنار)
وکذافی فتح القدیر:(2/345،رشیدیہ)
وکذافی العنایةعلی ھامش فتح القدیر:(2/345،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/329،امدادیہ)
وکذافی الھدایة:(1/237،المیزان)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/9/1443/2022/4/18
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:170

نمازکےمکروہ اوقات میں اورزوال کےوقت نمازپڑھنےکاکیاحکم ہے؟کیا اس وقت قضاءنمازپڑھ سکتےہیں۔اوراگرکوئی شخص مکروہ اوقات میں نمازپڑھ رہاہےاورکوئی دوسراشخص اس کی نمازختم کروادیتاہے،اس کےمتعلق کیاحکم ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

تین اوقات میں کوئی بھی نمازپڑھناممنوع ہے:(1)عین طلوع کےوقت (2)عین زوال کےوقت (3)عین غروب کےوقت
اور دو اوقات میں صرف نفل پڑھنامکروہ ہے:(1)طلوع فجرکےبعدسےسورج نکلنےتک (2)عصرکی نمازپڑھ لینےکےبعدسےسورج غروب ہونےتک۔
ان دواوقات میں قضاءنمازپڑھی جاسکتی ہے۔اگرکوئی شخص ان اوقات میں نفل نمازشروع کردےتو اسےتوڑنااورمباح وقت میں قضاءکرناواجب ہے۔

لما فی الشامیة:(2/42،رشیدیہ)
واعلم أن الأوقات المکروھۃنوعان،الأول:الشروق والإستواءوالغروب.والثانی:مابین الفجروالشمس ومابین صلاۃ العصرالی الإصفرار؛فالنوع الأول:لاینعقدفیہ شیئ من الصلوات التی ذکرناھااذاشرع بھا فیہ،وتبطل إن طرﺃعلیھا، إلاصلاۃ جنازۃحضرت فیھاوسجدۃتلیت آیتھافیھاوعصریومہ والنفل والنذرالمقیدبھاوقضاءماشرع بہ فیھاثم ﺃفسدہ؛ فتنعقدھذہ الستۃبلاکراھۃﺃصلافی الأولی منھا،ومع الکراھۃالتنزیھیۃفی الثانیۃ،والتحریمیۃفی الثالثۃ، وکذافی البواقی،لکن مع وجوب القطع والقضاءفی وقت غیرمکروہ.والنوع الثانی:ینعقدفیہ جمیع الصلوات التی ذکرناھامن غیرکراھۃﺇلاالنفل والواجب لغیرہ.فانہ ینعقدمع الکراھۃ،فیجب القطع والقضاءفی وقت غیرمکروہ
وفی کنزالدقائق:(18،حقانیہ)
ومنع عن الصلٰوۃوسجدۃالتلاوۃوصلٰوۃالجنازۃعندالطلوع والإستواءوالغروب إلاعصریومہ.وعن التنفل بعدصلٰوۃ الفجروالعصر،لاعن قضاءفائتۃوسجدۃتلاوۃوصلوۃجنازۃ.وبعدطلوع الفجرباکثرمن سنۃالفجر وقبل المغرب ووقت الخطبۃ
وکذافی الھندیة:(1/53،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة:(1/74،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/678،رشیدیہ)
وکذافی التنویرمع الدر:(2/37،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/186،الطارق)
وکذافی البحرالرائق:(1/432،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/7/1443/2022/2/9
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:142