ایک عورت نے طلاق نامہ لکھا اور شوہر کے پاس آکر اپنے اوپر پٹرول چھڑکا اور ماچس بھی ساتھ لائی اور شوہر سے کہا اس طلاق نامہ پر دستخط کرو ، ورنہ میں خود کو آگ لگانے لگی ہوں۔ شوہر نے اس پر دستخط کردیے ،کچھ بولا نہیں۔ کیا طلاق ہوگئی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگرچہ ظاہرا اکراہ کا رجحان پایا جارہاہے ، لیکن چند وجوہ کی بناء پر اس کو اکراہ شمار نہیں کیا جا سکتا۔(1)تحقیق اکراہ کی شرائط کے سلسلہ میں فقہاء نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ کسی شخص کی دھمکی کو ،اکراہ اس وقت سمجھا جائے گا جب مکرہ(مجبور کرنے والا) اپنی دھمکی تغلباً (قوت اور غلبہ کے طور پر) اس طرح جاری کرنے پر قادر ہو کہ مکرہ(جس کومجبور کیا گیا ہو) اس کے سامنے بے بس اور مجبورمحض ہو ، جبکہ صورت مسئولہ میں عورت محض اپنی بے بسی کو مرد پر تھوپنا چاہتی ہے جس میں غلبہ کا کوئی عمل دخل نہیں ۔(2)یہ صورت اگرچہ موجب غم ہے ،لیکن ہر موجب غم چیز اکراہ نہیں کہلاتی جب تک کہ اکراہ کی تعریف اس پر صادق نہ آئے۔ لہٰذا ان وجوہ کی وضاحت کے بعد ، محض بےبسی اور مغلوبیت کی بناء پر خودکشی کی دھمکی دینا، چونکہ شرعاً اکراہ کی تعریف میں داخل نہیں ، اس لیے صورت مسئولہ میں طلاق ہوگئی ہے ۔

(ملخص من خیر الفتاوی : 5/165،م:امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/2021/4/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:119

آج کل شادی کے بعد عورتیں اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام زوجہ لکھے بغیر لکھتی ہیں، کیا یہ جائز ہے؟(2) آیت ادعوھم لآبائھم کی وجہ سے اس کو حرام کہنا درست ہے؟ (3)عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم اور عہدِ صحابہ میں اس کا کوئی ثبوت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لکھنا جائز ہے۔ 2)آیت سے اس نسبت کی ممانعت ثابت ہوتی ہے جو نسب کو تبدیل کرنے کی غرض سے باپ کے علاوہ کی طرف کی جائے ، اور شادی شدہ خواتین اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام محض تعارف کے لئے لکھتی ہیں نہ کہ نسب بدلنے کے لئے۔ 3)قرآنِ کریم، عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم اور عہدِ صحابہ میں اس کے نظائر موجود ہیں، مثلاً قرآن کریم میں امراۃ نوح، امراۃ لوط اور امرۃ العزیز یعنی نو ح کی بیوی، لوط کی بیوی، عزیز کی بیوی۔ اور حدیثِ مبارکہ میں امراۃ ابن مسعود، امراۃ ابی طلحۃ اور امراۃ عبدالرحمن کا ذکر ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(سورة التحریم، آیة 10)
ضرب اللہ مثلا للذین کفروا امراۃ نوح و امراۃ لوط
وفیہ ایضاً:(سورة یوسف،آیة 30)
و قال نسوۃ فی المدینۃ امراۃ العزیز تراود فتاھا عن نفسہ
وفی الصحیح للبخاری:(1/280،رحمانیہ)
عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فی اضحیٰ او فطر الی المصلیٰ ثم انصرف فوعظ الناس و امرھم… جائت امراۃ ابن مسعود تستاذن علیہ
وفی الصحیح للمسلم:(1/83،رحمانیہ)
عن عراک بن مالک انہ سمع اباھریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یقول ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال لاترغبوا عن آبائکم فمن رغب عن ابیہ فھو کفر
وکذافی الصحیح للبخاری:(1/105،رحمانیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(6/296،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1442/2020/12/19
جلد نمبر : 22 فتوی نمبر:20

سترہزارکلمہ طیبہ پڑھنے سے میت کی مغفرت ہوجاتی ہے”اس سے متعلق روایات کی تحقیق بتلادیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس صورت سے متعلق جوروایات ملتی ہیں ان کی صحت پر کلام کیا گیا ہے ۔لیکن کلمہ کی فضیلت والی احادیث سے ، چونکہ ان روایات کی کسی نہ کسی درجہ میں تائیدہوتی ہے ، اس لیے لازم اور سنت سمجھے بغیر یہ عمل کیا جاسکتا ہے ۔

لما فی مرقاة المفاتیح:(3/222،التجاریہ)
فکان الترمذی یرید تقویۃ الحدیث بعمل اھل العلم والعلم عنداللہ کما قال الشیخ محی الدین بن العربی انہ بلغنی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان من قال لاالاہ الااللہ سبعین الف مرۃ ومن قیل لہ غفرلہ ایضا فکنت ذکرت التھلیلۃ بالعدد المروی من غیر ان انوی لاحد بالخصوص بل علی الوجہ الاجمالی فحضرت طعاما مع بعض الاصحاب وفیھم شاب مشھور بالکشف ، فاذا ھو فی اثناء الاکل اظھر البکاء فسالتہ عن السبب فقال اری امی فی العذاب فوھبت فی باطنی ثواب التھلیلۃ المذکورۃ لھا فضحک وقال انی اراھا الآن فی حسن المآب قال الشیخ فعرفت صحۃ الحدیث بصحۃ کشفہ وصحۃ کشفہ بصحۃ الحدیث
وفی فیض القدیر:(6/245،بیروت)
قال ابن العربی اوصیک ان تحافظ علی ان تشتری نفسک من اللہ بعتق رقبتک من النار بان تقول لاالاہ الااللہ سبعین الف مرۃ فان اللہ یعتق رقبتک او رقبۃ من تقولھا عنہ بھا ورد بہ خبر نبوی واخبرنی ابوالعباس القسطلانی بمصر ان العارف اباالربیع المالقی کان علی مائدۃ وقد ذکر ھذا الذکر علیھا صبی صغیر من اھل الکشف فلما مد یدہ للطعام بکی فقیل ماشانک قال ھذہ جھنم اراھا وامی فیھا فقال المالقی فی نفسہ اللھم انی قدجعلت ھذہ التھلیلۃ عتق امہ من النار فضحک الصبی وقال الحمدللہ الذی خرجت امی منھا وماادری سبب خروجھا قال المالقی فظھر لی صحۃ الحدیث قال ابن عربی وقد علمت انا علی ذالک ورایت برکتہ
وکذافی المعجم الاوسط:(4/287،معارف)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:90

نمازمیں آدمی کے دل میں جو خیالات آتے ہیں اور بسا اوقات آدمی دل میں کوئی بات کرتا ہے زبان پر اس بات کو نہیں لاتا تو کیا نماز فاسد ہوجائے گی؟

الجواب حامداًومصلیاً

محض خیالات آنے سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔

لمافی الصحیح لمسلم:(1/104،رحمانیة)
عن أبی ھریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺان اللہ تجاوزلأمتی ما حدثت بہ انفسھا مالم یتکلموا أو یعملوابہ
وفی الموسوعةالفقھیة:(43/148،علوم اسلامیة)
إذاغلب الوسواس علی اکثرالصلوۃ لا یبطلھا لأن الخشوع سنۃ،والصلوۃ لاتبطل بترک سنۃ
وفی الفقہ الحنفی:(1/246،الطارق)
ویشترط لفساد الصلوۃ بالکلام أن یکون الکلام مسموعاًللمتکلم،وألا لا یعد کلاماً
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/194،رشیدیة)
وفی ردالمحتارعلی الدرالمختار:(1/417،ایچ ایم سعید)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(1/781،رشیدیة)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(2/242،فاروقیة)
وفی صحیح البخاری:(606،دارالفکر،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/9/1443/2022/4/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:165

میاں بیوی اگر جماعت کروائیں تو کیا بیوی اقامت کہہ سکتی ہے؟اور لقمہ دے سکتی ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں بیوی کا اقامت کہنا اور لقمہ دینا مکروہ ہے،لہٰذا ایسی صورت میں شوہر ہی اقامت کہے۔

لما فی البحرالرائق:(1/470،رشیدیة)
نغمۃ المرأۃ عورۃ وبنی علیہ أن تعلمھا القرآن من امرأۃأحب للرجال والتصفیق للنساء ))فلا یجوز أن یسمعھا الرجل ۔ومشی علیہ المصنف فی الکافی فقال :ولا تلبی جھراًلأن صوتھا عورۃ ومشی علیہ صاحب المحیط ۔۔۔۔۔۔ قیل إذا جھرت بالقرآن فی الصلوۃ فسدت کان متجھا
وفی غنیة المتملی:(217،رشیدیة)
بأن نغمۃ المرأۃ عورۃ أن تعلمھا القرآن من المرأۃ احب لان نغمۃھا عورۃ ولھذا قال علیہ السلام التسبیح للرجال والتصفیق للنساء فلا یحسن أن یسمعھا الرجل أذا جھرت بالقرآن فی الصلوۃ فسدت کان متجھاولذا منعھا علیہ السلام عن التسبیح بالصوت لاعلام الإمام بسہوہ الی التصفیق انتھی
وفی الصحیح لمسلم:(1/219،رحمانیة)
عن ابن شھاب قال أخبرنی سعید بن المسیب وأبوسلمۃ بن عبدالرحمٰن انھما سمعا ابا ھریرۃ یقول قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ((التسبیح للرجال والتصفیق للنساء))
وفی ردالمحتار علی الدرالمختار :(2/94،دارالمعرفة)
وفی المبسوط للسرخسی:(1/133،دارالمعرفة)
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(2/278،فاروقیة)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(2/1182،رشیدیة)
وفی الفتاوی الھندیة:(1/85،رشیدیة)
وفی بدائع الصنائع:(1/376،رشیدیة)
وفی الفقہ الحنفی:(1/193،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1443/2022/3/21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:77

چھوٹے بچے جو ابھی بالغ نہیں ہوئےوہ حفظ کی کلاس میں اگر قرآن کو بغیر وضو چھوئیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نابالغ بچے قرآن پاک کو بغیر وضوچھوسکتے ہیں،لیکن ان میں جو سمجھ دار ہوں ،ان کو وضو کا کہنا چاہیے۔

لما فی المحیط البرہانی : (1 /22 ،رشیدیہ )
دفع المصحف واللوح الذی علیہ القرآن الی الصبیان وعامۃ المشایخ لم یرو بہ باسا؛لانہم غیر مخاطبین بالوضوو فی التاخیر تضییع القرآن
وفی الفتاوی الھندیة: (1 / 39 ، رشیدیہ )
ولا باس بدفع المصحف الی الصبیان وان کانوامحدثین وھو الصحیح
وکذافی ردالمحتار : (1 / 349 ،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: (1 /27،فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/626،رشیدیہ)
وکذا فی الفتح القدیر:(1/172،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/43،المنار)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/58،امدادیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(1/351،رشیدیہ)
وکذا فی النھر الفائق:(1/135،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃالحسن،ساہیوال
17/2/1443/2021/9/25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:21

ایک عورت اپنی عدت کے دوران اپنی بیٹی اور بیٹوں کے گھر جاسکتی ہے؟واضح رہے کہ اس عورت اور اس کی اولاد کاگھر ایک چاردیواری کے اندر ہے۔

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر ان گھروں میں اجانب اور غیر محارم (مثلاًبیٹے اور بیٹیوں کے سسرال میں سے)نہیں رہتے تو عورت دوران عدت ان گھروں میں جاسکتی ہےورنہ نہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی وأدلته:(9/7202،رشیدیة)
ولا تخرج المعتدۃإلی صحن الدار التی فیھا منازل الأجانب عنہا،لأنہ کالخروج إلی الشارع۔فإن لم یکن فی الدار منازل للأجانب ،بل بیوت أو غرف ،جازلھا الخروج الی الصحن الدار ،ولا تصیر بہ خارجۃ عن الدار ولھا أن تبیت فی أی غرفۃ شاءت منھا
وفی المبسوط للسّرخسی:(6/36،دارالمعرفة)
وللمعتدۃ أن تخرج من بیتھا الی الدار وتبیت فی أی بیوت الدار شاءت لأن جمیع الدار منزل واحد وعلیھاأن تبیت فی منزلھا ۔۔۔۔۔۔إلا أن یکون فی الدار منازل غیرھم فحینئذ لاتخرج الی تلک المنازل لان صحن الدار ھنا بمنزل السکۃ وبالوصول إلیہ تصیر خارجۃ من منزلھا وھی ممنوعۃ من ذلک فی العدة۔
وکذافی فتح القدیر:(4/310،رشیدیة)
وکذافی تبیین الحقائق:(3/36،رشیدیة)
وکذافی النھرالفائق :(2/488،قدیمی)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/535،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(5/246،فاروقیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(5/337،داراحیاتراث)
وکذافی ردالمختار علی الدرالمختار:(5/228،رشیدیة)

 

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/5/1443/2021/12/27
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:64

نمازجنازہ میں امام اور کچھ مقتدی مسجد سے باہر ہوں اور باقی اندر ہوں تو کیا یہ صورت جائز ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اصل تو یہ ہے کہ نماز جنازہ کسی کھلے میدان میں ادا کی جائےمگر بوقت ضرورت سوال میں مذکور صورت کے مطابق بلاکراہت مسجد میں بھی ادا کی جاسکتی ہے۔

لمافی المحیط البرہانی:(7/504،رشیدیة)
وإن کان الإمام مع بعض القوم والجنازۃ خارج المسجد وما بقی فی المسجد۔ذکر نجم الائمۃ النسفی رحمہ اللہ تعالی فی فتاواہ ۔أن الصلوۃ غیر مکروہۃ بالاتفاق
وفی ردالمحتار علی الدرالمختار:(3/148،دارالمعرفة)
لایکرہ إذا کان المیت خارج المسجد وحدہ اومع بعض القوم ۔قال فی شرح المنیۃ وإلیہ مال فی المبسوط والمحیط،وعلیہ العمل وھوالمختار
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدّر:(1/377،رشیدیة)
قولہ بناء علی أن المسجد الخ)أماإذا عللنا بخوف تلویث المسجد فلا یکرہ إذا کان المیت خارج المسجد وحدہ أو مع بعض القوم ۔
وکذافی فتح القدیر:(2/133،رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(2/327،رشیدیة)
وکذافی مجمع الانھر:(1/272،المنار)
وکذافی الجوھرةالنیرة:(1/247،قدیمی)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(132،زمزم)
وکذافی شرح منیة المصلی:(589،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/165،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/87،فاروقیة)
وکذافی التجنیس المزید:(3/269،ادارةالقرآن)

 

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غفرلہ ٗ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/5/1443/2021/12/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:149

تبلیغی جماعت والے مسجد میں ٹھہرے ہوئے ہیں ،وہ کپڑے دھوکر مسجد کے صحن میں سکھاتے ہیں،جس کی وجہ سے پانی کے قطرے مسجد کےصحن میں گرتے ہیں ،اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

پاک کپڑوں سے گرنے والا پانی تو پاک ہے ،لیکن مسجد کے آداب کی وجہ سے کپڑے مسجد سے باہر سکھانے چاہئیں،البتہ مجبوری کی بناء پر مسجد کے اندر بھی سکھاسکتے ہیں۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(5/321،رشیدیة)
ولا بأس للغریب ولصاحب الدار أن ینام فی المسجد فی الصحیح من المذھب۔۔۔۔۔۔ یجوز إدخال الحبوب وأثاث البیت فی المسجد للخوف فی الفتۃ العامۃ
وفی الفتاوی الھندیة:(5/321،رشیدیة)
“ویکرہ کل عمل من عمل الدنیا فی المسجد”
وکذافی المحیط البرھانی:(8/8،دار احیا تراث)
وکذافی الفتاوی التاتاخانیة:(1/213،رشیدیة)
وکذافی المبسوط للسّرخسی:(3/22،دارالمعرفہ)
وکذافی المحیط البرھانی :(8/7،داراحیاتراث)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
2/5/1443/2021/12/7
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:172

مسبوق آدمی امام کے قعدہ اخیرہ میں بھول کرامام کے ساتھ سلام پھیر دیتاہےاور پھر کھڑا ہوکر اپنی نماز مکمل کرلیتاہے،تو سجدہ سہو اس پر ضروری ہوگا یانہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں مسبوق پر سجدہ سہوکرنا ضروری ہے۔

لما فی المحیط البرہانی:(2/335،ادارة القرآن)
واذاسلم المسبوق حین سلم الامام ساھیاً، بنی علی صلوتہ وعلیہ سجودالسہو، وانہ لایخرجہ عن حرمۃ الصلوۃ، واماوجوب سجدۃالسہوفلانہ حین سلم الامام، صارہوکالمنفرد، وقدسہاحین سلم، فیلزمہ سجدتاالسہو
وفی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/312،رشیدیة)
والمسبوق یسجد مع امامہ)ولایسلم معہ بل یقوم الی القضاءفان سلم عامدافسدت والالا ولاسجود علیہ ان سلم قبل الامام اومعہ وان سلم بعدہ لزمہ لانفرادہ بحر
وکذافی ردالمحتار:(2/659،رشیدیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/422،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/426،فاروقیة)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/195،امدادیة)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/281،الطارق)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(90،زمزم)
وکذافی البحرالرائق:(2/176،رشیدیة)
وکذافی المجمع الانھر:(1/222،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/2/1442/2021 /9/28