ایک آدمی نے اپنی بیوی سے تین مرتبہ کہا” کاغذ“ہے” کاغذ“ہے” کاغذ“ہےاور اس علاقے میں کاغذ سے طلاق مراد لی جاتی ہے،تو کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر ” کاغذہے“کا لفظ واقعتاًاس علاقے میں طلاق کے لیے استعمال ہوتا ہے ،تو اگر شوہرنے طلاق کی نیت سے یہ لفظ بولا تھا یا طلاق کی بات چیت کے دوران اور غصہ کی حالت میں بولا تھاتو ایک طلاق بائن ہوئی ہے ،ورنہ کوئی طلاق نہیں ہوئی۔

لما فی ردالمحتارعلی الدر المختار:(4/516،رشیدیة)
الکنایات (لاتطلق بھا)قضاء(إلا بنیۃأودلالۃ الحال )وھی حالۃ مذاکرۃ الطلاق أو الغضب
وفی فتح القدیر:(4/54،رشیدیة)
الکنایات (لا تطلق بھا)قضاء (إلا بنیۃ أو دلالۃ الحال )لأنہا غیر موضوعۃ للطلاق بل تحتملہ وغیرہ فلا بد من التعیین أو بدلالۃ الحال
وفی المجمع الأنھر:(2/34،المنار)
وکذافی الفقہ الحنفی:(2/170،الطارق)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/167،رشیدیة)
وکذافی التاتارخانیة:(4/457،فاروقیة)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/374،رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(3/519،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(4/427،داراحیاتراث)
وکذافی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(9/6900،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2/7/1443/2022/2/4
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:151

جائز اور حلال کاروبار میں ہمارے ہاں تاجروں میں نفع کی کوئی حد متعین نہیں ہے،بعض زیادہ نفع لیتے ہیں بعض کم ،توشریعت میں اس کی کوئی حد متعین ہے ؟کہ کتنا نفع لے سکتے ہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

نفع کی کوئی حد تو شریعت نے متعین نہیں کی ،البتہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اور جھوٹ اور دھوکہ دہی سے بچتے ہوئےمناسب نفع لینا چاہیے جو خریداروں پر ظلم نہ بنے۔

لمافی جامع الترمذی:(1/378،رحمانیة)
عن أنس قال غلاالسعر علی عہد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم فقالوا یا رسول اللہ سعّرلنا فقال ان اللہ ھوالمسعر القا بض الباسط الرزاق وانی لارجو ان القی ربی ولیس احد منکم یطلبنی بمظلمۃ فی دم ولا مال
وفی الصحیح لمسلم:(2/15،رحمانیة)
عن جابر قال قال رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم لایبیع حاضر لباد دعوالناس یرزق اللہ بعضہم من بعض غیر ان فی روایۃ یحیٰ یرزق
وفی الفقہ الاسلامی وادلته:(5/3307،رشیدیة)
أن الغبن الفاحش فی الد نیا ممنوع باجماع الشرائع ،أذ ھو من باب الخداع المحّرم شرعاًفی کل ملۃ،لکن الیسرمنہ الذی لا یمکن الاحتراز عنہ لأحد امر جائز،أذلو حکمنا بردہ ما نفذ بیع أبداً،لأنہ لا یخلو منہ بیع عادۃ ۔فأن کان الغبن کثیراًأمکن الأحتراز منہ،فوجب ردالبیع بہ ۔وقدر علماء المالکیۃ الغبن الکثیر بالثلث فأکثر؛لأنہ المشروع فی الوصیۃ وغیرہا ،فیکون الربح الطیب المبارک فیہ ما کان بقدر الثلث فأکثر
وفی الھدایة:(4/474،رحمانیة)
ولا ینبغی للسلطان ان یسعر علی الناس لقولہ علہ السلام لا تسعروفان اللہ ھو المسعر القابض الباسط الرازق ولان الثمن حق العاقد فالیہ تقدیرہ فلاینبغی للامام ان یتعرض لحقہ الا اذا تعلق بہ دفع ضررالعامہ
کذافی الفتاوی الھندیة:(3/161،رشیدیة)
وکذافی فقہ البیوع:(2/1201،معارف القرآن)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(5/152،موسسة التاریخ)
وکذافی سنن إبی داؤد:(2/132،رحمانیة)
وکذافی سنن إبن ماجة:(276،رحمانیة)
وکذافی مجمع الزوائد:(4/124،دارالکتب العلمیة)
وکذافی الفسیر المنیر:(3/33،امیرحمزة)
وکذافی السنن الکبری للبیہقی:(5/568،دارالکتب العلمیة)
وکذافی البحر المحیط:(3/241،دارالکتب العلمیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1443/2021/12/18
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:86

ایک آدمی نے غسل کیااور جلدی کی وجہ سے اس کے جسم کا کچھ حصہ خشک رہ گیانمازپڑھنے کے بعد اس نے دیکھاتو اسے علم ہوا،اب وہ دوبارہ غسل کرکے نماز کا اعادہ کرے یا اسی خشک جگہ کو تر کرلے اور نماز کا اعادہ کرلے؟

الجواب حامداًومصلیاً

صورت مسئولہ میں اسی خشک جگہ کو تر کرکےنماز کا اعادہ کرلے،دوبارہ غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔

لما فی کتاب الاصل:(1/59،عالم الکتب)
قلت:ارائیت رجلاجنبااغتسل فبقی من جسدہ قدرموضع اللدرھم لم یصبہ الماءثم صلی رکعۃ او رکعتین ثم ضحک؟قال:علیہ ان یغسل ذلک المکان الذی لم یصبہ الماءویستقبل الصلوۃولا یعید الوضوء
وفی سنن ابن ماجہ:(150،رحمانیة)
عن علی رضی اللہ عنہ قل جاء رجل الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال انی اغتسلت من الجنابۃ وصلیت الفجر ثم اصبحت فرایت قدر موضع الظفر لم یصبہ الماءفقال رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوکنت مسحت علیہ بیدک اجزاک
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/523،رشیدیة)
وفی بدائع الصنائع:(1/142،رشیدیة)
وفی البحر الرائق:(1/86،رشیدیة)
وفی التاتارخانیة:(1/272،فاروقیة)
وفی الفتاوی الھندیة:(1/13،رشیدیة)
وفی خلاصة الفتاوی:(1/14،رشیدیة)
وفی الفقہ الحنفی :(1/101،الطارق)
وفی المحیط البرھانی:(1/226،داراحیاتراث)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/4/1443/2021/12/4
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:157

شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے دو طلاق دی ہیں ،جبکہ بیوی کا کہنا ہے کہ تین طلاق دی ہیں،وہاں موجود کئی مردوں کا کہنا ہے کہ تین طلاق دی ہیں،تو اس صورت میں کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں

لما فی المبسوط : (6 /147،دارالمعرفة بیروت )
واذاشہدشاہدان علی رجل انہ طلق امراتہ ثلاثاوجحد الزوج والمراۃذلک لان المشہود بہ حرمتھاعلیہ
وفی المحیط البرہانی: ( 5/156،ادارۃ القرآن )
اذاشہدشاہدان علی رجل انہ طلق احدی امراتیہ ثلاثا[ولم یسم لہا]،فالقیاس ان لاتقبل شہادتھماوفی الاستحسان تقبل
وکذافی بدائع الصنائع : (5 /435،رشیدیہ کوئٹہ )
وکذا فی الفتاوی الھندیة: ( 3/451 ،رشیدیہ کوئٹہ )
وکذافی ردالمحتار علی الدرالمختار:(11/89،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(2/98،الحرمین الشریفین)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(5/115،فاروقیہ کوئٹہ)
وکذافی المبسوط:(17/3،دارالمعرفہ بیروت)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(486،زمزم کراچی)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(4/66،رشیدیہ کوئٹہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن،ساہیوال
17/2/1443/2021/9/25
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:23

سیاست میں مولانا فضل الرحمٰن کے کردار پر روشنی ڈال دیں اکثر لوگ کہتے ہیں علماء کو سیاست میں نہیں ہونا چاہیے یا انہوں نے اپوزیشن سے اتحاد کیوں کیا ہے جب کہ مریم نواز ایک خاتون ہے اس کے ساتھ مختلف اجلاس میں شریک ہونا ٹھیک نہیں ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

یہ خیال آج کا نہیں بہت پرانا خیال ہے،پہلے بھی لوگ کہا کرتے تھے کہ علماء کا سیاست سے کیا تعلق؟بات یہ ہےکہ جس عالم کے اندر صلاحیت ہو،وہ صحیح طور پر سیاست کو اور پارٹیوں کو سمجھتا ہو اور اس کے اندر صلاحیت ہو کہ سیاست میں شریک ہو کر دوسروں کو اپنا ہم خیال بنا لے گا،غلط بات پر نکیر کرے گا ،صحیح راہ عمل پیش کرے گااس کا سیاست میں شریک ہونا درست اور مفید ہے اور مولانا فضل الرحمٰن کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاحیتوں سے نوازا ہے کہ سیاست کے میدان میں انہوں نے ہمیشہ درست راہ عمل پیش کیا اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ اسلام کی ترجمانی کی۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/7/1443/2022/2/13
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:38

جن گھروں میں شادی شدہ بچے والدین کے ساتھ رہتے ہیں،کھاناپیناایک ساتھ ہوتا ہے،وہاں سسر کوئی فروٹ وغیرہ کھانے کی اشیاء لاتا ہےتو کس صورت میں بہو کوبغیر اجازت زبانی استعمال کرنا جائز ہےاور کس صور ت میں زبانی اجازت ضروری ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جوچیزیں گھر والوں کے عمومی استعمال کی ہیں،وہ بہوبھی اپنے حصے کی بقدراستعمال کرسکتی ہےاورجوکسی ایک فردکے لیے ہیں،ان کا استعمال بغیر اجازت نہیں کرسکتی۔

لمافی المحیط البرھانی:(8/55،داراحیاتراث)
والمختارأنہ لا بأس بالتناول مالم یتبین النھی إماصریحااوعادۃ
وفی الفتاوی الھندیة:(5/340،رشیدیة)
ولودخل بیت صدیقہ وسخن القدروأکل جازولوأخذمن کرم صدیقہ شیئاًوہویعلم أن صاحب الکرم لا یکرہ ذلک لابأس بہ
وکذافی احکام القرآن:3/487،قدیمی)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/144،فاروقیة)
وکذافی السنن الکبری للبیہقی:6/160،دارالکتب)
وکذافی سنن الکبری للبیہقی:6/160،دارالکتب)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(12/314،موسسة التاریخ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1443/2021/12/15
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:173

کیا سسر اپنے داماد کو زکوۃدے سکتا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

جی ہاں!دےسکتا ہے۔

لما فی ردالمحتار:(3/344،رشیدیة)
“ویجوزدفعھا لزوجۃ ابیہ وابنہ وزوج ابنتہ”
وفی الفتاوی التاتارخانیة:(3/211،فاروقیة)
“ویجوزان یعطی امراۃابیہ وابنہ وزوج ابنتہ”
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1970،رشیدیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/162،رشیدیة)
وکذافی الفقہ الحنفی :(1/371،الطارق)
وکذافی البحراالرائق:(2/425،رشیدیة)
وکذافی النھرالفائق:(1/462،قدیمی)
وکذافی فتح القدیر:(2/275،رشیدیة)
وکذافی تفسیرالمظھری:(3/314،رشیدیة)
وکذافی تفسیرالبحر المحیط:(5/59،دارالکتب)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/3/1443/2021/10/29
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:67

زنا سے جو حمل ٹھہرے اس حمل کو ضائع کرانا(ساقط کرانا)کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

چار ماہ سے پہلے پہلے ضائع کروانے کی اجازت ہے ،بعد میں نہیں۔

لما فی حاشیة الھدایة:(2/19،البشری)
لم یجز إسقاطہ :أی بالمعالجۃ،وھذاإذا استبان خلقہ، وإن کان غیر مستبین الخلق یجوز،أما فی زماننا یجوزوإن إستبان الخلق،وعلیہ الفتوی
وفی الفتاوی الھندیة:(5/356،رشیدیة)
العلاج لإسقاط الولد إذا استبان خلقہ کالشعروالظفرونحوھمالایجوز وإن کان غیر مستبین الخلق یجوز فی زماننا یجوز علی کل حال وعلیہ الفتوی
وفی الفتاوی السراجیة:(332،زمزم کراچی)
إمراۃ عالجت فی إسقاط ولدہا لم تاثم یستبین شییء من خلقہ
وفی المحیط البرھانی :(8/83،دار احیا تراث)
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدّر:(2/212،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
6/7/1443/2022/2/8
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:150

ایک آدمی نے دعائے قنوت کی جگہ بھول کر سورۃ فاتحہ پڑھ لی پھر دعائے قنوت بھی پڑھ لی تو سجدہ سہولازم ہوگایانہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

نہیں۔

لمافی الفتاوی السراجیة:(115،زمزم کراچی)

لیس فی القنوت دعاء موقت من لم یعرف ((اللھم إنا نستعینک))یقول:((ربناأتنا فی الدنیا حسنۃ))(إلی آخرہ)وھواختیارمشایخ بخارارحمھمااللہ تعالیٰ۔أو یقول ((اللھم اغفرلنا))ویکررذلک ثلاثاوھواختیار مشایخ سمرقندرحمھم اللہ۔وبہ أخذ)أبواللیث رحمہ اللہو وقیل مقدارالقیام فی القنوت قدر سورۃ((إذااالسماءانشقت))

وفی بدائع الصنائع:(1/614،رشیدیة)

وأما دعاء القنوت فلیس فی القنوت دعاء موقت کذا ذکرالکرخی فی کتاب الصلوۃ؛لأنہ روی عن الصحابۃ أدعیۃ مختلفۃ فی حال القنوت ۔۔۔۔۔۔اللھم انانستعینک،لان الصحابۃ رضی اللہ عنھم اتفقواعلی ھذا فی القنوت فالأولی أن یقرأہ،ولو قرأ غیرہ جاز،ولو قرأمعہ غیرہ کان حسناً

وفی ردالمحتار علی الدرالمختار:(2/534،رشیدیة)
وفی الفتاوی الھندیة:(2/341،فاروقیة)
وفی فتح القدیر:(1/446،رشیدیة)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ:(2/1002،رشیدیة)
وفی المحیط البرھانی:(2/267،داراحیاتراث)
وفی غنیةالمتملی:(417،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1443/2022/4/17
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:166

کوئی آدمی ایسے جوتے سمیت کپڑے پر پاؤں رکھتا ہے،جس کےپاک اور ناپاک ہونے میں شک ہےدونوں احتمال ہیں اورجوتا خشک ہے لیکن کپڑے پر اس کےنشان پڑجاتے ہیں،ایسے کپڑے کا کیاحکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ایسے احتمالات سے کپڑاناپاک نہیں ہوا۔

لمافی بدائع الصنائع:(1/235،236،رشیدیة)
ولوکان الثوب طاہراًفشک فی نجاسۃ فیہ جاز لہ أن یصلی فیہ لأن الشک لا یرفع الیقین۔۔۔۔۔۔أما الجواز فلأن الأصل فی الثیاب ھوالطہارۃفلاتثبت النجاسۃ بالشک
وفی الفتاوی الھندیة:(1/47،رشیدیة)
رجل أصابہ طین أومشی فیہ ولم یغسل قدمیہ وصلی ویجزیہ مالم یکن فیہ اثرالنجاسۃ إلا ان یحتاط
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(1/269،رشیدیة)
وکذافی فتح القدیر:(1/211،رشیدیة)
وکذافی الفقہ الحنفی:1/57،الطارق)
وکذافی مرقاةالمفاتیح:(2/211،المکتبة التجاریة)
وکذافی التجنیس والمزید:(1/259،ادارة القرآن)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/40،مکتبة الحرمین)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(1/433،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1443/2021/12/16
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:26